10/07/2021
1. The invitation code is [918 839 860].Copy the whole text to the clipboard.2. Tap the link below to open/install Snack. (recommend way)
Gunakan SnackVideo dan dapatka uang.
Gunakan SnackVideo dan dapatka uang.
10/07/2021
Hi, I'm Lives.PK, please help me unlock Rs 12,000, and you could get rewards as well.Click the link below to install / open SnackVideo, If there is no response, please update to the latest version on Google Play. http://sck.io/dtYvieCO
Earn up to Rs 12,000 each week
Hi, I'm Lives.PK, please help me unlock Rs 12,000, and you could get rewards as well.Click the link below to install / open SnackVideo, If there is no response, please update to the latest version on Google Play.
12/06/2021
بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دے دیا جائے تو آپ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
ہارورڈ یونیورسٹی میں معیشت کے پروفیسر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ کین روگوف کہتے ہیں کہ کسی کامیاب کرنسی کی دو اہم خصوصیات یہ ہیں کہ یہ لین دین کے لیے ایک مؤثر حیثیت رکھتی ہو اور یہ آپ کی دولت کی قدر محفوظ رکھ سکتی ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن میں دونوں خصوصیات نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کا استعمال تقریباً کُلّی طور پر صرف سٹے بازی کے لیے ہو رہا ہے۔
لاطینی امریکہ کے ملک ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی قرار دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
مگر کیا بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی ترسیلاتِ زر کے لیے بہترین ذریعہ بن جائے گی؟
‘کوئی مڈل مین نہیں‘
بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ایسے کسی درمیانی فریق پر منحصر نہیں ہوتی۔
نتیجتاً بٹ کوائن غریب ممالک اور اُن افراد کے لیے پرکشش ہو سکتا ہے جو ان فیسوں سے بچنا چاہتے ہیں۔
مگر یہ حقیقت مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ کرپٹو کرنسیاں دوسرے کئی بڑے خطرات کا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈی ویئر گروپ کی چیف ایگزیکٹیو اور بانی نائیجل گرین کہتے ہیں کہ ’ہم امید کر سکتے ہیں کہ ایل سلواڈور نے جس جانب قدم بڑھائے ہیں اس طرف دوسرے ممالک بھی جائیں گے۔‘
’یہ اس لیے ہے کیونکہ کم آمدنی والے ممالک کو طویل عرصے سے اپنی کرنسیوں کے کمزور ہونے اور مارکیٹ کی اُن تبدیلیوں کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے جو افراطِ زر کا سبب بنتی ہیں۔‘
اگر بٹ کوائن کو مزید قبولیت حاصل ہو جائے اور یہ بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگے تو اس کی قیمت مستحکم ہو سکتی ہے۔
’اس لیے زیادہ تر ترقی پذیر ممالک لین دین مکمل کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کی بڑی کرنسیوں مثلاً ڈالر کا استعمال کرتے ہیں۔‘
’مگر کسی دوسرے ملک کی کرنسی پر بھروسہ کرنے سے بہت مہنگے مسائل بھی ہوتے ہیں۔‘ مثال کے طور پر اس سے کسی ملک پر غیر ملکی دباؤ بڑھ سکتا ہے اور یہ مکمل خود مختاری کے ساتھ اپنی مالیاتی پالیسی ترتیب دینے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔
قدر میں اتار چڑھاؤ
مگر کرپٹو کرنسی کے بھی نقصانات ہیں اور اس سے بھی سلواڈوریئن افراد کے پیسے وصول کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بٹ کوائن ایک ورچوئل اثاثہ ہے اور اس کا حقیقی معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی قدر میں بہت کم عرصے کے دوران بہت زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔
اور ہر کسی کو اس کے کام کرنے کا طریقہ اور اس سے وابستہ خطرات کا علم نہیں ہے۔
روایتی بینکاری نظام کے برعکس بٹ کوائن میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو کسی صارف کو بٹ کوائن کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں معیشت کے پروفیسر اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف اکنامسٹ کین روگوف کہتے ہیں کہ کسی کامیاب کرنسی کی دو اہم خصوصیات یہ ہیں کہ یہ لین دین کے لیے ایک مؤثر حیثیت رکھتی ہو اور یہ آپ کی دولت کی قدر محفوظ رکھ سکتی ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن میں دونوں خصوصیات نہیں ہیں۔
’حقیقت یہ ہے کہ یہ قانونی معیشت میں بہت زیادہ استعمال نہیں ہوتا۔ ہاں ایک امیر شخص اسے دوسرے شخص کو بیچ دیتا ہے مگر یہ حتمی استعمال نہیں ہے۔ اور اس کے بغیر اس کا کوئی طویل مدتی مستقبل نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن کا استعمال تقریباً کُلّی طور پر صرف سٹے بازی کے لیے ہو رہا ہے۔
بھلے ہی بٹ کوائن کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے مگر اسے اب بھی لین دین کے لیے ش*ذ و نادر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس بٹ کوائن ہے وہ اپنی کرپٹو کرنسی کو اپنے پاس رکھ کر اس سے مزید رقم کمانا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسیاں شدید مہنگائی سے بچنے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہیں۔
عالمی وبا کے دوران کئی بڑے ممالک اپنی معیشت کو چلائے رکھنے کے لیے نوٹ چھاپتے رہے ہیں۔
روایتی کرنسی نظام میں آپ جتنے زیادہ نوٹ چھاپیں گے، کرنسی کی قدر اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے۔
عام طور پر لوگ قدر میں اس کمی کو نوٹس نہیں کر پاتے کیونکہ اُن کے پاس موجود پیسہ اتنا ہی رہتا ہے۔ مگر وہ یہ ضرور نوٹ کرتے ہیں کہ اُن کی خریداری، باہر کھانا پینا اور فلمیں دیکھنا وغیرہ زیادہ سے زیادہ مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
