02/05/2026
Hazara students federation
# literary corner
ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن میگزین کے ادبی، سماجی اور سیاسی شمارے کے تحت اس بار ادبی کورنر میں قارئین کے لیے ایک منفرد تخلیق پیش کی جا رہی ہے۔
ہمیں خوشی ہے کہ اس شمارے میں نوجوان اور فعال لکھاری اورحان ہزارہ کا افسانہ “کتابوں کا شہر” شاملِ اشاعت ہے۔
یہ افسانہ قاری کو ایک علامتی اور پراسرار فکری دنیا میں لے جاتا ہے، جہاں تخیل، حقیقت اور انسانی شعور کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ اورحان ہزارہ کی تحریر میں زبان کی سادگی کے ساتھ ساتھ ادبی گہرائی اور علامتی انداز نمایاں ہے، جو اسے موجودہ دور کے ابھرتے ہوئے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام بناتا ہے۔
ہزارہ ایس ایف ہمیشہ ایسے تخلیقی قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے جو اردو ادب کو نئے خیالات اور نئے اسلوب سے روشناس کراتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ افسانہ قارئین کے ادبی ذوق اور فکری شعور کو متاثر کرے گا۔
(ادبی کارنر – افسانہ نمبر 2)
28/04/2026
افغان ثور انقلاب: تاریخ، اسباب اور اسباق
اپریل 27، 2026
تحریر: آصف رشید
آج جب افغانستان میں سامراجیت اور طالبانی وحشت کا ننگا ناچ جاری ہے تو 48 سال قبل برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اکتوبر 1917ء میں روس میں بالشویک پارٹی نے درست نظریات، لائحہ عمل اور طریقہ کار سے محنت کش طبقے کی قیادت کر تے ہوئے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا تھا۔ اس انقلاب نے دنیا بھر کے محنت کش طبقے کی تحریکوں پر بالعموم اور نو آبادیاتی ممالک کی قومی آزادی کی تحریکوں پر بالخصوص گہرے اثرات مرتب کیے۔ لیکن بعد میں روسی انقلاب کی سٹالنسٹ زوال پذیری نے دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں پر منفی اثرات بھی مرتب کیے۔ جس کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرے ملک میں انقلابات ناکام ہوئے۔ نو آبادیاتی ممالک نے رسمی طور پر تو سامراج سے آزادی حاصل کر لی لیکن سماج میں موجود غربت، بیماری اور پسماندگی جیسے مسائل مزید گہرے ہو گئے۔ ان ممالک کی بورژوازی قومی جمہوری انقلاب کا ایک فریضہ بھی پورا نہیں کر سکی۔ بورژوازی کی کمزوری اور نااہلی نے فوجی جنتا کو کسی حد تک خود مختاری دے دی۔ جس کی وجہ سے ان ممالک میں بار بار فوجی بغاوتوں کا مظہر بھی سامنے آیا۔
فوج سماج کے اندر موجود طبقاتی تضادات کا عکس ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر محنت کشوں کی تحریکوں اور سوویت یونین میں ہونے والی بے مثال ترقی نے ان ممالک کی افواج کی نچلی پرت کے افسروں اور عام سپاہیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف وہ اپنے حکمرانوں کی سماج کو ترقی دینے میں ناکامی، نااہلی اور بدعنوانی سے تنگ تھے تو دوسری طرف سماج کو جاگیردارانہ‘ سرمایہ دارانہ غلاظت سے باہر نکالنے کے لئے بے تاب تھے۔ 1952ء میں مصر میں فوج کے ترقی پسند افسروں نے جمال عبدالناصر کی قیادت میں فوجی بغاوت کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کیا اور بڑے پیمانے پر ریڈیکل اصلاحات اور نیشنلائزیشن کی۔ اسی طرح لیبیا، ایتھوپیا، موزمنبیق اور شام وغیرہ میں بھی ترقی پسندی یا بائیں بازو کی طرف رجحان رکھنے والے افسروں اور سپاہیوں نے اپنے ملکوں میں بوسیدہ بادشاہتوں اور بدعنوان آمریتوں کا تختہ الٹ کر سرمایہ داری اور جاگیرداری کا خاتمہ کیا۔ لیکن یہ انقلابات اکتوبر 1917ء کے کلاسیکی سوشلسٹ انقلاب کی طرز پر برپا نہیں ہوئے اور نہ ہی انقلابی افسروں نے سماج میں موجود محنت کش طبقے کو منظم کر کے انقلابات کیے۔
مارکسزم کی بنیادی تعلیمات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ انقلاب میں محنت کش طبقے کی سرگرم شمولیت کے بغیر کبھی بھی ایک صحت مند مزدور ریاست تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ اس لئے یہ ریاستیں اکتوبر 1917ء کی مزدور سوویت ریاست کی طرز پر نہیں بلکہ بعد میں تشکیل پانے والے سٹالنسٹ روس کی طرز پر تعمیر ہوئیں۔ جس کو ٹیڈ گرانٹ نے پرولتاری بوناپارٹسٹ ریا ست کا نام دیا۔ ایک ایسی ریاست جس میں سرمایہ داری اور جاگیرداری کا تو بڑی حد تک خاتمہ کیا گیا ہو لیکن اقتدار محنت کش طبقے کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ ریاستی بیوروکریسی یا فوجی جنتا کے ہا تھ میں ہو۔ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود یہ ایک ترقی پسندانہ اقدام تھا کیونکہ ذرائع پیداوار کو قومیانے اور منصوبہ بند معیشت کی وجہ سے سماج اور ذرائع پیداوار نے بے پناہ ترقی کی۔ لیکن ایک خاص مرحلے پر آ کر بیوروکریسی ذرائع پیداوار اور سماج کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن جا تی ہے۔ یوں پھر ایک سیاسی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے جو اقتدار اور ذرائع پیداوار کو محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں لائے۔ یہ پرولتاری بوناپارٹزم اس امر کی بھی غمازی کر رہا تھا کہ عالمی انقلاب کے آنے میں تاخیر ہو رہی تھی اور نو آبا دیاتی ممالک‘ ترقی یا فتہ ممالک کے انقلاب کا انتظار نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں مسائل کہیں زیادہ گہرے ہیں اور سرمایہ دارانہ بنیا دوں پر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔
27 اپریل 1978ء کو افغانستان میں برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کی بھی مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں وضاحت کی جا سکتی ہے۔ افغانستان میں پرولتاریہ نہ ہو نے کے برابر تھا۔ ملک کی کوئی خاص صنعتی بنیاد نہیں تھی۔ مختلف بادشاہتوں نے کبھی ظاہر شاہ کی شکل میں تو کبھی سردار داؤد کی شکل میں ملک پر برسوں حکومت کی لیکن سوائے بدعنوانی اور سامراجی گماشتگی کے کچھ نہیں کیا۔ شرح خواندگی 10 فیصد سے بھی کم تھی اور کل قابل کاشت رقبے کا 50 فیصد صرف 5 فیصد افراد کے ہاتھوں میں تھا۔ ایسے میں سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ترقی کا امکان نہیں تھا۔
سماج کے اندر بے چینی اور اضطراب کے ان حالات میں جنوری 1965ء میں نور محمد ترہ کئی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی بنیاد رکھی۔ جس میں زیادہ تر مارکسزم پر سٹڈی سرکل کرنے والے نوجوانوں کے مختلف گروپس شامل تھے۔ پارٹی کے ایک اور رہنما کامریڈ حفیظ اللہ امین افغان فوج میں بہت سے افسران کو انقلابی نظریات کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان افسران کے انقلابی نظریات کی طرف مائل ہونے کی وجہ سرحد پار منصوبہ بند معیشت کے تحت سوویت یونین کی حیران کن ترقی اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات بھی تھے۔
17 اپریل 1978ء کو افغانستان کے صدر محمد داؤد خان کی حکومت نے ’پی ڈی پی اے‘ کے رہنما محمد اکبر خیبر کو قتل کروا دیا لیکن اس قتل کی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود پارٹی کی قیادت نے یہ محسوس کیا کہ صدر داؤد پارٹی کی پوری قیادت کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ 19 اپریل کو پارٹی نے کابل میں محمد اکبر خیبر کے جنازے کے موقع پر 30 ہزار افراد کی ایک ریلی نکالی۔ ریلی نے امریکی سفارت خانے کے سامنے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ طاقت کے اس مظاہرے سے داؤد بپھر گیا۔ اس نے ایک ہفتے کے اندر پارٹی کے سات رہنماؤں بشمول نور محمد ترہ کئی کو گرفتار کر لیا۔ البتہ حفیظ اللہ امین کو پہلے گھر میں نظر بند کیا گیا اور بعد میں 26 اپریل کو انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ لیکن حفیظ اللہ امین اس سے پہلے ہی فوج کے اندر موجود خلقی افسران کو صدر داؤد کے خلاف فوجی بغاوت کے فرمان جاری کر چکا تھا۔
27 اپریل 1978ء کی صبح ایئر فورس کے کرنل عبد القادر نے صدارتی محل پر بمباری کا حکم دے دیا۔ صدر داؤد کو خاندان سمیت ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح زمینی محاذ پر محمد اسلم وطنجار، جو ایک ٹینک برگیڈ کا کمانڈر تھا، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ کابل شہر کے اندر داخل ہوا۔ اس طرح اس انقلابی فوجی بغاوت نے داؤد کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شام 7 بجے ریڈیو پر داؤد آمریت کے خاتمے کا اعلان ہوا۔ فوری طور پر مسلح افواج نے اقتدار پارٹی کی 35 رکنی انقلابی کونسل کے حوالے کر دیا۔ فوج کے انقلابی افسروں کی حمایت سے ہی یہ ممکن ہو سکا اور فوج کو پارٹی اور انقلاب کی حمایت پر آمادہ کر نے کا سہرا حفیظ اللہ امین کے سر جاتا ہے۔ اس کو ’’ثور‘‘ انقلاب اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انقلابی بغاوت افغان کیلنڈر کے دوسرے مہینے ’’ثور‘‘ میں برپا ہوئی تھی۔ نور محمد ترہ کئی نے ثور انقلاب کو دنیا بھر کے محنت کشوں کا انقلاب اور بالشویک انقلاب 1917ء کا تسلسل قرار دیا۔
