06/05/2023
Press Conference of JKLF at Central Information Office. Dated: 06-05-2023
JKLF write to G-20 Member Countries.
Apprises them about the Indian hidden designs in holding this meeting in a disputed State.
Letter contains a detailed account of the freedom movement and the current situation of the State.
Appeals G-20 to play their role in the resolution of issue and impress upon both, India and Pakistan, to recognize the right of the people of the State to freedom.
JKLF appeals people to remain detached from the conference being hosted by India in Kashmir.
Muhammad Rafiq Dar, the chief spokesman of the Jammu Kashmir Liberation Front (JKLF) and the special representative of the incarcerated party chairman Muhammad Yasin Malik, has sent a detailed letter to the heads of G20 member states that expressed people’s concern over Indian hidden anti State agenda in hosting their officials meeting on May 22 and 23 in disputed State of Jammu Kashmir.
The leaders of JKLF today during a press conference at party’s Central Information Office released the letter addressed to the heads of G20 member countries to the media. Besides Muhammad Rafiq Dar the party vice chairman Saleem Haroon, central dy. secretary general Javed Hanif, AJK-GB Zonal President Sajid Siddiqi, central dy. chief organizer Sardar M. Anwar Khan and JKSLF Chairman Ubaid Shabir along with other office bearers were present in the conference.
Speaking to media persons Muhammad Rafiq Dar said that in connection with the preparations for this meeting in Occupied Kashmir while turning it in to the military zone India has made the lives of the local people miserable who are already under duress for the last several decades facing the wrath of almost a million Indian military personnel deployed in such a small place. India, under the garb of security arrangements for the conference, has started a new spree of arrests and extra judicial killing of Kashmiri youth besides harassment of common people in Kashmir, he added. He said that India, by holding this conference in the disputed region, is trying to achieve its own hidden objectives by misleading the international community. Rafiq Dar said that there is a national resolve among the people of the State that our freedom movement based on justice, and backed by unparalleled sacrifices will continue till the objective of freedom is achieved.
Expressing their displeasure against India over hosting this conference in disputed State JKLF has appealed people in Indian occupied Jammu Kashmir to observe complete strike on 22nd and 23rd of May and the people in AJK-GB to hold protests. The JKLF leaders Saleem Haroon, Javed Hanif and Sajid Siddiqi also spoke on the occasion.
While responding to a question the JKLF spokesman expressed its party’s concern over the reports about 15th Amendment being brought in AJK assembly that completely is against the spirit of democracy and people’s rights. Speaking against the proposed bill, JKLF appealed the legislative assembly members of AJK to stay away from such anti-Kashmir and ant-Kashmiri bill as it limits the rights of your own assembly and is against your national identity. Rafiq Dar said that people from across the ceasefire line at this critical juncture of the freedom movement cannot afford any such misadventure that instigates the State residents to rise against their own representatives. On this occasion he appealed the parliamentary as well as non-parliamentary political parties including the civil society members especially the youth of AJK and GB to rise above their politics and play their role in saving their national interests.
ء۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (بمقام سنٹرل انفارمیشن آفس)2023 مئی 06 پریس کانفرنس مورخہ
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا جی ۲۰ رکن ممالک کے سربراہان کے نام مراسلہ۔
متنازع ریاست کی حدود میں جی ۲۰ کے متعلقہ حکام کے اجلاس کے انعقاد میں بھارت کے درپردہ مکروہ عزائم سے آگاہی۔ مراسلے میں ریاست جموں کشمیر کی قومی تحریک آزادی اور مجموعی صورتحال کا تفصیلی ذکر۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے تئیں جی ۲۰ رکن ممالک کو کردار ادا کرنے اور بھارت و پاکستان کو ریاستی عوام کے حق آزادی کو تسلیم کرنے پر زور دینے کی اپیل۔
