National Democratic Party

Directions Contact the organization

National Democratic Party Political Party

ڈاکٹر حکیم لہڑی کی سیاسی جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک میں  انکےکردار  کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںان کی رحلت بلوچ قومی سیاست...
08/10/2026

ڈاکٹر حکیم لہڑی کی سیاسی جدوجہد اور بلوچ قومی تحریک میں انکےکردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں
ان کی رحلت بلوچ قومی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان ہے
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بزرگ بلوچ سیاسی رہنما ڈاکٹر حکیم لہڑی کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ بلوچ قومی سیاست، قوم دوستی اور قومی شعور کی جدوجہد میں صرف کیا۔ وہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار میں فعال سیاسی کردار ادا کرتے رہے اور قومی سیاست کے نشیب و فراز، سیاسی کشمکش اور مشکل حالات کے باوجود اپنی قومی وابستگی اور قومی سوچ سے دستبردار نہیں ہوئے۔
ڈاکٹر حکیم لہڑی کے سیاسی عمل میں مختلف مراحل پر اتار چڑھاؤ ضرور آیا، سیاسی حالات کے ساتھ ان کی سیاسی وابستگیوں اور طریقۂ کار میں تبدیلیاں بھی دیکھنے میں آئیں، لیکن ان تمام ادوار میں ایک بات مستقل رہی کہ وہ بلوچ قوم کے سیاسی حقوق، قومی تشخص اور قومی موقف کو اپنی سیاست کا بنیادی حوالہ سمجھتے رہے۔ انہوں نے مشکل سیاسی حالات میں بھی قومی سوال کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو سیاسی جدوجہد، تاریخ اور قومی شعور سے جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ان کا سیاسی سفر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ قومی جدوجہد کسی ایک دور، ایک جماعت یا ایک سیاسی طریقۂ کار تک محدود نہیں ہوتی بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اس کے انداز اور سیاسی راستے تبدیل ہو سکتے ہیں، تاہم قومی وقار، قومی مفاد اور اصولی سیاسی موقف پر ثابت قدمی ہی جدوجہد کو معنویت فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں اسی تسلسل کو برقرار رکھا اور اپنی قوم دوستی اور قومی سوچ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ڈاکٹر حکیم لہڑی کی وفات کو موجودہ سیاسی صورتحال میں کسی سانحے سے کم نھیں سمجھتا لیکن ان کی قومی و سیاسی جدوجہد بلوچ قوم کے لئے مشعل راہ بھی ہے جسے منزل کے حصول کو حاصل کرنے کے لئے بطور سیاسی حکمت عملی اختیارکرتے ہوئے ضرور اپنایا جاسکتا ہے۔ پارٹی ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، سیاسی رفقا اور تمام غمزدہ افراد سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔

26 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور ریاستی جبر کی ایک المناک مثال ہےنواب بگٹی بلوچ قومی شناخت، سیاسی اختیار او...
26/08/2026

26 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور ریاستی جبر کی ایک المناک مثال ہے
نواب بگٹی بلوچ قومی شناخت، سیاسی اختیار اور حقِ حاکمیت کی جدوجہد کا ایک اہم استعارہ ہیں
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے 26 اگست کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج کا دن بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جب 26 اگست 2006 کو بلوچ قوم کے بزرگ سیاسی رہنما اور قومی تحریک کے اہم استعارہ نواب اکبر خان بگٹی کو کوہلو کے پہاڑوں میں ریاستی فوجی کارروائی کے نتیجے میں شہید کیا گیا۔ نواب اکبر خان بگٹی محض ایک سیاسی شخصیت نہیں تھے بلکہ بلوچستان کی قومی شناخت، سیاسی خودمختاری، وسائل پر اختیار اور حقِ حاکمیت کے مطالبے کی ایک توانا آواز تھے۔ ان کی شہادت بلوچستان کی تاریخ میں ریاست اور بلوچ قوم کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی خلیج اور بلوچ قومی تحریک کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی سیاسی زندگی میں مسلسل اس مؤقف پر ڈٹے رہےکہ بلوچ قوم کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، زمین، ساحل اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں ۔ انہوں نے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی شعور، اپنی سرزمین سے وابستگی اور اپنے قومی و جمہوری حقوق کے لیے منظم سیاسی جدوجہد کا درس دیا۔ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں انہوں نے بلوچ سیاسی قیادت کو ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کی تاکہ بلوچستان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے ایک متفقہ قومی آواز سامنے آسکے، مگر طاقت کے استعمال اور فوجی کارروائی نے اس سیاسی عمل کو ایک المناک انجام تک پہنچایا۔

