Waliullahi Democratic Party Pakistan

Waliullahi Democratic Party Pakistan

Share

Waliullahi Democratic Party Pakistan is a revolutionary political party in Pakistan

03/04/2026

امریکی سامراج کا سیاسی نظام۔

24/03/2026
27/01/2026

غزہ امن بورڈ (امریکی سامراجی ہتھکنڈا )
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسماں کیوں ناں ہو
نیشنل سے انٹر یشنل میڈیا تک خبریں گرم ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ ہمارے فیلڈ مارشل جناب حافظ محمد عاصم منیر صاحب پر فریفتہ ہیں۔اس امر کا تعین اگرچہ محال تھا کہ صدر ٹرمپ سیاسی شطرنج کی بساط پر حب علی رضی اللہ عنہ سے سرشار ہیں یا بغض معاویہ رضی اللہ عنہ سے آلودہ چال چل رہے ہیں۔کہ انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی نے امریکی چال کے سامنے سپر ڈال دی اور انڈیا نے روس سے تیل کی خریداری معطل کر دی.ثابت ہوا امریکی چال نشانہ پر بیٹھی۔انڈیا نے روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر انڈین وقار داغدار کر دیا۔
امریکنز محاوروں کو عملی شکل میں ڈھالنے کے فن میں ید طولی رکھتے ہیں۔انڈیا کو سٹک(stick) دکھا کر رام کر دیا اور پاکستان کو کیرٹ(carrot) کا چقمہ دے کر آئینہ میں اتار لیا۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عوام کی اکثریت کا معتدبہ حصہ پھولے نہیں سمایا کہ جب پاکستان کے فیلڈ مارشل صاحب کو وائٹ ہاؤس میں ایک شاندار پر تکلف دعوت سے نوازا گیا۔بیچارا خرگوش گاجر کھا کر مجرم بن گیا۔ابھی تو سابقہ ادوار میں مشرق وسطی میں سامراجی جرائم میں شریک جرم کی کالک بھی نہیں دھل پائی تھی کہ فلسطینیوں کے خلاف امریکی سامراجی مفادات کے تحت حل کیلئے پاکستان ایک مرتبہ پھر گھیر لیا گیا۔
امریکہ کو اس امر کا بڑا قلق تھا کہ اس نے پاکستان پر کنٹرول اور گرفت میں سپیس کیوں دی۔جسے چین نے آگے بڑھ کر پر کر دیا ۔جس نے پاکستان کا قومی سطح پر کردار ہی بدل کر رکھ دیا۔پاکستان ریجنل اقوام کا قابل اعتماد ساتھی بن گیا۔پاکستان کا یہ کردار بھلا امریکیوں کو ٹھنڈے پیٹوں کیسے ہضم ہو سکتا تھا۔
پاکستان کو مشرق وسطی کے سامراجی مفادات میں جا پھنسایا۔اور اس مقصد کیلئے صدر ٹرمپ نے خو شامد پسندی کی انتہاوں کو جا چھوا۔
لیکن ایک بات امریکہ بہادر بھول گیا کہ دنیا مشرق وسطی میں تمہارے خود ساختہ سپرنگ (انقلابات ) سے بہت آگے جا چکی ہے۔تمہارے "Board of peace" کا اہتمام بھی شام میں بشار الاسد حکومت کی تبدیلی اور بعد کے اس کے نتائج سے مختلف کچھ نہ ہوگا۔جس بشار الاسد سے عناد کی بھڑاس نکالنے کی سوا امریکہ کے ہاتھ کچھ بھی تو نہیں آیا۔اس کے باوجود بلا روک ٹوک فلسطین کے خلاف اپنی مرضی کے نتائج کیلئے اگرچہ ایک طرف فلسطینی حکومت(اتھارٹی ) کو بورڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔اور دوسری طرف بڑی ناپ تول کر کے عالم اسلام کے ممالک کو شامل کیا گیا اور خاص طور پر کثیر المقاصد مفادات کے حصول کیلئے پاکستان کو بورڈ میں شامل کرنے کیلئے پہلے سے تیاری شروع کر دی گئی۔لیکن بات بنے گی نہیں۔
درست ہے کہ امریکی چھتری کے نیچے مشرق وسطی میں پاکستان کے کردار کے حامی اسے عملیت پسندی پر محمول ٹھہرائیں گے۔اور ٹرمپ کے فیلڈ مارشل صاحب کیلئے دوستی کے بے لاگ اظہار پر تو
غالب کا یہ مصرعہ ہی صادق آتا ہے کہ
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟
بقلم
سید سیف الاسلام خالد

