آپ کی رائے ہماری حوصلہ افزائی ہے۔"
فلمیں دیکھنا تو ہم سب کا پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن آج میں آپ کو چند فلموں اورفلمی اداکاروں کے حوالے سے وہ راز بتانے جا رہا ہوں جو آپ نے شاید ہی کبھی سنے ہوں یہ حقائق اتنے حیران کن اور دلچسپ ہیں کہ فلموں سے محبت کرنے والوں کے لیے یہ کسی ٹریٹ سے کم نہیں۔
تیار ہو جائیں کیونکہ اب پردہ اٹھنے والا ہے ان فلمی رازوں سے، جو عام ناظرین کی سماعت اور نظروں سے ہمیشہ چھپے رہے۔
بالی وڈ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے، فلموں کی تعداد کے لحاظ سے ہالی وڈ سے بھی بڑی۔ جی ہاں"بالی وڈ ہر سال 1000 سے زائد فلمیں بناتا ہے، جبکہ ہالی وڈ کی سالانہ فلموں کی تعداد تقریباً 600 کے قریب ہوتی ہے۔
بالی وڈ کی پہلی بولتی فلم عالم آرا جو14مارچ1931 میں ریلیز ہوئی۔اس فلم کی مقبولیت اتنی زیادہ تھی کہ سینما گھروں کے باہر پولیس کو تعینات کرنا پڑا۔
فلم ''مغلِ اعظم'' کا ایک سین 9 سال میں مکمل ہوا۔فلم ''مغلِ اعظم'' (1960) کے رنگین گانے ''پیار کیا تو ڈرنا کیا'' کی شوٹنگ کے لیے اصل شیش محل بنایا گیا، جس میں 1000 سے زیادہ آئینے استعمال ہوئے۔اس سین پر 1.5 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو اُس وقت ایک مکمل فلم کی قیمت ہوتی تھی۔
راج کپور کی فلمیں روس میں بھارت سے بھی زیادہ مقبول تھیں۔راج کپور کی فلم ''آوارہ'' (1951) اور ''Shree 420'' سوویت یونین (روس) میں اتنی مقبول ہوئیں کہ وہاں کے لوگ ہندی گانے زبانی گانے لگے،یہاں تک کہ راج کپور کو روسی عوام نے ''بھارت کا چارلی چیپلن'' کہنا شروع کر دیا۔
رام گوپال ورما کی فلم ''بھوت'' کی شوٹنگ کے دوران سیٹ پر عجیب واقعات ہونے لگے تھے۔فلم کے عملے کے مطابق، سیٹ پر اکثر روشنی خودبخود بند ہو جاتی تھی، سامان گرنے لگتا تھا اور کچھ افراد نے ''عجیب سائے'' بھی دیکھے۔بعد میں پتا چلا کہ وہ عمارت واقعی پرانی اور بھوتیاحویلی کے نام سے مشہور تھی۔
امیتابھ بچن کو ان کے کیریئر کے آغاز میں آل انڈیا ریڈیو نے ان کی ''آواز ٹھیک نہ ہونے'' کی وجہ سے ریجیکٹ کر دیا تھا۔آج انہی کی گونج دار آواز ٹی وی شوز (جیسے KBC) اور فلموں کی جان بن چکی ہے۔
امیتابھ بچن کی فلم ''قلی'' کے حادثے کے بعد مکمل شوٹنگ روک دی گئی تھی۔ایک ایکشن سین کے دوران امیتابھ بچن کو اتنی شدید چوٹ لگی کہ وہ مہینوں کوما میں رہے پورا ملک ان کی صحت کے لیے دعا کر رہا تھا یہاں تک کہ نیوز چینلز پر صرف ''بچن صاحب کی طبیعت کی خبریں '' آتی تھیں۔
سنجے دت کو فلم ''Vaastav'' کے بعد اصل گینگسٹر سمجھا جانے لگا تھا۔ان کے کردار ''رگھو'' نے اتنا حقیقی اثر چھوڑا کہ ممبئی کے کچھ اصل گینگسٹرز نے انہیں فون کر کے تعریف کی اور پولیس نے بھی فلم کو کافی سنجیدگی سے لیا۔