ترجمان نے کہا کہ 26 اگست 2006 کا واقعہ محض ایک فرد کی شہادت کا واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ریاستی طاقت کے استعمال کی ایک انتہائی سنگین مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچ قومی تحریک میں جو شدت آئی اس نے بلوچستان کی سیاست کا رخ بدل دیا اور ان اثرات سے جنم لینے والے مزاحمتی سیاست کو محض طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں مسئلے کا حل فراہم نہیں کر سکیں۔ آج بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی مکالمے کی محدود گنجائش کے باعث وہ بنیادی سوالات موجود ہیں جن کے حل کے لیے سیاسی جدوجہد کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ پارٹی نواب اکبر خان بگٹی کی سیاسی جدوجہد اور ان کے قومی و جمہوری مؤقف کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔نواب بگٹی کی برسی کا دن ریاستی اداروں کے لیے سبق ہے کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا حل طاقت، جبر اور فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، آئین کی بالادستی، جمہوری اصولوں اور بلوچ عوام کے سیاسی و قومی حقوق کے احترام میں ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا واحد حل بلوچ قوم کے آئینی، جمہوری، قومی وسیاسی حقوق اور بلوچ سر زمین پر بلوچ حق حاکمیت کو تسلیم کرنے میں ہی پناں ہے ۔

سانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہےعام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں اور ماورائ...
14/08/2026

سانحہ گدر بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے
عام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ناقابلِ قبول ہیں

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گدر بلوچستان میں پیش آنے والا المناک سانحہ بلوچستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں میں سے ایک ہے، جس نے نہ صرف پورے بلوچ و بلوچستان بلکہ ہر باشعور انسان کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ اس انسانیت سوز واقعے میں تیس کے قریب مرد، خواتین اور بچے زخمی ہوئے جبکہ متعدد قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سانحے میں پانچ معصوم بچے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جو اس المیے کی سنگینی اور بے رحمی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ عام شہری آبادی کو اس طرح نشانہ بنانا ہر انسانی، اخلاقی اور قانونی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں رونما ہونے والا یہ سانحہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ اٹھہتر برسوں سے جاری ریاستی جبر، سیاسی انتقام اور بلوچ عوام کے خلاف منظم اجتماعی ظلم کے تسلسل کی ایک اور کڑی ہے۔ جب کسی معاشرے میں عام شہری، خواتین اور بچے بھی تشدد اور عدم تحفظ کا شکار ہوں تو یہ صورتحال کسی بھی مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہوتی ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اصولوں بلکہ پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی بھی نفی کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ آج بلوچستان میں عام شہریوں کی زندگی کو عملاً خوف، غیر یقینی اور عدم تحفظ کے ماحول میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ایک جانب جبری گمشدگیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تو دوسری جانب مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ سالوں سے جبری طور پر لاپتہ افراد کو بعد ازاں ماورائے عدالت قتل کرکے ڈرامائی انداز میں مسلح قرار دیا جاتا ہے اور انہیں مبینہ مقابلوں میں ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں پنجگور سے تعلق رکھنے والے پیرجان بلوچ اور شعیب بلوچ کے واقعات اس افسوسناک طرزِ عمل کی تازہ مثال ہیں، جو کئی برسوں سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔ ایسے اقدامات انصاف کے نہ صرف بنیادی اصولوں، بلکہ آئین اور قانون کے نام پر تمانچہ ہیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ عام شہریوں پر حملے، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی جانوں کی بے توقیری کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ قومی اور سیاسی مسائل کا حل طاقت، جبر اور تشدد نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، انصاف، مکالمے اور عوام کی رائے کے احترام میں مضمر ہے اور جہاں بات قومی بقا کی ہو وہاں خاموشی گناہ کبیرہ کے مترادف سمجھتےہیں۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی انسانی حقوق کے تمام اداروں بشمول اقوام متحدہ کے متعلقہ فورمز سے مطالبہ کرتی ہے کہ گدر بلوچستان کے سانحے کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داران قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں،دیگر ان عوامل کے شدید اثرات پورےخطے کی امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں ناقابلِ قبول، آئینی و جمہوری جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتاثناء بلوچ اور غنی بلوچ سمیت تمام...
10/08/2026

سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں ناقابلِ قبول، آئینی و جمہوری جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا
ثناء بلوچ اور غنی بلوچ سمیت تمام لاپتہ سیاسی کارکنوں کی فوری بازیاب کیا‌ جائے
این‌ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے مرکزی آرگنائزنگ باڈی کے رکن ثناء بلوچ کی جبری گمشدگی کو آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے، مگر افسوس کہ اس پورے عرصے میں نہ انہیں منظرِ عام پر لایا گیا، نہ ان کی قانونی حیثیت واضح کی گئی اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت یا مقامِ حراست سے متعلق کوئی مستند معلومات فراہم کی گئیں۔ اسی طرح پارٹی کے مرکزی رہنما غنی بلوچ کو پچیس مئی 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے بعد تقریباً پندرہ ماہ گزرنے کو ہیں، لیکن ان کے بارے میں بھی ریاستی اداروں کی خاموشی برقرار ہے۔ عدلیہ، متعلقہ کمیشن، پولیس اور وہ تمام ادارے جن پر متاثرہ خاندان نے انصاف کی امید لے سوال اٹھائے، آج بھی ان معاملات پر خاموش دکھائی دیتے ہیں، جو قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور طلبہ رہنماؤں کی جبری گمشدگیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹ فرنٹ کے وائس چیئرمین فضل بلوچ کی جبری گمشدگی بعد ازاں رہائی، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین جئیند بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کیے جانے اور بی ایس او کے ایک زونل رکن سمیت متعدد سیاسی کارکنان کو جبری گمشدگی کے بعد رہائی ملنے اور سینکڑوں بلوچ سیاسی کارکنان کا تاحال جبری طور پر گمشدہ رہنے جیسے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاسی سرگرمیوں، طلبہ سیاست اور جمہوری اظہارِ رائے کو محدود کرنے کا رجحان مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی روح کے منافی ہیں بلکہ بلوچستان میں سیاسی اعتماد، مکالمے اور جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے سیاسی نظریات کو دبانے، مکالمے کے دروازے بند کرنے اور آئینی جدوجہد کو محدود کرنے کی پالیسیاں کبھی دیرپا امن اور استحکام کا باعث نہیں بنیں۔ جہاں دلیل، اختلافِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں کی گنجائش ختم کی جاتی ہے، وہاں سیاسی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی اور جدوجہد کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ اس لیے مسئلے کا حل سیاسی کارکنوں کو خاموش کرانے میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی پاسداری میں مضمر ہے۔
مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی جبری گمشدگیوں کے اس تسلسل کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں سمجھتی اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کے بنیادی آئینی حقوق کی پامالی پر خاموش رہے گی۔ ہماری جدوجہد ایک آئینی، جمہوری، پرامن اور اصولی جدوجہد ہے، جس کا مقصد بلوچ عوام کے سیاسی، قومی اور جمہوری حقوق کا حصول ہے۔ حالات اور سیاسی تقاضوں کے مطابق جدوجہد کی حکمتِ عملی اور اس کے طریقۂ کار میں تبدیلی آ سکتی ہے، مگر اپنے قومی حقوق، وسائل پر اختیار، باوقار سیاسی وجود اور بلوچ سرزمین پر بلوچ عوام کے حقِ حاکمیت کو تسلیم کیے جانے تک ہماری سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ ثناء بلوچ، غنی بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ سیاسی کارکنوں کوفوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے یا بلا تاخیر رہا کیا جائے۔ پارٹی اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے، آئین کی بالادستی یقینی بنے اور بلوچستان میں سیاسی اعتماد کی بحالی کی راہ ہموار ہو۔

بلوچ‌یکجہتی کمیٹی کی‌جانب سے اعلان‌کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہیںنیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غیر ...
23/06/2026

بلوچ‌یکجہتی کمیٹی کی‌جانب سے اعلان‌کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچ سیاسی رہنماؤں کو غیر منصفانہ عدالتی فیصلے کے تحت عمر قید کی سزاؤں کے خلاف اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج اور عوامی ردِعمل ایک جمہوری حق ہے۔

این ڈی پی بلوچستان کے عوام، سیاسی کارکنوں، طلبہ، وکلا، تاجروں اور تمام جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ہڑتال کی حمایت کرکے انصاف، انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے حق میں اپنی آواز بلند کریں.

