Pakistan Awami Tehreek -PAT Rawalpindi Metropolitan

Pakistan Awami Tehreek -PAT Rawalpindi Metropolitan

Share

Education
Economy
Poverty
Health
Justice
Peace
Technology

09/03/2025

گاڑیوں میں اکثر AC کنٹرولز کے ساتھ ایک "ریسرکولیشن بٹن" ہوتا ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اسے کب استعمال کرنا چاہیے۔ آسان اصول یہ ہے کہ **گرمیوں میں اسے آن کریں** اور **سردیوں میں بند کردیں**۔

ریسرکولیشن بٹن کام کیسے کرتا ہے؟
یہ بٹن گاڑی کے اندر کی ہوا کو باہر کی تازہ ہوا کی بجائے بار بار کیبن میں گردش کرتا ہے۔ انتہائی گرم دنوں میں، اگر آپ ریکرکولیشن استعمال نہیں کریں گے تو آپ کا AC سسٹم باہر کی گرم ہوا کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے گا، جو کم مؤثر ہوتا ہے۔ اندر کی پہلے سے ٹھنڈی ہوا کو گردش دے کر آپ گاڑی کو تیزی سے ٹھنڈا کرسکتے ہیں اور AC پر بوجھ کم کرتے ہیں۔

**ایک ضروری نوٹ:** اگر گاڑی دھوپ میں کھڑی رہی ہو تو پہلے 1-2 منٹ تک کھڑکیاں کھول دیں اور ریکرکولیشن بند رکھیں۔ اس طرح گاڑی کی تپش باہر نکل جائے گی، پھر ریکرکولیشن آن کرکے AC چلائیں۔

**ٹریفک میں پھنس جانے پر:** چاہے گرمی ہو یا سردی، **ریسرکولیشن آن کردیں**۔ اگر آپ باہر کی ہوا کھینچیں گے تو ٹریفک کی آلودگی، دھواں، اور کاربن مونو آکسائیڈ بھی اندر آجائیں گے۔ تحقیق کے مطابق، ریکرکولیشن آن کرنے سے ٹریفک میں آلودگی کا اندرونی سطح **20% تک کم** ہوجاتی ہے۔

04/03/2025

کروڑوں سال پہلے، ایک چھوٹا سا پریمیت افریقہ کے جنگلوں میں بھٹک رہا تھا۔ اُس کے پاس نہ آگ تھی، نہ زبان، نہ دیوتا۔ بس دو چیزیں تھیں: **بھوک** جو اُسے حرکت دیتی، اور **خوف** جو اُسے زندہ رکھتا۔ یہی وہ جبلتیں تھیں جنہوں نے اُسے پتھر اُٹھانے پر مجبور کیا، غاروں میں چھپنے کی ہدایت دی، اور اپنے ہی جیسے انسانوں سے لڑنا سکھایا۔ آج، جب ہم چاند پر قدم رکھ چکے ہیں، مصنوعی ذہانت کو جنم دے چکے ہیں، اور زمین کو اپنی مٹھی میں بند کر لیا ہے، ایک سوال اب بھی ہمارے پیچھے پڑا ہے: کیا ہماری تمام ترقی، تمام ایجادات، اور تمام جنگیں دراصل **بقا** ہی کی ایک کڑی ہیں؟ یا پھر ہم نے اپنی ہی تخلیق کردہ تباہی کو "ترقی" کا نام دے دیا ہے؟

انسانی تاریخ کا پہلا باب خون سے لکھا گیا۔ قدیم انسان نے جب پہلی بار پتھر کو ہتھیار بنایا، تو اُس نے نہ صرف شیروں بلکہ اپنے ہی قبیلے والوں کو مارنا سیکھ لیا۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں میں ملنے والے کنکالوں پر وار کے نشانات بتاتے ہیں کہ "تہذیب" کا جنم لینے سے پہلے بھی انسان اپنے ہی خُون سے لتھڑا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ جب اُس نے آگ کو قابو کیا، تو اِس کا استعمال نہ صرف کھانا پکانے بلکہ دوسروں کو ڈرانے کے لیے بھی کیا۔ خوف نے اُسے دیوتا بنائے۔ بجلی کڑکتی تو وہ پرلے کو موردِ الزام ٹھہراتا۔ بیماری پھیلتی تو ارواح کو خوش کرنے کے لیے قربانیاں دیتا۔ یہ سب اُس کی بقا کی نفسیاتی چالیں تھیں۔ جب کوئی جواب نہ ہوتا، تو خوف ہی اُس کا مذہب بن جاتا۔

