Apna peshawar

Apna peshawar

Share

The page is about the information of peshawar

26/10/2016

*جو لوگ شادی شُدہ اور بچوں والے ہیں یہ انکے نام*
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ ﮐﮧ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ ﻣﯿﮟﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﭘﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺭﺧﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ ﻧﺎ ﺳﮑﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ ﻧﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﮧ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ
ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ ﮐﮧ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ
*ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎ ﺟﺎﻭ ﮔﮯ.*

26/10/2016

..

یہ ایک مصری کا واقعہ ہے جس کو ۲۰ سال سے حج کی سعادت نصیب ہورہی تھی تو اس پوچھا گیا الله کو اپٓکا کون سا عمل پسند آیا ہے جو وہ ہر سال آپکو بلاتا ہے تو اس نے کہا مجھے تو اپنے اندر ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی ہاں مگر یہ ایک دعا کی وجہ سے اسنے کہا جب میں پہلے حج کو گیا تو عرفات کی طرف جاتے ہوئے میں بس میں تھا اور بس آہستہ چل رہی تھی میں کھڑکی سے باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا میں نے دیکھا ایک بوڑھی عورت جو بہت تکلیف اور اذیت سے چل رہی اس کے چہرے سے تکلیف عیاں تھی میں نے دل میں سوچا میں جوان آدمی ہوں میں چل سکتا تو کیوں نہ اس کو اپنی سیٹ پر بیٹھا دوں یہ سوچ کر میں نے بس والے سے رکنے کو کہا۔ اور نیچے اتر کر اس عورت کے پاس گیا اور بولا یا اممی میں چاہتا ہوں آپ میری جگہ بس میں سفر کرو اور میں آپ کی جگہ پیدل سفر کروں یہ سن کر وہ عورت بہت خوش ہوی اور بس میں سوار ہونے لگی اور آنسو بھری انکھوں سے مجھے دیکھا اور کہا اے میرے بیٹے میں نے رب سے دعا کی ہے الله تجھ کو ہر سال حج کراے شاید وہ وقت قبولیت کا تھا اگلے سال میری کمپنی نے مجھے اپنے خرچے پر حج پر بھیجا اور پھر کوی نہ کوی میرے لیے حج کا سبب بن جاتا کبھی میرے دروازے پر کوئی آتا اور مجھے حج کی آفر کرتا لیکن یہ سب اس دعا کا اثر ہے میں حج پر آجاتا ہوں ایک چھوٹی سی بےلوث نیکی کی قدردانی کیسے رب نے کی اس لیے دعا کو ایک عظیم سرمایا جانیے وہ کام کریں کہ لوگ دل سے آپکو دعا دیں.

Photos 17/12/2015
Photos 16/12/2015

I'm come back.....

Mobile uploads 11/08/2015
Photos from Apna peshawar's post 30/07/2015

New attractive pictures of peshawar.

03/07/2015

Must watch

Mobile uploads 03/07/2015

Thinking words

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Peshawar