Frontier Mine Owners Association KPK, Pakistan

Frontier Mine Owners Association KPK, Pakistan

Share

Part of ALL PAKISTAN MINE OWNERS ASSOCIATION

10/04/2026

اج رات 12 بجے کے بعد ڈیزل کا ریٹ 385 روپے جبکہ پٹرول 366 روپے فی لیٹر کردی گئی۔
وزیر اعظم پاکستان کا اعلان۔۔

10/04/2026

ہم پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں بروقت اور فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو ایک وسیع عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کے دہانے پر تھی۔ ان کی مؤثر سفارتی کوششوں اور امن کے لیے عزم نے فوری جنگ بندی ممکن بنائی اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لے آئے۔
بین الاقوامی برادری کو اس نازک موقع پر استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرنا اور سراہنا چاہیے۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور امن، مکالمے اور سفارت کاری کو ہی پائیدار حل سمجھتا ہے۔
منجانب: فرنٹیئر مائیں اونرز ایسوسییشن خیبرپختونخواہ

Photos from All Pakistan Mine Owners Association's post 09/04/2026
09/04/2026
08/04/2026

پاکستان میں ڈیزل کی ریٹ بڑھانے سے معدنی سیکٹر بند ھونے جارہا ھے۔ لاکھوں منرلز پراسیسنگ انڈسٹریز کو خام مال معدنیات کی سپلائی معطل۔ وفاقی حکومت نوٹس لیں۔
منجانب فرنٹیئر مائیں اونرز ایسوسییشن خیبر پختونخواہ

06/04/2026

The recent fuel price hike has brought mining activities in KPK to a standstill, leaving thousands of people directly and indirectly employed in the sector jobless 😔. The ripple effect will soon impact associated industries, threatening their operations too. Urgent action needed: Federal government, must provide diesel at subsidized rates for the mining sector in KP 🙏

04/04/2026

وفاقی حکومت نے ماینینگ سیکٹر کو اگر ڈیزل ریٹ میں ریلیف نہیں دیا تو مائنینگ سیکٹر مکمل بند ھو جائے گا ۔ ماہانہ 13 لاکھ سے 41 لاکھ اضافی بوجھ مائین اونرز کے برداشت سے باھر ھے۔
فرنٹیئر مائیں اونرز ایسوسییشن

03/04/2026

The mining sector is facing a severe crisis due to the rising diesel prices, which has brought the sector to the brink of collapse. The sector employs over 550,000 people directly and millions indirectly, and plays a significant role in the country's exports. Despite this, the federal government has ignored the sector, providing relief to other sectors instead.

The All Pakistan Mine Owners Association warns that if diesel price relief is not provided immediately, the sector will be forced to shut down, leading to widespread unemployment and closure of mines. This will also impact allied industries, including minerals processing, marble, ceramics, and cement. The association has called an emergency meeting to plan protests and a nationwide shutdown if relief is not provided.







03/04/2026

منرلز سیکٹر کو ڈیزل ریلیف میں کیوں نظر انداز کیا گیا۔ ؟
ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ بے پناہ اور مسلسل اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے بلکہ اس نے منرلز سیکٹر کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مائننگ سیکٹر مکمل طور پر ڈیزل پر انحصار کرتا ہے، اور اس کے بغیر کسی بھی قسم کی سرگرمی جاری رکھنا عملاً ناممکن ہے۔
مائننگ میں استعمال ہونے والی تمام بھاری مشینری بشمول ایکسیویٹرز، لوڈرز، کمپریسرز، جنریٹرز، جیپیں، ٹرک اور دیگر آلات صرف اور صرف ڈیزل سے چلتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک مائن پر ماہانہ 5000 سے 15000 لیٹر تک ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ اس وقت صرف خیبر پختونخواہ میں 5000 سے زائد مائنز فعال ہیں، جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 10000 سے تجاوز کر جاتی ہے۔
یہ امر بھی نہایت تشویشناک ہے کہ ملک بھر میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد افراد کا براہِ راست روزگار مائننگ سیکٹر سے وابستہ ہے، جبکہ لاکھوں افراد بالواسطہ طور پر اس شعبے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، منرلز سیکٹر ملکی برآمدات میں ایک کلیدی اور نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے منرلز سیکٹر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر شعبوں کو مختلف اقسام کے ریلیف فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ امتیازی سلوک نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ مائن اونرز برادری کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
اگر فوری طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں منرلز سیکٹر کے لیے خصوصی ریلیف کا اعلان نہ کیا گیا تو مائن اونرز برادری ملک بھر میں مائننگ سرگرمیوں کو مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف لاکھوں افراد بے روزگار ہوں گے بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کی گئی مائنز تباہ ہو جائیں گی، جنہیں دوبارہ فعال کرنے کے لیے اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
مزید برآں، مائننگ کی بندش سے ملک بھر کی منرلز پراسیسنگ انڈسٹریز، ماربل انڈسٹری، سیرامکس، سیمنٹ اور دیگر وابستہ صنعتیں بھی مکمل طور پر ٹھپ ہو جائیں گی، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
آل پاکستان مائن اونرز ایسوسی ایشن اس تشویشناک صورتحال کے پیش نظر جلد ایک ہنگامی اجلاس طلب کر رہی ہے، جس میں ملک بھر کی تمام صوبائی ایسوسی ایشنز کے ساتھ مشاورت کے بعد مکمل ہڑتال، احتجاج اور ملک گیر بندش کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ہم وفاقی حکومت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں متنبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر منرلز سیکٹر کے لیے ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر ملک بھر میں شدید احتجاج، ہڑتالوں اور مکمل بندش کی ذمہ داری براہِ راست حکومت پر عائد ہوگی۔
منجانب:
شیر بندی خان مروت
سینئر وائس چیئرمین
آل پاکستان مائن اونرز ایسوسی ایشن

