18/02/2024
بلوچستان کے نامور اداکار محمود اچکزئی اور سردار اختر مینگل اور ان دونوں کے ساتھیوں کو غیور بلوچ اور پختون مسترد کر چکے ہیں. اب وہ ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے.
بلوچ اور پختون جان چکے ہیں کہ محمود اچکزئی اور سردار اختر مینگل ملک دشمن ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں. ان شاء اللہ، اب یہی بلوچ اور پختون ان کے راستے کی دیوار بنیں گے جو بیرونی فنڈنگ پر چلنے والے ان ملک دشمن عناصر سے گرائی نہیں جا سکے گی. ان کے نعرے پہلے کھوکھلے تھے، اب بوسیدہ اور بدبودار بھی ہو چکے ہیں. ہم جانتے ہیں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں. اس ملک میں ہماری عزتیں محفوظ ہیں. یہ پاک دھرتی ہی ہمارے بچوں کا مستقبل ہے اور وہی اس کی تعمیر کریں گے، ہمارے خواب پورا کریں گے. ہم اگر گم کردہ راہ تھے بھی تو اب نہیں ہیں. چادر والی سرکار محمود اچکزئی کے متعلق میں اپنی گزشتہ تحریر میں بتا چکا ہوں، اب اختر مینگل کے متعلق بھی سن لیجیے۔ یہ وہی شخص ہے جس کے والد نے اپنے دور میں پنجابیوں کو بلوچستان سے نکالا تھا اور یہ بات وہاں کے عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔ نکالے جانے والوں میں اساتذہ بھی تھے، ڈاکٹرز بھی اور انجینیئرز بھی۔ یہ اختر مینگل وہی ہے جس نے اج تک آباد کاروں کے مارے جانے کی مذمت تک نہیں کی۔ ایسے میں یہ دیگر اقوام سے کس حمایت کی توقع رکھتا ہے؟ آخری بات.
حساس اداروں کے قابل افسران نے بلوچستان کے امن اور ترقی کے لیے بہترین اقدامات کیے ہیں۔ اس وقت پینٹاگون سے لے کر را تک ماتم کا سماں ہے کیونکہ حساس اداروں نے اللہ تعالٰی کے حکم سے بلوچستان میں بھارت کی سرمایہ کاری مٹی میں ملا دی ہے۔
محمود اچکزئی اور سردار اختر مینگل سن لو۔ بلوچ اور پختون اپنے محافظوں کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے ہیں۔
پاکستان کا بلوچستان ۔
بلوچستان کا پاکستان ۔
تحریر: شیرباز بلوچ۔
18/02/2024
سردار اختر مینگل ہر وقت ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کرتا ہے۔ یہ شخص بلوچستان میں بلوچوں کی نسل کشی اور پسماندگی کا ذمہ دار ہے۔ اس نے سوائے باتوں کے بلوچستان کے لئے کچھ نہیں کیا حالانکہ اس نے اپنے بھائی جاوید مینگل کی پشت پناہی سے بلوچستان کو لہولہان کر دیا اور ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں۔ اس کا کردار تاریخ میں سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا۔
بلوچستان میں ملک دشمن کے اشاروں پر اپنے ہاتھ معصوم خون سے رنگے ہیں. یہ ریاست کے خلاف پراپیگنڈا کر کے اپنے بیرونی آقاؤں سے پیسہ لیتے ہیں کیونکہ یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن ہو. ریاست کے خلاف بلوچوں کو اکسانے کی بہت کوشش کی۔ اسی شخص نے پاک فوج کے جوانوں، افسروں اور عام بلوچ شہریوں کو دشمن کے اشاروں پر شہید کروایا۔
یہ مداری دشمن کے اشارے پر سیدھے سادے بلوچوں کو ایک بار پھر غلامی کے طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہےہیں اور ایک بار پھر یہ بلوچستان کے امن اور خوشحالی کو اندھیرے میں لانا چاہتے ہیں.
