01/12/2025
آمنہ شفیع ،خضدار کی بیٹی، انسانیت کی روشن علامت
تحریر دانش مینگل
خضدار کی مٹی نے ہمیشہ دردِ دل رکھنے والے لوگوں کو جنم دیا ہے، مگر چند نام اپنی بے لوث خدمات کی وجہ سے ایک الگ پہچان بنا لیتے ہیں۔ انہی روشن ناموں میں سے ایک نام ہے آمنہ شفیع کا، جو آج یتیم بچوں کی کفالت اور ان کی زندگیوں میں روشنی بکھیرنے کے عظیم مشن پر کاربند ہیں۔ انسانیت سے جڑی ان کی والہانہ وابستگی اور بے مثال جذبہ خدمت نے انہیں خضدار ہی نہیں، پورے بلوچستان اور ملک بھر کا فخر بنا دیا ہے۔
آمنہ شفیع کا غیر معمولی کردار ہمیں ماضی کے اُن عظیم انسانوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کیا۔ انہی میں ایک نام مرحوم عبدالستار ایدھی اور ان کی رفیقِ حیات بلقیس ایدھی کا ہے، جنہوں نے معاشرتی و سماجی مشکلات کے باوجود انسانیت کی شمع کو روشن رکھا۔ آمنہ شفیع کا اندازِ خدمت، ان کی ثابت قدمی، یتیم بچوں کے لیے ان کی بے لوث محنت یقیناً اُن عظیم شخصیات کے نقشِ قدم کی جھلک پیش کرتی ہے۔
آج کے نفسا نفسی کے دور میں، جہاں اپنے بھی اپنوں کے کام نہیں آتے، سماجی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں اور مفاد پرستی عروج پر ہے، ایسے میں ایک خاتون کا تنہا یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑا اٹھانا قابلِ تحسین ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک روشن مثال بھی ہے۔ آمنہ شفیع نہ صرف ان بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں بلکہ ان کی تعلیم، تربیت، خوراک، صحت اور نفسیاتی آسودگی تک کے لیے اپنی توانائیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔ ان کی کوششوں کی بدولت کئی ننھی کلیاں آج محفوظ، مطمئن اور پرامید زندگی گزار رہی ہیں۔
خواتین کے لیے محدود مواقع رکھنے والے معاشرے میں آمنہ شفیع کا یہ سفر مزید قابلِ قدر بن جاتا ہے۔ جہاں بہت سے لوگ معاشرتی دباؤ اور رکاوٹوں کے سامنے ہار مان لیتے ہیں، وہاں آمنہ شفیع نے ثابت کیا کہ حوصلہ ہو تو خدمت کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔ ایک لڑکی کے لیے اتنے بڑے اور مشکل مشن پر ڈٹ جانا، اور مسلسل جدوجہد کرتے رہنا، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور ارادہ مضبوط ہو تو انسانیت کی خدمت کا کوئی قدم بے اثر نہیں جاتا۔
آمنہ شفیع کے قائم کردہ نظام میں یتیم بچوں کے ساتھ شفقت، محبت اور عزتِ نفس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ہر بچے کے خواب کو اپنا خواب سمجھ کر اس کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی مہربانی، اخلاق اور تنظیمی صلاحیتیں انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔
خضدار کے عوام، سماجی تنظیمیں اور باشعور طبقہ آمنہ شفیع کے اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کی محنت اور لگن نہ صرف مقامی سطح پر امید کی کرن ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ انسانیت آج بھی زندہ ہے—بس اسے آگے بڑھانے کے لیے چند دل والے لوگ کافی ہوتے ہیں۔
میں بطور سماجی کارکن آمنہ شفیع کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں وہ نہ صرف یتیم بچوں کی سرپرست ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی اُس روشن مثال کا درجہ رکھتی ہیں جو بتاتی ہے کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ انسانیت کی سب سے بڑی علمبردار بھی بن سکتی ہے۔
آمنہ شفیع ،قوم کا فخر، خضدار کی شناخت اور انسانیت کی روشن روشنی

01/12/2025
24/02/2024
02/02/2024
01/02/2024
01/02/2024