لبریشن فرنٹ نے عوام سے بھارت کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس سے لاتعلقی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان اور بھارتی تہاڑ جیل میں محبوس پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک کے نمائندہ خصوصی محمد رفیق ڈار نے جی ۲۰ رکن ممالک کے سربراہان کے نام ایک تفصیلی مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے رواں سال ۹ اور ۱۰ ستمبر کو بھارت میں جی ۲۰ کے متوقع اجلاس سے قبل بھارت کی میزبانی میں متنازع ریاست جموں کشمیر میں ۲۲ اور ۲۳ مئی کو گروپ کے متعلقہ حکام کے اجلاس کے انعقاد پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے درپردہ عزائم سے انہیں آگاہ کیا۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماوں نے آج پارٹی کے سنٹرل انفارمیشن آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جی ۲۰ رکن ممالک کے سربراہان کے نام بھیجے گئے خط کو میڈیا کے لئے جاری کیا۔ پریس کانفرنس میں محمد رفیق ڈار کے علاوہ پارٹی کے وائس چیئرمین سلیم ہارون، مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل جاوید حنیف، آزاد کشمیر گلگت بلتستان زون کے صدر ساجد صدیقی، مرکزی ڈپٹی چیف آرگنائزر سردار محمد انور خان اور سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے چیئرمین عبید شبیر کے علاوہ دیگر ذمہ داران شامل تھے۔ محمد رفیق ڈار نے مراسلے میں درج تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سوا جی ۲۰ کے جملہ رکن ممالک کے علاوہ اجلاس میں بحیثیت مہمان شرکت کرنے والے چند ممالک کو بھی یہ مراسلہ روانہ کردیا گیا ہے۔ جن میں چین، امریکہ، روس، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، یورپی یونین، کینڈا، آسٹریلیا، جنوبی کوریا، ارجنٹائنا، برازیل، اٹلی، انڈونیشیا، جنوبی افریکہ اور میکسیکو جبکہ مہمان شرکاء میں بنگلہ دیش، اسپین، مصر، ہولینڈ، نائجیریا، اومان، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
محمد رفیق ڈار نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اس اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں علاقعے کو ملٹری زون میں تبدیل کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کردیا ہے۔سکیورٹی کے نام پر بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں کشمیر میں قتل و غارتگری اور گرفتاریوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جبکہ عام لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت متازع علاقعے میں اس کانفرنس کے انعقاد سے بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرتے ہوئے اپنے مزموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رفیق ڈار نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک حق و انصاف پر مبنی ہے جس کے حصول کے لئے ریاستی عوام نے ابھی بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور یہ کہ اس پر قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ مقاصد کے حصول تک کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد رفیق ڈار نے کہا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کشمیری عوام سے سرینگر میں بھارت کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس جی ۲۰ اجلاس سے اپنی لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے اس رویہ کے خلاف ۲۲ اور ۲۳ مئی کو دو روزہ ہڑتال جبکہ آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کرتا ہے۔اس موقع پر لبریشن فرنٹ کے قائدین سلیم ہارون، جاوید حنیف اور ساجد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ایک سوال کے جواب میں رفقی ڈار نے کہا آزاد جموں کشمیر میں ایک بار پھر ۱۵ ویں آئینی ترمیمی بل اور اس سے متعلقہ مسودے کی باز گشت شروع ہے جو عوام کے لئے باعث تشویش ہے۔ مجوزہ ترمیمی بل کی سخت مخالفت میں پارٹی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے آزاد جموں کشمیر کے جملہ اسمبلی ممبران سے ایسی حرکت سے باز رہنے کی تلقین کی جس سے آپ ہی کی اسمبلی کی بے توقیری ہورہی ہو اور آپ کے قومی تشخص پر آنچ آرہی ہو۔ اس ضمن میں انہوں کہا کہ تحریک آزادی کے اس نازک ترین مرحلے پر سیزفائرلائن کے دونوں اطراف ریاست جموں کشمیر کی عوام اس فیصلے کی متحمل نہیں ہوسکتے جبکہ کشمیریوں کی قومی شناخت کو ختم کرنے کے منصوبے عملائے جانے پر مزاحمت کو طاقت کے بل بوتے پر زیر کرنے کی کوششیں جاری ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسے کشمیر و کشمیری کُش اقدام سے تعبیر کیا جائے گا۔ لبریشن فرنٹ کے قائدین نے آزاد جموں کشمیر و گلگت بلتستان کی پارلیمانی و غیر پارلیمانی جماعتوں کے رہنماوں اور سول سوسائیٹی سے وابسہ افراد سے بالخصوص کشمیری نوجوان طبقے سے اس موقع پر ریاستی تشخص اور اپنی قومی پہچان کو بچانے میں اپنا مثبت اور بھر پور کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ اس موقع پر سلیم ہارون، جاوید حنیف اور ساجد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