غیور اور پڑھے لکھے بلوچ نوجوان بلوچستان کے امن اور خوشحالی کے لیے پاک فوج اور حساس اداروں کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے ہیں اور بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے امن کے لیے آخری سانس اور آخری گولی تک لڑنے کے لیے ہر گھڑی تیار ہیں ۔
ہم بلوچستان کے عوام پاکستان کے دفاعی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بیرونی سے پہلے اندرونی دشمن کے خلاف ایکشن لیں۔
پاکستان کا بلوچستان۔
بلوچستان کا پاکستان۔
تحریر : شیرباز بلوچ.
17/02/2024
بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے سہولت کار جن میں ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یک جہتی کمیٹی کے ممبران شامل ہیں، بڑی تیزی سے بلوچ نوجوانوں کو برین واش کرکے پہاڑوں میں بھیج رہے ہیں۔
اپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں یہ عامر علیزئی ہے جو گذشتہ دنوں بلوچ یک جہتی کمیٹی کے لانگ مارچ میں ایک حسین لڑکی کے ساتھ دیکھا گیا ہے کہ اس مارچ میں ماہ رنگ ہی نہیں، ماہ رخ بھی پائی جاتی ہیں اور ماہ وش بھی۔ اس شوخ حسینہ نے عامر علیزئی کا ریاست کے خلاف برین واش کیا اور دہشت گرد تنظیم بی ایل اے میں باقاعدہ حصہ بنا کر پہاڑوں میں بھیج دیا۔ قارئین کرام ممکنہ طور پر کچھ ہی عرصے میں عامر کے گھر والوں کو بھی مسنگ پرسنز کے دھرنے میں مگرمچھ کے آنسو بہاتا دیکھیں گے۔
میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ بلوچستان میں کالعدم تنظیمیں بلوچ لڑکیوں کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے تیار کرتے اور پھر اداروں کے ذریعے ان کے مارے جانے کی صورت میں خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتے ہیں یا عالمی اداروں کے سامنے انہیں مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل کر کے پیش کرتے ہیں۔
در حقیقت ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یک جہتی کمیٹی کے ممبران نے خواتین کے ایک ونگ کو ریاست کے خلاف ایکٹو کر دیا ہے جو بلوچ نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کا حصہ بنا کر انہیں دہشت گردی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے۔ بحیثیت بلوچ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ ایسے میں ہماری قومی روایات اور غیرت وغیرہ کہاں چلی جاتی ہیں۔ ہماری ثقافت میں خواتین کو کبھی ان مقاصد کے لیے گھروں سے نہیں نکالا گیا تھا۔ ہماری بچیاں اندرون ملک اور بیرون ملک تعلیم تو حاصل کر سکتی ہیں مگر سڑکوں پر انہیں خوار کرنا ہماری تاریخ میں کبھی نہیں رہا۔ بڑے بڑے بلوچ رہنما اس بات پر کیوں چپ ہیں؟ یہ کہانی با آسانی سمجھ آتی ہے۔
