وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
نگاه عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یسیں ، وہی طہ
علامہ اقبال
متاع جاں ھے تو
Here u can enjoy awsome poetry , quotes & everything that u want to see. . . . it`s your page . . guyzzzz
@+[162354787240554:]
10/02/2026
آج میں نے پڑھا کہ بارش کے دوران تتلیاں اڑنا چھوڑ دیتی ہیں
کیونکہ بارش ان کے پروں کو نقصان پہنچا سکتی ہے
اور یہ ایک بہت خوبصورت یاد دہانی ہے:
کہ زندگی کے طوفانوں کے دوران آرام کر لینا ایک فطری عمل ہے
آرام کرنا ہار مان لینا نہیں ہے، بلکہ خود کی حفاظت کرنا ہے
جیسے ہی طوفان گزرے گا، آپ دوبارہ اڑان بھریں گے
31/12/2025
پھر سے تین سو پینسٹھ پَر کا ایک پرندہ اُترے گا
پھر دل کی دیوار پہ پچھلے سال کے پَر رہ جائیں گے
کچھ تعلقات جنہیں ہم خسارہ شمار کرسکتے ہیں نہ منافع۔
وہ محض سبق ہوتے ہیں جنہیں زمانہ ہماری زندگی کی صفحات پر لکھ دیتا ہے۔🍁🍂
دستک ہوئی، سنی بھی گئی، اس کے باوجود !!
دروازہ بند ہی رہا ، کھولا نہیں گیا
شاید اسی سبب سے ہیں ، بے تابیاں میری
پرکھا بہت گیا مجھے ، سمجھا نہیں گیا!!
موجود ایسے رہیں کہ آپ کی غیر موجودگی ایک زوردار خلا اور وحشت ناک یادیں پیدا کرے۔
بس یہ دِقّت ہے بُھولنے میں اُسے
اُس کے بدلے میں کِس کو یاد کریں ۔۔۔۔
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
چاند کے ہمراہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے
راستوں کا علم تھا ہم کو نہ سمتوں کی خبر
شِہر نامعلوم کی چاہت مگر کرتے رہے
ہم نے خود سے بھی چھپایا اور سارے شہر کو
تیرے جانے کی خبر دیوار و دَر کرتے رہے
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا،اس شام بھی
انتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر،کرتے رہے
آج آیا ہے ہمیں بھی اُن اُڑانوں کا خیال
جن کو تیرے زعم میں ، بے بال و پر کرتے رہے
پروین شاکر
منتشر خاک کو آئینے سے نسبت کیا ہے
اک تحیر کے سوا میری حقیقت کیا ہے
جو سفر اوڑھ کے نکلے ہیں وہی جانتے ہیں
دھوپ کے دشت میں سائے کی رفاقت کیا ہے
سونے لگتی ہوں تو جاگ اٹھتا ہے دردِ ہجراں
کیا بتاؤں کہ عذاب غمِ فرقت کیا ہے
ٹوٹ جائیں تو مکمل نہیں ہونے دیتی
جانے اس نیند کو خوابوں سے عداوت کیا ہے
درد جب جسم میں سرطان کی صورت پھیلا
تب کُھلا، ترکِ تعلق کی اذیت کیا ہے
بیچ دیتی ہیں کئی قیمتی یادیں اپنی
مائیں بچوں سے چھپاتی ہیں کے غُربت کیا ہے
روح کو کاٹ دیا کرتے ہیں ہجرت کے عذاب
جسم اور سانس ہوں تقسیم ضرورت کیا ہے
کوئی دیتا ہی نہیں حوصلائے دل کی داد
کس کو معلوم مِرے ضبط کی قوت کیا ہے
میرے اطراف ہے جس شخص کی خوشبو رقصاں
پوچھتا ہے کہ محبت کی علامت کیا ہے؟
برسوں کی قربتوں کے بعد بول بھی چال بھی نہیں
اس سے بھی دل خراش یہ ، ہم کو ملال بھی نہیں
دیکھا ہے تیرے ہجر نے کتنا بدل دیا مجھے
پہلے سا رنگ بھی نہیں حسن و جمال بھی نہیں
اتنا ہوں جان بوجھ کے کارِ جہان میں مگن
اتنا کہ آج کل مجھے تیرا خیال بھی نہیں
تجھ کو انا پہ وار کے دل سے اتار پھینکنا
مانا بہت محال ہے اتنا محال بھی نہیں
سائیلنٹ فالوورز کے لیے ہماری ڈھیر ساری دعائیں۔ سلامت رہیں، خوشیاں پائیں ۔ آمین 🌸
مجھے افسوس ہے
کہ
کئی سالوں تک آزمائشوں
اور رفاقتوں سے
گزرتے رہنے کے بعد بھی
میں کسی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر
پورے وثوق سے یہ دعویٰ نہیں کر سکتا
کہ
"وہ میرا ہے" ۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Rawalpindi