24 جون‌ 2026, بروز بدھ

آج انسداد دہشتگردی عدالت کا بلوچ راجی مچی گوادر کیس میں دیا گیا فیصلہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پر ایک ک...
22/06/2026

آج انسداد دہشتگردی عدالت کا بلوچ راجی مچی گوادر کیس میں دیا گیا فیصلہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق پر ایک کھلا حملہ ہے
بلوچ راجی مچی گوادر مقدمے میں پر امن سیاسی رہنماؤں کو انسداد دہشتگردی عدالت سے عمر قید کی سزا دینا عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے
این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن سیاسی و انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے بلوچ رہنماؤں کو دہشتگردی کے مقدمات میں الجھا کر عمر قید کی سزائیں سنانا انصاف کا قتل ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل اور وسائل کی لوٹ مار کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ ایک پرامن احتجاج کو تشدد کا نام دے کر پوری قیادت کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینا ریاست کی بوکھلاہٹ اور بلوچ عوام کی آواز کو دبانے کی کوششوں کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزائیں سنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچ عوام کے بنیادی سوالوں کا جواب قانون، انصاف اور عدالت کے بجائے طاقت، تشدد اور جبری طور پر قید و بند سے دینا چاہتی ہے۔ جبری گمشدگی، ماورائے آئین قتل، وسائل کی لوٹ مار پر آواز اٹھانا جرم نہیں ہے۔ پرامن احتجاج کو دہشتگردی کا لیبل لگا کر سیاسی قیادت کو ختم کرنا ریاست کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری کے مترادف ہے ۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس فیصلے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ یہ سزائیں نہ صرف ملزمان کے بنیادی انسانی و قانونی حقوق پامالی ہیں بلکہ بلوچ عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ پرامن سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات انصاف کا عمل نہیں بلکہ بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہیں ۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام رہنماؤں کی رہائی تک جدوجہد جاری رہے گی اور مطلق العنان حکمرانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں بندوق کی نوک پر امن مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ سیاسی مقدمات فوراً ختم کیے جائیں ، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ اور سمیت تمام گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے اور بلوچ عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ عدالتوں کا کام انتقام لینا نہیں بلکہ انصاف دینا ہوتا ہے۔ آج کا فیصلہ عدالتی تاریخ میں ایک بدنما داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آج اگر عدالتوں نے آئین کی حفاظت نہ کی، تو کل تاریخ ان سے سوال کرے گی۔ لہذا واضح کرتے ہیں کہ ہم بلوچ سیاسی رہنماؤں کو تنہا نہیں چھوڈیں گے کیونکہ ظالم و مظلوم کے تعین کا فیصلہ تاریخ کرے گی ۔

بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف غیر شفاف عدالتی طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیںمنصفانہ ٹرائل او...
17/06/2026

بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کے خلاف غیر شفاف عدالتی طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں

منصفانہ ٹرائل اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے
این ڈی پی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بیان میں کہا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان سمیت دیگر سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ایسے عدالتی و قانونی طریقۂ کار استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں شفافیت، کھلی سماعت اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کو مخدوش کیے جا رہے ھیں جس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ آئین نہ صرف بنیادی طور پر شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار عدالتی کارروائی کا حق فراہم کرتی ہے بلکہ کسی بھی ایسے لاقانونیت یا بد انتظامی معاملاتِ پر پابندی عائد کرتے ہیں جو قانونی شفافیت یا بنیادی حقوق کو متنازعہ بنا دیں-

غیر شفاف عدالتی کارروائیوں کا کوئی بھی تصور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ھیں- عدالتی نظام کی ساکھ اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب ہر شہری کو کھلے، آزاد اور غیر جانبدار عدالتی عمل تک مکمل رسائی حاصل ہو جبکہ سیاسی ہم آہنگی صرف اسی صورت میں فروغ پا سکتے ہیں جب انصاف نہ صرف کیا جائے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ لہٰذا تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ قانونی کارروائیوں میں شفافیت، آئینی ضمانتوں اور منصفانہ ٹرائل کے مسلمہ اصولوں کو مقدم رکھا جائے۔ انصاف کی فراہمی صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔ کوئی بھی ایسا طریقۂ کار جو عدالتی عمل کو عوامی جانچ پڑتال، قانونی شفافیت اور بنیادی آئینی ضمانتوں سے دور لے جائے، مستقبل میں شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جمہوری معاشروں کی مضبوطی کا انحصار اس امر پر ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور بنیادی شہری آزادیوں کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ اختلافِ رائے، سیاسی سرگرمیوں اور پرامن جمہوری اظہار کو قانونی اور آئینی دائرے میں تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ریاستی ادارے اس بنیادی حقوق کو بلوچ سیاسی کارکنان کے لیے ممنوعہ سمجھتے ہیں۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اس غیر منصفانہ نظام کو عالمی انسانی حقوق کے منشور کے متصادم سمجھتا ہے جس پر ریاست نے اپنے دستخط سبط کرکے اقوام عالم کو باور کرایا تھا کہ انسانی زندگی کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہمی میں شفافیت لایا جائے گا۔۔ ایسے اقدامات، اگر معمول بنائے گئے، تو یہ نہ صرف سیاسی اختلاف کو پر تشدد بنانے کے مترادف ہوں گے بلکہ مستقبل میں ہر شہری کے قانونی تحفظ کے لیے بھی خطرہ پیدا کریں گے۔ریاستی اداروں سمیت کوئی بھی فرد یا گروہ آئینی و قانون سے بالاتر نہیں اور قانون کی بالادستی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شہری کو کھلے، شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ عدالتی عمل تک رسائی حاصل ہو۔ انصاف کے بنیادی اصولوں میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری قدغن یا ابہام نہ صرف متعلقہ افراد کے حقوق بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ سیاسی کارکنان سمیت دیگر تمام سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری مقدمات کھلے، شفاف اور آئینی تقاضوں کے مطابق چلائے جائیں، اور ایسے تمام غیر شفاف قانونی طریقۂ کار فوری طور پر ختم کیے جائیں جو منصفانہ ٹرائل کے حق کو متاثر کرتے ہوں کیونکہ سیاسی اختلافِ رائے اور پرامن سیاسی جدوجہد ھر شہری کا بنیادی حق ہے۔ آئینی تقاضا یہ ہے کہ تمام شہریوں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی فکر سے ہو، کو ایک جیسے عدالتی معیار اور بنیادی حقوق حاصل ہوں۔

