29/12/2025
یہ گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
کہ شکست یوں بھی قبول ہے
.. کبھی حوصلے جو مثال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے حرف حرف کے جسم پر
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
مِری شاعری کے جہان کو
کبھی تتلیوں ،کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
خیال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ جو شام شہر وصال میں
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
وہ نہیں رہے
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
وہ جو فاتحانہ خُمار میں
مِرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے
کبھی دشت لشکر شام میں
مِرے سُرخرو مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
کہ بس اب تو دل کی زباں پر
فقط ایک قصّئہ حال ہے
جو نڈھال ہے
جو گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
29/12/2025
خنجر پہ کوئی داغ نہ دامن پہ کوئی چھینٹ۔۔۔۔۔۔۔
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
28/11/2025
آو تمہیں بتلائیں کیسے خواب ہمارا بنتا ہے.......
لاکھوں چاند اکٹھے ہوں تو ایک ستارہ بنتا ہے........
ضبط کروں تو میری آنکھیں صحرا ہونے لگتی ہیں.........
آنکھ سے آنسو ٹپکے تو سیلاب کا دھارا بنتا ہے......
سب کے سب کیوں خوف زدہ ہیں مٹی میں مل جانے سے...
جو مٹی میں مل جاتا ہے وہ دوبارہ بنتا ہے........
کل شب دو پودوں کو باتیں کرتے دیکھا تو جانا.....
لفظ جہاں بے بس ہو جائیں وہاں اشارہ بنتا ہے.......
چاک چڑھا کر سوکھی مٹی کیا آکاش بناو گے.............
شکلیں بعد کی بات ہیں پیارے پہلے گارا بنتا ہے.....
28/11/2025
بقول مرزا، آدمی ایک دفعہ پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے.........
مشتاق احمد یوسفی
18/07/2023
شہر میں جتنی بِھیڑ بھروگے اُتنی ہی تنہائی ہوگی...!
16/07/2023
The Almighty said {إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ}
Doctors say: The opening of the larynx has been estimated very accurately, as if it had expanded a little more than it is, the human voice would have disappeared, and if it had narrowed a little more than it was originally. Difficulty breathing, either the breathing is comfortable and the voice disappears, or it is The voice is clear and hard to breathe.
The Almighty said {صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ}
And if the vision exceeded the limit that it is, our life would have become hell. If you look at the glass of water that you are drinking now, you will see it clear, sweet, sparkling, clear, if the power of sight increased a little. And I checked more than it is, I would have seen in this cup the wonder of wonder, I would have seen Living organisms, and countless harmless germs, you will not drink the water there.
And if the power of hearing had been raised a little, you would not have been able to sleep at night, because all sounds are absorbed by it. In fact, the sounds of the digestive system in your stomach alone are almost like a large laboratory.
And if the sense of touch increased, you would feel the static electricity that may turn your life into an unbearable hell.
But God Almighty opened hearing for us, created sight and hearts, and created the senses delicately.
The Almighty said {وَ فِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ}.
30/04/2023
آپ کو تلخ نہیں ہونا،
آپ کو بدلہ لینے والا نہیں بننا۔
آپ کو چالیں چلنے والا، جال بچھانے والا بھی نہیں بننا۔ آپ کو ایسا بھی نہیں ہونا کہ آپ شاطر کہلائیں۔ اور ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ گڑھے کھودیں۔
زخم ہیں، اور دل پر ہیں، اور روح پر ہیں،
لیکن ان کے لیے مرہم بدلہ لے کر تیار نہ کریں۔
مرہم آسمانی ہی اچھے ہوتے ہیں۔
مرہم رحمانی ہی شفاء دیتے ہیں۔
چھوڑ دیں جو ہوا جانے دیں جس نے جو کیا۔
اپنے پیچھے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جائیں۔
زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں، روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔
کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔آپ کو وہ بننا ہے جو اعمال بناتے ہیں۔
19/10/2022
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺴﺎ ﺟﻮ ﮈﺑﻮﺋﮯ ﻧﮧ ﺑﮩﺎ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ۔۔
ﮐﯿﺎ ﻧﺪﯼ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﮨﻮ،ﻧﮧ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽﮨﻮ۔۔
ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺟﻮﺗﺠﮭﮯ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭﻭﮞﺳﮯ۔۔
ﺟﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮨﻨﺮ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﺴﯿﺤﺎﺋﯽ ﮨﻮ۔۔
ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺻﺪﯾﻘﯽ
09/10/2022
ایک ایسا سچا قصہ جسے پڑھ آنکھیں نم ہو جائیں
ہم 1988 میں جب نویں کلاس میں پڑھتے تھے ، اس وقت اسکول یونیفارم میں کیمل کے شلوار قمیض اور سفید جوتے ہوتے تھے ۔
ہیڈ ماسٹر صاحب یونیفارم کے معاملے میں بہت سختی سے پیش آتے تھے اس لئے تمام طلباء یونیفارم پہن کر آتے تھے سوائے دو ایک کے جو غریب ہوتے تھے۔
ایک دن صبح کی اسمبلی کے دوران میٹرک کے طالب علم بیکھو مل بغیر یونیفارم کے اسمبلی کی قطار میں کھڑا تھا ، جیسے ہی ہیڈ ماسٹر کی نظر اس پر پڑی بہت ہی غصے میں بیکھو مل کو کالر سے پکڑ کر باہر لیکر آیا ، ہیڈ ماسٹر کا غصہ دیکھتے ہوئے بیکھو مل نے زور زور سے کہنے لگا
سائیں میری بات سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سنیں
میرا باپ باسو مل غریب آدمی ہے وہ مجھے کہاں سے یونیفارم اور جوتے لیکر دے سکتا ہے ؟
مجھے آپ ماریں نہیں میں کل سے اسکول نہیں آؤں گا ۔
ہیڈ ماسٹر استاد غلام حیدر کھوکھر نے اسے چھوڑ دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر تمام طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے بعد بیکھو مل ایک ایک کلاس میں آئے گا ، آج اس آپ کو جو خرچی ملی ہے وہ آپ بیکھو مل کو دے دینا تاکہ وہ یونیفارم خرید کر سکے۔
میرے پاس حسب معمول آٹھ آنے جیب خرچ ملتا تھا سوچا آج کے دن سموسہ نہیں کھاؤں گا وہ میں بیکھو مل کو دے دوں گا ۔
کلاس میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ کلاس کے ٹیچر استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کلاس میں آ گئے ، تھوڑی دیر بعد بیکھو مل بھی استاد سے اجازت لیکر ہماری کلاس میں داخل ہوا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک ایک روپے چند نوٹ اور کچھ سکے تھے جو شاید اس نے اپنی کلاس سے جمع کئے تھے ۔
استاد فقیر محمد حیات ہسبانی بہت غصے میں ہم سب کو منع کیا کہ کوئی بھی اس کو پیسے نہیں دے گا اور بیکھو مل کی جانب دیکھتے ہوئے غصے میں کہا کہ ڈوب نہیں مرتے جو بھیک مانگتے پھرتے ہو
کیا ابھی غربت کی آڑ میں ساری زندگی بھیک مانگتے پھرو گے ؟
واپس اپنے کلاس میں جاؤ اور جن جن سے پیسے لئے ہیں ان کو واپس کر کے آؤ میں تمہیں یونیفارم لیکر دوں گا
بیکھو مل استاد کے کہنے پر واپس اپنی کلاس میں گیا اور سب کو ان کے پیسے واپس کر کے آ گیا ۔
استاد فقیر محمد حیات ہسبانی نے پوچھا کہ شام کے وقت کون سا کام کر سکتے ہو ؟
بیکھو مل نے جواب دیا کہ میرا باپ موچی ہے ، میں بوٹ پالش کرنا اور جوتوں کی مرمت کا کام کر سکتا ہوں مگر میرے پاس سامان خرید کرنے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے
استاد نے پوچھا کتنے پیسے لگتے ہیں ؟
اس نے کہا ایک لکڑی کی پیٹی اور چند برش ، پالش سب ملا کر کوئی ڈیڑھ سو روپے میں سب سامان آ جائے گا
استاد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ڈیڑھ سو روپے گن کر دیئے اور کہا کہ یہ ادھار ہے ، تم مجھے روز کے حساب سے ہر ہفتے سات روپے واپس کرنا۔
اس کے بعد مجھ سے کاپی مانگی اور اس کے تین کورے صفحات پھاڑ کر نکال لئے اور ان پر کچھ لکھنے لگے تینوں چٹھیاں بیکھو مل کو دیتے ہوئے کہا ایک چٹھی رشید پنجابی کو دینا وہ تمہیں کپڑا دے گا اور تمہیں ایک روپے روزانہ کے حساب سے اس کا قرض واپس کرنا ہے ، دوسری چٹھی خالق دینا منگی دینا وہ تجھے بوٹ دے گا اسے بھی ایک روپیہ روز کے حساب سے قرضہ واپس کرنا ہے ، یہ تیسری چٹھی یوسف درزی کو دینا وہ تمہیں یونیفارم سی کر دے گا اسے بھی ایک روپے روزانہ دینے ہیں، چار روپے قرضہ اتارنے کیلئے تمہیں ہر صورت میں اتنا کمانا ہیں تاکہ تم قرضہ چکا سکو اور اسے کے بعد تمہیں اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے
ایک بار بھیک مانگنے کی عادت پڑ گئی تو ساری زندگی بھیک مانگتے ہی گزرے گی
بیکھو مل وعدہ کر کے چلا گیا بعد میں استاد نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ اپنے جوتوں کی مرمت اور بوٹ پالش ہمیشہ بیکھو مل سے کروایا کریں
وقت تیزی سے گزر گیا 12 سال پلک جھپکتے گزر گئے
1999 میں ہائے اسکول کرونڈی میں دسویں کلاس کے طلباء کی الوداعی پارٹی ہو رہی تھی ، استادوں کے ساتھ شہر کی معززین کو بھی دعوت تھی۔
تقریر کرنے کیلئے شہر کی ایک بڑی فلور مل کے معزز جنرل مینیجر بیکھو مل کو دعوت دی گئی ، کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ، ماتھے پر ری بین کا چشمہ رکھے اپنی تقریر میں اسی اسکول میں پیش آئے 1988 کا قصہ سناتے ہوئے زار و قطار روتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھے اپنے استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کے پیروں کو چھوتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک کامل استاد نے مجھے بھیک مانگنے سے بچایا اور محنت کا سبق دیا ۔
محترم محمد ایوب قمبرانی کی سندھی تحریر کا اردو ترجمہ
22/09/2022
عکس کتنے اُتر گئے ____ مجھ میں_________
پھر نجانے ___ کدھر گئے مجھ میں_________
یہ جو میں ہوں __ زرا سا باقی ہوں_________
وہ جو تم تھے _____وہ مر گئے مجھ میں____
میں نے چاہا تھا ___ زخم بھر جایئں_________
زخم ہی زخم بھر گئے ___ مجھ میں_________
بن کے خورشید _____ سامنے آئے___________
اور پھر _____ رات کر گئے مجھ میں_______