Shosheet Khan

Shosheet Khan

Share

میرے وطن کی مٹی پر میرا سب کچھ قربان اور ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرنا ،کرپشن فری پاکستان میرا مشن

22/04/2025

سب سے پہلے أڈیو بازمحمد کو چلاٸیں۔۔۔
بنوں ڈی ایچ او أفس میں ھونیوالی چوری اور سرکاری میڈیسن کی ڈکیتی غریب عوام کے ایک أیسے حق کو زمین بوس کیا گیا ھے جس سے أگے غریب صرف موت کا مستقبل انتظار کررھا ھے۔۔
اس سارے کھیل کو بہت عرصے سے کھیلا جارھا تھا اور جسکا سارا پلانٹڈ گیم بازمخمد (Statistical Assistant) سکیل سولہ کاملازم ھے جو کٸ سال سے درانی خاندان کی چاپلوسی کیلیٸے سعداللہ خان اور أکرم درانی کے چوکٹ پر بیٹھ کرڈسٹرکٹ فارمیسی سٹور کی چابیوں کی منت سماجت کررھا تھا۔۔۔۔مگر وھاں اس کا کام نہ چل سکا کیونکہ ٹیکنیکلی یہ ناممکن تھا۔۔۔بازمخمد پہلے بھی بدعنوانی کے ألزام میں ایک نجی بنک بنک ألفلاح سے فراڈ و دھوکہ دھی کے الزام میں سزا یافتہ ھوکرنکال باھر کیا گیا ھے اور أج بھی بلیک لسٹ ھیں۔۔۔پھر صمدعلیشاہ جو أپنی کنجر ذھنیت اور خرکتوں کی وجہ سے ڈی ایچ کیو ھسپتال بنوں سے جبری طور پر نکال دیا گیا اور یہاں کمال مہارت سے ایک لیڈی ھیلتھ سپرواٸزر کے مقابل شہاب علیشاہ کے چہیتے ھونے کی بدولت ایڈجسٹ کیا گیا ھے۔۔ثبوت کے طورپر اسکی پے سلپ پوسٹ ھذا کے ساتھ بطور ثبوت نتھی کیا جارھی ھے۔۔۔اوریوں اس قاٸداعظم کے بناۓ ھوۓ ھیجڑے پاکستان کے اعلی بیوروکریسی کے سامنے عورت کی سیٹ پر صمدعلیشاہ تنخواہ لے رھا ھے۔۔لہذا میڈیکل چیک اپ کرکے یہ کنفرم کرنا لازمی ھے کہ کیا ایک مرد ایک خاتون لیڈی ھیلتھ سپرواٸزر کی سیٹ پر اکر تنخواہ لے سکتا ھے یا پھر کوٸ اور وجہ ھوسکتی ھے جبکہ دوسری طرف صمدعلیشاہ کی پوسٹ
Lady Health Supervisor seats are dying Cader.
ھیں ۔۔۔
درمیان میں ایک چوکیدار جسکا نام انیس بتایا جارھا ھے کو یہ ڈیوٹی سونپ دی گٸ تھی کہ جس دن اپکی ڈیوٹی ھوگی پھر اس دن واردات و چوری و ڈکیتی کی جاٸیگی۔۔اس ضمن میں ڈسٹرکٹ ھیلتھ افس کے ویٸیر ھاوس کے پیچھلے خصے کو کھول کر کٸ سال سے یہ گھناونا کھیل کھیلا جارھا تھا۔۔۔ لہذا جس بندے پر دواٸیاں فروخت کی گٸٸیں تھیں اسکے ساتھ بازمخمد کی أڈیوز و بات چیت سے اندازہ لگاٸیں کہ کتنی بار یہ کھیل کھیلا گیا ھوگا اور یوں کروڑوں کا نقصان اس ماسٹر ماٸنڈ نے انجام دیا ھوگا۔۔
مزید معلومات پانچ جھ جگہوں سے ارھی ھیں،لہذا فی الحال انہی کو انجواۓ کرکے اعلی اور جدید قسم کی گالیوں کو متعارف کرنے کی کوشش جاری رکھنے میں تیز کی جاٸے۔۔

