31/05/2026
چوہدری قاسم شبیر ولد ماسٹر چوہدری غلام شبیر مغلال صاحب (حال مقیم یو کے) کا ماہ جون 2026ء کا 10000 روپے ماہانہ فنڈ وصول ہو گیا ہے۔
چوہدری قاسم شبیر صاحب باقاعدگی کے ساتھ ہر ماہ 10000 روپے فنڈ کی صورت میں پڑیال ویلفیئر سوسائٹی کے فلاحی منصوبوں میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ دیارِ غیر میں مقیم اہلِ پڑیال اور اپنے گاؤں سے محبت رکھنے والے دیگر احباب کے لیے ان کا یہ عمل ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیرونِ ملک مقیم افراد اگر معمولی رقم بھی مستقل بنیادوں پر سوسائٹی کے لیے مختص کر دیں تو اس سے گاؤں میں جاری فلاحی منصوبوں کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جا سکتی ہیں اور اجتماعی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔
پڑیال ویلفیئر سوسائٹی چوہدری قاسم شبیر صاحب کے اس قابلِ قدر تعاون پر دلی تشکر کا اظہار کرتی ہے اور ان کے لیے مزید خیر و برکت کی دعا گو ہے۔
30/05/2026
گزشتہ روز ممبران مرکزی مجلس عاملہ پڑیال ویلفیئر سوسائٹی پروفیسر ڈاکٹر عبدالماجد صاحب اور چوہدری کامران بجیدیا صاحب کی جانب سے مرکزی مجلس عاملہ کے اعزاز میں عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں ممبران عاملہ کے علاوہ پڑیال کے آئمہ کرام، عمائدین دیہہ اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ میزبانان کی جانب سے شرکاء کے لئے پرتکلف ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اس موقع پر سینئر ممبر مرکزی مجلس عاملہ چوہدری غلام شبیر صاحب نے سوسائٹی کے جاری فلاحی منصوبوں اور عوامی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے اہل دیہہ کی جانب سے سوسائٹی پر بھرپور اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اہلِ خیر سے اپیل کی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ خدمت کا یہ سفر مزید وسعت اختیار کر سکے۔
بعد ازاں پڑیال ویلفیئر سوسائٹی کا ماہانہ اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں سوسائٹی کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے فلاحی اہداف و منصوبہ بندی پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف جاری منصوبوں اور آئندہ رفاہی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
اسی موقع پر دو نئے ممبران چوہدری صوفی سلطان خان صاحب اور مرزا شہزاد جرال صاحب نے باضابطہ حلف برداری کے بعد پڑیال ویلفیئر سوسائٹی میں شمولیت اختیار کی۔ شرکاء نے نومنتخب ممبران کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اللہ کریم اس محبت، اتحاد اور خدمتِ خلق کے جذبے کو قائم و دائم رکھے، تمام معاونین، منتظمین اور ممبران کو جزائے خیر عطا فرمائے اور پڑیال ویلفیئر سوسائٹی کو مزید خدمتِ انسانیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
27/05/2026
*چمن کا رنگ گو تُو نے سراسر اے خزاں بدلا*
*نہ ہم نے شاخِ گل چھوڑی، نہ ہم نے آشیاں بدلا*
کچھ لوگ محض طعن و تشنیع کے سوداگر ہیں ۔ ان کی زبان درازی کے طوفان سے نہ قافلۂ خدمت کبھی رکا ہے، نہ آئندہ رکے گا۔ جن لوگوں کا دامن عمل ایک حبّۂ جو ( جو کے دانے ) تک سے خالی ہو ، اُنہیں اہلِ ایثار پر سنگ زنی زیب نہیں دیتی۔
رات دن زبانیں چلانے والوں نے کبھی یہ بھی سوچا کہ خلقِ خدا کے زخموں پر مرہم رکھنے والوں نے آج تک کن مشقتوں، کن تضحیکوں اور کن صعوبتوں کا سامنا کیا ہے؟
زبان طعن دراز کرنے والے محفلوں کے خطیب ہیں ، اور ویلفیئر سوسائٹی کے کارکنان میدانِ عمل کے شہسوار۔
یاد رکھیے
چراغ ہوا کے تھپیڑوں سے نہیں بجھتے، بلکہ اندھیروں سے لڑ کر اور زیادہ فروزاں ہو جاتے ہیں۔
طنز کے تیر ، عزم کی سپر سے ٹکرا کر خود پاش پاش ہو جائیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ یہ کاروانِ خیر اپنی منزل کی جانب رواں تھا، رواں ہے، اور رواں رہے گا ثم ان شاءاللہ تعالیٰ ۔
جن کی ہمت ایک پتھر رکھنے کی نہیں وہ راہِ خدمت میں گرد اُڑاتے پھرتے ہیں ۔
خلقِ خدا کی خدمت کرنے والوں پر زبانِ طعن دراز کرنا آسان، مگر خود میدان میں اترنا کارے دارد۔
یہ ویلفیئر سوسائٹی کسی کی واہ واہ پر بنی تھی، نہ کسی کی تنقید و تنقیص پر ختم ہوگی۔
جن لوگوں نے گرمی، سردی، بارش اور اندھیروں میں مخلوقِ خدا کے لیے دوڑ دھوپ کی، ان کے اخلاص کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ۔