عامر خان کو ''مسٹر پرفیکشنسٹ'' کہا جاتا ہے۔عامر خان اپنی فلموں کے لیے سالوں تک گُم ہو جاتے ہیں۔وہ ہر فلم پر اس قدر توجہ دیتے ہیں کہ فلم مکمل ہونے تک کوئی دوسرا پروجیکٹ قبول نہیں کرتے۔مثال کے طور پر ''دنگل'' کے لیے انہوں نے اپنا وزن 95 کلو تک بڑھایا، پھر چند ماہ میں 6 پیک ایبس بنائے۔
شاہ رخ خان کی یادداشت کمزور ہے۔شاہ رخ خان کھلے عام مانتے ہیں کہ وہ اکثر لوگوں کے نام بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ اپنی کچھ فلموں کے نام بھی،اس کے باوجود ان کی یادگار پرفارمنس اور مکالمے لوگ آج بھی یاد رکھتے ہیں۔فلم"دل والے دلہنیا لے جائیں گے'' ممبئی کے ماراٹھامندر سینما میں 20 سال سے زیادہ روزانہ لگاتار چلتی رہی،یہ دنیا کی ان چند فلموں میں شامل ہے جسے اتنے لمبے عرصے تک لگاتار سینما میں دکھایا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے آج بھی سنیما میں چل رہی ہے۔ممبئی کے مارتھا مندر تھیٹر میں دل والے دلہنیا لے جائیں گے (20 اکتوبر 1995) سے مسلسل دکھائی جارہی ہے، اور مارچ 2025 تک ریکارڈ 29واں سال پہنچ چکا۔فلم ''کبھی خوشی کبھی غم'' میں شاہ رخ خان ایک سین میں واقعی رو دیئے، اس سین میں جب شاہ رخ اپنی ماں (جیا بچن) سے سالوں بعد ملتے ہیں، وہ آنسو ایکٹنگ نہیں تھے، بلکہ اصل جذبات تھے۔کرن جوہر نے وہ سین صرف ایک ہی ٹیک میں شوٹ کیا۔
سلمان خان'' کے پاس کبھی پاسپورٹ نہیں ہوتا تھا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب سلمان خان کے خلاف اتنے مقدمات چل رہے تھے (کالا ہرن کیس، ہٹ اینڈ رن کیس وغیرہ) کہ انہیں ملک سے باہر جانے کے لیے عدالت سے ہر بار خصوصی اجازت لینا پڑتی تھی۔
فلم ''ناگن'' میں اصل سانپ آیا تھا؟1976 کی ہارر فلم ''ناگن'' کی شوٹنگ کے دوران واقعی ایک بار اصل سانپ سیٹ پر آ گیا تھا، جس کی وجہ سے عملے کو فوری طور پر شوٹنگ روکنی پڑی۔
"کوئی مل گیا'' کی کہانی سائنس فکشن پر مبنی ہونے کے باوجود اصلی تحقیق پر تھی۔ہدایت کار راکیش روشن نے ناسا سائنسدانوں سے مشورہ لیا تھا کہ اگر ایک معذور بچہ ایکسٹرٹررسٹریل (جادو) سے ملے تو اس کے دماغی خلیے کیسے بدل سکتے ہیں۔فلم کا کردار جادو بھارتی سائنس فکشن کا پہلا کامیاب ایلین بن گیا۔ ہریتک کے دائیں ہاتھ میں دو انگوٹھے ہیں، جو عام طور پر ایک ''خاموش معذوری'' سمجھی جاتی ہے مگر مداحوں نے اسے ''لکی چارم'' مان لیا یہی انفرادیت ان کے کردار کو منفرد بناتی ہے، خاص طور پر فلم کوئی مل گیا میں۔ہریتک اپنے دائیں ہاتھ کے دوہری ناخن والے انگوٹھے کو کبھی نہیں چھپاتے،یہاں تک کہ" کوئی مل گیا "میں ایلین‘جادو’کو بھی یہی فیچر دیا گیا تاکہ کرداروں میں قربت محسوس ہو۔