بٹ کوائن کا معاملہ مختلف ہے۔ بٹ کوائنز کی سپلائی کو محتاط طور پر کنٹرول کیا جاتا اور محدود رکھا جاتا ہے۔ کوئی شخص بھی اپنی مرضی سے مزید بٹ کوائنز نہیں بنا سکتا۔
دنیا میں کبھی بھی دو کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بٹ کوائنز موجود نہیں ہوں گے اور ہر بٹ کوائن کو ستوشی کہلانے والے 10 کروڑ مزید یونٹس میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
Source: https://www.bbc.com/urdu/science-57432273
27/01/2020
کیا آپ جانتے ہیں؟
احتیاط کیجئے! کورونا وائرس منہ اور ناک کے علاوہ آنکھوں سے بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے,
Many in China Wear Them, but Do Masks Block Coronavirus? They may help, but experts say it’s more important to wash your
hands
ایک براعظم سے دوسرے برِ اعظم تک پھیلنے والے اس وائرس کی وجہ سے صرف چین میں ہی درجوں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے پھیلنے کی وجہ بھی بتادی۔ ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور متنبہ کیا کہ چھینکوں اور کھانسی سے پھینلے والا یہ مرض نہ صرف منہ اور ناک بلکہ آنکھوں سے بھی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔
امریکا، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر یورپی ممالک سمیت ایک ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہوکر اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیے جاچکے ہیں۔
امپیریئل کالج لندن میں وائرس جینومکس کے پروفیسر پال کیلام نے وائرس کی آنکھوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو یہ وائرس لے کر آپ کی جانب آسکتی ہے، اس کی وجہ سے پہلے آنکھیں جلنے لگیں گی یہ لیکریمل ڈکٹ کے ذریعے ناک تک پہنچے گی، پھر سانس میں شامل ہو جائے گی اور ساتھ ساتھ آپ کو بھی چھینکیں لگنا شروع ہوجائیں گی۔
اگر آپ آنکھوں کی دوا لیں تو آپ اس دوا کے ذائقے کو اپنے حلق کے اندر تک محسوس کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طرح فلو یا دیگر وائرسز کا پھیلنا غیر معلمولی بات نہیں ہے، آپ کو آنکھوں کی وجہ سے بھی سانس لینے کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
پروفیسر پال کیلام نے تجویز پیش کی کہ ڈاکٹر یا طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ اس سے بچنے کے لیے لازمی چشموں کا استعمال کرے۔
اس معاملے میں ماسک جو آپ کے منہ اور ناک کو تو حفاظت فراہم کرتا ہے لیکن واضح طور پر یہ آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا۔
پروفیسر پال کیلام کے اس دعوے کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے سینیئر ریسرچر ڈاکٹر مائیکل ہیڈ نے تائید کی ہے۔
Dr. Julie Vaishampayan, chairwoman of the public health committee for the Infectious Diseases Society of America, said surgical masks are really “the last line of defense.”
“We worry about people feeling they’re getting more protection from the mask than they really are,” she said. “Washing your hands and avoiding people who are ill is way more important than wearing a mask.”
Because surgical masks aren’t fitted or sealed, they leave gaps around the mouth, “so you’re not filtering all of the air that comes in,” she said.
The masks will, however, block most large respiratory droplets from other people’s sneezes and coughs from entering your mouth and nose, said Dr. Amesh Adalja, an infectious disease physician at the Johns Hopkins Center for Health Security. Coronaviruses are primarily spread through droplets, he said.
The bigger problem is that people don’t use the masks properly. “Most people will put their hand underneath the mask to scratch their face or rub their nose,” bringing contaminants in contact with the nose and mouth, said Dr. Adalja. “You can’t take it off when you get a phone call.”
Dr. Mark Loeb, an infectious disease specialist at McMaster University in Hamilton, Ontario, said a study during an outbreak of the SARS coronavirus found that any type of protection — whether a mask or a respirator — reduced the risk of infections in health care workers by about 85 percent.
“The most important message was that the risk was lower if they consistently used any mask,” he said.
The risk of becoming infected with the coronavirus in the United States — where there is only one confirmed case — is “way too low to start wearing a face mask,” said Dr. Peter Rabinowitz, who is co-director of the University of Washington MetaCenter for Pandemic Preparedness and Global Health Security.
But washing hands — frequently and before eating — is universally recommended. Hand sanitizer is effective against respiratory viruses. Experts also recommend washing hands with soap and water for at least 20 seconds, rubbing the hands together and ensuring all parts of the hands — the palms as well as the back of the hands — are washed.
“It’s also important to keep your hands away from your face,” said Dr. Vaishampayan. “Respiratory viruses don’t infect through your skin, they infect through your mucous membranes: the eyes, nose and mouth.”
Sources:
https://jang.com.pk/…/726638-beside-mouth-and-nose-coronavi…
https://www.nytimes.com/…/h…/coronavirus-surgical-masks.html