طنز کے تیر کارکنوں کے حوصلے کم نہیں کرتے بلکہ انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ صحیح راستہ یہی ہے ۔
افتخار احمد ملک
27/05/2026
💎*ماؤں بہنوں بیٹیوں کے نام*💎
*گرمی کی جھلسا دینے والی دوپہریں، چولہوں کی دہکتی آنچ، باورچی خانوں میں اُبلتے برتن، اور مہمان نوازی کی پیہم مشقت ان سب کے درمیان اگر کوئی ہستی خندہ پیشانی کے ساتھ گھر کے ذائقوں، رونقوں اور محبتوں کو زندہ رکھے ہوئے ہے تو وہ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔*
*عید کے تہوار کی حقیقی بہار انہی کے دم سے قائم رہتی ہے۔ کوئی شیر خُرما میں محبت گھول رہی ہے، کوئی رس بھری سویاں تیار کر رہی ہے، کوئی خوش ذائقہ کھیر کے دیگچے پر جھکی ہوئی ہے، اور کوئی مہمانوں کی آمد و رفت میں سراپا التفات بنی ہوئی ہے۔ گرمی کی شدت سے چہرے تمتما اٹھتے ہیں، ہاتھ آگ کی تپش سے جھلس جاتے ہیں، مگر لبوں پر شکایت نہیں آتی۔ یہ ایثار، محبت اور خلوص کی وہ خاموش داستان ہے جو ہر گھر کی دیواروں میں خوشبو کی طرح بسی رہتی ہے۔*
*یہ خواتین محض پکوان نہیں پکاتیں بلکہ اپنے اخلاص، سلیقے اور شفقت سے گھروں میں محبت کی فضا قائم کرتی ہیں۔* *دسترخوان پر سجی نعمتوں کے پس منظر میں اُن کی بے لوث محنت، جاگتی آنکھیں اور تھکے ہوئے ہاتھ پوشیدہ ہوتے ہیں۔* *حقیقت یہ ہے کہ کھیر کی مٹھاس، سویّوں کی لذت اور مہمان نوازی کی دلکشی، اِنہی محبت کرنے والی ہستیوں کے دم سے ہے۔*
*سلام اُن ماؤں کو جن کی دعائیں گھروں کا حصار ہیں، اُن بہنوں کو جن کی شفقت گھر کی زینت ہے، اور اُن بیٹیوں کو جن کی مسکراہٹیں آنگن کی رونق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محبتوں کو سلامت رکھے، ان کی محنتوں میں برکت عطا فرمائے، اور ان کے وجود کو ہر گھر کے لیے سرچشمۂ رحمت بنائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔*
*سلام محبت ۔۔۔ افتخار احمد ملک*
27/05/2026
*پڑیال ویلفئیر سوسائٹی کا میت چلر*
علاقہ بھر کے کسی گاوں میں یہ سہولت دستیاب نہیں۔
بسلسلۂ روزگار سمندر پار مقیم رائیکا میرا کے دو بھائیوں کی والدہ آج بروزِ عید داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئیں۔
یہ افسوسناک اطلاع جب مرحومہ کے بیٹوں کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر وطن واپسی کے لیے ٹکٹس کا انتظام کرنا چاہا، مگر معلوم ہوا کہ اولین دستیاب فلائٹ کل صبح ہے، جس کے باعث وہ کل صبح سے قبل گاؤں نہیں پہنچ سکتے۔
شدید گرمی کی موجودہ لہر میں میت کو 24 گھنٹے سے زائد محفوظ رکھنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ایسے میں برادری کے عمائدین سر جوڑ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ سوشل میڈیا سے وابستہ ایک نوجوان نے رائے دی کہ پڑیال ویلفیئر سوسائٹی کے پاس میت چلر موجود ہے، جس میں میت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
چنانچہ عمائدین رائیکا میرا نے پڑیال ویلفیئر سوسائٹی سے رابطہ کیا، جس پر سوسائٹی کی جانب سے میت چلر فوری طور پر بغیر کسی معاوضہ کے فراہم کر دیا گیا۔
اللہ کریم مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے، اور پڑیال ویلفیئر سوسائٹی کے اس فلاحی اقدام کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
خصوصاً میت چلر عطیہ کرنے والے محسنِ پڑیال چوہدری منصب خان صاحب مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لیے اسے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔
26/05/2026
دیارِ غیر میں مقیم اپنی دھرتی اور قبیلہ سے محبت رکھنے والے پڑیال کے ایک سپوت نے سڑک کی بہتری کے اس فلاحی کام کے لئے 10000 روپے عطیہ کئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اس کارِ خیر میں حصہ ڈالا بلکہ اس کی تکمیل تک مزید تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
اللہ کریم ان کے رزق، صحت اور عزت میں برکت عطا فرمائے اور اس جذبۂ محبت کو اپنے حضور قبول فرمائے۔ آمین۔
25/05/2026
ڈھوک سم سے مسجد الحبیب سے تھوڑا اگے تک 100 ٹرالیاں مٹی ڈالی جا چکی ہے۔
احباب سے گزارش ہے کہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ ڈھیری چوک تک سڑک کو مکمل طور پر کراسنگ کے قابل بنایا جا سکے اور عوام کو آمدورفت میں آسانی میسر آ سکے۔
اللہ کریم سب کے مال و جان میں برکت عطا فرمائے۔