فلم "برفی" میں شوٹنگ کے لیے پریانکا چوپڑا کے پاس دماغی خرابی کا سرٹیفکیٹ تھا۔ (فلم برفی2012) میں جھلمل (لڑکی) کا کردار ادا کرنے سے پہلے، پریانکا چوپڑا نے نیورولوجسٹ سے مشورہ لیا اور شوٹنگ کے دوران دماغی بیماری کی تشخیص والے افراد کی نقل و حرکات کا مشاہدہ کیا۔رنبیر کپور نے فلم ''برفی'' کے لیے گونگے بچوں کے اسکول میں 6 مہینے گزارے۔ان کے کردار ''برفی'' کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے رنبیر کپورنے اصل گونگے اور بہرے بچوں کے ساتھ وقت گزارا اور ان کی حرکات سیکھیں کیوں کہ بغیر ڈائیلاگ کے اتنی زبردست ایکٹنگ ایک بڑا چیلنج تھا۔
مدھوبالا کی محبت کہانی ٹریجڈی سے کم نہیں تھی۔اداکارہ مدھوبالا اور دلیپ کمار کی محبت کی کہانی مشہور تھی، لیکن مدھوبالا کے والد نے دلیپ کمار پر مقدمہ درج کروا دیا تھا۔عدالت میں مدھوبالا نے دلیپ کمار کو دیکھا اور بس رو دی، مگر ان کی شادی نہ ہو سکی۔
"باجی راو مستانی'' کی لڑائیوں میں اصل تلواریں اور 20 کلو کے لباس استعمال ہوئے۔دپیکا پڈوکون، رنویر سنگھ اور پریانکا چوپڑا کے لباس 15 سے 20 کلو وزنی تھے، اور رنویر نے کئی سین میں اصل لوہے کی تلوار استعمال کی۔ صرف فلم ناظرین کو حقیقت کا تاثر دینے کے لیئے۔
1962میں لتا منگیشکر کے لیے پورے بھارت میں ریڈیو بند ہو گیا تھا۔ لتا منگیشکر شدید بیمار ہو گئیں اور یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ اب زندہ نہیں رہیں۔اس پر آل انڈیا ریڈیو نے ان کی احترام میں کچھ دنوں تک ان کے گانے بند کر دیے۔
فلم ''لگان'' آسکر کے دروازے تک پہنچی، مگر صرف ایک ووٹ سے پیچھے رہ گئی۔2002 میں فلم لگان کوبیسٹ فارن لینگویج فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔جیتنے والی فلم " نو مین لینڈ" تھی اور بتایا جاتا ہے کہ صرف 1 ووٹ سے" لگان" ہار گئی۔
گووندا نے ایک وقت میں چودہ فلموں پر ایک ساتھ کام کیا تھا۔ نوے کی دہائی میں گووندا اتنے مقبول تھے کہ ان کی شوٹنگ شیڈیول اتنی بھرپور تھی کہ وہ ایک دن میں تین مختلف فلموں کے لیے الگ الگ کپڑے، میک اپ، اور کردار بدلتے تھے۔گووندا نے 1987 کے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں 70 فلموں کے کنٹریکٹ پر دستخط کرچکے تھے؛ بعض دنوں میں وہ پانچ مختلف سیٹوں پر شوٹ کرتے تھے۔
ریکھا نے فلم ''سلسلہ'' میں دلیپ کمار کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنی اصل زندگی کی کہانی کے ساتھ کام کیا۔ فلم ''سلسلہ'' میں امیتابھ بچن، جیا بچن اور ریکھا تینوں نے کام کیا،جبکہ حقیقت میں امیتابھ اور ریکھا کے تعلقات کے چرچے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ فلم دراصل ان کی اصلی زندگی پر مبنی تھی۔
دیپیکا پڈوکون کی فلم ''پدماوت'' کے ایک سین میں آئینے کی قیمت 20 کروڑروپے تھی۔گانے ''گھومر'' کی شوٹنگ کے لیے جو آئینہ دار محل بنایا گیا، وہ اتنا قیمتی تھا کہ سیکیورٹی ٹیم الگ سے مقرر کی گئی تھی۔صرف ایک آئینہ لاکھوں کا تھا اور سب ہاتھ سے بنے تھے۔
راہول دیو برمن نے ایک گانا“چمچوں ”سے بنایا!گانا تھا ''Mehbooba Mehbooba'' اس کے ابتدائی بیٹس بنانے کے لیے انہوں نے چمچ، پانی سے بھرا گلاس، اور بوتلیں استعمال کیں۔
شاہد کپور نے فلم''حیدر'' کے لیے اپنا پورا سر منڈوا کر اصل فوجی کی طرح زندگی گزاری۔فلم ''حیدر'' (2014) میں انہوں نے واقعی کئی دن کشمیر میں ایک خفیہ مقام پر عام لوگوں کی طرح رہ کر تربیت لی۔فلم کے ڈائریکٹر وشال بھاردواج نے کہا: ''شاہد نے ایکٹنگ نہیں کی۔
فلم "تُمبّاڈ"کی بارش نے یونٹ کوکئی برس بھگوئے رکھا۔ہاررفلم تُمبّاڈ صرف مون سُون کے اصلی پانی میں شوٹ ہوئی،ٹیم نے چار مسلسل برساتیں اور06 سال کا پوسٹ پروڈکشن جھیلا وہ اس لیئے!!! تاکہ ہر فریم میں مٹی، پانی اور اندھیرا سچ لگے۔
فلم اوم شانتی اوم کے ایک گانے میں 31 سپر اسٹارزنے شمولیت کی اور سب نے معاوضہ نہیں لیا۔فلم اوم شانتی اوم کے گیت“دیوانگی دیوانگی”میں شاہ رخ کے ساتھ 31 بڑے ستارے کیمیو میں جھومے، فرح خان نے بتایا کہ سبھی نے دوستی میں فری شوٹ کیا، بعد میں شاہ رخ خان نے تحائف بھجوائے۔
بالی وُڈ فلم کالکی2024 پر 600کروڑ روپے خرچ ہوئے۔یہ فلم صرف Telugu زبان میں نہیں، بلکہ ہندی سمیت چار زبانوں (تیلگو، ہندی، تمل اور ملیالم) میں ریلیز ہوئی اور بھارت کی سب سے مہنگی فلم ثابت ہوئی۔اس میں پربھاس، دیپیکا پڈوکون اور امیتابھ بچن جیسے بڑے ستارے شامل ہیں۔
فلم "شعلے" کے ایک مشہور کردار ''ٹھاکر صاحب'' (سنجیو کمار) کے ہاتھ فلم میں کٹ چکے ہوتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ فلم کے اصل اسکرپٹ میں ''ٹھاکر'' انتقام کے وقت گبّر سنگھ کو اپنے ہاتھوں سے مارتا ہے۔لیکن بھارتی سنسر بورڈ نے اسے ''بہت زیادہ پرتشدد'' قرار دیا اور فلم کا اختتام بدلنے کا حکم دیا۔ یوں آخر میں، گبّر کو پولیس گرفتار کر لیتی ہے اور ٹھاکر کو انتقام لینے سے روک دیا جاتا ہے۔فلم شعلے کی شوٹنگ پانچ سال میں مکمل ہوئی۔فلم کا ہر سین پانچ پانچ کیمروں سے بیک وقت شوٹ کیا جاتا تھا، جو اُس دور کے لیے بہت نایاب بات تھی۔
سپون، بیئر بوتل اور“مہبوبا مہبوبا”۔آرڈی برمن نے "شعلے" کے اس آئٹم سونگ کی افتتاحی بیٹس بنانے کیلئے آدھی بھری بیئر بوتلوں میں پھونک مار کر اور چمچ سے گلاس بجا کر ریتم ریکارڈ کیا،ڈرم سیٹ کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
سب سے زیادہ فلمیں کرنے والے اداکار(ایشو پریم جی،اشوک کمار)جگدیپ جیسے پرانے اداکاروں نے سینکڑوں فلمیں کیں، بعض کے کریڈٹ میں 300 سے زائد فلمیں ہیں۔
فلم" راک اسٹار" اُلٹی ترتیب سے فلمائی گئی تھی۔رنبیر کپور کے بالوں کی لمبائی میں تدریجی تبدیلی کے تسلسل کوبرقرار رکھنے کیلئے یونٹ نے کلائمیکس پہلے اور شروعاتی مناظر آخر میں شوٹ کیے،پوری فلم عملی طور پر ریورس بنی۔
"یہ تحریر دو دن کی محبت بھری محنت کا نتیجہ ہے۔
اگر پسند آئے تو لائک اور ایک خوبصورت سا کمنٹ ضرور کیجیے گا،
بطور انسان یہ ہماری آخری صدی ہیں؟
Natural views with various entertainment clips
😭😭گاؤں کے پرائمری سکول کا ٹیچر🤣🤣
.