انقلابی کونسل نے نور محمد ترہ کئی کو صدر منتخب کیا۔ حفیظ اللہ امین کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔ بعد میں وزیر اعظم کا عہدہ بھی حفیظ اللہ امین کے پاس چلا گیا۔ 10 مئی کو نور محمد ترہ کئی نے ریڈیو پر انقلابی حکومت کے پروگرام کا اعلان کیا۔ جس میں افغانستان کی تاریخ کی سب سے بڑی زرعی اصلاحات (بشمول زمینوں کی مزارعوں اور بے زمین کسانوں میں تقسیم)، سود خوری کے خاتمے، مفت تعلیم اور علاج، صنفی برابری، شادی کے نام پر لڑکیوں کی خرید و فروخت پر پابندی اور ہر اس چیز کو قومیانے کا اعلان کیا جو قومیانے کے قابل تھی۔ افغانستان کو صدیوں کی پسماندگی، جہالت، قبائلیت، غربت اور لاچارگی سے نکالنے، بیسوی صدی میں لانے اور جدید سماج بنانے کی جد وجہد کا آغاز کیا گیا۔ یوں ثور انقلاب نے ایک مسخ شدہ انداز میں ہی سہی‘ لیکن ٹراٹسکی کے نظریہ مسلسل انقلاب کو درست ثابت کر دیا۔ اس انقلاب نے آس پاس کے ممالک بالخصوص پاکستان میں محنت کشوں اور مظلوم قوموں کے عوام پر بہت مثبت اور حوصلہ افزا اثرات مرتب کیے۔ جس نے امریکی سامراج اور پاکستان کے حکمرانوں کے ہوش اڑا دیئے۔ لیکن سوویت یونین بھی افغانستان کے اندر پیدا ہونے والی اس انقلابی تبدیلی سے پریشان تھا۔ کیونکہ یہ وہ سوویت یونین نہیں تھا جس کو لینن اور ٹراٹسکی نے تعمیر کیا تھا۔ بلکہ یہ سٹالنسٹ بیوروکریسی کا سوویت یونین تھا جسے انقلاب، تبدیلی، سوشلزم اور مارکسزم سے زیادہ اپنے قومی مفادات، مراعات اور امریکی سامراج سے ’’متوازن‘‘ تعلقات عزیز تھے۔ اس سوویت بیوروکریسی نے اپنے آمرانہ اقتدار، سامراج کیساتھ ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کے ردِ انقلابی خیال (جو ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ کے سٹالنسٹ نظرئیے سے برآمد ہوتا ہے) اور امریکہ سے تعلقات کی خاطر دنیا بھر کے انقلابات کو خون میں ڈبویا۔ دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کو یہ بیوروکریسی اپنی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتی تھی اور بلاشبہ افغان ثور انقلاب نے سوویت بیوروکریسی پر سکتہ طاری کر دیا کیونکہ وہ قطعاً اپنے ہمسائے میں اس طرح کی آزادانہ انقلابی تبدیلی کے حق میں نہ تھی۔
سوویت یونین نے سب سے پہلے اس نومولود انقلابی حکومت کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کی۔ لیکن انقلاب کی قیادت افغانستان کی آزاد اور خودمختار حیثیت کی حامی تھی۔ وہ ثور انقلاب کے خلاف ہونے والی رد انقلابی سرکشی کو کچلنے کے حق میں تھے اور اس کے لئے انہوں نے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ لیکن سوویت افسرشاہی ان پر ملاؤں اور دوسری رد انقلابی قوتوں کے ساتھ سمجھوتے کے لئے دباؤ ڈالتی رہی۔ جب بات نہ بنی تو انقلابی قیادت کو راستے سے ہٹانے کی واردات شروع کی گئی۔
حکمران طبقے کے تاریخ دان اوردانشور دانستہ طور پر ثور انقلاب کو سوویت یونین کی فوج کشی کے ساتھ گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو چھپایا جاتا ہے کہ سوویت فوجیں ثور انقلاب کے 18 ماہ بعد 29 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔ انقلابی حکومت کے پہلے دو سربراہان نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین سوویت یونین میں قائم افسر شاہانہ ریاست کے بارے کسی خوش فہمی کا شکار نہ تھے۔ انقلاب کے یہ دونوں قائدین سوویت یونین سمیت کسی بھی ملک کی افغانستان میں سیاسی یا عسکری مداخلت کے سخت خلاف تھے۔ پڑوس میں آزادانہ طور پر پنپتا ہوا انقلاب سوویت بیوروکریسی کے سیاسی مفادات پر ضرب لگا سکتا تھا چنانچہ انقلاب کی حقیقی قیادت کا خاتمہ ضروری تھا۔ 9 اکتوبر 1979ء کو نور محمد ترہ کئی افغان صدارتی محل میں پراسرار طور پر مردہ پائے گئے۔ نور محمد ترہ کئی کے بعد حفیظ اللہ امین کو زہر کے ذریعے قتل کرنے کی کئی ناکام کوششیں کی گئیں۔ پھر 27 دسمبر 1979ء کو 600 سے زائد سوویت کمانڈوز نے ’’آپریشن سٹارم 333‘‘ کے تحت تاجبگ محل پر حملہ کر دیا۔ اس آپریشن میں حفیظ اللہ امین کو ان کے بیٹے اور 200 محافظین سمیت قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے دو دن بعد سوویت فوجیں باقاعدہ طور پر افغانستان میں داخل ہوئیں۔ جس سے امریکی سامراج کو افغانستان میں انقلاب کو کچلنے کے لئے کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔
مارکسسٹوں نے اس وقت بھی سوویت یونین کی فوجی مداخلت کی مذمت کی تھی کیونکہ اس نے انقلاب کو پیچھے کی جانب دھکیل دیا۔ سامراج اور اس کے حواریوں نے مجاہدین اور ڈالر جہاد کے ذریعے افغان ثور انقلاب کو کچلنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز سوویت فوج کے افغانستان میں داخلے سے 6 ماہ پہلے ہی سی آئی اے کے’’آپریشن سائیکلون‘‘ کے نام سے کر دیا تھا۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ اور ہزاروں نام نہاد مجاہدین پاکستان کے ذریعے افغانستان بھیجے گئے۔ اس رد انقلابی مداخلت میں سعودی عرب، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، مصر، چین اور پاکستان پیش پیش تھے۔ چین تو سوویت دشمنی میں اندھا ہو گیا تھا۔ اس نے بھی بھاری مقدار میں مجاہدین اور اپنے حمایتی گروہوں کو اسلحہ اور کمک فراہم کی۔
سوویت یونین کی جانب سے پارٹی کے پرچم دھڑے میں سے ببرک کارمل کو برسر اقتدار لایا گیا لیکن وہ بھی سوویت افسر شاہی کے معیارات پر پورا نہ اتر سکے۔ انہیں ہٹا کر ڈاکٹر نجیب اللہ کو صدر بنایا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین میں گورباچوف نے سٹالنسٹ بیوروکریسی کے اقتدار کو بچانے کے لئے ’پریسٹرائیکا‘ اور ’گلاسنوسٹ‘ کے نام سے سیاسی و معاشی اصلاحات کا آغاز کیا تھا۔ اسی قسم کی ’نرم روی‘ پر مبنی پالیسیاں نجیب اللہ نے بھی افغانستان میں اپنے آخری دور میں اپنانے کی کوششیں کیں۔ کیونکہ اس وقت تک سوویت یونین کے داخلی حالات بہت خراب ہو چکے تھے اور نجیب اللہ کی حکومت بھی کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ لہٰذا رد انقلابی قوتوں سے مصالحت اور ’قومی ہم آہنگی‘ وغیرہ کی راہ اپنائی گئی۔ جس کی ناکامی ظاہر ہے یقینی تھی۔
ڈاکٹر نجیب اللہ نے ایک قومی مصالحتی کمیشن بنایا جس نے ہزاروں رد انقلابیوں سے رابطے کیے۔ جولائی 1987ء میں ردِ انقلابیوں کو سٹیٹ کونسل (جسے پہلے انقلابی کونسل کہتے تھے) کی 20 نشستوں کی پیشکش کی گئی اور ساتھ میں حکومت میں 12 وزارتوں کی آفر بھی کی گئی۔ ان بنیاد پرست‘ ردانقلابی قوتوں نے کسی مصالحت یا امن کی بجائے انقلاب کو کچلنے کے لئے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ظاہر ہے سامراج کا مقصد اپنے نظام کو بچانا اور افغان عوام کیساتھ ساتھ دنیا بھر کے انقلابیوں کو یہ سبق سکھانا بھی تھا کہ اس کے نظام کو چیلنج کرنے کی کیا سزا ہوتی ہے۔ یوں ان نام نہاد اصلاحات کی کوششوں نے انقلاب کی شکست و ریخت کے عمل کو تیز ہی کیا۔
بالشویکوں نے اکتوبر انقلاب کے بعد بننے والی نومولود مزدور ریاست کو سامراجی حملوں سے بچانے کے لئے جہاں دسیوں لاکھ مزدوروں اور کسانوں کی سرخ فوج بنائی تھی‘ وہیں دنیا بھر کے محنت کشوں سے انقلابی یکجہتی کی اپیل بھی کی تھی۔ جس سے سامراجی ممالک کے محنت کشوں اور افواج میں بغاوتیں ہوئیں اور سامراجی قوتیں اندر سے کھوکھلی ہونے لگیں۔ سوویت روس پر حملہ آور ممالک کے بہت سے مزدوروں اور سپاہیوں نے اس ردِ انقلابی جنگ میں اپنی ریاست کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ جس سے ڈیڑھ درجن سے زائد حملہ آور ممالک کی سامراجی افواج کو شکست دینے میں بہت مدد ملی۔ لیکن افغانستان میں پارٹی خود خلق اور پرچم دھڑوں میں منقسم تھی۔ جو ردِ انقلابی قوتوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے بھی مسلسل برسر پیکار رہتے تھے۔ نہ لینن اور ٹراٹسکی جیسی کوئی مدبرانہ قیادت موجود تھی۔ ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین کو راستے سے ہٹا کے سوویت افسر شاہی کی پشت پناہی سے برسر اقتدار آنے والے پرچم دھڑے کی سوچ اور طریقے خاصے تنگ نظر، پسماندہ اور بین الاقوامی کی بجائے ’قومی‘ تھے۔ ان تمام عوامل نے بھی ثور انقلاب کے زوال میں کلیدی کردار ادا کیا۔
1988-89ء میں جینوا معاہدے کے تحت جب سوویت افواج کا انخلا مکمل ہوا تو نجیب اللہ حکومت کا انجام کافی حد تک عیاں ہو چکا تھا۔ لہٰذا شاہ نواز تنائی اور رشید دوستم جیسے موقع پرست اور ابن الوقت لوگ کھلی غداری پر اتر آئے۔ اس کے باوجود افغانستان کے انقلابی عوام نے تمام تر داخلی ٹوٹ پھوٹ اور پسپائی کے باوجود کئی سال تک ان گنت قربانیوں کیساتھ دل و جان سے انقلاب کا دفاع جاری رکھا۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ جب اسلحے اور تیل وغیرہ کی سپلائی کو بورس یلسن کی ردِ انقلابی اور سامراج کی کاسہ لیس حکومت نے بالکل بند کر دیا تو 1992ء میں نجیب اللہ کی حکومت بھی گر گئی۔ اس دوران کئی حقائق بالکل واضح طور پر آشکار ہوئے۔ حکمران طبقات جہاں محنت کشوں کو رنگ، نسل، زبان، مذہب، قوم اور ملک کے نا م پر تقسیم کر کے اپنی حکمرانی کو جاری رکھتے ہیں وہیں جب ان کے نظام کو کسی انقلابی تحریک سے خطرہ ہوتا ہے تو وہ آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کے اکٹھے ہو جا تے ہیں۔ یوں امریکی سامراج نے خلیجی بادشاہتوں، پاکستان کی دائیں بازو کی قوتوں، ریاست اور دیگر حواریوں کے ساتھ مل کر افغان ثور انقلاب کو خون میں نہلا دیا۔ کیونکہ آخری تجزئیے میں یہ سب نام نہاد جمہوریت پسند، لبرل، سیکولر اور بنیاد پرست وغیرہ ایک ہی نظام کے پاسدار ہیں۔ ایسا نظام جو ان کی جائیداد، دولت اور منافعوں کا ضامن ہے۔