Photos from Shosheet Khan's post 26/02/2025

بنوں کی سرزمین کے ساتھ غیور عوام لکھنا اب گالی بن چکی ھے۔۔کیونکہ ھمارے رھنما ایک نمبر بیغیرت بن چکے ھیں اور أستین کے سانپ بن چکے ھیں۔
ظہیرایس ایچ او سمیت انجمن تاجران بمعہ تمام پارٹیوں کے لیڈران نے جو بیغیرتی دکھاٸ ھے وہ سنہری الفاظ میں لکھی جاٸیگی۔
جن ھیروز نے جان کی بازی لگاٸ اور قوم کو بیدار کیا اسکے درمیان قریشی ایس ایچ او کے بھاٸ سمیت تمام پارٹیوں کے کتے لگادیٸے۔۔علی امین گنڈاپور سے لیکر ایم پی اے اور میٸرز نے اس سے اچھا ھوتا کہ ھیرامنڈی کی بھڑواتیب کرتے ، نا کہ بنوں کے عوام کیلیٸے امن پاسون کے ھیروز کو غدار ٹہراتے۔۔
عوام کو جمیعت سمیت پی ٹی اٸ اور اے این پی کے لیڈروں نے استعمال کرکے ٹشوپیپر کی طرح استعمال کرلیا۔
سب اسٹبلشمنٹ کے ٹاوٹ بن گۓ اور اج پی ٹی اٸ کی خکومت کے اندر ان بنوں پاسون کے ھیروز کے ساتھ زیادتیاں ھورھی ھیں۔۔کل کو کس منہ کے ساتھ پنجاب کی پولیس کی زیادتیوں کا ذکر کروگے۔۔۔
باقی بات ظہیر ڈم ڈت کی جو ھورھی ھے۔۔وہ اسی طرح استعمال ھورھا ھے جسطرح طاھر داوڑ استعمال ھوا اور پھر بعد میں کتے کی موت مارا گیا۔
اپکی زیادتیاں اپکے خاندان کے افراد سے لی جاٸینگی۔۔ اپکا باپ اور بھاٸ سمیت کسی بھی وقت کسی کا شکار ھوسکتا ھے۔۔۔لہذا اپنے عادات بدلو ورنہ ایک دن اپکے پاس واپسی کے سارے راستے بند ھوجاٸینگے۔۔۔

12/02/2023

اس نگران کرپٹ خکومت اور دو مہینوں کے اندر اندر درانی مافیہ کیلیئے الیکشن کمپین کو کامیابی سے ھمکنار کرنے کیلیئے یہ گنڑکپ اور میرغوثتین کو لایا گیا ھے۔۔۔ ایک نہایت بیشرم اور پی ٹی آئ کو دن میں تارے دکھانے والا میرغوثی کو تعینات کردیا گیا ھے۔۔
پی ٹی آئ والوں کو ایڈوانس میں شکست مبارک ھو۔اب آپکے ووٹ کمپلیکس میں گنے جائینگے۔۔ درانی کی سیاسی چھالوں کو پی ٹی آئ والے دس سال بعد بھی سمجھ نہیں پائینگے۔۔۔
ضلع شمالی وزیرستان میں اس سفید ریش بزرگ نے 37 کروڑ روپے ھڑپ کیے ،، یہ 37 کروڑ روپے انکوائری آفسیرز نے اس پر ثابت کیے تھے ،اور حکومت وقت نے ایک روپے کا ریکوری بھی نہیں کیا بلکہ صرف سکول بھیج دیا ،بقول انکوائری آفیسر X Principal GHS BAZAr Ahmad khan Banu BPS 20,,,,,,بھرحال اب یہ سفید ریش بزرگ اب بنوں والوں کو مبارک ہو

Photos from Shosheet Khan's post 01/06/2022

انورعلی اکاونٹنٹ۔۔۔آڈیٹ افیسر دلاور خان اور ٹی ایم او یوسف خان بمعہ صفدر اور خورشید دالالوں کے کالے کرتوت۔۔۔نزیراللہ آعوان سیزن ٹو کے پیروکار۔۔۔۔۔۔۔
ٹی ایم اے ڈومیل میں کرپشن کی نئ داستانیں۔۔ اور نت نئے میرغوثیوں کی بھرمار۔۔۔
Dawnloading...............................................