چئیرمین وین گارڈ کونسل انڈس یونین

منجانب

شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان
منجانب

شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر

09/09/2025

☆جشن ولادت مبارک
☆ہادی عالم کا عظیم معجزہ شاہ ولی اللہ رح کا فکر و فلسفہ اور اس کے تقاضے
ع۔غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتم
ہم نے محمد صلعم کی حمد وثنا رب لم یزل پر چھوڑ دی ہے۔جو تمام جہانوں کا پالن ہار ہے۔اور ہر لحظہ ایک نئی شان سے ظہور پذیر ہے۔اور اللہ جل شانہ کی مذکورہ صفات کے بموجب ابھرنے والے تقاضوں کی انجام دہی آپ صلعم کی ذات اقدس اور اس ضمن میں آپ صلعم کے پیش کردہ نظام(اسلام ) ہی کا اعجاز ہے۔جس کی سٹائش کا حق ادا کرنے سے ہم تو عاجز ہیں۔اور اس کوسر انجام دینا بھی اللہ ہی کو سونپتے ہیں۔کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ظلم،ناانصافی اور استحصال سے بھری ہوئی دنیا کو بدل کر عدل و انصاف اور امن کا گہوارہ بنا دینے کا صلہ کیا ہے۔الوہیت الناس اور ملوکیت الناس کی آلودگیوں سے اٹی ہوئی سرزمین کو اسلام کے انقلاب کے ذریعے پاک کر کے(الحکم للہ) کے علم کو سربلند کر دینے والے محمد صلعم کا مقام کیا ہے؟ غالب بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔کہ
ع۔غالب ثناءخواجہ بہ یزداں گزاشتم
کہ أں ذات پاک مرتبہ دانے محمد است
اور پھر عظیم الشان اعجاز یہ بھی تو ہے کہ اللہ رب العالمین نے آپ صلعم کو رحمہ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا جس کے بموجب آپ کی رحمت رہتی دنیا تک انسانیت میں آنے والے ادوار پر سایہ فگن رہے گی۔جو آپ صلعم کے ان معجزات میں سے ہے۔جس کے پرتو آپ صلعم کے امتیوں کے ہاتھ پر اسلام کے نظام عدل کے انقلابات کی صورت میں ظاہر ہوتے رہیں گے۔جیسا کہ عہد حاضر کے خالص عقلیت کے دور میں شاہ ولی اللہ رح محدث دہلوی کا فلسفہ و فکر منصہ شہود پر آیا۔جس نے دلائل و براہین کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام کی تعلیمات و احکامات کو جلا بخشی اور جس نے کرہ ارض پر پھیلے ہوئے انسانی اجتماعات کے متنوع فلسفوں اور نظریوں کو (خذ ما صفا و دع ما کدر) کے بموجب کھنگال کر مفید اجزاء کو بحق انسانیت تعمیر وترقی کے لیے اپنا حصہ بنایا۔
محمد صلعم کی رحمت کے معجزے کا پرتو شاہ ولی اللہ رح کا فکر و فلسفہ شاہ ولی اللہ رح کے قلب پر کیسے مرتسم ہوا۔اس ضمن میں شاہ صاحب رح کا ارشاد ہے۔
"میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد مراقبہ میں تھا کہ یکایک نبئ اکرم صلعم کی روح مبارک مجھ کو نظر آئی اور ایک بڑا سا کپڑا مجھ پر ڈال دیا گیا۔اور اسی وقت میرے دل میں اس کے یہ معنی معلوم ہوئے کہ یہ دین کو ایک خاص طرز سے بیان کرنے کی طرف اشارہ ہے۔اور اسی وقت سے میرے دل میں ایک ایسا نور معلوم ہوا جو ہر وقت ترقی پذیر تھا۔