نواب خیر بخش مری کی بارہویں برسی کے موقع پر انہیں ان کی فکری و سیاسی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیںنواب خیر بخش مری ک...
10/06/2026

نواب خیر بخش مری کی بارہویں برسی کے موقع پر انہیں ان کی فکری و سیاسی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں
نواب خیر بخش مری کی فکری اور سیاسی میراث آج بھی قومی شعور کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے
ان کی جدوجہد نے بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح نظریاتی سمت فراہم کی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نواب خیربخش مری کی بارہویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ نواب خیربخش مری بلوچ قومی سیاست کی اُن نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی قومی شعور کی بیداری، سیاسی تنظیم کاری اور محکوم اقوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے قومی سوال، نوآبادیاتی نظام، سماجی تبدیلی اور سیاسی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے غور کیا اور اپنی فکر و عمل کے ذریعے بلوچ قومی تحریک پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی بارہویں برسی کے موقع پر ان کی سیاسی جدوجہد، فکری خدمات اور قومی شعور کی تشکیل میں ان کے کردار کو یاد کرنا محض ایک تاریخی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنے عہد کے سیاسی تقاضوں کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
نواب خیربخش مری محض ایک قومی سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک گہرے سیاسی مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نوآبادیاتی رشتوں، ان کے اندر کارفرما طاقت کے ڈھانچوں اور محکوم اقوام پر ان کے اثرات کا نہایت سنجیدگی اور گہرائی سے مطالعہ کیا۔ وہ ان سیاسی، معاشی اور سماجی رشتوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ عملی سیاست کے ذریعے ان کے خاتمے کے لیے بھی مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔
ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ وہ ایک قبائلی سردار ہونے کے باوجود اپنی سیاسی فکر کو محض قبائلی حدود تک محدود نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے قبائلی قیادت کے دائرے سے نکل کر ایک قومی سیاسی رہنما کی حیثیت اختیار کی اور بلوچ قومی تحریک کو ایک وسیع فکری اور سیاسی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سیاست کا مرکز فرد یا قبیلہ نہیں بلکہ قوم، اس کی اجتماعی آزادی اور اس کا سیاسی شعور تھا۔
نواب خیربخش مری عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے جذباتی اور جوشیلی تقریروں کے قائل نہیں تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی تقدیر محض نعروں اور وقتی جذبات سے نہیں بدلتی بلکہ ایک منظم فکری عمل، سیاسی تربیت اور اجتماعی شعور کی تشکیل سے بدلتی ہے۔ اسی لیے وہ عوام کے قومی سیاسی شعور کو پروان چڑھانے کو اپنی سیاست کا بنیادی مقصد سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ایسی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کو اختیار کرنا ضروری تھا جو وقتی ردعمل پیدا کرنے کے بجائے دیرپا اثرات مرتب کریں اور سماج کو بنیادی سطح پر متحرک اور منظم کریں۔
وہ نوجوان نسل میں مطالعے، تحقیق اور تنقیدی شعور کے فروغ کو قومی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک سیاسی وابستگی اس وقت مؤثر بنتی ہے جب اس کی بنیاد علم، فہم اور حالات کے سائنسی تجزیے پر استوار ہو۔ اسی تناظر میں وہ قومی شعور کی تشکیل میں تاریخ کے کردار پر بھی زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک جو قومیں اپنی تاریخ، اجتماعی تجربات اور جدوجہد کے تسلسل کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنی سیاسی سمت متعین کرنے کی صلاحیت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ بلوچ سماج کو وقتی جذبات، انتشار یا غیر واضح سیاسی نعروں کی طرف دھکیلنے کے بجائے ایک واضح سمت، واضح مقصد اور منظم سیاسی جدوجہد کی طرف راغب کیا جائے۔ ان کے نزدیک قومی تحریک کی کامیابی کا انحصار اس بات پر تھا کہ عوام اپنے سیاسی، تاریخی اور سماجی حالات کو درست طور پر سمجھیں اور اپنی جدوجہد کو ایک طویل المدتی قومی منصوبے کے تحت آگے بڑھائیں۔ نواب خیربخش مری اس بات پر بھی زور دیتے تھے کہ قومی جدوجہد محض انفرادی خواہشات یا وقتی ردعمل سے آگے نہیں بڑھ سکتی بلکہ اس کے لیے منظم سیاسی اداروں، اجتماعی نظم و ضبط اور طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کی سیاسی فکر صرف بلوچ سماج تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ دنیا بھر کی محکوم اقوام کی تحریکوں، ان کے تجربات اور نوآبادیاتی نظام کے مختلف مظاہر کا بھی گہرا مطالعہ رکھتے تھے، جس نے ان کے سیاسی نظریات کو مزید وسعت بخشی۔ وہ قومی تحریکوں میں فکری خودمختاری کے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ ہر قوم کو اپنے تاریخی، سماجی اور سیاسی حقائق کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی اور سیاسی راستے کا تعین کرنا چاہیے۔
اپنی طویل سیاسی زندگی میں نواب خیربخش مری نے مختلف نشیب و فراز، سیاسی دباؤ، قید و بند، جلاوطنی اور سخت حالات کا سامنا کیا، لیکن انہوں نے اپنے نظریات اور سیاسی مؤقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی یہی استقامت انہیں بلوچ قومی سیاست کی ایک نمایاں اور بااثر شخصیت بناتی ہے۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی عکاس تھی کہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے نظریاتی وابستگی اور عملی ثابت قدمی ایک دوسرے سے جدا نہیں کی جا سکتیں۔
آج کے دور میں نواب خیربخش مری کے سیاسی فلسفے اور فکری ورثے کو سمجھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات میں ان کے نظریات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ قومی مسائل کی نوعیت کیا ہے، ان کے تاریخی اسباب کیا ہیں، اور ان کے حل کے لیے کس قسم کی سیاسی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان کی فکر محض ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
ہر نئی نسل کو اپنے عہد کے تاریخی حقائق اور سیاسی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے اپنے اکابرین کے افکار، تجربات اور نظریات سے رہنمائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے فکری اور سیاسی ورثے سے جڑی رہتی ہیں، وہ تاریخ کے پیچیدہ مراحل میں بھی اپنی سمت کا تعین کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں نواب خیربخش مری کے سیاسی اور فکری نظریات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی فکر نہ صرف قومی شعور کی آبیاری کرتی ہے بلکہ نوجوانوں کو یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ قومی آزادی، خودمختاری اور ترقی کے لیے نظریاتی پختگی، سیاسی بصیرت اور مسلسل جدوجہد ناگزیر ہیں۔

بلوچ اور پشتون اقوام کے مابین نفرت پیدا کرنا جبرواستحصال کے پالیسیوں کو فروغ دینا ہےباہمی اشتراک اور اعتماد سے نوآبادیات...
01/06/2026

بلوچ اور پشتون اقوام کے مابین نفرت پیدا کرنا جبرواستحصال کے پالیسیوں کو فروغ دینا ہے
باہمی اشتراک اور اعتماد سے نوآبادیاتی طرز پر مشتمل موجودہ انتظامی تقسیم کے اثرات کو ختم کیے جاسکتے ہیں