جس ٹیچر نے بھی یہ لکھا ھے کمال لکھا ھے۔
آج حسب معمول جیسے ھی میں نے اپنی کلاس ”کچی شریف“ میں قدم رنجہ فرمایا تو کچی کے جیالوں کی تعداد خلاف معمول 120 کے ہندسے کو کراس کر رہی تھی،جن میں دو تہائی اکثریت اُن مجاھدین کی تھی جو زندگی کی صرف دو یا تین بہاریں دیکھ چکے تھے،اور جوتی اور شلوار کی قیود سے آزاد یہ حریت پسند اپنی بڑی بہن یا بھائی کے ساتھ بطور پروٹو کول آفیسر تشریف لائے تھے
،بہر حال جیسے ھی میں اندر داخل ھوا تو کمرے کے کسی گوشے سے ”کلاس سٹینڈ“کا ایک نعرہ مستانہ بلند ھوا اور پندرہ، بیس بچے اٹھ کھڑے ھوئے باقی تمام رمُوز دنیا سے آزاد اپنی خانہ جنگی میں مصروف رھے،چنانچہ اپنے وجود کی موجودگی کا احساس دلانے کیلیے میں نے ”اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ“ کی باآواز بلند صدا لگائی جس کا جواب دو چند نے دے کر بھرم رکھ لیا
تو جناب جیسے ہی میں کُرسی پر براجمان ہوا ،کلاس روم کمرہٕ عدالت میں تبدیل ھو گیا ،30،35 مدعیان نے بیک وقت اپنا اپنا استغاثہ دائر کر دیا ،کسی نے پنسل تراش “گم ھونے کی شکایت کی تو کسی نے ہتک عزت کا دعوی دائر کیا، کسی نے گالیوں کی بوچھاڑ سے اپنا چھلنی سینہ دکھایا تو کسی نے اپنے مسات کے ہاتھوں زلف کشی کا مقدمہ پیش کیا،کسی نے کچی پینسل کے سِکے ”پوڑنے“ کی شکایت کی تو کسی نے کاپی کے پھٹے. ورک کو بطور ثبوت پیش کیا،کچھ نے دور بیٹھے اپنے ملیر شلیر کی طرف سے نقالی کرنے کا دکھڑا سنایا تو کسی نے ھوم ورک پر ”لِم شریف“یعنی تھوک گرانے کے اندوہناک واقعے سے آگاہ کیا، کوئی اپنے جیب خرچ کی محرومی کا رونا رو رھا تھا تو کوئی مدعا علیہ کی طرف سے (چھٹی کے بعد راستے میں مار کی) ملنے والی دھمکی سے مطلع کر رھا تھا
چنانچہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ھوئے تمام متاثرین اور مدعا علیہان کو طلب کیا گیا اور وقت کی قلت کے پیشِ نظر تمام ملزمان سے اجتماعی طور پر نمٹنے کا فیصلہ کر لیا،چنانچہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 7/51 کے تحت تمام مدعیان و مدعا علیہان کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا اور سوٹی بنوانے کےلیے تیز رفتار گھڑسوار روانہ کر دیے اس دوران ایک دوسرے کو خون بہا معاف کرنےاور آپس میں صلح صفائی کا موقع بھی دیا گیا،چنانچہ جیسے ہی کلاس روم میں چھمک نما سوٹی کا ظہور ھوا تو کچھ اس طرح کی صورت حال تھی
بقول شاعر٠٠٠٠
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگۓ محمود و ریاض٠٠٠٠
نا کوئی ملزم رھا اور نا کوئی بندہ ناراض٠٠٠
ایک منٹ کے اندر بھائی چارے کی فضا قائم ھوگٸ اور میں نے بھی عام معافی کا اعلان کرتے ھوئے تعلیمی عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا،مگر یہ کیا٠٠٠٠ ابھی سکول لگے چالیس منٹ بھی نہیں ھوئے تھے کہ ناشتے والے انڈوں نے ستانا شروع کر دیا اور وہ خشک سالی شروع ہوگٸ کہ جیسے سبھی نےکل سے لنگری روزہ رکھا ھوا ھے، اور مثانہ کی کمزوری کے عارضہ میں مبتلا مریض بھی وارد ھونے لگے
تاریخ گواہ ھے کہ اگر کسی نے واش روم کی چھٹی مانگ لی اور اس کو دے دی گٸی تو پھر انگلی کھڑی کرنے والے ایمپائروں کی آمد کا ایک نا تھمنے والا سلسلہ شروع ھو جاتا ہے جو کہ بریک تک جاری رہتا ھے
کچھ شدت پسند ایسے بھی متھے چڑھ جاتے ہیں جن کو اگر چھٹی نا دی جائے تو انتقامی کاروائی کرتے ھوئے وہیں موقع پر پتلون گیلی کر تے ھوئے واپس لوٹ جاتے ھیں،
بہرحال پھر بھی آج کل پرائمری اساتذہ کےلیے آمد سےقبل تعداد کا بڑھنا نیک شگون ہوتا ھے،
چنانچہ 121 بچوں کی نفری لیے داد و تحسین وصول کرنے کے جزبے سے سرشار جناب ہیڈ ماسٹر کی دربار میں حاضر ہوا اور دست بستہ عرض کی کہ٠٠٠٠٠٠ جناب آٸیں اور تشریف لاٸیں اور دیکھیں ہم معیار تعلیم ، فروغ علم اور طلبہ کی عدد افزودگی کے لیے کیسے کوشاں ہیں
تو جناب رٸیسِ مدرسہ نے اس لشکرِ جرار کو دیکھ کر وہ الفاظ کہے جو تاریخ کا حصہ بن گٸے،فرمایا” او کاکے ! یہ جو دو، تین سال کے بچے سمیٹ لاٸے ھو یہ در اصل چار دن کی چاندنی ھے ،یہ تو گندم کی کٹائی کا سیزن ھے اور مائیں ایسے چھوٹے دو تین سالہ بچے سکول بھجوا دیتی ھیں تاکہ اساتزہ بچوں کو بہلاتے رھیں اور ھم یکسو ھو کر گندم کی کٹائی کر سکیں،“
تم دو ماہ بعد دیکھنا پھر اندھیری رات ھو گی “ سو راجہ پورس کی طرح اپنا لشکر لیے واپس کلاس روم آ دھمکا ٠٠٠کیونکہ بات تو سچ تھی مگر بات تھی۔۔
Copied!
