01/06/2026
*بلوچستان میں مشرف دور کی لگائی گئی چنگاری کو حکومتی اور مقتدر قوتوں کی مسلسل غلط پالیسیوں نے ایک ایسے آتش فشاں میں بدل دیا ہے جس کی واضح علامات آئے روز نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، اغوا کاری اور انسانی جانوں کے زیاں میں اضافے کی صورت میں نمودار ہو رہی ہیں۔*
*مرکزی چیئرمین بی ایس او پجار*
*بوہیر صالح بلوچ*
بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین *بوہیر صالح بلوچ* نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کو دانستہ طور پر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اس کے ثبوت روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان میں شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں، جنہیں نوجوانوں کی غیر آئینی جبری گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافے کی صورت میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مرکزی چیئرمین نے مزید کہا کہ حکومت اور اس کے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ عوام کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں، جس کے آثار دور تک حکومتی پالیسیوں اور رویوں میں دکھائی نہیں دیتے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ ریاست کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک مخصوص ٹولے کو "فارم 47" کے ذریعے بلوچستان پر مسلط کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے بلکہ جمہوریت، جمہوری اداروں اور پارلیمانی سیاست پر ان کے اعتماد کا خاتمہ ہو رہا ہے، جو ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔
مرکزی چیئرمین نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے غیر ذمہ دارانہ بیانات قابلِ مذمت اور تشویشناک ہیں۔ کسی بھی حکومتی ذمہ دار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بلوچستان کے ادبی اداروں، قلم کاروں اور پی ایچ ڈی اسکالرز کے حوالے سے مسلسل منفی رائے دے۔ ایسے بیانات موجودہ صورتحال میں حکومت اور اداروں کی غلط پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
چیئرمین نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اب بلوچستان میں تعلیمی ادارے درس و تدریس کے بجائے خوف و ہراس کی علامت بن چکے ہیں، جہاں طلبہ اور اساتذہ ذہنی سکون سے محروم ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ کی غیر آئینی جبری گمشدگی، اساتذہ کا اغوا ہونا اور دن دہاڑے علمی حلقوں سے منسلک لوگوں کا قتل حکومت کی ناکامی اور نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ تعلیمی ادارے جو روشن مستقبل کے ضامن ہونے چاہیے تھے، اب وہاں سے قوم کے معماروں کو زندانوں میں دھکیلا جا رہا ہے، ان کی پروفائلنگ اور ہراسانی اب ایک معمول بن چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ اور رکن بلال بلوچ جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ تنظیم نے پریس کانفرنس کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ بابل ملک اور بلال بلوچ، جو پرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والے سیاسی کارکن ہیں، انہیں فوری منظرِ عام پر لایا جائے، مگر حکومت اور اداروں کی خاموشی انتہائی مایوس کن ہے۔
بی ایس او پجار واضح کرتی ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے بابل ملک بلال بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کے معاملے پر سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا، تو تنظیم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔

18/05/2026
16/05/2026