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پشتون و بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کے سرزمین کا احترام کرتے ہوئے تاریخی، سیاسی، سماجی و ثقافتی بنیادوں پر قومی وحدتوں کے تشکیل کا حمایت کرتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ تمام محکوم اقوام اپنے دائرہ حدود میں رہ کرجغرافیائی ترتیب کو انسانی ومعاشرتی اصولوں پر گامزن رویوں کو مدنظر رکھ کر مطالبات کے بحث کو پختگی فراہم کریں۔ محکوم اقوام کے قومی وحدت پر ضرب لگانے کا مقصد سابقہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامی تقسیم کو برقرار رکھنا ہے تاکہ عالمی سامراجی عزائم کو محفوظ رکھنے کے لئے جدید نوآبادیاتی ریاست کے تشکیل سے خطے کی سیاست کو بین الاقوامی سرمایہ داریت اور عالمگیر سامراجیت کے ماتحت بنایا جاسکے ۔
سابقہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں بلوچ اور پشتون علاقوں کو ڈیورنڈ اور گولڈ اسمتھ لکیروں سے انکے قومی اجتماعی قوتوں کو کمزور کرکے انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ استعماریت کے خلاف ممکنہ مزاحمتی جدوجہدکو قابو میں رکھا جاسکے۔ بلوچ علاقوں کو قلات ریاست سے لیز پر لینا اور ریل کے پٹڑی بچھا کر کابل اور تہران پر قبضہ کرنا سابقہ برطانوی نوآبادیاتی سازشوں کا حصہ تھا، جسکے لئے پشتون اور بلوچ سرزمین کو زمینی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، چونکہ سابقہ برطانوی نوآبادیات کو اس خطے میں ایک نظام کے ماتحت کرنا تھا تو برٹش-بلوچستان سے منسوب ان علاقوں کو ایک پولیٹیکل ایجنٹ کے زیر وکرم پر کردیا گیا تاکہ پشتون و بلوچ عوام کو سابقہ برطانوی نوآبادیاتی پالیسیوں کے تحت چلایا جاسکے۔ معاملات صرف زمینی راستے کو اختیار کرکے حکومت کرنے سے زیادہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی تسلط کو پورے برصغیر پر قائم رکھنے کے لئے زیر زمین معدنیات کو کثرت سے لوٹ کر نکالنا ان کا بنیادی اہداف میں شامل تھا، جسکی مثالیں موجود ہیں اور ان میں ایک واضح ثبوت اس خطے سے بھاری مقدار میں معیاری کوئلہ نکال کر کلکتہ کے صنعتوں کو ایندھن فراہم کرنا تھا۔
فقیر ایپی و پالے خان مندوخیل پشتون قوم کے وہ باشعور قیادت تہے جنہوں نے سابقہ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے، اور پشتون سرزمین کا ھر حصہ غلامی سے نفرت کا واضح ثبوت ہیں جہاں پشتون قوم نے قربانیاں دے کر استعماریت و سامراجیت کے خلاف پنجہ آزمائی کرتے رہے- بدقسمتی سے مذہب کو آلہ ہتھیار بنا کر پشتون و بلوچ سمیت دیگر محکوم اقوام کو سابقہ برطانوی سامراج نے اپنے ماتحت نئے بننے والے جدید نوآبادیات ریاست کے ماتحت کرتے ھوے دو قطبی عالمگیر قوتوں کے مابین اس خطے میں موجود محکوم اقوام بالخصوص پشتون قوم کو آگ و خون میں لپیٹ کر جنگ کے آگ میں جھونک دیا۔ آج صورتحال سب پر عیاں ہے کہ پشتون و بلوچ سرزمین کو مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے اور جہاں سے موجودہ بالادست حکمران اپنے مذموم عزائم کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے سامراجی کھیل کھیلتے ہوئے دونوں محکوم اقوام کے مابین غلط اندازوں پر مبنی نفرت کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج بھی ریاست کے ایوانوں میں بلوچ و پشتون سمیت دیگر محکوم اقوام کو شفاف انتخابات کے ذریعے رائے شماری کرنے نہیں دیتے اور بوگس حکمرانوں کو پشتون و بلوچ کا انتظامی امور سنبھالنے کے لئے غیر فطری قوانین کو مسلط کرایا جاتا ہے۔ بلوچ و پشتون سرزمین پر افراتفری و بد امنی کے ذمہ داران بوگس حکمرانوں کے پیروی کرنے والے منفی عوامل ہیں جو کہ اصل بالادست حکمران کو استعماری قوت فراہم کرنے کے لئے سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ مشترکہ اور باہمی اشتراک سے ان سازشوں کو بے نقاب کیا جاسکے۔
نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بلوچ اور پشتون عوام کے مابین اختلافات یا نفرت پیدا کرنا کسی بھی طور پر ان محکوم اقوام کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔ اس کے برعکس، دونوں اقوام کا اصل مفاد باہمی اتحاد، سیاسی شعور اور مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے تاکہ اس تاریخی اور انتظامی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جا سکے۔محکوم اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اپنے اپنے قومی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اپنے حدود و قومی وحدت میں منظم ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ صرف باہمی اتحاد اور سیاسی شعور کے ذریعے ہی اس موجودہ انتظامی تقسیم کے منفی اثرات کو ختم کیا جا سکتے ہیں اور دونوں محکوم اقوام کے لیےاپنے قومی وحدت میں ایک منصفانہ، جمہوری اور بااختیار نظام کی طرف پیش رفت ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

مرکزی ترجمان: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

عید کی خوشیوں کے سائے میں بلوچ سماج کا اجتماعی کرب اور لاپتہ افراد کا المیہ!جس طرح آج مسلم دنیا عید کے مقدس تہوار کی منا...
27/05/2026

عید کی خوشیوں کے سائے میں بلوچ سماج کا اجتماعی کرب اور لاپتہ افراد کا المیہ!