"اپنے بچوں کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں"
ان کو سکھائیں کہ اگر اسے کسی کے گھر دعوت پر بلایا جائے:
1. وہ خالی ہاتھ نہ جائے، اور اپنے ساتھ کسی غیر مدعو شخص کو نہ لے جائے۔
2. وقت پر پہنچے، نہ بہت جلدی اور نہ بہت دیر سے۔
3. اچھے کپڑے پہنے اور اس کی خوشبو اچھی ہو تاکہ میزبان کو احساس ہو کہ وہ اس کی عزت اور قدر کرتا ہے۔
4. قالین جوتے یا چپل پہن کر داخل نہ ہو، چاہے میزبان نے اجازت دی ہو۔
5. گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو جائے تاکہ میزبانوں کو تکلیف نہ ہو۔
6. جو موجود ہو اسے کھائے، اور کوئی خاص ڈش نہ مانگے، چاہے اچار ہی کیوں نہ ہو۔
7. کھانا کھاتے وقت شور نہ مچائے، اور چبانے کے دوران منہ بند رکھے۔
8. جب کوئی کھانا سرو کرتا ہے تو سر جھکائے موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ یا ویسے ہی توجہ نہیں کرتے ۔ کھانا لگانے والے کو یہ اچھا نہیں لگتا اس لیے کوشش کریں کہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور کوئی ہلکی پھلکی بات چیت کریں تاکہ اسے ریسپیکٹ محسوس ہو.
9. بیٹھنے کی جگہ خود منتخب نہ کرے، بلکہ میزبان جہاں بٹھائے وہیں بیٹھے، کیونکہ ہر کوئی اپنی جگہ کی خصوصی ضروریات جانتا ہے۔
10. بغیر کسی جھجک کے آرام سے کھانا کھائے، اور اگر کسی چیز میں دلچسپی نہ ہو تو خاموشی سے اسے نہ کھائے اور صرف پسندیدہ چیزیں کھائے۔
11. میزبان کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے مزید نعمتوں کی دعا کرے، اور باورچی (ماں یا بیوی) کو بھی شکریہ کہے اور بتائے کہ کھانا کتنا مزیدار تھا۔
12. بغیر اجازت کے ہاتھ دھونے نہ جائے، اور اگر میزبان اجازت دے تو یقینی بنائے کہ اس نے سنک صاف کر دی ہے اور کوئی کھانے کے باقیات نہ چھوڑے، اور تولیہ استعمال کرنے کے بعد اسے اچھی طرح پھیلائے۔
13. گھر کی تفصیلات پر نظر نہ ڈالے۔
14. اگر کسی اور کے ساتھ گیا ہو اور وہ ہاتھ دھونے اٹھے تو اس کی جگہ نہ بیٹھے کیونکہ یہ کسی اور کا حق ہے۔
15. اگر گھر میں نماز پڑھنی ہو تو امامت نہ کرے جب تک کہ میزبان درخواست نہ کرے۔
16. اگر داخل ہوتے وقت لوگ کسی موضوع پر بات کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کو اچانک نہ بدل دے، اور نہ ہی کسی کی بات کاٹ کر خود بولنا شروع کرے، کیونکہ یہ اس کی عزت کو کم کرتا ہے۔
17. روانگی سے پہلے اجازت لے، اور اگر میزبان اسے رکنے کی تاکید کرے تو کچھ وقت اور رکے اور میزبان کی خواہش کا احترام کرے۔
18. جب باہر نکلے تو بلند آواز میں اعلان کرے تاکہ میزبان روانگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
19. گھر سے نکلتے وقت میزبان کے لیے برکت اور کشادگی کی دعا کرے۔
20.میزبان کا شکریہ ادا کرے اور ان کے کھانے اور مہمان نوازی کی تعریف کرے۔
منقول
#
ماں کے دودھ (Breastfeeding) کے بارے میں چند غلط فہمیاں:
بچے کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت کے بارے میں کوئی دوسری راۓ نہیں ہے۔ اسلام میں بھی دو سال تک بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا حکم ہے۔ جدید سائنس کے مطابق جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں وہ مختلف قسم کے انفیکشن اور الرجی سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما باقی بچوں سے بہتر ہوتی ہے۔ اور بڑے ہو کر شوگر اور موٹاپے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