اسی کیفیت میں شاہ ولی اللہ رح عازم حرم ہوئے ۔مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا۔کہ شاہ صاحب رح ایک کمرہ میں داخل ہوتے ہیں جہاں امام حسن رضی اللہ اور امام حسین رضی اللہ پہلے سے موجود ہیں۔امام حسن رضی اللہ کے ہاتھ ایک قلم ہے۔جس کی نوک کچھ خراب ہوئ وی ہے۔امام حسن رضی اللہ نے وہ قلم امام حسین رضی اللہ کو دیتے ہیں فرمایا کہ یہ قلم ٹھیک کر کے انہیں(شاہ ولی اللہ رح ) کو دے دیں۔امام حسین رضی اللہ قلم کی نوک ٹھیک کر کے قلم حضرت شاہ ولی اللہ رح کے سپرد کر دیتے ہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ رح نے اس خواب سے یہی تعبیر فرمائی کہ محمد صلعم کی روح کی زیارت اور ان (شاہ ولی. اللہ )پر کپڑا ڈھانپ دینے کے بوصف دین کو جس نئے انداز سے پیش کرنے کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوئی ہے۔اس کی سمت کا تعین آئمہ حسنین رضی اللہ والے خواب میں بتلا دیا گیا ہے۔کہ اب شخصی حکمرانی کا دور جاتا رہا۔حکمرانی سے متعلق فیصلہ کا حق فرد کی بجائے اجتماع کے پاس ہے۔لہذا جب گورنر حجاز نے امام حسین رضی اللہ سے یزید کیلئے بیعت لینا چاہی تو آپ رضی اللہ نے جواب میں فرمایا کہ میرے جیسے فرد کا تنہا علیحدگی میں بیعت کرنا نا مناسب ہے۔کل مسجد نبوی میں سب کو بلائیے وہاں جو سب کا فیصلہ ہوگا۔وہی میرا بھی فیصلہ ہوگا۔
اس خواب کی تعبیر نے ہی شاہ صاحب رح کو اپنی انتہائی معرکہ الآراء تصنیف حجہ اللہ البالغہ کی تحریرکی تحریک بخشی ۔جس کے بموجب عہد حاضر میں انسانیت کی تعمیر ،ترقی و خوشحالی کیلئے وہ معرکہ الآراء فلسفہ و فکر پیش کیا گیا جس کے بوصف معاشرت کو متنوع پہلووں کے اعتبار سے تعمیر کرنے میں اجتماعی دانش بطور روح کے کارفرما رہے گی۔
یہی وجہ ہے کہ مشرق و مغرب میں پیش کئے گئے نظرئیے اور فکر شاہ ولی اللہ رح کے فلسفہ و فکر کی خوشہ چینی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی حقیقت کے بوصف امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رح آج "انقلابات کی ماں" روس کے سوشلسٹ انقلاب کے نظریہ مارکسزم پر شاہ ولی اللہ رح کے فلسفہ و فکر کو حکمران گردانتے ہیں۔
امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی رح کی اسی نشاندہی سے رہنمائی اور انسپائریشن لیتے ہوئے ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان اور کشمیر نے اسلام کی تاریخی روایت (خذ ما صفا ودع ما کدر) ہی کی پیروی میں مارکسزم کو شاہ ولی اللہ رح کے فلسفہ و فکر میں نصب کر لیا ہے۔اور آج ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان و کشمیر کے طول و عرض میں شاہ ولی اللہ رح کے فلسفہ و فکر پر استوار سوشلسٹ انقلاب(الہیات سے سوا جس کے طبیعیاتی پہلو میں مارکسزم جزوا بطور میکنزم نصب ہے ) برپا کرنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔
آج ہم پاکستان اور کشمیر کے عوام اور نوجوانوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ عید میلاد النبی صلعم کا جشن منانے کا تقاضا ہے کہ آپ صلعم کی منشاء کا ( الوہیت الناس اور ملوکیت الناس توڑنے کا) مذکورہ انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کا دست و بازو بنیں۔
کل انسانیت بالخصوص عالم اسلام اور پاکستان و کشمیر کے عوام کو جشن ولادت مبارک ہو۔
بقلم۔
سید سیف الاسلام خالد چئیرمین وین گارڈ کونسل انڈس یونین
منجانب
شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان
منجانب
شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر

17/08/2025

77 واں یوم آزادی مبارک حقیقی آزادی کا تصور اور تقاضے
ریاست کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ
14 اگست کو 77 ویں یوم آزادی پر سیلابوں کی لائی ہوئی تباہ کاریوں، دہشت گردوں کی سفاکانہ کارروائیوں،علماء سوء کی قوم کے اندر پھیلائی گئی منافرتوں،قومی اکائیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بدگمانیوں اور کھچاو،اور روز اول سے سامراجی غلبہ کے زیر اثر سرمایہ دارانہ تسلط کی قوم پر لائی گئی معاشی ظلم و استحصال کے نتیجہ میں پھیلائی گئی بدحالیوں میں گھرے ہونے کے باوجود جوش و خروش اور وطن سے محبت کے مظاہرے دیدنی ہیں اور باور کرواتے ہیں کہ
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
امر واقعہ تو واقعی میں یہی ہے کہ پاکستانی فیڈریشن اور کشمیر کی اقوام واقعتا سخت جان واقع ہوئی ہیں کہ ان گنت چیلنجز اٹھانے اور پے در پے زخم کھانے کے باوجود اپنے روشن مستقبل کی شمع روشن/ فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت پاکستانی عوام کی جماعت مسلم لیگ پر یونینسٹ جاگیر داروں کا قبضہ کرا دیا گیا۔فرنگی سامراج کا پاکستانی عوام کو لگایا گیا چرکہ عوام سہہ گئے۔اور پر امید رہے کہ بانئ پاکستان فرنگی سامراج کے دانت کھٹے ضرور کریں گے۔پاکستانی عوام کی امیدیں بر آئیں اور 11 اگست 1947ء کو قائداعظم نے وحدت انسانیت یعنی بلا امتیاز مذہب تشکیل،معاشی عدل (اسلامی سوشلزم ) جمہوریت اور قومی جمہوریت کی بنیادیں نئی معرض وجود میں آنے والی ریاست کو فراہم کرنے کا فیصلہ دے دیا۔جسے قائداعظم کے عازم آخرت ہونے کے ساتھ ہی اکھاڑ پھینکا گیا۔اور نومولود ریاست کو روس کے سوشلسٹ انقلاب کو نظریاتی پھیلاو سے باز رکھنے کی سامراجی پالیسی کی تزویراتی حکمت عملی میں نصب کر لینے کا اہتمام کیا گیا۔جس کے بموجب اقتدار کے ایوانوں میں فرنگی سامراج کے ذلہ خوار پنجاب کے جاگیر داروں کی مقبوضہ مسلم لیگ کو براجمان کرایا گیا۔چونکہ پارلیمانی ریاست میں اپوزیشن بھی نظام کا ہی ایک ناگزیر حصہ ہوتی ہے۔اس لئے اپوزیشن کے تخت پر مذکورہ سوشلسٹ انقلاب کے خلاف امریکی سامراج کی( آلہ کار درجہ کی)حلیف جماعت اسلامی کو لا بٹھایا گیا۔اور سیکورٹی/دفاع اور انتظامی امور کا سنگھاسن انگریز کی پروردہ فوج اور آلہ کار بیوروکریسی کے سپرد ہوا۔ملکی معیشت پر سرمایہ دارانہ تسلط یقینی بنائے رکھنے کیلئے معیشت کو قرضوں اور امریکن ایڈ کے گورکھ دھندوں میں جکڑا گیا۔اور نگرانی کیلئے انگریزوں کے آلہ کار مذھبی فرقہ کے لوگوں کو مسلط کیا گیا۔
معاشرت میں مذھبی طبقوں کو اہل حق کے مراکز سے کاٹ کر آلہ کار مذھبی جتھے تیار کرنے کا سامان کیا گیا۔جنہیں خطہ میں امریکی سازش کے تحت جہاد افغانستان و جہاد کشمیر کیلئے استعمال کیا گیا۔اور اس طرح پاکستان کو دہشت گردی کے جہنم زار میں دھکیل دیا گیا۔جس سے تاحال پاکستان کیلئے نکلنا محال لگتا ہے۔اس لئے کہ
ع۔میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔
کل تک دنیا بھر میں دہشت گردی کا کارڈ کھیلنے والا امریکہ آج انسداد دہشتگردی کا چمپئن بنا پھرتا ہے۔اور ہمارے حکمران طبقات ہیں کہ کل تک اس کی دہشت گردی کو جہاد کا مقدس نام دے کر اس کے انسانیت کے خلاف جرائم کو آلہ کار بن کر اسی کے شریک جرم رہے اور آج اس نے پینترا بدل کر انسداد دہشتگردی کے نام پر دہشت گردی اپنے دشمن مخالف کیمپ کے ملکوں میں پہنچانے کا سامان کیا تو ہمارے حکمران طبقے پھر انسداد دہشتگردی کیلئے بھی اسی کی چھتری کے نیچے جا کھڑے ہوئے۔
ہمارے حکمران طبقات ہوں یا جن کے منہ کو عوام کے استحصال کا خون لگا ہوا ہے۔سرمایہ دار،کرپٹ جنرلز،اعلی عدالتوں کے بدعنوان ججز،علماء سوء ،ڈبے پیر اور زرد صحافت کے مارے ہوئے میڈیا ہاوسز کے مالکان عوام کے استحصال تک اپنے ہاتھ دراز رکھنے کیلئے امریکی سامراجی چھتری تلے ہی عافیت پاتے ہیں ۔