14/03/2022

یوں تو خرامخوری کو سب مسلمان بدتر سمجھتے ھیں مگر جب خرامخوری کھانے کا موقع جب اپنے اپ پر اتا ھے تو صرف ایک فیصد لوگ ھی اسکو واقعی برا اور بہت بڑا گناہ سمھتے ھیں۔میں نے اکثر واپڈا سمیت اینٹی کرپشن و پولیس اور ٹی ایم اے ڈیپارٹمنٹس میں ایسے افیسرز و دیگر اھلکاروں کو دیکھا ھے جس نے ابھی ابھی رشوت لی ھوتی ھے اور پھر ایک دم سے نماز باجماعت کیلیئے کھڑے ھوکر کہہ دیتے ھیں کہ۔۔"پیلا وے دا خدائ ورتہ یود کو بیا وے نیرا اللہ خیر ووکو۔"
مطلب کہ اسکو اللہ صرف ٹوٹل پورا کرنے اور داڑھی کے ذریعے معصوم لوگوں کو گمراہ کرنے کیلیئے ایک ناٹک کے طور پر استعمال کرتے ھیں۔
تو جناب یہ ویڈیو دلاور خان سابقہ ٹی ایم اے بنوں آڈٹ افیسر اور موجودہ لکی مروت پروفیشنل اور لامتناھی بیغیرت و خرامخور کی ھے۔۔۔جس کسی اھلکار نے یہ ویڈیو بنائ ھے اسوقت یہ امیر سعدالتین بنوں میں تھا اور انتہائ مجبوری کی خالت میں یہ ویڈیو بنائ گئ ھے۔۔۔اس ویڈیو میں دلاور خان اڈٹ افیسر ٹی ایم اے بنوں کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ھے جو غریب کلاس فور ملازمین سے ھر مہینے دو تین ھزار روپے ایسے وصول کررھا ھے جیسے اسکے باپ نے ٹی ایم اے ڈیپارٹمنٹ کی تشکیل ھو۔۔۔ اسکی شکل و صورت دیکھ کر ایسے لگتا ھے کہ اس ھڈ خرام نے کھبی غلطی سے بھی کسی کا دل دکھایا ھو۔۔
اس امریش پوری جیسی خرکتوں والے اڈٹ افیسر کا تبادلہ اب چونکہ ھوچکا ھے مگر یہ خرامخور اپنی خرکتوں سے اسوقت تک باز نہیں آۓ گا جب تک کہ اسکے پھچواڑے میں ڈانڈا رسید نہ کیا جاۓ اور یا پھر اللہ تعالی کی طرف سے موت کا فرشتہ اکر اسکو غارت نہ کرے۔۔۔لہذا اس بھڑوے اڈٹ افیسر کے خلاف انکوائری کمیٹی ڈپٹی کمشنر کے زیرنگرانی بناکر جو مال اور پیسہ اھلکاروں سے بٹورا ھے وہ اسطرح یکمشت واپس غریب ملازمین کو دلایا جائے جیسا کہ ان لوگوں نے کمیٹی ڈالی ھو۔۔
لہذا یہ تحریر لکھدی تاکہ سند رھے اور بوقت ضرورت جملہ آفسران کے ضمیروں کو جگانے کے کام آوے۔۔۔۔

Photos from Shosheet Khan's post 12/01/2022

باقی بیان تو گل خآن بھائ نے کردیا ہے۔۔بس اتنا اضافہ کردوں کہ سردراز کی ابتدائ پروموشن اسکے سروس ریکارڈ میں رکھی گئ بوگس تجربے کے سرٹیفیکیٹس ہیں۔وہ جس ادارے نے ایشو کیئے ہیں وہ خود غیر رجسٹرڈ تھے اسوقت تک۔۔۔جبکہ جو تجربے کے سرٹیفیکیٹس اسکو ملے ہیں اسوقت موصوف ارمی پبلک سکول میں ایک جونیئر ٹیچر کے طور پر کام کر رھے تھے جبکہ جس پرائیویٹ ادارے سے اس کو سرٹیفیکیٹس ملے ھیں اس ادارے کی خود کی عمر تجربے کے سرٹیفیکٹس سے کم ھے۔۔۔
موصوف کو جب پہلی بار خاجی سعداللہ خان سے بھرتی کرنے کیلیئے ملوایا جارھا تھا تو چونکہ سردراز کو Viberation کی دائمی اور قائمی بیماری ھے تو خاجی سعداللہ خان کو غلط فہمی ھوگئ اور وہ اسکو فالج زدہ مریض سمجھنے لگا اور اسکو دعائیں دینے لگا کہ اللہ اسکو صحتیاب کرے۔۔۔۔باقی بیان درج ذیل سطور میں بیان کیئے جاتے ھیں۔۔۔
🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕🐕
بنوں یونیورسٹی میں کرپشن کے ثبوت آگئے ۔۔۔۔۔ پوسٹ ھذا کیساتھ بمعہ ماہر کرپشنیات سردراز کی تصویر منسلک ہیں۔

اب دیکھتے جا اور سوچتے جا کہ اس کرپٹ کردغلوگان کا کیا بنے گا۔
_____________________________

ڈاکٹر سردراز خان اس یونیورسٹی میں ایک ٹی بی مریض کی حیثیت سے ایک بااثر سیاسی شخصیت کے حکم اور پروفیسر ڈاکٹر عصمت اللہ خان کی مہربانیوں سے انتہائی کمزور تعلیمی ریکارڈ کیساتھ گریڈ 16 میں بھرتی ہوا۔

اس کردوغلو کا کردار بھی کسی شیخ چلی سے کم نہیں۔

حالیہ سلیکشن بورڈ نمبر 13 میں اس نے بحثیت رجسٹرار اپنے اختیارات کا انتہائی ناجائز استعمال کیا۔

