16/07/2026
مولانا فضل الرحمٰن، سیاسی اختلاف اور میڈیا ٹرائل — ایک جائزہ
جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو غداری نہیں سمجھا جاتا بلکہ قومی اصلاح کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ کسی سیاسی رہنما کے ایک جملے کو اس کے مکمل سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے، پھر اس کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل، کردار کشی اور غداری کے الزامات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حالیہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن کے ایک بیان کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا۔
جس تقریر کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ مولانا نے فوج یا فوجی شہداء کے خلاف بات کی، اگر اسے مکمل طور پر سنا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی گفتگو کا اصل موضوع خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور ریاست کی آئینی ذمہ داری تھی۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر ریاست عوام سے کہے کہ وہ خود لشکر بنا کر امن قائم کریں تو پھر ریاستی اداروں کی ذمہ داری کہاں جاتی ہے؟ یہ سوال حکمرانی اور ریاستی ذمہ داری کے تناظر میں تھا، نہ کہ فوج یا شہداء کی توہین کے لیے۔
پاکستان کی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں متعدد سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو بھی سخت تنقید اور غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اختلافِ رائے کو اکثر قومی سلامتی کے خلاف قرار دیا گیا، حالانکہ جمہوری نظام میں ریاستی پالیسیوں پر تنقید اور اصلاح کی بات کرنا ہر سیاست دان کا آئینی حق ہے۔ اختلاف کو دشمنی اور تنقید کو غداری بنا دینا جمہوری روایت کو کمزور کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی زندگی تقریباً نصف صدی پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے پارلیمنٹ، آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہ کر سیاست کی۔ مذہبی طبقے کو مسلح تصادم کے بجائے آئینی اور جمہوری جدوجہد کی طرف راغب کرنا ان کے سیاسی سفر کا نمایاں پہلو رہا ہے۔ دہشت گردی کے مشکل ترین دور میں بھی انہوں نے ریاست، آئین اور پارلیمانی نظام کی حمایت کی، جس کی وجہ سے خود ان کی جماعت اور کارکنوں کو بھی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ دینی مدارس اور علماء نے پاکستان کی فکری، تعلیمی اور سماجی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لاکھوں طلبہ انہی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ملک بھر میں دینی و سماجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ کسی ایک سیاسی اختلاف کی بنیاد پر پورے طبقے کو مشکوک بنانا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
ہماری افواج پاکستان ملکی دفاع کی علامت ہیں اور ان کے شہداء پوری قوم کا سرمایہ ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے علماء، پولیس اہلکار، صحافی، قبائلی عمائدین اور عام شہری بھی اسی وطن کے بیٹے ہیں۔ قومی وحدت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر قربانی کا احترام کیا جائے اور کسی کے جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو برداشت کیا جائے، دلائل سے جواب دیا جائے اور کسی بھی بیان پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کا مکمل پس منظر دیکھا جائے۔ میڈیا، سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں برداشت، مکالمے اور آئینی سیاست کو فروغ دیں، کیونکہ مضبوط پاکستان نفرت، الزام تراشی اور میڈیا ٹرائل سے نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، انصاف اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوگا۔
پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ اس کی سلامتی، استحکام اور ترقی اسی وقت ممکن ہے جب تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، اختلافِ رائے کا احترام کیا جائے، اور ہر شہری کو اپنے مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہو۔ یہی جمہوری معاشروں کی پہچان اور ایک مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔
تحریر عمران اللہ کاکڑ