Pashtun Qoumi Tehreek Media Cell

Directions Website

Pashtun Qoumi Tehreek Media Cell پشتون قوم حقوق لا پارا را اوزی

  تحریک کے قائد، حق پرست رہنما   نے کراچی دفتر سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں پشتون قومی تحریک جنوبی پشتونخوا کوئٹہ، کر...
29/06/2026

تحریک کے قائد، حق پرست رہنما نے کراچی دفتر سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں پشتون قومی تحریک جنوبی پشتونخوا کوئٹہ، کراچی اور خیبر پختونخوا کے تمام شہروں اور اضلاع کے کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ 30 جون 2026 کو پشتون قومی تحریک اپنا یومِ تاسیس نہایت سادگی سے منائے گی۔

کسی بھی شہر میں کیک کاٹنے یا جشن منانے کا کوئی پروگرام نہیں ہوگا۔
موجودہ حالات، افغانستان اور پاکستان کی صورتحال، زیارت میں بے گناہ لوگ شہید، حنہ اڑک میں نام نہاد تنظیم کی موجود گی ، ایئرپورٹ روڈ ہاشم خان نورزئی،کابل جان ہوٹل کے مالک کی شہادت، اور کوئٹہ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر یہ مناسب نہیں کہ پشتون قومی تحریک خوشیاں منائے۔

لہٰذا تمام حق پرست کارکنوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پشتون قومی تحریک کا یومِ تاسیس نہایت سادگی سے منائیں۔

رفیق پشتون نے اپنے بیان میں کہا کہ مسلم لیگ کے وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے آصف زرداری کی موجودہ حکومت نے پورے ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ اب پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آزادی کی تحریک، خیبر پختونخوا میں آپریشن، آزاد کشمیر میں بغاوت اور کراچی میں خراب حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رفیق پشتون نے مطالبہ کیا کہ موجودہ حکمران فوراً اقتدار چھوڑ دیں، ورنہ خدا نخواستہ پاکستان کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا اور ملک چار یا پانچ حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر موجودہ حکمران اقتدار میں برقرار رہے تو ملک کو پہنچنے والے نقصان کے ذمہ دار موجودہ حکمران اور فوجی جرنیل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ پاکستان کو بچایا جائے۔
#ژوب

   آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔جنوبی پشتون علاقوں کے عوام کو نظر انداز کرنا کس...
28/06/2026


آج اگر ہم خاموش رہے تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

جنوبی پشتون علاقوں کے عوام کو نظر انداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ سبی، کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب اور دیگر پشتون علاقوں کے عوام کو بھی اپنی شناخت، نمائندگی، وسائل اور بااختیار حکمرانی کا آئینی حق حاصل ہے۔

ہمارے علاقوں میں عام شہری، نوجوان اور کاروباری طبقہ بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ جب ایک محنتی تاجر بھی عدم تحفظ کا شکار ہو، تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی پشتونخوا صوبے کے مطالبے کو آئینی، جمہوری اور عوامی طاقت کے ذریعے عملی شکل دی جائے تاکہ عوام کو بہتر حکمرانی، مؤثر نمائندگی، وسائل پر منصفانہ حق اور امن و تحفظ میسر آ سکے۔

ہر نوجوان، ہر طالب علم، ہر مزدور، ہر استاد اور ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرے۔ حقوق مانگنے سے نہیں، بلکہ منظم، پُرامن اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔
#ژوب

 : ڈپٹی جنرل سیکٹری   اگر نئے صوبوں پر بات ہو رہی ہے تو پشتون علاقوں، نمائندگی اور حقوق کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے...
23/06/2026

: ڈپٹی جنرل سیکٹری
اگر نئے صوبوں پر بات ہو رہی ہے تو پشتون علاقوں، نمائندگی اور حقوق کو بھی سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ #پشتونوں کے اس مطالبے کا بھی ذکر ہونا چاہیے کہ سے #ژوب تک کے علاقوں پر مشتمل الگ صوبے کے مطالبے کو آئینی اور جمہوری دائرے میں زیرِ بحث لایا جائے۔ نوجوانوں کو آئینی، جمہوری اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ترقی، منصفانہ وسائل اور بہتر حکمرانی ہر عوام کا حق ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے۔

21/06/2026

کے قائد نے کہا ہے کہ کا یہ بیان کہ “کوئٹہ ایک پشتون شہر ہے” سن کر خوشی ہوئی، مگر یہ اعتراف بہت دیر سے آیا ہے۔ پشتون قومی تحریک 1994ء سے یہ مؤقف رکھتی آرہی ہے کہ کوئٹہ تاریخی طور پر کاسی، ڈمڑ ،یاسین زئی، بازئی اور درانی قبائل کا شہر ہے۔

