24/07/2026
میثاقِ بستی بشیر آباد (پل ڈنگر)
(باب اول)
"خاموشی سے بیداری تک"
میرے بزرگوں، میرے بھائیوں، میری ماؤں، میری بہنوں اور میرے پیارے نوجوانو!
آج میں آپ کے سامنے کوئی سیاسی تقریر نہیں رکھ رہا نہ کسی سے اختلاف کی داستان سنا رہا ہوں اور نہ ہی کسی پر الزام تراشی کرنا میرا مقصد ہے۔
میں صرف اپنے دل کی وہ آواز آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں جو برسوں سے اس مٹی، ان گلیوں، ان کھیتوں اور اس بستی کی خاموش فضاؤں میں گونج رہی ہے۔
یہ تحریر کسی ایک شخص کی نہیں بستی بشیر آباد (پل ڈنگر) کے ہر اس فرد کی آواز ہے جس نے کبھی بہتر مستقبل کا خواب دیکھا مگر خاموشی کی چادر اوڑھ کر وقت کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دیا۔
آئیے... ایک لمحے کے لیے اپنے نام اپنی برادری، اپنے اختلافات اور اپنی پسند و ناپسند کو ایک طرف رکھ دیں اور صرف اتنا سوچیں...
اگر یہ بستی ہماری ہے... تو اس کی ذمہ داری بھی ہماری ہے۔
اگر اس مٹی میں ہمارے بزرگ آسودۂ خاک ہیں...
اگر انہی گلیوں میں ہمارے بچے کھیلتے ہیں...
اگر یہی زمین ہماری شناخت ہے...
تو پھر اس کی ترقی اس کی عزت اور اس کا مستقبل بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آج میں آپ سے صرف پڑھنے کی درخواست نہیں کرتا...
میں چاہتا ہوں کہ آپ ہر لفظ کو اپنے دل پر محسوس کریں ہر سوال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور ہر سطر کو اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جوڑ کر دیکھیں۔
کیونکہ قومیں تب نہیں بدلتی جب ان کے لیے کوئی اور کھڑا ہوتا ہے... قومیں اُس دن بدلنا شروع ہوتی ہیں جب وہ خود اپنے حق اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے لیے کھڑی ہو جاتی ہیں۔
بستیاں اس دن نہیں مرتیں جب ان کی گلیاں ٹوٹتی ہیں بستیاں اس دن مرنا شروع ہوتی ہیں جب ان کے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ کسی بستی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو اس کے گھر گرانا ضروری نہیں...
اس کے کھیت ویران کرنا بھی ضروری نہیں...
اس کی سڑکیں تباہ کرنا بھی ضروری نہیں...
صرف ایک کام کافی ہے...
اس کے لوگوں کو یہ یقین دلا دیجیے کہ ان کی آواز کی کوئی حیثیت نہیں، ان کے سوال کی کوئی قیمت نہیں اور ان کے خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتے۔
جس دن ایک باپ یہ سوچ لے کہ "اب کچھ نہیں بدل سکتا"،
جس دن ایک ماں یہ مان لے کہ "یہی ہماری قسمت ہے"،
جس دن ایک نوجوان سوال کرنا چھوڑ دے،
اور جس دن ایک بچہ اپنے خواب چھوٹے کرنا سیکھ جائے...
اسی دن ایک بستی مرنا شروع ہو جاتی ہے۔
اے بستی بشیر آباد (پل ڈنگر)! کے باسیو!۔۔۔۔
تمہاری سب سے بڑی محرومی صرف ٹوٹی ہوئی گلیاں نہیں...
تمہارا سب سے بڑا مسئلہ صرف گندہ پانی، سیوریج یا بجلی کی خراب صورتحال بھی نہیں...
تمہارا سب سے بڑا مسئلہ صرف بے روزگاری یا بنیادی سہولیات کی کمی بھی نہیں...
تمہارا سب سے بڑا مسئلہ وہ خاموشی ہے جس نے ان تمام مسائل کو معمول بنا دیا ہے۔
جب ناانصافی روز کا منظر بن جائے...
تو لوگ اسے قسمت سمجھنے لگتے ہیں...
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے...
جب نظام جیت جاتا ہے اور عوام ہار جاتی ہے۔
ہمیں ہمیشہ کہا گیا...
شکر ادا کرو...
ہم نے کیا۔
صبر کرو...
ہم نے کیا۔
وقت بدل جائے گا...
ہم انتظار کرتے رہے۔
لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا کہ...
حق مانگنا ناشکری نہیں ہوتا۔
کسی نے یہ نہیں بتایا کہ...
سوال کرنا بغاوت نہیں ہوتا۔
اور کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ...
خاموش رہنا، بعض اوقات ظلم کا ساتھ دینے کے برابر ہوتا ہے۔
ہم نے اپنے بچوں کو ادب سکھایا...
یہ بہت ضروری تھا۔
ہم نے انہیں بڑوں کا احترام سکھایا...
یہ بھی ضروری تھا۔
لیکن ہم انہیں یہ نہ سکھا سکے کہ...
اختیار کا احترام اور احتساب ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہیں۔
ایک مہذب بستی وہ نہیں ہوتی جہاں کوئی سوال نہ کرے...
بلکہ ایک مہذب بستی وہ ہوتی ہے...
جہاں ہر سوال کا جواب دلیل دیانت اور خدمت سے دیا جائے۔
ہم نے اپنے نمائندوں پر اعتماد کیا...
یہ ہمارا حق تھا۔
مگر کیا ہم نے کبھی ان سے یہ بھی پوچھا...
ہمارے بچوں کے حصے میں کیا آیا؟
صاف پانی کیوں نہیں؟
بہتر تعلیمی سہولیات کیوں نہیں؟
صحت کی بنیادی سہولتیں کیوں نہیں؟
روزگار کے مواقع کیوں نہیں؟
ہماری گلیاں، ہماری سڑکیں، ہماری بستی آج بھی محرومی کی تصویر کیوں ہیں؟
اگر ہم نے یہ سوال نہیں پوچھے...
تو پھر ہماری حالت کی ذمہ داری صرف نمائندوں پر نہیں ہم پر بھی عائد ہوتی ہے۔
یہ تحریر کسی نفرت کا اعلان نہیں...
یہ بیداری کا اعلان ہے۔
ہم کسی خاندان، کسی برادری، کسی شخصیت یا کسی سیاسی جماعت کے مخالف نہیں۔
ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جو عوام کا نمائندہ ہے وہ واقعی نمائندگی کرے۔
جو عوام کا خادم ہے...
وہ خدمت کا حق ادا کرے۔
میرے پیارے چاچڑ اور رانا برادری کے بزرگوں، نوجوانوں اور دوستو!...
ہم سب اس بستی کی شناخت ہیں۔
ہمارے درمیان رشتے بھی ہیں محبت بھی ہے اور ایک مشترکہ مستقبل بھی۔
اگر ہم برادریوں میں تقسیم ہو کر سوچیں گے تو ہماری بستی کمزور ہوگی...
لیکن اگر ہم بستی بشیر آباد کے نام پر ایک ہو جائیں...
تو کوئی طاقت ہماری ترقی کا راستہ نہیں روک سکتی۔
یاد رکھیں...
ترقی برادریوں کی نہیں شعور کی ہوتی ہے۔
ایک بستی کو بدلنے کے لیے ہمیشہ انقلاب نہیں چاہیے...
کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہوتا ہے...
کہ لوگ فیصلہ کر لیں...
"اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔"
میں بستی بشیر آباد (پل ڈنگر) کے ہر نوجوان سے کہنا چاہتا ہوں...
تمہاری سب سے بڑی طاقت صرف تمہارا موبائل فون نہیں...
تمہاری سب سے بڑی طاقت صرف تمہارا ووٹ بھی نہیں...
تمہاری سب سے بڑی طاقت تمہارا شعور، تمہاری دیانت اور تمہارا کردار ہے۔
کیونکہ باشعور انسان کو...
نہ خریدا جا سکتا ہے...
نہ ڈرایا جا سکتا ہے...
اور نہ زیادہ دیر تک دھوکے میں رکھا جا سکتا ہے۔
اگر آج بھی ہم خاموش رہے...
تو کل ہمارے بچے بھی وہی سوال پوچھیں گے...
ہماری بستی میں ترقی کب آئے گی؟
ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم کب ملے گی؟
روزگار کے مواقع کب پیدا ہوں گے؟
ہماری گلیاں، ہماری سڑکیں اور ہمارا ماحول کب بدلے گا؟
میں نہیں چاہتا...
کہ آنے والی نسلیں بھی یہی سوال وراثت میں لے کر بڑی ہوں۔
میں چاہتا ہوں...
کہ وہ ہمیں ایک ایسی نسل کے طور پر یاد کریں...
جس نے خوف نہیں، شعور کو اپنایا۔
جس نے نفرت نہیں، اتحاد کو چنا۔
جس نے خاموشی نہیں، حق اور سچ کی آواز بلند کی۔
اور آج...
میں بستی بشیر آباد (پل ڈنگر) کے ہر بندے سے صرف ایک سوال پوچھتا ہوں...
اگر آج بھی ہم خاموش رہے...
تو کل تاریخ ہمارے بارے میں کیا لکھے گی؟
✍️ قلم میرا ہتھیار ہے آپ کی آواز میری طاقت۔ اگر ہم سب ایک ہو جائیں تو بستی بشیر آباد (پل ڈنگر) صرف ایک بستی نہیں، ترقی، اتحاد اور شعور کی مثال بن سکتی ہے۔
تحریر : محمد سلیم اللہ