پھر وقت نے کروٹ لی۔ انسان نے دریاؤں کے کنارے بستیاں بسائیں۔ کھیتی باڑی نے اُسے مستقل رہائش دی۔ مگر یہاں بھی بقا کی جنگ نے نیا روپ دھار لیا۔ زرخیز زمینوں کے لیے لڑائیاں ہوئیں۔ کسان مزدور بنے۔ حکمران دیوتا۔ میسوپوٹیمیا کی وادیوں سے لے کر مصر کے ریگستان تک، ہر عظیم تہذیب کی بنیاد میں مزدوروں کی ہڈیاں دفن ہیں۔ اہرامِ مصر کی بلندی پر فرعون کی ممی پڑی ہے، اور نیچے ہزاروں غلاموں کی بے نام قبریں۔ رومن سلطنت نے کولوزیئم بنایا، جہاں غلاموں کو جنگلی جانوروں کے سامنے پھینکا جاتا تھا۔ یہ "تہذیب" کا وہم تھا جس نے انسان کو بتایا کہ وہ اب جنگلی نہیں رہا، حالانکہ اُس کے اندر کا درندہ صرف نیا کھیل کھیل رہا تھا۔

سلطنتوں کی بھوک کبھی نہ مٹی۔ منگول کے گھڑسواروں نے ایشیا کو روند ڈالا۔ کولمبس نے "نئی دنیا" دریافت کی، جہاں مقامی لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ غلاموں کے جہازوں کے پیٹ میں زنجیروں سے جکڑے لوگ بیماریوں سے مرتے رہے۔ یورپ کی شوگر پلانٹیشنز، ہیرے کی کانیں، اور سونے کی تجارت—یہ سب اُسی بقا کی جنگ کا حصہ تھے، جہاں طاقتور نے کمزور کو کچل دیا۔ مگر یہ طاقت ور کبھی بادشاہ تھے، تو کبھی نوآبادیاتی حکمران۔ اُن کا مقصد ایک ہی تھا: **زندہ رہنے کے لیے دوسروں کو مارنا**۔

صنعتی انقلاب نے اِس جنگ کو نیا موڑ دیا۔ بھاپ اور لوہے نے انسان کو مشین بنا دیا۔ فیکٹریوں میں 8 سال کے بچے 14 گھنٹے کام کرتے۔ کوئلے کے بھٹوں میں مزدور سانس لینے کو ترستے۔ شہر پھیلے، مگر اِن کی گلیوں میں غربت، بیماری اور موت بسی رہی۔ یہ "ترقی" تھی یا پھر غلامی کا نیا دور؟ جواب شاید اِس بات میں پوشیدہ ہے کہ آج بھی پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کی فیکٹریوں میں مزدور اُسی طرح پس رہے ہیں، بس ہتھیار بدل گئے ہیں۔

بیسویں صدی نے انسان کو ایٹم بم دیا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرنے والا ہر بم اُس قدیم انسان کے پتھر کی طرح تھا، جو اپنی بقا کے لیے دوسروں کو تباہ کرتا آیا تھا۔ سرد جنگ کے دوران، انسان نے اِتنے جوہری ہتھیار بنا لیے کہ زمین کو 50 بار تباہ کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ بھی بقا ہی کی جنگ تھی: "اگر تم مارو گے، تو ہم بھی ماریں گے۔"

آج، اکیسویں صدی میں، جنگ کے میدان بدل گئے ہیں۔ اب لڑائی تلواروں یا بموں سے نہیں، بلکہ ڈیٹا، الگورتھمز، اور جینیٹک کوڈز سے لڑی جا رہی ہے۔ فیسبک اور گوگل ہماری خواہشوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ AI ہمارے فیصلے چُراتا ہے۔ جینیٹک انجینئرنگ ہمیں "ڈیزائنر بچے" بنانے کی طاقت دیتی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی نسلی تفریق کو ہوا دے سکتی ہے۔ خلائی دوڑ نے جنگ کو کائنات تک پھیلا دیا ہے۔ امریکہ، چین، اور روس چاند کے وسائل پر قبضے کی تیاری میں ہیں۔ کیا ہم زمین کو تباہ کر کے اب کائنات کو بھی اپنے زہر سے آلودہ کریں گے؟