جس طرح آج مسلم دنیا عید کے مقدس تہوار کی مناسبت سے خوشیاں منا رہی ہے، اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مسرت کے لمحات گزار رہی ہے، اسی وقت بلوچ سماج کے ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی جدائی اور انتظار کے کرب میں مبتلا ہیں۔ بے شمار ایسے خاندان موجود ہیں جن کے عزیز جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی جبر کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ خاندان عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کے بجائے اپنے پیاروں کی یاد میں غم، اضطراب اور اذیت کے لمحات گزار رہے ہیں۔ بلوچستان کے کئی علاقوں میں لوگ عید کی تقریبات منانے کے بجائے اپنے لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔
آج پورا بلوچ سماج جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان میں بے یقینی، بے چینی اور خوف کی فضا مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات میں بہتری کے بجائے مزید پیچیدگی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے۔ سماجی انصاف، انسانی حقوق اور سیاسی آزادی کے لیے بلند ہونے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انصاف کے منتظر خاندانوں اور افراد کو مسلسل ذہنی دباؤ، خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ اجتماعی سزا کا ماحول بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگیوں، ماورائے آئین اور جعلی مقابلوں میں قتل، سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والے مبینہ ڈیتھ اسکواڈز اور سماجی جرائم میں ملوث عناصر کی سرگرمیوں کے باعث عام شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ محسوس ہوتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل، املاک کی لوٹ مار اور قانون کی کمزور عملداری نے پورے معاشرے کو شدید اضطراب اور عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔
عید جیسے مذہبی اور خوشی کے تہوار، جو عام طور پر محبت، بھائی چارے اور خوشیوں کی علامت سمجھے جاتے ہیں، بلوچ عوام کے لیے غم اور دکھ کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ ہر گھر میں خوشیوں کے بجائے اپنے لاپتہ، قید یا شہید ہونے والے پیاروں کی یادیں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عید ہمارے لیے خوشی کے بجائے مزید درد، رنج اور احساسِ محرومی کا سبب بن جاتی ہے۔
ہمارے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں غنی بلوچ اور ثناء بلوچ سمیت کراچی زون کے ممبر زائد بلوچ کی جبری گمشدگیاں بھی انہی ہزاروں خاندانوں کے دکھ اور کرب کا حصہ ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ آج اسی اذیت سے گزر رہے ہیں کہ ان کے پیارے کن حالات میں ہیں اور کس قسم کے ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان افراد کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اجتماعی ناانصافیوں کے خلاف، قومی حقوق کے حصول اور سیاسی جدوجہد کے لیے پرامن طریقے سے آواز بلند کر رہے تھے۔
ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں بی وائی سی کی آرگنائزر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھی مبینہ طور پر بوگس مقدمات، جانبدارانہ عدالتی کارروائیوں اور مختلف قانونی و انتظامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح سینکڑوں بلوچ سیاسی کارکنان بوگس ایف آئی آرز، تھری ایم پی اور فورتھ شیڈیول جس کا شکار پارٹی کے مرکزی آرگنائزر شاہ زیب بلوچ ایڈوکیٹ بھی ہیں۔ اس ماحول میں اختلافِ رائے اور سیاسی اظہار کو برداشت کرنے کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔
ریاستی مشینری اور حکومتی ڈھانچہ بلوچ سماج کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسی حکمتِ عملیوں پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے جو مستقبل میں مزید بے یقینی، بداعتمادی اور سیاسی و سماجی بحرانوں کو جنم دے سکتی ہیں۔ اگر مسائل کے حل کے لیے انصاف، مکالمے اور سیاسی عمل کو ترجیح نہ دی گئی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ہم تمام بلوچ سیاسی و سماجی کارکنان، دانشوروں، طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنان اور بلوچ سماج کے ہر طبقے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اجتماعی کرب، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہر جمہوری، آئینی اور پُرامن فورم پر اپنی آواز بلند کریں۔ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے اجتماعی شعور، یکجہتی اور مسلسل جدوجہد ہی ایک بہتر اور منصفانہ مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Democratic Party posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to National Democratic Party:

Shortcuts

Share