Good job traffic police rawalpindi
Appreciable
Police Reforms
Suggestions and comments to improve police and system will be appreciated
السلام علیکم!!
میری طرف سے آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو عید الاضحی کی خوشیاں مبارک ہوں۔
بابا کڑوا
میری طرف سے آپ تمام کو بہت بہت عید مبارک. اللہ پاک آپکو ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے. اے میرے پروردگار جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہے ہیں ان پر رحم فرما اور مسلمانوں کو طاقت اور کفار پر غالب فرما. آمین
09/05/2021
شہید انسپکٹر عمران عباس کےبیٹے ابراہیم اور احمد سی پی او محمد احسن یونس سے ملنے اُن کے آفس آئے۔
یہ بچےراولپنڈی پولیس کیلئےانتہائی محترم ہیں کہ انکےوالد انسپکٹر عمران عباس اور دادا سب انسپکٹر محمد عباس دونوں ہی راولپنڈی پولیس میں فرائض کی ادائیگی کےدوران شہادت کےمرتبےپرفائزہوئے۔
عوام اور پولیس مار کٹائی... کیا. صحیح کیا غلط...
دوستوں کافی عرصہ کے بعد یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں آپکی توجہ اور رائے چاہتا ہوں
آئے دن دیکھنے کو ملتا ہے کہ فلاں فلاں جگہ احتجاج ہو رہا ہے پولیس جاتی ہے یا تو حالات قابو میں آ جاتے ہیں اور لوگ واپس چلے جاتے ہیں یعنی مزاکرات ہو گئے اور معاملات طے پا گئے اور ذیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اتنی جلدی حالات قابو میں نہیں آتے اور مظاہرین پولیس پر حاوی ہو جاتے ہیں اور اور ڈنڈے پتھر سب کچھ استعمال کرتے ہیں, پولہس بھی اپنا پورا زور لگاتی ہے ہجوم پر قابو پانے کو. ایسے ہی مناظر تحریک لبیک کے لوگوں اور پولیس کے ساتھ دیکھنے کو ملے ہیں. عوام نے پولیس والوں کو. گھیرے میں ایسے لیا جسے مسلمانوں نے کافروں کو. پکڑ لیا ہو جیسے پولیس ہی اصل بیماری کی جڑ ہے جیسے پولیس والے ہی منافقین ہیں اور غیر مسلم. ہیں, خوب مارا پولیس والوں کو پکڑ پکڑ کر گھسیٹ گھسیٹ کر ڈنڈے مار مار کر رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے حق میں نعرے لگوائے, اور ویڈیوز ایسے بنا بنا کے اپلوڈ لیں جیسے یہ دیکھو کافروں کو. مسلمان کرایا جا رہا ہو.. گورنمنٹ پراہرٹی کو نقصان پہنچایا گیا, آگ انتشار پھیلانے کی سازش کی گئی ملک کا خوب نقصان کیا گیا. ارے بھائی سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اگر آپ دین کی خاطر نکلے ہیں تو ایسے طریقے سے نکلیں کہ دنیا کہے کہ اسلام پر امن مزہب ہے امن اور سلامتی کا مزہب ہے, آپ کے ساتھ کوئی ذیادتی ہوتی ہے تو بھی پر امن رہیں اور سلامتی کے لیے صبر کریں کیونکہ معاملہ دین کا ہے اور دین کو بچانا ہے تو حیسے اللہ کا حکم ہے ویسے ہی چلنا ہو گا تاکہ آپ لوگوں کو بتا سکیں کہ ہمارا دین امن اور سلامتی والا دین ہے ظلم اور جبر والا دین نہیں. اور دوسری بات یہ کہ ملک کی فورسز کے ساتھ ٹکر لینا اچھی بات نہیں پہلے عوام نے پولیس کی درگت بنائی اور ویڈیوز اپلوڈ کیں پھر ریاست نے طاقت دکھائی اور اپنی رٹ قائم کی اور گرفتاریاں کیں اور پولیس نے بھی خوب درگت بنائی. پولیس کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ بدلے میں ویڈیوز بنا کے اپلوڈ کریں یہ پروفیشنلزم نہیں ہے. ایسا کرنے سے لوگ بالخصوص وہ جنکی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ ہوئی ہیں ساری عمر پولیس کی عزت نہیں کریں گے اور پولیس اپنا وقار عوام میں کھو دے گی. پولیس والے جو بھی کرتے مگر ان لوگوں کو بعد میں عزت سے کرسی پر بٹھا کے ان کے بیان سوشل میڈیا پر اپکوڈ کرتے کہ ہم. نے غلطی ہے اور آئندہ ایسا نہ کریں گے. پولیس نے بھی وہی کام. کیا جو لوگوں نے کیا و دونوں میں کوئی فرق باقی نہ رہا. اور یاد رکھیں میں ہھر یہی کہوں گا کہ سسٹم ایسا ہی ہے جس کے تحت پولیس کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے جان بوجھ کے پولیس کی بے عزتی کروائی جاتی ہے. ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پولیس کے پاس اتنی نفری اور وسائل ہوں کہ لوگ سوچ ھی نہ سکیں پنگا لینے کی. جان بوجھ کہ پولیس کی ایسی تربیت بھی نہیں کی جاتی اور نہ ہی ہولیس کو طاقتور بنا کے اپریشن کے لیے بھیجا جاتا ہے. چوہے کو مارنا درکار ہو تو شیر کی طاقت کے ساتھ جانا چاہئے تاکہ وقار اور عزت قائم رہ سکیں. پولیس والے جاتے ہیں لوگوں کی منتیں کرتے ییں اور لوگ جب اسقدر بے بس اور مجبور پولیس والوں کو دیکھتے ہیں تو خوامخواہ بد تمیزی بھی کرتے ہیں اور لڑائی بھی. وسائل اور طاقت دی جائے تو پولیس کی بات لوگ سنیں گے بھی اور سٹیٹ کا نقصان بھی نہیں ہو گا. سسٹم کو بدلنا ہو گا ہولیس کو جدید کرنا ہو گا تب ہی امن و امان کو قائم رکھا جائے گا اور پولیس کی عزت بھی ہو گی. پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے اور نہایت مہربان ہونے کی تاکید بھی کی جائے. پولیس کا کام عوام کو عزت دینا اور تحفظ دینا اور عوام اور سٹیٹ کی رکھوالی کرنا ہے اور یاد رکھیں عوام آپکو خود بخود. عزت دے گی جب آپ جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی ہونگے اور مہربان بھی ہونگے. بقلم بابا کڑوا
سلام پاکستان.
پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں
جگ جگ جئے میرا پیارا وطن
پولیس والے لوگ برے نہیں ہوتے
کرو مہربانی تم اہل. زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر
سب پھڑے جان گے.....
پولیس کی بہتری با آسانی ممکن....
پولیس ملازمین و افسران کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ علاج معالجہ کی سہولیات کا فقدان اور تعلیم و تربیت ہے. آج ہم علاج معالجہ والے مسئلے کے حل پر بات کرتے ہیں. کسی بھی پولیس ملازم کے لیے بیمار ہو جانا بہت عام ہے کیونکہ ذیادہ تر وقت فیلڈ میں گزرتا ہے اور گاڑیوں کا دھواں پولوشن گردوں اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہو جانا کھانسی اور بخار وغیرہ کے امراض میں مبتلا ہو جانا عام ہے. مگر وقت پر علاج کے لیے نہ جانے سے مرض میں اضافہ ا باعث بنتا ہے. علاج معالجہ کے لئے نہ جانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پولیس والوں کے لیے کوئی خاص ہسپتال نہ ہے جہاں صرف پولیس کا علاج معالجہ ہو سکے. اور اگر عام سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے لیے جانا مقصود بھی ہو تو ہسپتال جانے کے لیے مختلف دفاتر کے چکر اور اجازت لینی پڑتی ہے اور اگر اس سارے عمل کے بعد ہسپتال کا ڈاکٹر میڈیکل ریسٹ بھی دے دے تو اسے منظور کرانا بھی مسئلہ ہے ہسپتال سے مریض دفتر جائگا سینئر افسر کے پیش ہو گا اور پھر شاید میڈیکل ریسٹ مل جائے. اس سارے عمل سے بچنے کے لئے پولیس والے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں اور اپنی جیب سے تمام اخراجات برداشت کرتے ہیں اور سارا مہینہ مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے. شاید اسی وجہ سے پولیس والے بلا امتیاز خاص و عام کو ڈیل نہیں کرتے ہیں کسی ڈاکٹر کو favor اس لئیے دے دی جاتی ہے کہ علاج کے لیے جاؤں تو وہ فیس وغیرہ نہیں لے گا.
لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا کہ وہ وقت آنے پرکام آئیں گے پولیس والے صرف اسی لیے کرتے ہیں کہ وقت آنے پر محکمہ کام نہیں آتا ہے.
راقم الحروف چاہتا ہے کہ پولیس ملازمین کو کم. سے کم علاج کی سہولیات مہیا ہو جائیں اس کے لیے تجویز یہ ہےکہ پولیس محکمہ ایک میڈیکل کالج کا قیام کرے اس میں پولیس ملازمین کے بچوں اور بچیوں کو خصوصی رعایت دی جائے جبکہ باقی لوگوں سے جو میڈیکل کا خرچ با آسانی اٹھا سکتے ہوں self finance پر داخلے دیے جائیں. سرکاری اراضی بے تحاشا خالی پڑی ہے جسے اس مقصد کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے، اس طرح محکمہ پولیس کو خاطر خواہ آمدن ہو سکتی ہےاور یہ میڈیکل کالج پولیس ہسپتال کی شکل اختیار کر لے گا. یہ میڈیکل کالج اور ہسپتال اپنی آمدن سے تمام اخراجات پورے کرے گا بلکہ اسی آمدن سے میڈیکل مشینری بھی خریدی جا سکے گی. اور یہاں کے ہی سٹوڈنٹس کو بعد امتحان باوردی آفیسر سکیل میں بھرتی کیا جائے جیسے پولیس میں باقی کافی باوردی شعبہ جات ہیں جیسا کہ موٹر ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن وغیرہ. کوشش کی جائے تو بیت جلد اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ہولیس کے مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں. اور اسی طرح یہ ہسپتال بہت جلد بہت ترقی کرے گا اور نہ صرف محکمہ پولیس کا بھلا ہو سکے گا بلکہ عوام الناس کو بھی سستا اور معیاری علاج معالجہ مل سکے گا. اس طرح سے ثابت ہو گا کہ
" پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی".
محکمانہ یونیفارم کا حصول قصوروار کون؟؟
آج چند پولیس والوں سے ملاقات ہوئی ایک بات جس کا میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ تھی کہ سب کا یونیفارم مختلف تھا مختلف رنگوں میں تھا، نیم پلیٹ کا ڈیزائن بھی الگ تھا اور یونیفارم کا کپڑا بھی سب کا الگ تھا، نیز جوتے بھی مختلف تھے. تھوڑی گفت و شنید کے بعد میں نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے؟ سرکار آپ سب کو ایک جیسا کپڑا اور جوتے وغیرہ کیوں نہیں دیتی؟ سب نے بتایا کہ بھائی یہ سرکاری نہیں ہے یہ تو ہم نے فلاں فلاں دوکان سے لیا خود لیا ہے، سرکاری کپڑا بھی ہر دفعہ مختلف ہوتا ہے اور رنگ بھی مختلف ہوتا ہے اور کوالٹی ایسی ہوتی ہے کہ کپڑے کی قیمت سے ذیادہ ٹیلر کو سلائی دینی پڑتی ہے اگر سرکاری کپڑے کو سلوا بھی لیا جائے تو وہ ذیادہ سے ذیادہ 8 دفعہ دھلائی کے بعد اپنی رنگت کھو دیتا ہے اور قابل استعمال نہ رہتا ہے. تو اس وجہ سے ہم لوگ اپنی آؤٹ لک اور ٹرن آؤٹ اچھی رکھنے کی خاطر اپنی جیب سے کپڑا خرید کے سلائی کراتے ہیں تاکہ وردی پہنی ہوئی اچھی لگے اور محکمہ کی بدنامی نہ ہو. میرا اگلا سوال ان کے لئے غیر متوقع نہیں تھا... میں نے ہوچھا کہ آپ لوگ باہر سے سلائی کیوں کرواتے ہیں سرکاری ٹیلر آپکی وردی نہیں سیتا ہے؟؟ ایک خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ ان میں سے ایک نے کہا کہ سرکاری ٹیلر بھی وردی سینے کے پیسے ڈیمانڈ کرتا ہے وگرنہ وردی ایسی سلائی کی جاتی ہے جسے پہن کہ دل کرتا ہے کہ کپڑے کو آگ لگا دی جائے... تو آپ لوگ اپنے افسران کو اس بارے کیوں نہ آگاہ کرتے ہیں.. میں نے پوچھا. اوہ ہو سر جی تسی تے پچھے ای پہ گے او افسران خود باہر سے کپڑا لیتے اور سلائی کرواتے ہیں.... لے دسو ! او پائی...... اے پولیس پاکستان دا محکمہ اے کینیڈا دی پولس نی اے.... مجھے اندازہ ہو گیا کہ اب یہ لوگ میرے سوالات سے تنگ آ چکے ہیں لہذا میں چپ چاپ شکریہ ادا کر کے آگے چل پڑا.
راقم الحروف اس سلسلہ میں یہ رائے دینا چاہتا ہے کہ سال میں ایک دفعہ ٹیلر کو طلب کیا جائے اور پیٹی نمبر کے حساب سے تمام ملازمان و افسران کا سائز لیا جائے اور وردی سلائی کروائی جائے... آخر کار یہ سرکاری ٹیلر اسی چیز کی تنخواہ لیتے ہیں یا ٹھیکہ لیا جاتا ہے تو اگر ایسا کیا جائے تو تمام سٹاف کی وردی کا کپڑا ایک جیسا ہو گا اور ڈیزائن بھی ایک ہی جیسا ہو گا. اسی طرح جس بھی کمپنی کو جوتوں کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے تو اس کمپنی کو بتایا جائے کہ اتنے جوتے اس نمبر کے اور اتنے جوتے اس نمبر کے وغیرہ وغیرہ اور اس بارے میں باقاعدہ تمام نفری سے ڈیٹا اکھٹا کیا جائے آخر پیسے دے کر جوتے اور کپڑا لیا جاتا ہے تو سب کو ان کے سائز کے مطابق ملنا چاہیے لیکن آج تک ایسا ہوا کیوں نہیں ہے؟؟ یہ کوئی ایسا مشکل کام تو نہیں ہے...
اگر ایک رینک کے فوجیوں کو اکھٹا کھڑا کر کے ان کو وردی پہنا کہ چہرا ڈھانپ دیا جائے تو شاید ماں بھی نہ پہچان سکے کہ ان میں سے اسکا بیٹا کون ہے؟ پولیس میں ایسا کیوں نہیں ہے اس سسٹم کا ذمہ دار کون ہے.؟؟
اور پھر جن لوگوں کو یہ چھوٹی سی سہولت سے بھی محروم رکھا جاتا ہے ان سے آپ امریکہ جیسی پولیس کی طرح کا رزلٹ مانگتے ہیں کہ پولیس جائے وقوعہ پر 5 منٹ میں کیوں نہیں پہنچی. وغیرہ وغیرہ ... حکمران سے گزارش ہیکہ اس محکمے کو یتیم نہ سمجھیں اس کو وسائل دیں تاکہ پرفارمنس نظر آئے. بقلم خود بابا کڑوا.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Rawalpindi