مگر اِس تمام ترقی کے پیچھے ایک المیہ چھپا ہے: ہم نے اپنی ہی زمین کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ 2023 میں پاکستان نے تاریخ کی بدترین سیلاب دیکھا، جس نے 3 کروڑ لوگوں کو بے گھر کیا۔ ایمیزون کے جنگلات، جو زمین کے پھیپھڑے کہلاتے ہیں، ہر منٹ میں 30 فٹ بال کے میدانوں کے برابر کٹ رہے ہیں۔ سمندر پلاسٹک سے اٹے پڑے ہیں۔ ہوا زہریلی ہے۔ اور ہم جانتے بوجھتے اِس تباہی کو "ترقی" کا نام دے رہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ہم نے 12 سالوں میں کاربن اخراج نہ روکا، تو زمین ناقابلِ رہائش ہو جائے گی۔ مگر ہماری حکومتیں اور کارپوریشنیں اِسے نظرانداز کر رہی ہیں۔ کیونکہ بقا کی جنگ اب بھی جاری ہے: **آج کی بھوک کل کے خوف پر بھاری ہے**۔

سوال یہ ہے: کیا انسان نے لاکھوں سال کی جدوجہد میں صرف اِتنا سیکھا ہے کہ اپنی ہی نسل کو ختم کر دے؟ کیا ہماری عقل، جو ہمیں چاند تک لے گئی، ہمیں اِس سے بچا نہیں سکتی؟ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے ہر دور میں اپنی تباہی کے ہتھیار خود بنائے۔ پتھر، تلوار، بندوق، بم، اور اب AI۔ مگر اِس کے ساتھ ہی، اُس نے امید کے چراغ بھی جلائے۔ ناروے جیسے ممالک نے 90% الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف حاصل کر لیا۔ روانڈا نے پلاسٹک پر مکمل پابندی لگا دی۔ نوجوانوں کی تحریکیں، جیسے گریٹا تھنبرگ کا **Fridays for Future**، حکمرانوں کو للکار رہی ہیں۔ سائنسدان قابلِ تجدید توانائی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ سب بتاتا ہے کہ انسان کے پاس **انتخاب** کا موقع اب بھی ہے۔

ماضی کی طرح، آج بھی ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ وہی پرانا ہے: لالچ، استحصال، اور جنگ۔ دوسرا راستہ ہمت، انصاف، اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کا ہے۔ پہلا راستہ ہمیں اُس ڈائنوسار کی طرح ختم کر دے گا جو اپنے ہی ماحول کو تباہ کر کے مر گیا۔ دوسرا راستہ ہمیں ایک نئی داستان لکھنے کا موقع دے گا۔

آخری بات یہ کہ انسان وہ واحد مخلوق ہے جو اپنے مستقبل کو **تصور** کر سکتی ہے۔ ہم نے چاند پر قدم رکھا۔ سمندر کی گہرائیوں میں اُترے۔ ہم نے بیماریوں کو شکست دی۔ مگر ہم نے یہ سب کچھ اپنی بقا کے لیے کیا، نہ کہ تباہی کے لیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم **کیا چاہتے** ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کو ایک زہریلی دنیا دے کر جانا چاہتے ہیں؟ یا پھر اُنہیں ایسی زمین دے سکتے ہیں جہاں درخت ہریالی پھیلاتے ہوں، سمندر صاف ہوں، اور انسان اپنے ہی جیسوں کا دشمن نہ ہو؟

تاریخ کا یہ موڑ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم یا تو اپنی کہانی کو ایک المیہ کے طور پر ختم کر سکتے ہیں، یا پھر ایک معجزے کے طور پر۔ فیصلہ ہمارا ہے۔

