جنوبی پشتونخوا صوبہ پشتون قوم کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔
سبی، کوئٹہ اور ژوب سمیت پشتون اکثریتی علاقوں کے عوام دہائیوں سے اپنے سیاسی، معاشی اور انتظامی حقوق سے محروم ہیں۔ بدامنی، دہشت گردی، پسماندگی اور ترقیاتی ناانصافیوں نے پشتون علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
آنے والی 28ویں آئینی ترمیم میں جنوبی پشتونخوا صوبے کے قیام کو شامل کیا جائے تاکہ پشتون عوام کو اپنی شناخت، وسائل اور مستقبل پر حقِ نمائندگی حاصل ہو۔
حقوق، امن اور ترقی کے لیے جنوبی پشتونخوا صوبہ ناگزیر ہے۔
Pashtun Qoumi Tehreek Media Cell
پشتون قوم حقوق لا پارا را اوزی
01/06/2026
حق پرست قائد نے ۱۹۹۴سے مسلسل جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کے قومی، سیاسی اور آئینی حقوق کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی کے بعد انہوں نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان میں پشتونوں کے حقوق، شناخت اور وسائل پر اختیار کے لیے ایک الگ صوبہ ناگزیر ہے۔
بلوچستان کے پشتون گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی اور انتظامی بے اختیاری کا شکار ہیں۔ سبی، کوئٹہ تا ژوب کے علاقوں میں عوام نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ دہشت گردی، بدامنی اور شورش پسندی کے اثرات بھی مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔ ان حالات نے خطے کی معیشت، تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کو شدید متاثر کیا ہے۔
پشتون عوام کا مؤقف ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ان کے وسائل، آبادی اور جغرافیائی حیثیت کے مطابق انہیں ان کے جائز حقوق نہیں ملے۔ اسی لیے جنوبی پشتونخوا کے قیام کا مطالبہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ امن، ترقی، خود اختیاری اور بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت بن چکا ہے۔
سبی سے کوئٹہ اور ژوب تک ایک الگ جنوبی پشتونخوا صوبہ ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پشتون اپنے وسائل، ترقیاتی منصوبوں، سیاسی نمائندگی اور انتظامی معاملات پر مؤثر اختیار حاصل کر سکتے ہیں۔ جب تک پشتونوں کو اپنی سرزمین پر مکمل آئینی اور انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، محرومیوں کا خاتمہ ممکن نہیں
۔
31/05/2026
PAHSTUN DEMAND SOUTHERN PASHTUNKHWA PROVINCE IN UPCOMING
ہمیشہ سے بلوچستان میں آباد تمام قومیتوں ( #بلوچ، براہوی اور پشتون ) کے مساوی حقوق، شناخت اور نمائندگی کی حامی رہی ہے۔
#بلوچستان صوبہ کو 50 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ بلوچ عوام اپنی مطلوبہ ترقی حاصل کر سکے، نہ #پشتون اور نہ ہی #براہوی۔ آج بھی صوبہ پسماندگی، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا شکار ہے۔
مختلف سیاسی قیادتوں نے قومیتوں کے جزبات کے نام پر نعرے تو بہت لگائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ، جیسے (بولان تا چترال ، ڈیورنڈ لائن نہ منو ، لر او بر یو افغان ، انقلاب دہ باچا خان، شریعت اسلام ،پشتون بلوچ بھائی بھائی) ، مگر بلوچ، پشتون اور براہوی عوام کے بنیادی مسائل اور حقوق کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ اس حقیقت سے آج پورا بلوچستان واقف ہے۔
بلوچستان میں نئے انتظامی صوبوں کا مطالبہ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ تمام قومیتوں کو ان کا جائز حق، مؤثر نمائندگی اور اپنے علاقوں کی ترقی کا اختیار دینے کے لیے ہے۔ بلوچ اپنے علاقوں میں، براہوی اپنے علاقوں میں اور پشتون اپنے علاقوں میں بہتر حکمرانی اور ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں گے۔
یہ نفرت نہیں، انصاف کا مطالبہ ہے۔ مضبوط قومیتیں ہی ایک مضبوط وفاق کی بنیاد بنتی ہیں۔
.
اگر نئے صوبے نہ بنائے گئے تو پھر ملک میں آزاد سندھودیش، آزاد بلوچستان اور گریٹر پنجاب علیحدگی کی تحریکوں کو طاقت دے گا
لوچستان ایک مصنوعی صوبہ بن چکا ہے جہاں پشتون، براہوی اور دیگر قوموں کے حقوق مسلسل دبائے جا رہے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کو تین واضح صوبوں میں تقسیم کیا جائے:بلوچ بیلٹ، براہوی بیلٹ اور پشتون بیلٹ۔پاکستان میں نئی صوبائی تشکیل کے ذریعے ہر قوم کو اس کا حق، شناخت، امن اور ترقی دی جائے
28/05/2026
عید کے دوسرے دن رفیق پشتون ایڈوکیٹ (چیئرمین، پشتون قومی تحریک) ان رہائشگاہ بریشنہ ہاوس میں پشتون قومی تحریک کراچی ڈیویشن کے صوبائی صدر بہادر پشتون ساتھیوں سے ملاقات کی۔
اس موقع پر مرکزی خزانچی صادق پشتون اور مرکزی کمیٹی کے رکن ممبران بھی موجود تھے۔
چیرمین حق پرست رفیق پشتون ایڈوکیٹ کا سوال ۔ کب تک پشتون اپنے ہی وطن میں سیاسی نظراندازی برداشت کرے گا؟
سبی تا کوئٹہ اور ژوب تک پشتون علاقوں کی اپنی تاریخ، اپنی شناخت اور اپنی قومی حقیقت موجود ہے۔ سبی صدیوں سے دیپال، لونی، مرغزانی، خجک اور باروزئی قبائل کی سرزمین رہی ہے، جن کے تاریخی کاریز آج بھی اس مٹی سے ان کے تعلق کی گواہی دیتے ہیں۔
پشتون قومی تحریک کا مطالبہ واضح ہے: پشتون عوام کو اپنی شناخت، اپنے وسائل اور اپنی سیاسی نمائندگی کے لیے الگ پشتون صوبہ دیا جائے۔ اس آواز کو مزید نظر انداز کرنا انصاف اور برابری کے اصولوں سے انکار ہوگا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پشتون اپنے مستقبل کے فیصلوں میں خود شریک ہو
24/05/2026
یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر بہتر مستقبل بنایا جائے۔
اگر نئے صوبوں پر بات ہو رہی ہے تو پشتون علاقوں، نمائندگی اور حقوق کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ پشتونوں کے اس مطالبے کا بھی ذکر ہونا چاہیے کہ سبی، کوئٹہ سے ژوب تک کے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کے مطالبے کو آئینی اور جمہوری دائرے میں زیرِ بحث لایا جائے۔ نوجوانوں کو آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ترقی، منصفانہ وسائل اور بہتر حکمرانی ہر عوام کا حق ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، اور مثبت تبدیلی مکالمے، عوامی شرکت اور اجتماعی کوششوں سے آتی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Suraj Ganj Bazaar
Quetta Cantonment
87600