رد انقلاب نے افغان سماج کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل دیا۔ نجیب اللہ حکومت کے خاتمے کے بعد جہادیوں کی انتہائی تباہ کن اور خونی خانہ جنگی نے اسے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔ مجاہدین کے مختلف ٹولے، جو دراصل مختلف سامراجی طاقتوں کی پراکسیاں تھے، کابل پر قبضے کے لئے آپس میں لڑتے رہے۔ یہ نہ ختم ہونے والا انتشار امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے مسئلہ تھا۔ لہٰذا طالبان کی جابرانہ اور وحشیانہ حکومت کو مسلط کیا گیا۔ جو جلد ہی اپنے تخلیق کاروں کے لئے نیا مسئلہ بن گئی۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد ایک نئی سامراجی جارحیت کا آغاز کر دیا گیا۔ لیکن امریکی سامراج اپنی تمام معاشی اور عسکری طاقت کے باوجود افغان سماج کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل نہیں کر سکا۔ ماضی کے مختلف مجاہدین گروہوں اور وار لارڈز کو ہی افغانستان میں جعلی جمہوریت کا چہرہ بنایا گیا۔ لیکن اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کے باوجود یہ نیٹو اتحاد‘ طالبان کو قابو نہیں کر سکا۔ اس دوران طالبان کو پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ سے مسلسل سٹریٹجک اور عسکری کمک ملتی رہی۔ لیکن 90ء کی دہائی کے برعکس اب چین، روس اور ایران جیسی طاقتوں کی بالواسطہ یا خاموش معاونت بھی طالبان کو حاصل تھی۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں دو دہائیوں میں دو ہزار اَرب ڈالر کے عسکری اخراجات کیے۔ اس کے باوجود انہیں افغانستان سے آبرومندانہ انداز میں بھاگنے کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا پڑے۔ طالبان کے ساتھ قطر میں ہونے والا معاہدہ دراصل امریکہ کی جانب سے اعتراف شکست کے مترادف تھا۔ امریکی سامراج افغانستان میں اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہوا۔ طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کو سارے عمل سے بے خبر یا دور رکھا گیا۔ جس سے امریکیوں کی جانب سے بیس سال میں تعمیر کی گئی اس کرپٹ، کھوکھلی اور نااہل افغان ریاست کی حقیقی وقعت کا اندازہ ہوتا ہے۔
طالبان کی اس رجعتی فتح کے بعد افغان عوام کے لئے مصیبتوں اور عذابوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ اگر امریکی سامراج اپنے دیوہیکل وسائل کے ساتھ افغانستان میں کوئی صحت مند حکومت اور ریاست تعمیر نہیں کر سکا تو منشیات اور بھتہ خوری کی سیاہ معیشت پر پلنے والے طالبان جیسے رجعتی گروہ سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ ظلمت کے یہ رکھوالے سماج کو واپس پتھر کے دور میں دھکیل دینا چاہتے ہیں۔ لیکن افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے نے پاکستانی ریاست کی توقعات سے بالکل الٹ نتائج مرتب کیے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی جیسے عناصرکے خلاف طالبان نہ کاروائی کر سکتے ہیں نہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے یہ معاملہ ایک تنازعے اور تصادم میں بدل گیا ہے۔ طالبان کی کوشش ہے کہ چین اور بھارت وغیرہ کی طرف جھکاؤ اختیار کر کے پاکستان سے آزادانہ حیثیت اختیار کی جائے۔ لیکن یہ قوتیں بھی افغان عوام کی سگی نہیں ہیں بلکہ ان کے اپنے سامراجی اور تخریبی مقاصد ہیں۔ بھارت‘ پاکستان دشمنی کے تناظر میں افغانستان کے ذریعے اپنا حساب چکتا کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ چین کی نظریں افغانستان کی قیمتی معدنیات پر ہیں۔ اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ جیسی خلیجی ریاستوں اور ترکی کے اپنے مفادات ہیں جن کے تحت ان کے طالبان کے مختلف دھڑوں سے تعلقات استوار ہیں۔ جبکہ طالبان کے داخلی تضادات بھی (جو مخصوص حالات میں پھٹ سکتے ہیں) اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ طالبان دھڑوں کے تضادات کے پیچھے بھی نظریاتی سے زیادہ مالی اور پراکسی تنازعات کارفرما ہیں۔ یوں یہ سارا مسئلہ یا تنازعہ ایک نئی جہت اور پیچیدگی اختیار کر کے خطے میں مسلسل عدم استحکام، خونریزی اور دہشت گردی کا باعث بن رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کو جن قوتوں نے برباد کیا ہے‘ وہ اسے دوبارہ آباد نہیں کر سکتیں۔ اور جب تک افغانستان گھائل اور برباد ہے‘ پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایک تاریخی مسئلے کو اس کی تاریخی وجوہات ختم کیے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے نہ صرف افغانستان بلکہ سارے جنوب ایشیا میں بنیاد پرستی و دہشت گردی کا خاتمہ اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال معاشرے کا قیام سامراجی سرمایہ دارانہ نظام کے انقلابی خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ جس کے لئے 1978ء کے ثور انقلاب کی تاریخ آج بھی اہمیت کی حامل ہے ۔
بشکریہ: طبقاتی جدوجہد
20/04/2026
ھزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے آفیشل پیج سے "ادبی کارنر" کے نام سے ایک باقاعدہ ادبی سلسلے کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد بامقصد اور معیاری ادبی فن پاروں کو فروغ دینا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نئے اور ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو موقع فراہم کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات افسانہ، مضمون، شاعری اور دیگر ادبی اصناف کے ذریعے اپنے خیالات اور احساسات کو پیش کریں۔
یہ سلسلہ نہ صرف ادبی ذوق کی آبیاری کا ذریعہ بنے گا بلکہ نوجوان نسل میں شعور، فکر اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھی جِلا بخشے گا۔
07/04/2026
ھزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے شعبۂ نشر و اشاعت میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اس نشریاتی سلسلے کے تحت فیڈریشن سے وابستہ نئے لکھاریوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس پلیٹ فارم پر سیاسی، سماجی، تاریخی اور ادبی موضوعات پر اظہارِ خیال کی گنجائش موجود ہوگی۔
امید ہے کہ یہ کاوش قوم کے روشن مستقبل کی جانب ایک مثبت اور مؤثر قدم ثابت ہوگی۔
05/04/2026
فرد نہیں، نظریہ انقلاب کو جنم دیتا ہے
تحریر: اورحان ہزارہ
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جو لوگ کسی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو کر کسی ادارے کا حصہ بنتے ہیں، وہ اکثر وقت کے پہلے جھٹکے میں بکھر جاتے ہیں کیونکہ فرد سے وابستگی جذباتی ہوتی ہے جب کہ نظریے سے وابستگی شعوری ہوتی ہے اور انقلاب کبھی جذبات کے کمزور سہاروں پر نہیں، بلکہ فکر، شعور اور نظریاتی پختگی کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔
جو شخص کسی ایک چہرے، ایک آواز، ایک خطیب یا ایک رہنما سے متاثر ہو کر تنظیم میں آتا ہے، وہ دراصل تنظیم کے مقصد سے نہیں بلکہ ایک شخصیت کے اثر سے وابستہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اس وقت تک ساتھ رہتے ہیں جب تک وہ شخصیت ان کے سامنے روشن اور فعال رہتی ہے مگر جیسے ہی حالات بدلتے ہیں۔ اختلاف پیدا ہوتا ہے یا وہ فرد منظر سے ہٹتا ہے، ایسے لوگ یا تو مایوس ہو جاتے ہیں یا راستہ بدل لیتے ہیں۔
اس کے برعکس جو کارکن نظریات سے قائل ہو کر تنظیم میں شامل ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ تنظیم کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک فکری سفر، ایک اجتماعی عہد اور ایک تاریخی ذمہ داری کا نام ہے۔ ایسا شخص چہروں کے بدلنے سے نہیں ڈرتا کیونکہ اس کی وفاداری افراد سے نہیں، اصولوں سے ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ رہنما آتے جاتے رہتے ہیں، مگر نظریہ اگر زندہ ہو تو قافلہ کبھی نہیں مرتا۔
ایک حقیقی انقلابی وہ نہیں جو صرف نعروں میں بلند ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے شعور میں پختہ ہو۔ جسے معلوم ہو کہ وہ کس جدوجہد کا حصہ ہے۔ اس جدوجہد کی تاریخی بنیادیں کیا ہیں؟ اس کا طبقاتی، سماجی اور فکری مقصد کیا ہے؟ اور وہ کن قوتوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے؟ کیونکہ جو کارکن صرف شخصیت پرستی کے سہارے چلتا ہے، وہ سوال نہیں کرتا، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور اکثر اندھی تقلید کا شکار ہو جاتا ہے جبکہ نظریاتی کارکن سوچتا ہے، پڑھتا ہے، دلیل مانگتا ہے اور پھر شعوری طور پر وابستہ ہوتا ہے۔
تنظیمیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے پاس وسائل کم ہوں۔ تنظیمیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اندر نظریاتی کارکن کم اور شخصیت پرست لوگ زیادہ ہو جائیں کیونکہ شخصیت پرست کارکن تنظیم میں وفاداری تو لا سکتا ہے مگر انقلابی استقامت نہیں لا سکتا اور انقلاب کو سب سے زیادہ ضرورت استقامت، شعور، قربانی اور فکری دیانت کی ہوتی ہے۔
اگر کسی تنظیم کو واقعی ایک مضبوط، باوقار اور انقلابی قوت بننا ہے، تو اسے اپنے کارکنوں کو افراد کے گرد نہیں بلکہ نظریات کے گرد منظم کرنا ہوگا۔ اسے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ تنظیم کسی ایک مقرر، ایک رہنما، یا ایک مشہور نام سے بڑی چیز ہے۔ تنظیم دراصل ایک فکری مکتب ہوتی ہے، جہاں انسان صرف شامل نہیں ہوتا بلکہ نئے شعور میں ڈھلتا ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ فرد متاثر کر سکتا ہے مگر نظریہ تعمیر کرتا ہے۔
فرد جوش دے سکتا ہے مگر نظریہ استقامت دیتا ہے۔
فرد راستہ دکھا سکتا ہے مگر نظریہ منزل کی پہچان دیتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی شخص واقعی انقلابی بننا چاہتا ہے تو اسے چہروں سے آگے بڑھ کر خیال کو سمجھنا ہوگا، نظریے کو پڑھنا ہوگا اور شعوری وابستگی کو اپنی پہچان بنانا ہوگا کیونکہ انقلاب شخصیتوں کے سہارے نہیں، نظریات کے یقین سے جنم لیتا ہے۔
جو فرد سے متاثر ہو کر تنظیم میں آتا ہے، وہ حالات کے ساتھ بدل جاتا ہے مگر جو نظریے سے قائل ہو کر شامل ہوتا ہے، وہ حالات بدلنے کی طاقت بن جاتا ہے۔
انقلاب شخصیت پرستی سے نہیں، نظریاتی شعور سے پیدا ہوتا ہے۔
28/03/2026
نظریاتی سیاست اور مصلحت پسند سیاست
تحریر: اورحان ہزارہ
ہر دور میں دو طرح کی سیاست موجود رہی ہے.
ایک وہ جو نظریے، سچ اور اجتماعی نجات سے جنم لیتی ہے اور دوسری وہ جو خوف، مفاد اور وقتی فائدے کے سہارے زندہ رہتی ہے۔
نظریاتی سیاست وہ ہے جو حالات کے دباؤ میں اپنا راستہ نہیں بدلتی۔ وہ ظلم کو صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کے طور پر پہچانتی ہے۔
مارکسی فکر ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ سیاست کو سمجھنے کے لیے چہروں کو نہیں بلکہ طبقوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کون محنت کرتا ہے اور کون اس محنت پر عیش کرتا ہے۔
اس کے برعکس مصلحت پسند سیاست ہمیشہ سچ کو فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولتی ہے۔ وہ ظلم کے خلاف اس وقت تک بولتی ہے جب تک اس کے اپنے مفادات محفوظ رہیں۔ یہ بظاہر دانش مندی لگتی ہے مگر اکثر یہ صرف خوف کی مہذب شکل ہوتی ہے۔
مصلحت پسند سیاست کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ عوام کے دکھ کو شعور میں بدلنے کے بجائے اسے صرف نعرے اور استعمال میں تبدیل کر دیتی ہے۔
یوں جدوجہد نظریے سے خالی ہو کر صرف ایک سیاسی تجارت بن جاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون کامیاب ہے بلکہ یہ ہے کہ کون اپنے نظریے کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ مصلحت پسند سیاست وقتی کامیابیاں تو حاصل کر سکتی ہے مگر تاریخ کا رخ نہیں بدل سکتی۔
نظریاتی سیاست چراغ کی وہ لو ہے جو آندھیوں میں بھی اپنی پہچان نہیں کھوتی جبکہ مصلحت پسند سیاست وہ سایہ ہے جو ہر طاقتور دیوار کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
27/03/2026
معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی
تحریر : اورحان ہزارہ
معاشرہ عمارتوں، سڑکوں یا نعروں سے نہیں بلکہ اُن کندھوں سے قائم رہتا ہے جو ابھی جھکے نہیں. اُن آنکھوں سے جو ابھی خواب دیکھتی ہیں اور اُن دلوں سے جو ناانصافی پر خاموش نہیں رہتے۔
یہ نوجوان ہیں جو کسی بھی سماج کی نبض ہوتے ہیں اگر یہ نبض کمزور پڑ جائے تو معاشرہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہو جاتا ہے۔
مارکسی نقطۂ نظر سے نوجوان اس لیے اہم ہیں کہ وہ صرف مستقبل نہیں بلکہ انقلابی تبدیلی کی زندہ قوت ہوتے ہیں۔
دوسری طرف اگر ان کے شعور کو دبایا جائے تو وہ نظام کے پرزے بن جاتے ہیں اور اگر ان کے اندر طبقاتی شعور بیدار ہو جائے تو وہ تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام نوجوان کو سوچنے والا انسان نہیں بلکہ اپنی ذات میں گم، تھکا ہوا اور خاموش فرد بنانا چاہتا ہے۔ ایسا فرد جو صرف اپنی نجات کے بارے میں سوچے اور سماج کے زخموں سے بے خبر رہے مگر انقلابی نوجوان وہ ہے جو اپنے عہد کے دکھ کو محسوس کرے، ناانصافی کو پہچانے اور اپنی ذات کو عوام کے خواب سے جوڑ دے۔