رفیق پشتون نے کہا کہ ہمیں محمود خان اچکزئی کے اس بیان کے پس منظر کا علم نہیں کہ یہ کسی سیاسی ضرورت کا نتیجہ ہے یا واقعی تاریخی حقائق کا اعتراف۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ماضی میں کبھی جنوبی پشتونخوا صوبے کے مطالبے کی حمایت نہیں کی اور زیادہ تر “لر او بر یو افغان” اور “بولان تا چترال” جیسے نعروں کی سیاست کرتے رہے۔

اگر محمود خان اچکزئی آج واقعی جنوبی پشتونخوا صوبے کے قیام کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں، تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ پشتون قومی تحریک 1994ء سے جنوبی پشتونخوا صوبے کا مطالبہ کرتی آرہی ہے اور اپنی اس جدوجہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی

جنوبی پشتونخوا صوبہ بن کر رہے گا، انشاءاللہ!جنوبی پشتونخوا صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ پشتون قوم کے جغرافیائی، تاریخی...
20/06/2026

جنوبی پشتونخوا صوبہ بن کر رہے گا، انشاءاللہ!

جنوبی پشتونخوا صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ پشتون قوم کے جغرافیائی، تاریخی اور آئینی حقوق کی آواز ہے۔ گزشتہ 50 برسوں سے پشتون قوم کو مختلف نعروں، بیانیوں اور سیاسی مفادات کے نام پر گمراہ کیا گیا، جبکہ عوام کے حقیقی مسائل اور حقوق کو پسِ پشت ڈالا جاتا رہا۔

جنوبی پشتونخوا صوبہ ان تمام کرپٹ قوم پرستوں کے لیے جواب ہے جنہوں نے قومی حقوق کی سیاست کو ذاتی مفادات اور اسمبلی کی نشستوں تک محدود کر دیا۔ پشتون عوام اب شعوری طور پر اپنے حقیقی قومی اور جغرافیائی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کسی بھی گمراہ کن بیانیے کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں

حق پرست محترم رفیق پشتون ایڈکیٹ صاحب زندآباد❤️🤍🖤جنوبی پشتونخوا صوبہ زندآباد
18/06/2026

حق پرست محترم رفیق پشتون ایڈکیٹ صاحب زندآباد❤️🤍🖤
جنوبی پشتونخوا صوبہ زندآباد

  کے قائد اور حق پرست رہنما   نے کراچی دفتر سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں   کے صدر   کے اس بیا...
17/06/2026

کے قائد اور حق پرست رہنما نے کراچی دفتر سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں کے صدر کے اس بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ متنازعہ صوبہ بلوچستان میں بلوچوں سے زیادہ پشتون آباد ہیں، لیکن پشتون اپنے حقوق سے محروم ہیں۔

رفیق پشتون نے کہا کہ خوشحال خان کاکڑ نے یہ بیان دے کر اپنا فرض پورا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جنوبی پشتونخوا کی نمائندگی کرنے والوں نے جنوبی پشتونخوا کے پشتونوں کے حقوق کے لیے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔ وہ اسمبلیوں میں خواجہ سروں کی طرح بیٹھے ہوے تھے اور صرف اپنی مراعات حاصل کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے نمائندے شامل تھے

رفیق پشتون نے کہا کہ پشتون قومی تحریک 1994ء سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ بلوچستان ایک متنازعہ صوبہ ہے اور اس کی تقسیم ہونی چاہیے، جبکہ سبی، کوئٹہ اور ژوب پر مشتمل الگ صوبہ قائم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ متنازعہ صوبہ بلوچستان کے 90 لاکھ پشتونوں کو اسلام آباد کے حکمرانوں اور بلوچوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا نقصان پشتون بیلٹ اور خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے پہنچایا۔

رفیق پشتون کے مطابق جولائی 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے راولپنڈی میں ایک کانفرنس بلائی تھی۔ اس کانفرنس میں کوئی بلوچ نمائندہ شامل نہیں تھا، تاہم بلوچستان کے پشتونوں کی نمائندگی مرحوم خان عبدالولی خان اور جمعیت علماء اسلام کے مولانا مفتی محمود کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان دونوں رہنماؤں نے بلوچستان کے پشتون علاقوں کو بلوچستان میں شامل کرایا۔انہوں نے مزید کہا کہ 1973ء میں مولانا مفتی محمود اور خان عبدالولی خان نے 1973ء کے آئین پر دستخط کیے اور بلوچستان کے پشتونوں کو ایک بار پھر بلوچستان میں شامل کیا۔