10/02/2025

لندن ایک ملک نہیں ہے

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ لندن خود ایک ملک ہے، لیکن یہ سچ نہیں۔ لندن دراصل انگلینڈ کا دارالحکومت ہے، اور انگلینڈ خود برطانیہ (UK) کا ایک حصہ ہے۔

برطانیہ (UK) چار ممالک پر مشتمل ہے، اور ہر ایک کا اپنا دارالحکومت ہے:

1. انگلینڈ – دارالحکومت لندن

2. اسکاٹ لینڈ – دارالحکومت ایڈنبرا

3. ویلز – دارالحکومت کارڈف

4. شمالی آئرلینڈ – دارالحکومت بیلفاسٹ

کچھ لوگ انگلینڈ، برطانیہ (UK) اور گریٹ برٹن کو ایک ہی سمجھتے ہیں، لیکن ان میں فرق ہے۔

انگلینڈ ایک الگ ملک ہے، جیسے کہ کینیا یا یوگنڈا۔ لندن اس کا دارالحکومت ہے، جیسے نیروبی کینیا کا اور کمپالا یوگنڈا کا دارالحکومت ہے۔

گریٹ برٹن تین ممالک (انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز) کا مجموعہ ہے، جس کا دارالحکومت لندن ہے۔

جب شمالی آئرلینڈ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ "یونائیٹڈ کنگڈم (United Kingdom)" بن جاتا ہے۔

اس لیے برطانیہ کا پورا نام "یونائیٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹن اینڈ نارتھ آئرلینڈ" ہے۔

کرنسی کا فرق:

انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں پاؤنڈ (£) استعمال ہوتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ میں پاؤنڈ اسٹرلنگ (£) استعمال ہوتا ہے، جو ویلیو میں برابر ہوتا ہے لیکن نوٹوں کے پرنٹ مختلف ہوتے ہیں۔

کوئی بھی نیا علم بیکار نہیں ہوتا! ✌️
Follow

28/08/2022

اسلام علیکم
یہ میسج ان تمام احباب کو لازمی بھیجیں جو اس وقت ٹیولپ ہوٹل والے سیمینار میں شریک ہیں ، سیلاب زدگان کی مدد کے لیے باہر ایک عطیات کیمپ لگایا گیا ہے، آپ سب لوگ دل کھول کر ہمارے دکھی بھائیوں کی مدد کریں ، آپکی یہ مدد جلد سے جلد متاثرین تک پہنچائی جائے گی،

*مزمل نوید نائب صدر پاکستان عوامی تحریک میٹروپولیٹن روالپنڈی*

26/08/2022

اسلام علیکم!

امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے، ہمارے ملک میں اس وقت سیلاب متاثرین کی تعداد 3 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، آپ سب سے گزارش ہے اپنی خود کی تحقیق کر کے کسی بھی فلاحی ادارے کے ذریعے سے حسب توفیق اپنی مدد ان تک لازمی پہنچائیں، خواہ وہ ایک کپڑا ہو یا ایک روٹی ہو یا ایک روپیہ ہو، الله کی لاٹھی بڑی ہی بے آواز ہے، اگر آج آپ چین سے سو رہے ہیں تو شکر کریں استغفار کریں ، ہم اجتماعی طور پر پوری قوم بہت گنہگار ہو چکے ہیں ، ہم چاہے پہاڑ پر پناہ لے لیں ہماری باری بھی آنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی، احساس پیدا کریں ، جاگیں، اگراس وقت آپ کے پاس دو وقت کی روٹی ہے سونے کے لیے خشک زمین ہےتو آپ امیر ہیں خوشحال بھی ہیں اور یہ بہت کافی ہے،
*الله کے غضب سے بچنے کے بہت کم مواقع رہ گئے ہیں ، حساب بھی قریب ہے حشر بھی قریب ہے ، اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو اٹھ کر بیٹھ جائیں ، بیٹھے ہیں تو فکر مند یو کر کھڑے ہو جائیں ، اگر ہمارے قومی بھائی تکلیف میں ہیں تو انکے لیے دعا اور سوگ تو کر ہی سکتے ہیں۔*
*مزمل نوید*

14/08/2022
Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Chandani Chowk
Rawalpindi
46000