23/01/2026
بلوچستان میں سیاسی اختلاف کو سیکیورٹی مسئلہ بنانا غیر دانشمندانہ اور جمہوری روایات کے منافی ہے: نزیر بلوچ
بلوچستان اسمبلی اگر متحرک ہوتی تو اساتذہ اپنے مطالبات کے لئے سڑکوں پر نشان عبرت نہ بنا دئیے جاتے ۔ نزیر بلوچ
کوئٹہ،
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے، احتجاجی عمل اور عوامی مسائل کو سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا، یا پورے صوبے کو نام کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر یرغمال بنانا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ یہ سیاسی، انتظامی اور بلوچستان کی مثبت جمہوری روایات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں اساتذہ کے پُرامن احتجاج کو جس انداز میں کاؤنٹر انسرجنسی کے خود ساختہ دانشوروں اور عمل درآمدی گروہ نے بلیک میلنگ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ برائے نام اسمبلی عوامی خواہشات اور خیالات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے اور محض اپنی مراعات اور تنخواہوں کے تحفظ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
نزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری سیاسی اور انسانی المیے کو وقتی ردعمل یا چند واقعات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے تاریخی حقائق، مقامی رسم و رواج اور زمینی مسائل کو سامنے رکھ کر سنجیدہ سیاسی فہم کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومتی رِٹ اس حد تک کمزور ہوچکی ہے کہ اساتذہ کو اپنے جائز مطالبات، خصوصاً تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج پر سڑکوں پر گھسیٹا جائے، تو یہ تشویش ناک امر ہے کہ مستقبل میں بڑے عوامی احتجاجوں کو کس جارحانہ حکمتِ عملی سے نمٹنے کی سوچ رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ عوامی سطح پر غیر مقبول اور تنہائی کا شکار ہوچکا ہے، اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے ہر احتجاج، سیاسی عمل یا تنظیم سازی کو ریاست مخالف یا بلیک میلنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مسائل کو سیاسی تدبر، مکالمے اور آئینی اداروں کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اگر بلوچستان اسمبلی واقعی عوامی نمائندہ ادارہ ہوتی اور ملازمین کے مسائل پر سنجیدگی سے متحرک کردار ادا کرتی، تو اساتذہ کرام کو سڑکوں پر گھسیٹ کر عبرت کا نشان بنانے کی نوبت کبھی نہ آتی۔ یہ طرزِ عمل نیا نہیں، بلکہ گزشتہ برس بھی تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز سے طلبہ کو زبردستی نکال کر خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
عوامی بیداری سے خوف اور یکطرفہ بیانیہ سازی بلوچستان کے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انجمن سازی، مکالمے اور باشعور طبقات کی آواز کو سنا جائے اور مسائل کا حل سیاسی و جمہوری طریقے سے نکالا جائے، کیونکہ جبر اور یکطرفہ پالیسیوں سے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو رہے ہیں۔
11/01/2026
جنریشن گیپ و جدید صدی کے حقائق سے نابلد حکمران و پالیسی ساز طاقت کو حل قرار دے کر تمام مکاتب فکر کو دیوار سے لگا رہے ہے۔نزیر بلوچ سابق چیئرمین بی ایس او
کوئٹہ،
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما،بی ایس او کے سابق نے چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اختلاف رائے و احتجاج کی بنیاد پر تمام مکاتب فکر کو دیوار سے لگا رہی ہے 38 کے قریب پروفیسرز کو معطل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت تنقید و اصلاح کی گنجائش کے بجائے طاقت و من مانی پر یقین رکھتی ہے انہوں نے مزید کہ کہ سرکاری پالیسی ساز اور اختیار دار جنریشن گیپ اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کے تقاضوں کو سمجھنے کے بجائے طاقت کے استعمال، روایتی خوشامد پسندی اور اختلافِ رائے کو غداری و دشمنی قرار دے کر بلوچستان میں جاری انسانی المیے کو مزید الجھا رہے ہیں۔ محض الزامات، میڈیا وار اور من گھڑت بیانیے تشکیل دے کر تنقیدی سوچ کو دبانے کی پالیسی وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر یہ مسائل کا مستقل حل ہرگز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی حل مسائل کی سنگینی کو تسلیم کرنے، معاشرے میں پروان چڑھائے گئے منفی رویوں کے خاتمے اور عوامی سطح پر قبولیت پیدا کرنے میں ہے۔ خصوصاً آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں شعور رکھنے والی نئی نسل کو روایتی الزام تراشی سے دبانے کے حربے مزید مسائل کو جنم دیں گے، جن کا خمیازہ آج بلوچستان بھگت رہا ہے۔
گزشتہ کئی عرصے سے بلوچستان میں طلبہ تنظیموں کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم جاری ہے، تعلیمی اداروں میں سرکلنگ پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور تعلیمی مسائل پر تنقیدی شعور کو دبانے کے لیے یکطرفہ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بغیر کسی عدالتی فیصلے کے لوگوں کو براہ راست انتہاپسندی کی جانب دھکیلنے کے اثرات حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور عملدرآمد کرنے والے خوشامدی عناصر کے ذاتی مفادات کا نتیجہ ہیں، جو ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 90 فیصد نوجوان بیروزگار ہیں، تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور کالے قوانین کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نوجوان شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ حالات کی بنیادی وجہ سیاسی حقائق سے چشم پوشی اور سردار اختر جان مینگل کے چھ نکات پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ اگر ان نکات پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو حالات کی بہتری کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ نکل سکتا تھا۔
بلوچستان کے وسائل سے متعلق حقائق کو میڈیا مہم کے ذریعے مسخ کرنے کی پالیسی کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ خوشامدی عملدرآمدی ٹولہ محض ذاتی مفادات کے لیے طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز اور ہر مثبت سرگرمی کو غیر قانونی قرار دے کر خاموش کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ملازمین کے جائز مطالبات پر مذاکرات کرکے حل کی جائے طاقت کے استعمال کی روش بلوچستان کے ہر طبقے کو انسانی المیے و بحران کا شکار کرچکی ہے۔
21/12/2025
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نزیر بلوچ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین و بلوچستان میں انسانی حقوق کے علمبردار ماما قدیر بلوچ کے رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انکے لواحقین سے تعزیت و مغفرت کے لئے دعا کی ۔انہوں نے ماما قدیر بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ نے ایک دہائی سے زائد مسلسل علامتی احتجاجی کیمپ کوئٹہ سے کراچی و اسلام آباد لانگ مارچ کرکے نہ صرف تاریخ رقم کی بلکہ ہمیشہ پرامن جدوجہد کے علمبرار و عملی نمونہ رہے انکے احتجاجی کیمپ نے نہ صرف لاپتہ افراد کے لواحقین کو سہارا و تسلی دی بلکہ انکی قانونی معاونت بھی کی، جبکہ انکی احتجاجی کیمپ کھٹن حالات و جمود کے دور میں سیاسی سرگرمیوں و کیڈر سازی کی سرکل کی شکل اختیار کر گئی ۔ماما قدیر بلوچ کی صبر آزما جدوجہد انسانی حقوق کے تحریک میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حکومت ایک طرف قانون کے عمل داری نوجوانوں کو انگیج کرنے کی بیانات دے رہی یے دوسری جانب اندھے و کالے قوانین کو بھی روند کر بلوچستان میں انسانی حقوق کے صورتحال کو سنگین بناتا جارہا ہے جسکے بلوچستان میں شدید نفرتوں کے تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہے بلوچستان میں پرامن و قانون کے عمل داری پر یقین رکھنے والے سیاسی کارکنوں کو دیوار سے لگا کر اور پرامن سیاست کو بے وقعت کرکے انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں حالات کو مزید سنگین بنائینگے۔ صوبائی حکومت بیانئے کے جنگ کے زریعے محض نفرتوں کو ہوا دے رہی ہے جبکہ نمود و نمائش کے نام پر صرف مراعات یافتہ و سماج دشمن عناصر کو مزید تقویت دی جارہی یے جنکی وجہ سے بلوچستان پہلے ہی سیاسی سماجی و انتظامی انتشار کا شکار ہے جب تک حقیقی اسٹیک اولڈرز کے زریعے پرامن عمل کا آغاز نہیں کیا جاتا بلوچستان کے حالات میں بہتری ناممکن یے ۔
13/11/2025
کوئٹہ،
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین ،بی این پی کے رہنما نزیر بلوچ نے بی ایس او کے سابق مرکزی جوائنٹ سیکرٹری غلام دستگیر بلوچ کے والد محترم کے وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی ہے اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ و لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔
13/10/2025
سوراب سے عدالت کی منتقلی انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ہے، زہری کے عوام محصور خوراک و ادویات کی فراہمی بند، نزیر بلوچ۔
تفصیلات پہلے کمںٹ میں
22/08/2025
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیرمین و بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نذیر بلوچ نے کہا ہے کہ بی ایس او کےسابق وائس چیرمین اور بی این پی کے مرکزی کونسلر خالد بلوچ کے بھائی طارق بادینی کو خاران شہر میں سرے عام فائرنگ کرکے شہید کرنا حکومت کی سیکورٹی کے نام پر انٹرنیٹ بندش سمیت دیگر دعوے صرف دعوے رہ گئے۔ نوجوان کو سرے عام شہید کرکے قاتلوں کا فرار ہونا حکومت اور سیکورٹی اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی تحفظ اور امن و امان کو بحال کرنے کے حکومتی دعوے جھوٹ کا پلندہ ہے، عام عوام کیلئے دعوے صرف زبانی کلامی ہے۔ جبکہ عملی طور پر حکومت کی جانب سے فورتھ شیڈول، تری ایم پی او سمیت سیاسی کارکنوں کے خلاف فیک ایف آئی آر جیسے کالے قانون کے ذریعے اپنے طاقت کو سیاسی کارکنوں خلاف استعمال کرنا ہے جبکہ عام شہری قاتلوں کے رحم و کرم زندگی گزار رہے ہیں۔
01/05/2025
02 مئی — جلسہ عام
بمقام: کوئٹہ | زیر صدارت: قائد بلوچستان، سردار اختر جان مینگل
بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی اور بی این پی کارکنان کی ماورائے قانون گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی پامالیوں، عوام دشمن قانون سازیوں اور بلوچ وسائل کی لوٹ مار کے خلاف شال (کوئٹہ) میں ایک عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔
جلسہ عام سے سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی سردار اختر جان مینگل سمیت بی این پی و دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔
• تاریخ: 02 مئی 2025
• وقت: شام 04:00 بجے
• جگہ: شاہوانی اسٹیڈیم سریاب کوئٹہ
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے غیور عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس تاریخی جلسہ عام میں شرکت کرکے قوم و وطن دوستی کا ثبوت دیں۔
*بلوچستان نیشنل پارٹی*