02/04/2026

ارضیات اور معدنیات کی کھوج کے تناظر میں، پلیسر اشارے جسمانی، کیمیائی یا ارضیاتی اشارے ہیں جو کہ پلیسر ڈپازٹ کی موجودگی کا مشورہ دیتے ہیں — تلچھٹ کے عمل کے دوران کشش ثقل کی علیحدگی سے بننے والے قیمتی معدنیات کا ذخیرہ۔

چونکہ پلیسر کے ذخائر (جیسے سونا، ٹن، یا نایاب زمینی عناصر) عام ریت اور بجری سے زیادہ گھنے ہوتے ہیں، اس لیے وہ زمین کی تزئین میں الگ "فنگر پرنٹس" چھوڑتے ہیں۔ پلیسر انڈیکیٹرز کے بنیادی زمرے یہ ہیں۔

1. براہ راست جسمانی اشارے

یہ سب سے زیادہ قابل اعتماد علامات ہیں کیونکہ ان میں ہدف کے معدنیات یا ان کی جسمانی "ٹرینوں" کی اصل موجودگی شامل ہے۔

· مرئی "رنگ" (سونا): سب سے واضح اشارے۔ ندی کی بجریوں، بیڈرک کی دراڑیں، یا کائی کی جڑوں میں دھبے، فلیکس یا نگٹس دیکھنا۔
· کالی ریت: بھاری معدنیات جیسے میگنیٹائٹ، ہیمیٹائٹ، اور المینائٹ کا ارتکاز۔ اگرچہ وہ خود قیمتی نہیں ہیں، وہ بہترین "ٹریپس" ہیں۔ جہاں کہیں بھی آپ کالی ریت کو جمع ہوتے دیکھتے ہیں (پتھر کے پیچھے، دریا کے موڑ کے اندر)، ہائیڈرولک حالات سونے یا دیگر بھاری دھاتوں کو بھی پھنسانے کے لیے درست ہیں۔
لیڈ (Pb) شاٹ یا ماہی گیری کا وزن: حیرت انگیز طور پر، پرانے لیڈ شاٹ کو اکثر سونے کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سیسہ کی مخصوص کشش ثقل (کثافت) سونے سے ملتی جلتی ہے (تقریباً 11.3 بمقابلہ 19.3)۔ اگر کوئی ندی لیڈ فشینگ سنکرز یا شاٹگن کے چھروں کو مرکوز کر رہی ہے تو یہ جسمانی طور پر سونے کو مرکوز کرنے کے قابل ہے۔
· گارنیٹ اور نیلم: قیمتی پتھروں کی جگہوں پر، "انڈیکیٹر معدنیات" جیسے گول گارنیٹس، زرکونز، یا کورنڈم (نیلم/قوت) کی موجودگی سے پتہ چلتا ہے کہ نظام میں ماخذ کی بنیاد ختم ہو رہی ہے۔

2. جیومورفک (زمین کی شکل) اشارے

پلیسرز بنتے ہیں جہاں پانی کی رفتار اچانک گر جاتی ہے۔ زمین کی تزئین کی کچھ خصوصیات جمع کرنے والے ماحول کے کلاسک اشارے ہیں:

· اندر موڑ (پوائنٹ بارز): ایک مینڈر (دریا کا موڑ) کے اندر کا حصہ وہ جگہ ہے جہاں پانی سست ہوجاتا ہے اور بھاری مواد گرتا ہے۔
· بیڈرک آؤٹ کرپس: کسی بھی بیڈرک کو ندی میں پھیلانا نیچے کی طرف ایک ایڈی بناتا ہے۔ بھاری مواد معطلی سے فوری طور پر بیڈرک رکاوٹوں کے پیچھے (نیچے کی طرف) گر جاتا ہے۔
سلیک واٹر زونز: وہ علاقے جہاں ایک ندی اچانک چوڑی ہو جاتی ہے، چپٹی ہو جاتی ہے، یا جہاں معاون ندیاں ایک مین چینل میں داخل ہوتی ہیں (سنگم زون)۔
قدیم چینلز (Paleochanels): پرانے، سوکھے ہوئے دریا کے کنارے جو اب موجودہ پانی کی سطح سے اوپر ہیں۔ یہ اکثر جدید ندیوں سے زیادہ امیر ہوتے ہیں کیونکہ ان پر جدید کٹاؤ نے کام نہیں کیا ہے۔

3. کیمیکل اور جیو کیمیکل اشارے

بہت سے پلیسر معدنیات (جیسے سونا) کے لیے، کیمیائی بازی پوشیدہ ہالوس بناتی ہے۔

آرسینک (جیسے) بے ضابطگی: سخت چٹان میں، سونا اکثر آرسنوپیرائٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ پلیسر کی تلاش میں، ندی کے تلچھٹ یا نیچے کی طرف والی مٹی میں آرسینک کی بلند سطح اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ سونے کی حامل رگ اوپر کی طرف مٹ رہی ہے۔
مرکری (Hg) املگامس: تاریخی طور پر، کان کنوں نے باریک سونا بازیافت کرنے کے لیے پارے کا استعمال کیا۔ ندی کے کنکروں میں مرکری کے چھوٹے، گھنے چاندی کے رنگ کے موتیوں کی تلاش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو قدرتی پارا موجود ہے، یا تاریخی طور پر، اوپر کی طرف کان کنی کی سرگرمی تھی (اکثر ماضی پیدا کرنے والے علاقے کا اشارہ کرتے ہیں)۔
پاتھ فائنڈر عناصر: مخصوص پلیسر کی اقسام کے لیے:
· ٹن (کیسیٹرائٹ) جگہ دینے والے: سر کے پانی میں ٹورمالین، پکھراج، یا کوارٹج رگوں کو تلاش کریں۔
· ہیرے (کمبرلائٹ اشارے): گارنیٹ (پائروپ)، یلمینائٹ، کرومائٹ، اور ڈائیپسائڈ جو ندی کے پتھروں میں پائے جاتے ہیں (اکثر اپنے ماخذ سے دور)۔

4. معدنی اشارے

تلچھٹ کی پختگی آپ کو بتاتی ہے کہ آیا نظام کٹاؤ سے "صاف" ہو گیا ہے۔

گولڈ کوارٹز: گولڈ پلیسر میں، اگر کوارٹج کے کنکر انتہائی گول اور پالش کیے گئے ہیں، تو یہ طویل نقل و حمل اور اعلی توانائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سونا، خراب ہونے کی وجہ سے، اس طرح کے نظاموں میں چپٹا اور اچھی طرح سے سفر کیا جائے گا.
· "زنگ آلود" یا داغ دار بجری: آئرن آکسائیڈ کا داغ (سرخ/نارنجی) آکسیکرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ بہت سے سخت پتھر کے سونے کے ذخائر (رگیں) سطح کے قریب آکسائڈائز ہوتے ہیں، ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں اور سونے کو پلیسر ماحول میں چھوڑ دیتے ہیں۔

5. انتھروپجینک اشارے

سابقہ امکانات کی نشانیاں اکثر اس بات کے مضبوط ترین اشارے ہوتے ہیں کہ کوئی مقام قابل عمل ہے۔

ٹیلنگ ڈھیر: پرانے ہاتھ سے لگائے گئے پتھر کے ڈھیر (موچی کے ڈھیر) کھاڑیوں کے ساتھ۔
ڈریج ہولز: یہاں تک کہ اگر ترک کر دیا جائے، پرانے ہائیڈرولک گڑھے یا ڈریج ٹیلنگ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ تجارتی طور پر قابل عمل تھا۔
تاریخی متوقع گڑھے: کریک کے کناروں یا بینچوں (چھتوں) کے ساتھ ہاتھ سے کھودے گئے چھوٹے گڑھوں کی لکیریں پہلے کان کنوں کی منظم توقعات کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ایکسپلوریشن میں ان انڈیکیٹرز کا استعمال کیسے کریں۔

اگر آپ توقع کر رہے ہیں تو، حکمت عملی عام طور پر ذریعہ کا پتہ لگا رہی ہے:

1. نکاسی آب کے منہ سے یا کسی معروف ارتکاز مقام سے شروع کریں (جیسے ساحل یا ندی بار)۔
2. "ہیوی منرل ٹرین" کی شناخت کریں۔ اگر آپ کو کالی ریت اور چھوٹے گارنیٹ ملتے ہیں، تو آپ ڈیپوزیشن زون میں ہیں۔
3. نمونہ اپ اسٹریم۔ جب آپ اوپر کی طرف بڑھتے ہیں تو اس مقام کو تلاش کریں جہاں سے بھاری معدنیات "ڈراپ آؤٹ" ہوتی ہیں (ذریعہ)۔
4. "بیڈرک" کو چیک کریں۔ پلیسر کان کنی میں حتمی اشارے بیڈرک ہے۔ اگر آپ کسی ندی یا چبوترے میں کھدائی کر سکتے ہیں اور بستر کے اوپر سیدھے بیٹھے ہوئے کالی ریت، کونیی بجری، یا "پے اسٹریک" کی ایک تہہ تلاش کر سکتے ہیں۔

Photos from Frontier Mine Owners Association KPK, Pakistan's post 01/04/2026

فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی امریکی سفارت کاروں کے ساتھ اسلام آباد میں ایک اہم اور نتیجہ خیز ملاقات

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اس خصوصی نشست میں چیئرمین شیربندی خان مروت نے امریکی قونصل جنرل کو ایسوسی ایشن کی جانب سے سووینئر پیش کیا، جبکہ معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف لنچ کا بھی اہتمام کیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین شیربندی خان مروت، وائس چیئرمین تیمور خان، صدر عزیر تنولی، سینئر نائب صدر اصغر خان آفریدی اور فیصل خان نے شرکت کی، جبکہ پیشاور و اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے کے کونسلیٹ جنرل،پولیٹکل چیف و اکنامکس عہدیداران نے شریک ہوئے۔

ملاقات کے دوران امریکی سفارت کاروں نے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخواہ میں موجود قیمتی معدنی وسائل میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اور تین درجن سے ذیادہ مختلف خام معدنیات کی خریداری، جوائنٹ وینچرز، جدید پراسیسنگ، اور امریکی ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وفد نے مائن اونرز پر زور دیا کہ وہ اپنی معدنی لیزوں کے حوالے سے جامع جیالوجیکل رپورٹس، لیبارٹری ٹیسٹ، ریزروز اور تخمینی جائزوں پر مبنی مستند ڈیٹا تیار کریں تاکہ اسے ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم کے ذریعے امریکی سرمایہ کاروں تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔

مزید برآں، آئندہ موسم خزاں میں امریکی سرمایہ کاروں اور ایسوسی ایشن کے درمیان عملی سطح پر ملاقاتوں کے آغاز کی توقع ظاہر کی گئی، جو مستقبل میں باقاعدہ منصوبوں کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ امریکی سفارت کاروں نے دونوں ممالک کے درمیان روابط کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ نمائشوں اور سیمینارز کے انعقاد کی بھی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔

انہوں نے چھوٹے مائن اونرز کی معاشی بہتری کے لیے پاکستانی کمپنیوں کو بھی دعوت دی کہ وہ خام معدنیات خرید کر انہیں عالمی منڈیوں، بالخصوص امریکی مارکیٹ تک پہنچائیں، تاکہ مقامی سطح پر ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیربندی خان مروت تیمور خان ،غدر عزیر تنولی اور اصغر خان آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخواہ میں 5000 سے زائد معدنی لائسنسز اور لیزز موجود ہیں، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتی ھے کہ وہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں، جو نہ صرف منافع بخش ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان میں موجود گرینائٹ ،ماربل، میٹالک منرلز، جیمز سٹون اور خصوصا کریٹیکل منرلز ،
کے وسیع ذخائر میں غیر ملکی کمپنیاں دلچسپی کے رہے ھیں امریکی سرمایہ کاروں کو بھی اسے بھرپور فایدہ اٹھانا چاہیئے،
فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن نے امریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے، منرلز معلومات کی فراہمی اور معاہدات میں سہولت کاری کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

اجلاس کے اختتام پر امریکی وفد نے بہترین میزبانی پر ایسوسی ایشن اور مائن اونرز برادری کا شکریہ ادا کیا۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Yousaf Jamal Plaza Supply Abbottabad KhyberPakhtunkhwa
Peshawar

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00