کیا کوئٹہ میں ماہ رنگ کے جلوس میں بی ایل اے کا جھنڈا بلند کرنے سے لے کر بلوچ نوجوانوں کے دلوں میں اسی تنظیم کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا ہی ان نرم و نازک خواتین کا مقصد تھا؟
خدارا بلوچ اپنے بچوں کا خیال رکھیں اور انہیں ان بلوچ دشمن عناصر سے دور رکھیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ ان شاء اللہ کل انہی بچوں بچیوں نے تعلیم حاصل کر کے اپنے صوبے اور ملک کو دنیا میں نمایاں مقام دلانا ہے۔
پاکستان کا بلوچستان ۔
بلوچستان کا پاکستان ۔
تحریر : شیرباز بلوچ ۔
17/02/2024
محمود اچکزئی اور سردار اختر مینگل ہی نہیں، ان کی سوشل میڈیا ٹیم بھی ایکٹو ہو چکی ہے۔ میں بحثیت ایک غیرت مند پاکستان بلوچ اس محمود اچکزئی اور سردار اختر مینگل اور ان کی اس سوشل میڈیا ٹیم کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ یہ پاکستان کا بلوچستان ہے اور اس پاک دھرتی نے غیرت مند بلوچوں اور پختونوں کو جنم دیا ہے۔ ان کی اکثریت محمود اچکزئی اور اختر مینگل جیسے نہیں۔ یہ دونوں انہی غیرت مند قوموں میں جنم لینے والے بے غیرت ہیں۔
سن لو محمود اچکزئی اور اختر مینگل۔
یہ بلوچستان تم لوگوں کے باپ کا نہیں۔ یہ بلوچستان غیرت مند پاکستانی بلوچوں کی سر زمین ہے اور یہاں کے غیور بلوچ اور بختون پاک فوج اور حساس اداروں کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے ہیں۔
ہم بلوچستانی عوام پاک فوج پر بھونکنے والے کتوں کا ساتھ نہیں دیتے۔ محمود اچکزئی تم سردار اختر مینگل کا ساتھ دو کیونکہ تم دونوں کا ماضی گواہ ہے کہ تم لوگ پہلے بھی کبھی پاک سر زمین کے ساتھ مخلص نہیں رہے۔ مخلص نہ رہ کر تم لوگوں نے کیا بگاڑ لیا جو اب بگاڑ لو گے؟ ادارے تم لوگوں کو اس لیے کچھ نہیں کہتے کہ ہر بھونکنے والے پر پتھر نہیں مارا جاتا۔ محترم قارئین کرام۔ ان دونوں کی ہم آہنگی کی صورت حال یہ ہے کہ محمود اچکزئی بلوچستان کو کیک کی طرح آدھا آدھا کرنے کا بیان دے چکا ہے۔ یک جہتی گئی تیل لینے۔ اس بیان پر بلوچوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اسے منہ کی کھانا پڑی تھی اور جس منہ میں کیک ڈالنا تھا اسے بند کرنا پڑا تھا۔ 😊۔ اداروں نے اپنا کام کیا تو ایئرپورٹس وغیرہ تو کیا تم اپنے گھر کے سامنے والی گلی بھی بند نہیں کر پاؤ گے۔
پاکستان کا بلوچستان ۔
بلوچستان کا پاکستان ۔
تحریر : شیرباز بلوچ۔
17/02/2024
بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے اپنے سہولت کار ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ مل کر ریاست کے خلاف بے تحاشہ پروپیگنڈہ کر کے بلوچ نوجوانوں کو پہاڑوں پر بیھج رہے ہیں۔
پھر ان نوجوانوں کا نام مسسنگ پرسنز لسٹ میں ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد جب یہی دہشت گرد پہاڑوں پر مارے جاتے ہیں تو اس آپریشن کو فیک انکاؤنٹر کا نام دے کر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیتے ہیں.
