Bilal Library

Bilal Library

Share

نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

Photos from Daultala Literary Society's post 26/03/2026
17/11/2024
07/12/2023

عرش منور بانگاں مِلیاں
سُنیاں تخت لہور

04/12/2023

اکیلی بستیاں

بے کس چمیلی پھولے اکیلی آہیں بھرے دل جلی
بھوری پہاڑی خاکی فصیلیں دھانی کبھی سانولی

جنگل میں رستے رستوں میں پتھر پتھر پہ نیلم پری
لہریلی سڑکیں چلتے مناظر بکھری ہوئی زندگی

بادل چٹانیں مخمل کے پردے پردوں پہ لہریں پڑیں
کاکل پہ کاکل خیموں پہ خیمے سلوٹ پہ سلوٹ ہری

بستی میں گندی گلیوں کے زینے لڑکے دھما چوکڑی
برسے تو چھاگل ٹھہرے تو ہلچل راہوں میں اک کھلبلی

گرتے گھروندے اٹھتی امنگیں ہاتھوں میں گاگر بھری
کانوں میں بالے چاندی کے ہالے پلکیں گھنی کھردری

ہڈی پہ چہرے چہروں پہ آنکھیں آئی جوانی چلی
ٹیلوں پہ جوبن ریوڑ کے ریوڑ کھیتوں پہ جھالر چڑھی

وادی میں بھیگے روڑوں کی پیٹی چشموں کی چمپاکلی
سانچے نئے اور باتیں پرانی مٹی کی جادوگری

محبوب خزاں

23/11/2023

Carpe Diem

کچھ سفر مختصر سہی مگر بھرپور زندگی کا ساماں لیے ہوتے ہیں۔ ویسے یہ بھرپور زندگی کا تصور بھی مبہم سا ہے لیکن یہاں اس سے مراد وہ لمحات ہیں جن میں انسان خود کو زندہ محسوس کرے اور لمحہء موجود میں ہونے کا احساس اُسے خوش کر دے۔ اگر اداس کر دے تب بھی فرق نہیں پڑتا، بس یہ احساس ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ میرے نزدیک سفر کا لطف ہمسفر سے ہے۔ زندگی، زندہ دل لوگوں کے بیچ گزرے تو کیا ہی اچھا ہے۔ ایسے ہی ایک مختصر سفر کی بے ربط کہانی ذہن میں گردش کر رہی تھی۔ جی چاہا کہ اس کو کسی بہانے الفاظ میں منتقل کیا جائے۔ جب کوشش کی تو فیکٹ اور فکشن کا امتزاج سا بن گیا۔ خیر، ہمسفر تھے ایک درویش، اور سفر تھا آس پاس کے دیہات کا، جبکہ گفتگو رہی درختوں کی اور پوٹھوہار کی لینڈ سکیپس کی۔ گاڑی ڈرائیو کرتے وہ باتیں کرتے رہے اور میرے ساحلِ دل پر گویا ایک ایک کر کے نہ جانے کب سے بجھی ہوئی مشعلوں کی قطاریں روشن ہوتی گئیں۔ بات شروع ہوئی ان کے ایک عزیز کے قول سے کہ وہ کہتے ہیں کہ خطہ پوٹھوہار تو ایک اوپن میوزیم ہے۔ یہاں کے میدان، پہاڑ، درخت، پانی، اور آدمی سبھی دیکھنے کے لائق ہیں۔ یوں جیسے جیسے گاڑی چلتی رہی وہ ایک ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے اور وہ درخت ان سے جو بات کرتا وہ مجھے بتاتے رہتے۔ کہنے لگے کہ درخت ہمیشہ مجھے فیسینیٹ کرتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر شجر ایک کہانی سناتا ہے۔ تجھے پتہ ہے ناں کہ درخت باتیں کرتے ہیں؛ آپس میں بھی اور ہم سے بھی۔اُس درخت کو دیکھو؛ یوں لگتا ہے جیسے ابھی ابھی چل کر دوسرے درخت سے بات کرنے آیا ہے۔ اور اُس طرف وہ درخت اکیلا کھڑا ہے، سب سے الگ تھلگ، ناراض ناراض سا۔ وہ دور ایک اور خالی خالی سا درخت۔ وہ ایک قطار میں سفیدے کے درخت؛ کتنی سُندر لینڈسکیپ ہے۔ اچھا، یہ بیری کے درخت بھی بڑے عجیب ہیں، بچھڑے بچھڑے سے مگر یوں جیسے ایک بندھن میں بندھے ہوں۔ ان میں ایک الگ کشش ہوتی ہے۔ وہ موڑ پر درخت دیکھو، گول سا، کیسا اچھا ہے۔ کچھ دیر بعد ہم ایک ویران عمارت کے پاس سے گزرے۔ بتانے لگے کہ مجھے ایسی ویران عمارتیں بہت اٹریکٹ کرتی ہیں۔ کوئی خالی پولٹری فارم یا ویران فیکٹری ہو جس کے در و دیوار پر گزرے ہوئے وقت کے نشاں ہوں، مشینوں پہ زنگ آگیا ہو؛ جھاڑیوں اور درختوں میں چھپی یاسیت بھری ویران عمارتیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ اس میں بھی مجھے رومان نظر آتا ہے۔ خیر، درختوں کو دیکھو میاں۔ آج کا دن درختوں کے نام ہے۔ آج تجھے کتنے پیارے پیارے درخت دکھائے ہیں۔کچھ آگے چل کر ایک وسیع میدان آیا جس کے آخر میں پہاڑیاں تھیں جنہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے باقاعدہ تراشی گئی ہیں۔ یہ منظر بھرپور نگاہوں سے دیکھتے رہے اور آسودگی سے گویا ہوئے کہ یار، کتنی مزے کی لینڈ سکیپ ہے۔ پھر خوش دلی سے ہنسے اور بولے کہ آج یہ لفظ 'لینڈ سکیپ' بہت زیادہ استعمال ہوا ہے۔ میں نے بھی ہنس کر تائید کی اور ذرا سا چونک پڑا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس ہنسی میں کچھ نیا پن ہے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ جب ہم نشیں ایسا ہو تو آدمی یونہی سرشار ہو جاتا ہے؛ پھر سے جی اٹھتا ہے۔ شام ہونے لگی تھی اور وہ بھی نومبر کی شام کہ ڈوبتا سورج آنکھوں کو اتنا چھبتا نہیں بلکہ چاند کی طرح بار بار اپنی طرف متوجہ کرتا رہتا ہے۔ درختوں کو دیکھتے، سوچتے، سمجھتے میرا ذہن واقعی ایک الگ سمت جانے لگا۔ پھر یاد آیا کہ درخت کو پنجابی میں رُکھ کہتے ہیں۔ یہیں سے شاہ حسین یاد آئے جو محبوب کو اپنے ہاں بلانے کے لیے جھوٹ موٹ کا ہی کہتے ہیں کہ یارا میرے گھر کے آنگن میں صندل کا درخت بھی لگا ہے، وہی دیکھنے کے لیے آ جا۔
چندن رُکھ لگا وچ ویہڑے زور دھگانے کہیئے
نال سجن دے رہیے
نال سجن دے رہیے

محمد بلال

21/11/2023

ساجن دیس کو جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی
جاتے راہی
ساجن دیس کو جانا
منڈلی منڈلی چوکھٹ چوکھٹ
جھاجھن، جھاجھن، ڈِگ تٹ، ڈِگ تٹ
من کی تان اڑانا
لیکن میرے دکھوں کے سانجھی، میرے درد نہ گانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی
جاتے راہی
ساجن دیس کو جانا
سوچ بھرے مکھ، زہر پیے من
ان کی آس بندھانا
جھنن جھنن جھن، چھنن چھنن چھن
گیت ملن کے گانا
گلی گلی میں ساون رت کی مست پون بن جانا

او طنبور بجاتے راہی، گاتے راہی
جاتے راہی
ساجن دیس کو جانا
پلک پلک پہ مچل سکتا ہے
آنسو بن کے زمانہ
اک دھڑکن میں ڈھل سکتا ہے
جیون کا افسانہ
ان آنکھوں کو ان ہونٹوں کو سمجھانا، سمجھانا

مجید امجد

18/11/2023

دل کو تیرے غم نے پھر آواز دی
کب کے بچھڑے پھر اکٹھے ہو گئے

آؤ ناصرؔ ہم بھی اپنے گھر چلیں
بند اس گھر کے دریچے ہو گئے

ناصر کاظمی

26/07/2023

"مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے جب آرٹ اور ثقافت کے علمبردار مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ادب کی بھی کچھ خدمت کروں۔ان کی دانست میں شاید میں جھک مار رہا ہوں۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔ لیکن میرا طریقِ کار ہمیشہ عام روش سے الگ تھلگ رہا ہے۔ میں بہت زیادہ اونچی باتوں اور ایک ہزار کے ایڈیشن تک محدود رہ جانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے احباب کا اعلیٰ و ارفع ادب کتنے ہاتھوں تک پہنچتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کس قسم کا انقلاب لاتا ہے۔افسانوی ادب خواہ کسی پائے کا ہو محض ذہنی فرار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی معیار کی تفریح فراہم کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ جس طرح فٹ بال کا کھلاڑی شطرنج سے نہیں بہل سکتا۔ اسی طرح ہماری سوسائٹی کے ایک بہتبرے حصّے کے لئے اعلیٰ ترین افسانوی ادب قطعی بے معنی ہے۔ تو پھر میں گنے چنے ڈرائنگ روموں کے لئے کیوں لکھوں؟ میں اسی انداز میں کیوں نہ لکھوں جسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاید اسی بہانے عوام تک کچھ اونچی باتیں بھی پہنچ جائیں۔بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947میں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور چیخنا شروع کر دیا۔ ’’یہ نہ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔‘‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔

میں سوچتا… سوچتا رہا۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اِسی لئے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کے لئے تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔"

ابن صفی

26 جولائی، ابن صفی کا یوم پیدائش اور یوم وفات۔ رب العظیم آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Daultala
Rawalpindi

Opening Hours

Monday 10:00 - 17:00
Tuesday 10:00 - 17:00
Wednesday 10:00 - 17:00
Thursday 10:00 - 17:00