لیکن شاید کیا یقینا عوام کے وطن عزیز سے محبت کے والہانہ مظاہرے باور کراتے ہیں کہ دست قدرت آج بھی پاکستان اور کشمیر کی اقوام کے روشن مستقبل کا اشارہ دے رہا ہے۔جس کے بموجب مقتدرہ کی موجودہ نمائندہ چند قوتیں سیاست کا قبلہ درست کرنے کے ساتھ ہی امریکی چھتری سے نکل کر ریجنل قوتوں(روس،چین،ایران )کے ساتھ انسداد دہشتگردی اور تجارتی و معاشی محاذ پر بھی اشتراک کیلئے سرگرداں دکھائی دیتی ہیں۔
مذکورہ صورتحال کے تناظر میں جو روڈ میپ انسداد دہشتگردی کیلئے دکھایا گیا ہے۔اس پر امریکی سامراجی اسٹرٹیجی کے علی الرغم ریجنل قوتوں کی چھاپ دکھائی دیتی ہے۔جس کی ایک مثال تو ڈی جی ISPR کی پریس کانفرنس میں کی گئی یہ نشان دہی ہے کہ انسداد دہشتگردی کیلئے ہمیں سر زمین پاکستان سے افغانی باشندوں کو ان کے اپنے ملک افغانستان بھیجنا ہوگا اور دوسرا یہ کہ دینی مدارس کو ماڈرن ایجوکیشن کے ساتھ ایک پیج پر لانا ضروری ہوگا۔یعنی عصری تعلیمی اداروں کی طرح دینی مدارس کو بھی منسٹری آف ایجوکیشن کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوگا۔
مذکورہ بالا رائے میں تمام تر معقولیت کے باوجود مدارس کے بعض مہتمم حضرات اسے اپنے مفادات سے متصادم گردانتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہوئے ضرور دکھائی دیتے ہیں۔لیکن مذکورہ حکومتی روڈ میپ کا عوامی تائید کے حصول کی صورت میں ٹلنا محال ہوگا۔
عوام کی اپنے وطن عزیز پاکستان و کشمیر سے والہانہ محبت کا ایک مظاہرہ،ناانصافیوں کے خلاف عوام کا ردعمل بھی ہے۔جس کے مظاہرے پاکستان کے طول و عرض میں تو اکثر دیکھنے کو ملتے ہی ہیں۔لیکن کشمیری عوام کا 76 سال سے جاری نا انصافیوں کا نوٹس لینا انتہائی خوش آئند ہے۔جس کے بموجب کشمیری عوام نے کشمیری مہاجرین کے نام پر کوٹہ سسٹم اور کشمیر اسمبلی میں پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کی 12 سیٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔جس میں کشمیری عوام یقینا حق بجانب ہیں۔
لیکن اس موقع پر ہم یہ باور کراتے چلیں کہ متذکرہ ناانصافیوں کا سد باب پاکستان ،انڈیا اور کشمیریوں کے درمیان قرار پانے والے مشرف فارمولا کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل میں ہی مضمر ہے۔بصورت دیگر مفوضہ جدوجہد
"کلمہ الحق ارید بہ الباطل" کا مصداق ٹھہرے گی۔
آج 14 اگست کے موقع پر قوم کو 77 ویں یوم آزادی کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کو حقیقی آزادی تب ہی میسر آئے گی جب عوام کی محنت سے کمائی ہوئی دولت سرمایہ داروں،کرپٹ جنرلوں،بدعنوان اعلی عدالتوں کے ججوں،بیوروکریٹس،اور علماء سوء اور ڈبے پیروں اور میڈیا ہاوسز کے زرد صحافت کے مارے ہوئے مالکان کے قبضہ سے نکل کر عوام کی خوشحالی،استحکام اور ترقی کیلئے صرف نہیں ہوگی۔اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے ھم نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ شاہ ولی اللہ رح کے فلسفہ و فکر پر استوار سوشلسٹ انقلاب(الہیات سے سوا جس کے طبیعیاتی پہلو میں مارکسزم جزوا بطور میکنزم نصب ہے ) برپا کریں۔تاکہ عوام سراب کے تعاقب میں بہنے کی بجائے آزادی کے ثمر سے ہمکنار ہو۔
اس مقصد کیلئے ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی کے دست و بازو بنیں۔
پاکستان و کشمیر زندہ باد
یوم آزادی پائندہ باد
بقلم
سید سیف الاسلام خالد
چئیرمین وین گارڈ کونسل انڈس یونین
منجانب۔
شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان
منجانب۔
شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر

Photos from Waliullahi Democratic Party Pakistan's post 23/07/2025

Corner meeting Lahore.

23/07/2025

Corner meeting Lahore

17/06/2025

اسرائیل کا ایران پر حملہ۔
چئیرمین وین گارڈ کونسل انڈس یونین
سید سیف الاسلام خالد زیدی کا تبصرہ
اسرائیل کا ایران پر حملہ مشرق وسطی میں امریکی بالادستی کو درپیش خطرات کے سدباب کی بھونڈی سی کوشش ہے۔جس کا خمیازہ اسرائیل کو بھگتنا ہوگا۔
منجانب۔شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان
منجانب۔شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی کشمیر

17/06/2025

*"ایران-اسرائیل جنگ اور پاکستان کی اہم جغرافیائی مجبوری"*

موجودہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری مختلف ممالک کے درمیان طاقت کی کھینچا تانی میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر ایران پر امریکیوں کی جانب سے مکمل جارحیت اور حملے کا فیصلہ کیا گیا تو تقریباً پوری امریکی جغرافیائی تزویراتی حکمتِ عملی پاکستان کے ردِعمل اور اقدامات پر منحصر ہوگی۔ اسرائیل امریکیوں کی کٹھ پتلی حکومت کے زیرِ انتظام ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں 7 اکتوبر 2023 کی جنگ (جس کا آغاز "حماس کے اسرائیل پر حملے" کے بہانے اسرائیل کی جانب سے فوجی جارحیت سے ہوا) کے فوری بعد پُوتن نے بالکل درست فرمایا تھا کہ امریکہ اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

ماضی میں پاکستان نے سرد جنگ کے دوران امریکیوں کی حمایت کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں سنگین غلطیاں کیں۔ پورے خطے کو نقصان اٹھانا پڑا اور پاکستان پورے جنوب ایشیائی خطے میں ایک قابلِ نفرت اور ناقابلِ اعتبار ریاست بن کر رہ گیا۔ نتیجتاً، جب پاکستان نے خطے کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا ہی گھر جلا لیا, جس سے فرقہ واریت، دہشت گردی، انتہا پسندی اور تمام برائیاں پاکستانی معاشرے میں اس قدر سرایت کر گئیں کہ اسے بحیثیتِ خود مختار ملک تقریباً پارہ پارہ کر کے رکھ دیا۔

امید ہے پاکستان اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے گا اور امریکیوں کی طرف سے اس بار لگائی گئی چارہ گری سے بچے گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان بالآخر سامراجی قوتوں کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔

پریس و پبلیکیشن،
ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی، پاکستان

Photos from Waliullahi Democratic Party Pakistan's post 10/06/2025

تاریخ: 9 جون 2025 عید الاضحیٰ کے موقع پر
*مقام:* لاہور

شرکاء:
- محمد اسلوب قریشی صاحب: سابق صدر، تنظیم فکر ولی اللہی و جمیعت طلبئہ اسلام
- *محمد اعظم اکرام صاحب:* چیف آرگنائزر، ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان
- *ولید احمد صدیقی صاحب:* صدر/کنوینئر (لاہور ڈویژن)
- عاطف قریشی صاحب: (بیٹے محمد اسلوب قریشی)

---
چیف آرگنائزر ولی اللہی ڈیموکریٹک پارٹی پاکستان محمد اعظم اکرام صاحب مع صدر/کنوینئر لاہور ڈویژن ولید احمد صدیقی صاحب کو عید الاضحی کے موقع پر محمد اسلوب قریشی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میٹنگ میں قریشی صاحب کے بیٹے محترم عاطف قریشی صاحب بھی شریک تھے۔ جناب اسلوب قریشی صاحب نے نہایت شفقت اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں نوجوانوں کو ساتھ ملانے کے لئے شعور کی دعوت پر متوجہ رہنے کا اظہار فرمایا۔ اور اکابرین - شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر ولی اللہی لیڈران رحمہ اللہ علیہم (امام شاہ ولی اللہ کی جماعت کے لوگ) کے فکر و عمل سے جڑے رہنے کی اہمیت پر گفتگو فرمائی۔

منجانب: شعبہ پریس اینڈ پبلیکیشن۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Rawalpindi
46000