اس آمیرسعدالتین کاپی پیسٹ ڈاکٹر سردراز نے سکروٹنی کمیٹی کے نتائج چور دروازے سے یکسر تبدیل کرکے خود کو نااہل سے اہل بنایا۔

یونیورسٹی کا قانون یہ ہے کہ ایک دفعہ سکروٹنی ہوجائے تو دوبارہ سکروٹنی نہیں ہوسکتی۔

اس سکروٹنی میں اگر کوئی نااہل قرار پائے تو اس کی دوبارہ سکروٹنی نہیں بلکہ اس کے درخواست پر اپیلیٹ کمیٹی بنائی جاتی ہے تاکہ چیک کرلیں کہ اگر سکروٹنی کمیٹی میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو اس کو ٹھیک کر لے۔

اپیلیٹ کمیٹی Appellate Committee کے پاس یہ پاورز نہیں ہیں کہ کسی کو کم تجربے یا زیادہ عمر میں رعایت دے دیں۔

ان تمام قوانین کو توڑ کر کاپی پیسٹ کردوغلو ڈاکٹر سردراز نے بحثیت قائم مقام رجسٹرار اپنے لیے سکروٹنی کے نتائج میں ردوبدل کرکے حقائق کے برعکس اپنے آپ کو
Additional Director Academics
کیلئے اہل کردیا۔

اور جو اہل تھے ان کو نااہل کردیا۔

سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کل 6 لوگوں نے Additional Director Academics کیلئے درخواستیں جمع کی تھی۔

ان 6 امیدواران میں عبدالباسط خان سیریل نمبر 1 پر انتہائی اہل اور موزوں امیدوار تھا۔

اس کردوغلو بلوجہ میڈ ان ملائشین کاپی پیسٹ ڈاکٹر سردراز خان نے غیر قانونی طریقے سے عبدالباسط خان وغیرہ کو Call Letters Issue نہیں کیئے جبکہ خود سلیکشن بورڈ میں غیر قانونی طریقے سے حاضر ہوکر خود کو غیر قانونی طریقے سے BPS 18 سے BPS 19 میں کردیا۔

اس کردوغلو بلاوجہ میڈ ان ملائیشین کاپی پیسٹ ڈاکٹر سردراز نے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کیلئے یونیورسٹی کے دیگر نااہل افسران کو بھی اہل قرار دیکر ان کی بھی اگلے گریڈز میں غلط پوسٹوں پر ترقیاں کرلی۔

یونیورسٹی کے کچھ پروفیسرز کیمطابق حالیہ سلیکشن بورڈ نمبر 13 میں یونیورسٹی چند افسران کو غیر قانونی ترقی دینے اور ان کی غلط پوسٹوں پر تعنیاتی سے یونیورسٹی کا بیڑا غرق ہو جائیگا اور اس سے نظم و ضبط کے سنگین مسائل جنم لینگے۔ کیونکہ ان افسران کے پاس ان پوزیشنز کو چلانے کیلئے متعلقہ تجربہ نہیں اور سب کے سب انتہائی غیر موزوں اور نااہل افسران ہیں۔

کردغلو سردراز نے خود کو بچانے کیلئے تاکہ یونیورسٹی کے دیگر افسران اس کی اگلے گریڈ میں غیر قانونی ترقی پر اعتراض نہ کرے اس کردغلو سردراز نے رجسٹرار کی حثیت سے اپنے دیگر نااہل اور غیر موزوں ساتھی افسران کی بھی اگلے گریڈز میں غلط پوسٹوں پر غیر قانونی ترقیاں کروادی۔

بلاوجہ میڈ ان ملائشین کاپی پیسٹ ڈاکٹر سردراز کردغلو اور اس کے ساتھ تمام دیگر یونیورسٹی افسران کو سکروٹنی کمیٹی نے عمر کے لحاظ سے overage اور ناکافی اور غیر متعلقہ تجربوں کے لحاظ سے نااہل قرار دیا تھا لہذا ان سب کی ترقیاں منسوخ ہونی چاہئے۔

یہ کردغلو امیر سعدالتین جناب سردراز کروڑوں روپے مالی بے ضابگیوں میں بھی ملوث رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید انکشافات اگلی کلاسوں میں بیان کیئے جائینگے۔ابھی فی الحال اسی پر گزارہ کیا جاوے۔۔۔۔۔۔

لہذا اعلی حکام سے گذارش ھے کہ اس کرپٹ اور نااہل کردوغلو امیر سعدالتین بلاوجہ ڈاکٹر سردراز کے خلاف زبردست قانونی ایکشن لیکر اس کو فوراً نوکری سے فارغ کرے تاکہ بنوں یونیورسٹی مزید تباہ کاریوں سے بچ جائے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Rawalpindi