بلوچ قوم اپنے بچوں کو ماہ رنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دور رکھیں یہ بھارتی را کی فنڈنگ سے بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہے ہیں ۔
پاکستان کے ذمے دار اداروں سے درخواست ہے ۔ کہ ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ممبران کو قانوں کے مطابق کاروائی کی جائے ۔
پاکستان کا بلوچستان ۔
بلوچستان کا پاکستان ۔
تحریر : شیرباز بلوچ ۔
26/10/2023
آئیے آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں، سرحدی شہر چمن میں مظاہرین کی حقیقت کی کہانی۔
چمن، دنیا کے کسی بھی سرحدی شہر کی طرح دونوں سمتوں پر سامان کی سرحدوں کے پار نقل و حرکت کا مرکز رہا ہے۔
غریب نوجوان، دونوں سمتوں سے سرحد پار سامان کی نقل و حمل میں محنت کرتے، دن بھر کام کرکے معمولی رقم کماتے ہوئے، بڑی مچھلیوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ کوئی 13 سمگلر ہیں۔ افغانی اور پاکستانی دونوں - جو کمائی سے مزے اُڑا رہے ہیں۔غریبوں کا استحصال کر رہے ہیں۔
ویسے پاکستان ایسے سمگلروں کے ہاتھوں کافی نقصان پہلے ہی اٹھا چکا ہے اور غیر قانونی طور پر سمگلنگ کے اس مکروہ دھندے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ الحمد للٰہ -
جس کی وجہ سے ان میں کافی پریشانی پھیل گئی ہے۔ اس جلوس اور نام نہاد احتجاج کی وجہ صرف غیر قانونی کاروبار کو بحال رکھنا ہے۔
بس بہت ہو گیا. اب ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہوگی۔ خدا کا شکر ہے-
تمام روزانہ مزدوری والے کارکن - لغڑی - لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعے بلا تفریق اور فوری معاشی ریلیف براہ راست دیا جائے گا۔
لغڑیوں کی روزی روٹی کمانے کے متبادل معاشی مواقع بھی افق پر ہیں ۔ ان کو مناسب وقت پر عملی جامہ پہنائیں جائے گا۔
پاک افغان سرحد پر بارڈر مارکیٹس کی قیام کا ایک جامعہ منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جن میں دونوں اطراف کی مقامی پیداوار تجارت کے لیے دستیاب ہوگی۔ واضح رہے کہ ان بازاروں میں ٹرانزٹ ٹریڈ آئٹمز کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
سمگلنگ نے پہلے ہی پاکستان کے لیے کافی معاشی مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ کچھ ہزار روپے کی ریزگاری کرنے والوں کو احتجاج پر لگا کر بڑی مچھلیاں جو کروڑوں میں کھیل رہے ہیں، اپنا گھناؤنا کام ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ مگر ان کی دکان تو اب ہوئی بند۔۔۔۔۔۔
محمود خان اچکزئی ہو یا پی ٹی ایم کا منظور پشتین۔ اکیلے یاسمگلروں کے ساتھ ملکر بھی کچھ بھی نہیں کر سکتے-یہ نہ صرف اخلاقی طور پر پست ہیں، بلکہ ان کا یہ طرزِ عمل غریب اور معاشی طور پر پسماندہ لوگوں کے لیے بھی ذلت آمیز ہے۔ انہیں ہر محاذ پر مسترد ہی ہونا ہے اور ناکامی انکا مقدر ہو چکی۔
09/01/2023
میں بلوچ ہوں. میرا تعلق بلوچستان کے ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں آزادی کے نام پر بی ایل ایف اور بی آر اے بے گناہ بلوچوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ وہ کسی بھی نام کے گرد سرخ دائرہ لگا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں. میں بلوچوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں دہشت گرد بلوچ تنظیمیں قوم پرستوں کے ساتھ مل کر کہانیاں گھڑ رہے ہیں اور ان کے آقا بیرون ملک شاہانہ اور محفوظ زندگی گزار رہے ہیں جب کہ یہاں مقتول قاتلوں سے محفوظ نہیں اور قاتل اداروں سے محفوظ نہیں. یہ بے وقوف نہیں جانتے کہ ریاست سے ٹکر نہیں لی جا سکتی. اگر یہ "سورمچار "پڑھے لکھے ہوتے تو میں انہیں مشورہ دیتا کہ تاریخ کا مطالعہ کریں اور بتائیں کہ آج تک ایسے بزدلانہ اور اوچھے ہتھ کنڈوں سے کون سی تحریک کامیاب ہوئی ہے لیکن یہ لوگ تعلیم یافتہ ہوتے تو اس رستے پر چلے ہی نہ ہوتے بہرحال یہ تم لوگوں کی بھول ہے۔ تمہارا نظریہ امن کا نہیں دہشت گردی کا ہے۔ غیور بلوچ خبردار رہیں کہ ہم بلوچ ہو کر بھی ان قوم پرست بلوچوں سے محفوظ نہیں. ہماری بقا اتحاد میں ہی مضمر ہے.
پاکستان کا بلوچستان ۔
بلوچستان کا پاکستان ۔
تحریر : شیرباز بلوچ