جو مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں وہ مختلف قسم کے کینسر اور شوگر سے محفوظ رہتی ہیں۔ حمل کی وجہ سے بڑھنے والا وزن جلد نارمل ہوتا ہے اور ماں کی ذہنی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
اکثر مائیں بچے کے زیادہ رونے کو دودھ کی کمی یا بھوک سے منسلک کرتی ہیں۔ اور ماں کے دودھ کے ساتھ ڈبے یا کسی جانور کا دودھ بھی دینا شروع کر دیتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ماں کے دودھ کی غذائیت اور مقدار بچے کی عمر اور ضرورت کے عین مطابق ہوتی ہے۔
ایک اور غلط فہمی بہت عام ہے کہ ماں کا آپریشن ( Cesarean) ہوا ہے اور وہ دودھ نہیں پلا سکتی یا دودھ کی مقدار کم ہے اس لیے ڈبے یا جانور کا دودھ پلا رہے ہیں۔ اصولاً بچے کو ماں کا دودھ ابتدائی تیس منٹ یا ایک گھنٹے میں آپریشن تھیٹر یا لیبر روم میں ہی پلانا چاہئیے۔ کچھ ماؤں کے لیے درد کی وجہ سے دودھ پلانا مشکل ہو سکتا ہے مگر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ بچے کو ماں کے دودھ سے محروم کر دیا جاۓ۔ اس صورت میں ماں کا دودھ نکال کر بوتل کے ذریعے پلایا جا سکتا ہے جب تک ماں خود دودھ پلانے کے قابل نہیں ہو جاتی۔
پیدائش کے بعد پہلے چار دن ماں کو جو دودھ آتا ہے وہ گہرے زردی مائل پانی کی طرح ہوتا ہے جسے کلوسٹرم کہتے ہیں۔ اسکی مقدار کم ہوتی ہے لیکن یہ غذائیت اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ مختلف قسم کے انفیکشن سے بچے کی حفاظت کرتا ہے۔ اس لیے اسے بچے کا پہلا حفاظتی ٹیکہ بھی کہتے ہیں۔ بہت سی مائیں اس کی اہمیت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو اس سے محروم کردیتی ہیں۔
بچے کو ماں کا دودھ پلانے سے اس کی مقدار مزید بڑھتی ہے۔ ماں کی غذا بہتر کرنے سے بھی دودھ کی مقدار بڑھتی ہے۔ ساتھ میں ڈبے یا کسی جانور کا دودھ پلانے سے ماں کے دودھ کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
ہر دو سے اڑھائی گھنٹے بعد بچے کو ماں کا دودھ پلائیں۔ جب بھی بچے کو دودھ پلائیں، بیس منٹ ایک طرف سے پلائیں پھر بچے کو کندھے سے لگا کر ڈکار دلوائیں اور پھر دوسری طرف سے اسی طرح دودھ پلائیں اور ڈکار دلوائیں۔
پہلے چھے ماہ تک بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ کچھ نہ دیں۔ چھے ماہ کے بعد ماں کے دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا جیسے دلیہ، Cerelac، نرم کیلا وغیرہ بھی شروع کریں۔ دو سال کے بعد ماں کا دودھ بند کر دیں۔
دودھ پیتے بچوں میں منہ سے دودھ پھینکنا اور ہر بار دودھ پینے کے بعد پاخانہ کرنا عام بات ہے۔ اس کی وجہ سے ماں کا دودھ کم یا بند کرنے کی ضرورت نہیں۔
گیس پریشر نہ ہونے سے عوام کی زندگی شدید متاثر فوری اقدامات کی ضرورت
کوئٹہ شہر میں کئی دنوں سے گیس پریشر نہ ہونے کی وجہ سے عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ صبح کے وقت بچوں کا ناشتہ تیار کرنا مشکل ہوگیا ہے، دوپہر اور شام کے کھانے میں بھی گھنٹوں کی تاخیر معمول بن چکی ہے۔ سردی کے ان دنوں میں گیس ہیٹر نہ چلنے کے باعث بزرگ، بچے اور بیمار افراد سخت تکلیف سے گزر رہے ہیں۔
گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو مجبوراً ایل پی جی سلنڈر، لکڑی پر کھانا بنانے کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جس سے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں عام لوگوں کے لیے یہ اضافی بوجھ برداشت کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر غریب، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
اس صورتحال نے گھریلو معمولات، تعلیمی سرگرمیوں، اور روزمرہ کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ گیس نہ ہونے سے زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوتا ہے، اور روزمرہ کے کام ناممکن بن چکے ہیں۔
عوام کی اپیل ہے کہ حکومت، سوئی گیس حکام اور متعلقہ محکمے فوری نوٹس لیں اور گیس پریشر میں بہتری لاتے ہوئے شیڈول کے مطابق گیس کی نارمل فراہمی یقینی بنائیں۔ یہ مسئلہ صرف تکلیف نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری توجہ ضروری ہے۔
براہ کرم اسے سنجیدگی سے لیا جائے—یہ چند گھروں کا نہیں بلکہ پورے علاقے کا مسئلہ ہے۔
*احتیاط کیجیے کہیں دیرنہ ھوجائے۔۔*
۔*✿❀࿐≼منتخب تحریریں❍••══┅┄*
پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پولیٹیکل پولرائیزیشن اب عدم برداشت کی صورت ہم سب کے گھروں میں اور نجی تعلقات میں آ گھسی ہے۔ سیاسی تفریق اب دلوں میں تفریق لانے لگی ہے۔ جب کہ سیاست بنیادی طور پر انسانوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے اور انہیں قریب لانے کا نام ہے۔
ایسی سیاست جو نفرتیں پیدا کرے، دوریاں لے آئے، وہ کچھ بھی ہو، سیاست نہیں۔
آپس میں گفتگو کا معیار اس قدر گر چکا ہے کہ باہمی احترام نام کی کوئی چیز اب باقی نہیں رہی۔ ایسے ایسے سنجیدہ احباب کی زباں بگڑتے دیکھائی پڑتی ھی کہ حیرت اور رنج کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
درجنوں دوست و احباب ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر انفرینڈ کر چکے ھیں، گھریلو تعلقات بھی باھمی تفریق اور بے ادبی کی صورتحال سے دو چار ھیں۔ کیا یہ مناسب ھے کہ ھم ایک ایسی صورت حال کی وجہ سے آپس میں بدزن ھوں جس میں براہِ راست ھمارا کوئی ہاتھ بھی نہیں۔
ہمیں اپنے جیسے عام انسانوں کی زندگیوں کو سہل بنانا اور انکو ہنستا بستا دیکھنا چاہئے،
دین کے بتائے راستے کو اپنائیں، *کہیں ایسا نہ ھو کہ لیڈروں کیوجہ سے دین اور ایمان کو ھاتھ سے گنوا بیٹھیں۔ حق اور باطل میں فرق سمجھیں، کسی پر اپنی بات نا تھوپیں اور سنی سنائی باتوں کو پھیلانے سے پرھیز کریں پہلے تحقیق کریں۔*
*افواھیں پھیلانے والے عناصر کا حصہ نا بنیں، یہ مفاد پرست جھوٹ پر مبنی تصاویر ویڈیوز پوسٹیں ھماری اندھی تقلید کا سہارہ لیتے ھوئے ھمارے ھی ذریعے سے معاشرے میں پھیلا رھے ھیں، جسکی وجہ سے عدم برداشت بڑھ رھی ھے۔*
دوستو!!!
محبت کو پروان چڑھائیں اچھے معاشرے کے مہزب شہری بنیں۔
آئیے عہد کریں کہ حالات کی آندھی کو اپنے اوپر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہیں گے۔ ایک قوم بنے رھیں گے، باہمی احترام کے ساتھ مکالمہ کرتے رہیں گے، آگے بڑھتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ھمیں ھدایت عطا فرمائے
Indeed!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Quetta Cantonment