رفیق پشتون نے کہا کہ بعد ازاں اٹھارویں آئینی ترمیم منظور ہوئی، جس پر مرحوم عبدالرحیم مندوخیل نے دستخط کیے۔ ان کے مطابق اگر عبدالرحیم مندوخیل دستخط نہ کرتے تو اٹھارویں ترمیم منظور نہ ہوتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مراعات کے حصول کے لیے اس ترمیم پر دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں پشتونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلام بنایا۔

  کے قائد اور حق پرست رہنما   نے کراچی دفتر سے جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی بجٹ 2026-27 کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے ک...
14/06/2026

کے قائد اور حق پرست رہنما نے کراچی دفتر سے جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی بجٹ 2026-27 کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا ہےانہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمران ماضی کی طرح ایک بار پھر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کے بقول موجودہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں امیر طبقہ مزید امیر جبکہ غریب عوام بدحالی، مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث انتہائی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں ۔رفیق پشتون نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور دیگر حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً فلسطین اور ایران میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہو رہے ہیں، جبکہ ہزاروں شہری متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکمران محض بیانات تک محدود ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خدا نخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری ہے ان کے اتحادی اور فوج ذمہ دار ہوگا
رفیق پشتون نے کہا کہ پاکستان کو آج دن تک مخلص حکمران نہیں ملا غدار حکمران کی وجہ سے ۱۹۷۱ پاکستان ٹوٹ گیا اور بنگلہ دیش قائم ہوا آج پھر غدار حکمران ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہے ہیںانہوں نے کہا کہ ، #بلوچستان اور آزاد #کشمیر میں جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بے گناہ لوگ اور فوجی شہید ہو رہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
اگر ملک کو نقصان پہنچا تو پھر موجودہ حکمران امریکہ دبئی اور لندن بھاگ جائیں گے اور #پاکستان کے ۲۵ کروڑ عوام دشمن کے غلام بن جائیں گے

13/06/2026

کے قائد حق پرست کا صاف مؤقف ہے کہ اس خطے کے پشتونوں کو اپنی الگ جغرافیائی اور انتظامی شناخت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق صدیوں سے اس خطے کی جغرافیائی حدود سبی، کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور ژوب تک واضح طور پر معلوم اور تسلیم شدہ رہی ہیں، اور اسی بنیاد پر جنوبی پشتونخوا کے قیام کا مطالبہ پیش کیا جاتا ہے۔

“ہمارا مقصد پشتونوں کو تقسیم کرنا نہیں، بلکہ اپنی شناخت حاصل کرنا ہے۔”

اس تاریخی خطاب میں جنوبی پشتونخوا کے مطالبے کو پشتونوں کی قومی و سیاسی شناخت کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ اس مؤقف کے مطابق، جنوبی پشتونخوا کے پشتون گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی نعروں اور بیانیوں کے درمیان استعمال ہوتے رہے ہیں، جن میں “لر او بر یو افغان”، “پشتونستان”، “بولان تا چترال” اور “نظامِ شریعت” جیسے تصورات شامل رہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق، ان بیانیوں کے باوجود بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے عام پشتونوں کو وہ سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جاتی تھی، جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے ان نعروں اور تحریکوں سے سیاسی فائدہ حاصل کیا

10/06/2026

کے قائد حق پرست رہنما کے ایک تاریخی خطاب کا دلچسپ اقتباس۔

رفیق پشتون نے مولوی اللہ داد سے سوال کیا کہ جب آپ کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوئی عملی امکان نہیں، اور زیادہ سے زیادہ چند نشستیں ہی حاصل کی جا سکتی ہیں، تو پھر آپ جنوبی پشتونخوا کے عوام کو شریعت اور مذہب کے نفاذ کے نام پر کیوں متحرک کرتے ہیں؟ کیوں نہ عوام کو تعلیم، ترقی، خود اعتمادی اور روشن فکر سوچ کی طرف راغب کیا جائے؟

اس کے جواب میں مولوی اللہ داد نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ان کے لیے ممکن نہیں، لیکن وہ یہ سب سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی میں کرتے ہیں۔

رفیق پشتون نے جواباً کہا کہ اگر سنت پر عمل ہی مقصد ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کی دیگر بے شمار تعلیمات اور احادیث پر بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ کام کیوں نہیں کیا جاتا؟

Address

Suraj Ganj Bazaar
Quetta
87600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pashtun Qoumi Tehreek Media Cell posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share