یقین کیجئے کہ نوجوان اگر بیدار ہو جائے تو معاشرہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اگر نوجوان خاموش ہو جائیں تو ظلم روایت بن جاتا ہے۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی صرف طاقت نہیں بلکہ اُس کی ریڑھ کی ہڈی، نبض اور امید ہوتے ہیں۔
24/03/2026
ہزارہ سمیت تمام ترک اقوام کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ان کی تاریخ خود ان کے بجائے ان کے دشمنوں نے لکھی۔ اسی باعث انہیں بتدریج ان کی اصل تاریخی شناخت، تہذیبی شعور اور ثقافتی ورثے سے محروم کیا جاتا رہا۔ نوروز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے آریائی ثقافت کا نام دے کر ترک اقوام کی تاریخی و تہذیبی روایت سے جدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایسے فکری اور تاریخی ابہام کے دور میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن نے نہ صرف قومی و سیاسی شعور کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، بلکہ یہ ادارہ واقعی ایک سیاسی نرسری کے ساتھ ساتھ ایک علمی تربیت گاہ کا درجہ بھی رکھتا ہے۔ اس مقدس ادارے سے منسلک افراد آج زندگی کے ہر میدان میں اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں اور اپنی فکری، علمی اور سماجی صلاحیتوں کے ذریعے قوم و ملت کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
اسی تسلسل میں ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق زونل عہدہ دار (1995ء تا 1998ء) محترم منظور پویا جیسے افراد اس ادارے کی روشن روایت، فکری پختگی اور تنظیمی میراث کے جیتے جاگتے مظہر ہیں۔
24/03/2026
ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن
ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے زونل صدر ھمایون خان ہزارہ کی ادبی و فکری کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ تنظیمی اور سیاسی میدان میں فعال کردار کے ساتھ ساتھ ان کا ادب کی طرف رجحان ایک نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
ان کی کہانی "امید"، جو روزنامہ گوادر بزنس میں شائع ہو چکی ہے، نوروز کے پس منظر میں لکھی گئی ایک خوبصورت تخلیق ہے۔ یہ کہانی اپنے دلنشیں اسلوب اور امید افزا پیغام کے باعث قابلِ توجہ ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل کا ادب اور فکر کی طرف بڑھنا کسی بھی معاشرے کی فکری ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ھمایون خان ہزارہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ لکھتے رہیں گے اور ادب و شعور کے میدان میں اپنی نمایاں شناخت قائم کریں گے۔
15/03/2026
15مارچ
علمی و فکری نشست
ہزارہ ایس ایف
14/03/2026
ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ آج ہم ایک ایسی فکری نشست منعقد کر رہے ہیں جس کا مقصد صرف ایک عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ ان کی فکر، نظریے اور جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہے۔ یہ نشست شہید رہبر بابا عبدالعلی مزاری کی فکر و نظر کو سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔
شہید رہبر بابا عبدالعلی مزاری کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی مظلوم قوموں کے حقوق، برابری اور انصاف کے لیے وقف کر دی۔ ان کا نظریہ اتحاد، شعور اور عوامی طاقت پر مبنی تھا۔
ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نزدیک بابا مزاری صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک فکر، ایک راستہ اور ایک تحریک کا نام ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ تعلیم اور شعور ہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی قوم کو غلامی، محرومی اور پسماندگی سے نکال سکتی ہے۔
آج اس نشست کے ذریعے ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم شہید رہبر بابا عبدالعلی مزاری کی فکر کو زندہ رکھیں گے۔ ہم علم کو اپنا ہتھیار، اتحاد کو اپنی طاقت اور جدوجہد کو اپنا راستہ بنائیں گے۔
ہماری کوشش ہوگی کہ نوجوان نسل کو شعور، تعلیم اور تنظیم کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ اپنی قوم اور معاشرے کے بہتر مستقبل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم شہید رہبر بابا عبدالعلی مزاری کے اصولوں اتحاد، شعور اور جدوجہد کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم ایک باوقار، باانصاف اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
شہداء کی قربانیاں ہماری رہنمائی ہیں،
اور شعور و اتحاد ہماری طاقت۔
ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن