03/06/2026
EID AL-GHADIR
THIS DAY HAVE I PERFECTED YOUR RELIGION FOR YOU, COMPLETED MY FAVOUR UPON YOU, AND HAVE CHOSEN FOR YOU ISLAM AS YOUR RELIGION.
(QUR'AN, 5:3)
This Iran Culture House is as a Cultural Organization affiliated with Cultural and Relations organization, Islamic Republic of Iran...
During 1960 (1339, Shamsi), When capital of Pakistan was transferred from Karachi to the Islamabad, Cultural Center of Iran's embassy also had been transferred to the Rawalpindi. Since then, the activities of the Cultural Center of Islamic Republic of Iran - Rawalpindi are continue. The building of this Culture House of the Islamic Republic of Iran is located in 46-A, Iran Road, Satellite Town,
03/06/2026
EID AL-GHADIR
THIS DAY HAVE I PERFECTED YOUR RELIGION FOR YOU, COMPLETED MY FAVOUR UPON YOU, AND HAVE CHOSEN FOR YOU ISLAM AS YOUR RELIGION.
(QUR'AN, 5:3)
03/06/2026
💐غدیر میں سب سے اہم واجبات میں سے ایک پر عمل ہوا
🔸غدیر کے موقع پر رسول اسلام نے فرمان الہی کی پیروی کرتے ہوئے سب سے اہم واجبات میں سے ایک کو جامہ عمل پہنایا۔
رھبر شہید سید علی خامنہ ای
7 مئی 1996
#ایران #عید
"اَلْحَمْدُلِلہ الَّذِیْ جَعَلَنَا مِنَ الْمُتَمَسِّکِیْنَ بِوِلَایَةِ عَلِي ابْنِ اَبِيْطَالِبْ عَلَيْهِ السَّلَام"۔
"حمد ہے اُس اللّٰہ کی جس نے ہمیں ولایتِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام سے متمسّک قرار دیا"۔
عیدِ غدیر مبارک
03/06/2026
💐 واقعہ غدیر نعمت اور احسان
▪️ یہ حقیقت ہے کہ واقعہ غدیر اور حضرت علی علیہ السلام کو ولی امر امت اسلامی اور جانشین پیغمبر کے طور پر پیش کیا جانا اسی طرح اللہ کی نعمت اور احسان ہے جیسے خود نبوت و رسالت اللہ کی بڑی نعمت اور بڑا احسان ہے
رھبر شہید سید علی خامنہ ای
29 اگست 2018
03/06/2026
امام خمینی صحیح معنی میں بڑے فولادی ارادے اور پختہ عزم والے انسان تھے۔
ایسے انسان تھے جو اپنی راہ کی حقانیت پر سو فیصدی یقین و اعتقاد رکھتا ہو۔ جیسا کہ قرآن میں پیغمبر کے بارے میں آیا ہے: «امن الرسول بما انزل الیه من ربّه»(بقرہ 285)۔ سچے اور صاف گو انسان تھے۔ سیاست بازی سے دور تھے۔ بڑے با ہوش اور دور اندیش انسان تھے۔
رھبر شہید سید علی خامنہ ای،
۲ فروری ۱۹۹۹
رھبر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی امام خمینی (رض) کی زندگی کے آخری ایام کی یادیں۔
رہبر معظم انقلاب: امام اپنے آخری لمحات تک ذکر، دعا اور عبادات کو ترک نہیں کیا اور مسلسل خدا کا ذکر کرتے رہے۔
03/06/2026
تاریخِ اسلام کے بعض واقعات محض گزرے ہوئے زمانوں کی یادگار نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے فکری، دینی اور تہذیبی شعور کا زندہ اور تابندہ سرمایہ ہیں۔ واقعۂ غدیر بھی انہی عظیم اور تاریخ ساز واقعات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ مبارک اور غیر معمولی لمحہ تھا جب خاتم النبیین، سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیرِ خم کے مقام پر ہزاروں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب فرمایا اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنی ولایت و فضیلت کے اظہار کے ساتھ امتِ مسلمہ میں ایک بلند و نمایاں مقام کی طرف متوجہ فرمایا، نیز امت کو ایسی جامع اور بلیغ ہدایات سے نوازا جو دین کے بنیادی اصولوں اور امت کی فکری و عملی رہنمائی کے متعدد پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
اسی تاریخی اور عظیم اجتماع میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا دستِ مبارک بلند فرمایا اور ارشاد فرمایا:« من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ»، جو تاریخِ اسلام میں حدیثِ غدیر کے نام سے معروف ہے۔ حدیثِ غدیر ان روایات میں سے ہے جنہیں اسلامی دنیا کے مختلف مکاتبِ فکر نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے بیان، نقل اور تشریح کیا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ حدیث اہلِ سنت کی متعدد معتبر کتبِ حدیث، تاریخ اور مناقب میں محفوظ ہے اور اسلامی علمی ورثے کا ایک اہم حصہ شمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس موضوع پر تحقیق، تالیف اور علمی مکالمے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
زیرِ نظر کتاب ’’اہلِ سنت کی معتبر کتبِ احادیث میں حدیثِ غدیر اور سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مکمل خطبۂ غدیر‘‘ معروف عالمِ دین، محقق اور خطیب حجۃ الاسلام مقصود علی ڈومکی کی ایک نہایت اہم علمی و تحقیقی کاوش ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے حدیثِ غدیر سے متعلق ان روایات، اسناد اور تاریخی شواہد کو یکجا کرنے کی سعی کی ہے جو اہلِ سنت کے معتبر اور مستند مصادر و مراجع میں مذکور ہیں۔ یوں یہ کتاب واقعۂ غدیر کے حدیثی، تفسیری، تاریخی اور علمی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ایک جامع اور قابلِ اعتماد دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔
کتاب تین ابواب پر مشتمل ہیں اور بابِ اول میں مصنف نے حدیثِ غدیر کے مختلف علمی و فکری پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ اس باب میں علماءِ اسلام، مفسرین، محدثین، مورخین اور متکلمین کی آراء کی روشنی میں حدیثِ غدیر کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز واقعۂ غدیرِ خم، آیتِ ابلاغ کے شانِ نزول، تکمیلِ دین کے اعلان، حدیثِ غدیر کے تواتر پر ائمۂ حدیث اور علماء کے اقوال، اس کے متعدد طرقِ روایت، واقعۂ غدیر کو نقل کرنے والے مورخین، مفسرینِ قرآن کی آراء، حدیثِ غدیر کو روایت کرنے والے ائمۂ حدیث، اس موضوع پر مستقل تصنیف کی جانے والی کتب، استدلالات اور عربی لغت کے ماہرین کے نزدیک لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے معانی پر مدلل اور مفصل بحث پیش کی گئی ہے۔ اس طرح یہ باب قاری کو حدیثِ غدیر کے علمی پس منظر اور اس کے مختلف جہات سے آگاہ کرتا ہے۔
بابِ دوم میں اہلِ سنت کی مختلف معتبر کتب سے حدیثِ غدیر کے حوالے سے اکاون (51) روایات نقل کی گئی ہیں، جن کے ذریعے اس حدیث کے وسیع حدیثی ذخیرے اور اس کے متعدد مصادر کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔ اسی باب میں ان جلیل القدر صحابۂ کرامؓ اور تابعینِ عظامؒ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے واقعۂ غدیر کو روایت کیا اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کتاب کا بابِ سوم خطبۂ غدیر کے لیے مختص ہے، جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاریخی خطبۂ غدیر کا مکمل متن، اس کا اردو ترجمہ اور تشریح پیش کی گئی ہے۔ اس حصے کی اہمیت اس اعتبار سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ قاری خطبۂ غدیر کے مضامین، اس کے فکری و معنوی نکات اور اس کے تاریخی پس منظر کو براہِ راست سمجھنے کا موقع حاصل کرتا ہے۔
مختصراً یہ کتاب حدیثِ غدیر اور خطبۂ غدیر کے موضوع پر ایک جامع علمی مجموعہ ہے، جس میں حدیث، تفسیر، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کے متعدد پہلوؤں کو یکجا کرکے قارئین، طلبہ، محققین اور اہلِ علم کے لیے ایک گراں قدر علمی سرمایہ فراہم کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حدیثِ غدیر کے مختلف حوالہ جات کے ساتھ ساتھ رسولِ اکرم(ص) کے خطبۂ غدیر کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ خطبۂ غدیر محض ایک تاریخی خطاب نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات، اخلاقی ہدایات، دینی ذمہ داریوں، قرآن و عترت کی اہمیت، امت کی وحدت اور اسلامی معاشرے کی فکری سمت کے حوالے سے نہایت گہرے معانی و مطالب کا حامل ہے۔ اس خطبے کے مطالعے سے قاری نہ صرف واقعۂ غدیر کے تاریخی پس منظر سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ رسولِ اکرم (ص) کے اس جامع پیغام کی معنوی اور فکری گہرائی کو بھی محسوس کرتا ہے۔
آج جبکہ امتِ مسلمہ کو اپنے علمی ورثے کی ازسرِ نو تفہیم اور بنیادی مصادر کی جانب رجوع کی ضرورت ہے، ایسی تصانیف نہ صرف تحقیق کے نئے در وا کرتی ہیں بلکہ علمی مکالمے، باہمی احترام اور حقائق پر مبنی مطالعے کی فضا کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ حدیثِ غدیر اور خطبۂ غدیر کے حوالے سے یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک قابلِ قدر کاوش ہے جو قارئین کو اسلامی تاریخ کے ایک اہم باب سے روشناس کراتی ہے اور انہیں اس موضوع کے بنیادی ماخذات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔
امید ہے کہ یہ کتاب علماء، طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی اور واقعۂ غدیر کے تاریخی، حدیثی اور فکری پہلوؤں کو سمجھنے میں معاونت فراہم کرے گی۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس علمی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے علم و آگہی کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔
#محدثین
03/06/2026
ایرانی حاجیوں کا پہلا قافلہ وطن واپس
پیر پہلی جون 2026 کو ایرانی حاجیوں کا پہلا قافلہ وطن واپس پہنچ گیا۔ حاجیوں کو لانے والی اس پرواز نے تہران کے امام خمینی (رح) ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔
02/06/2026
غدیر: اتحاد اسلامی کا وسیلہ
شہید رھبر سید علی خامنہ ای
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |