پاکستان ایئر فورس کی طرف سے مار گرائے گئے انڈین ایئر فورس کے طیاروں اور متعلقہ پائلٹوں کی معلومات:- 🇮🇳⚡🇵🇰
1: میراج-2000 مقام: پامپور
پائلٹ کا نام: ونگ کمانڈر اومان کتم
سروس نمبر: 30384
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: تشویشناک حالت میں 92 بیس ہسپتال سری نگر میں رکھا گیا۔
2: مگ 29
مقام: رام بن
پائلٹ کا نام: سکواڈرن لیڈر کیشو یادو
سروس نمبر: 32394
شاٹ کریڈٹ: Jf-17 بذریعہ PL-15
حالت: 22 مئی 2025 کو کمانڈ ہسپتال ادھم پور میں رکھا گیا تھا-
3: سخوئی Su-30 MKI
مقام: اکھنور
پائلٹ 1: ونگ کمانڈر للت گرگ
سروس نمبر: 29690
پائلٹ 2: فلائٹ لیفٹیننٹ منڈت تیواری۔
سروس نمبر: 36415
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں اکھنور کے 170 ملٹری ہسپتال میں رکھا گیا-
4: رافیل ای ایچ
مقام: بھٹنڈا
پائلٹ: ونگ کمانڈر ارون پنوار
سروس نمبر: 30217
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: 174 ملٹری ہسپتال، بھٹنڈا میں رکھا گیا، تشویشناک حالت کی وجہ سے چندیمندر کمانڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا-
5: رافیل ای ایچ
مقام: پنجاب (بھٹنڈا کا شمالی)
پائلٹ: ونگ کمانڈر منیش
سروس نمبر: 27976
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں چندیمندر کمانڈ ہسپتال میں رکھا گیا-
6: رافیل ای ایچ
پائلٹ: سکواڈرن لیڈر سنیل
سروس نمبر: 32091
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں 92 بیس ہسپتال، سری نگر میں رکھا گیا-
PAK ARMY ISI
Join us in supporting the Pak Army and ISI, who tirelessly safeguard our sovereignty and security.
Operation Banyan um-Marsoos
10/05/2025
Is Indian Lady Pilot Arrested...?
10/05/2025
Operation Bunyan Marsoos for You
Operation Bunyan Marsoos
Operation Banyan um-Marsoos
پیارے ہم وطنو🇵🇰
ایک نگرانی کرنے والا ڈرون صرف 500 سے 5000 ڈالر میں آ سکتا ہے،
جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا انٹرسیپٹر میزائل کروڑوں روپے کا ہوتا ہے۔
اگر بھارت درجنوں یا سینکڑوں کی تعداد میں ڈرون پاکستان کی طرف بھیج رہا ہے، تو اس کے مقاصد بالکل واضح ہیں:
1. پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹمز کا پتا لگانا — کیونکہ جب انٹرسیپٹر میزائل فائر ہوتا ہے، تو اس جگہ کا مقام ظاہر ہو جاتا ہے جہاں سے اسے داغا گیا۔
2. ان سستے ڈرونز کو بطور فریب (decoy) استعمال کرنا تاکہ مہنگے اور محدود تعداد میں موجود میزائل ضائع ہو جائیں — اور جب اصل حملہ ہو، تو ہمارے پاس بچاؤ کے لیے میزائل نہ ہوں۔
3. زیادہ سے زیادہ افراتفری پھیلانا — تاکہ عوام سوال اٹھائیں کہ ہمارا دفاعی نظام کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔
لہٰذا... عقل سے کام لو!
یہ مت سوچو کہ یہ ڈرون سرحد کے اتنے اندر تک کیسے پہنچ رہے ہیں۔ یاد رکھو: ایسے سستے ڈرونز کو کم ٹیکنالوجی والے ہتھیاروں سے گرایا جاتا ہے، جیسے اینٹی ایئرکرافٹ گنز، عام بندوقیں، اور (MANPADS اور ان سب کی رینج محدود ہوتی ہے۔ اس لیے اکثر فورسز کو مجبوری کے تحت ڈرون کو اتنا قریب آنے دینا پڑتا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کی رینج میں آ جائے، تب جا کر کارروائی کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ... اگر آپ کو دھماکوں کی آواز سنائی دے، تو گھبرائیں نہیں۔ ہر دھماکہ حملہ نہیں ہوتا — آج کے زیادہ تر دھماکے ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کے دوران ہوئے۔
اور... اگر شدید فائرنگ کی آواز آئے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اینٹی ایئرکرافٹ گنز یا دوسرے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈرونز کو گرایا جا سکے۔
لہٰذا — افراتفری سے بچیں۔
اور — بالکل بھی ان واقعات کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا دشمن کی مدد کے مترادف ہو گا۔
07/05/2025
پاکستان 5 بھارتی طیارے گرانے کا دعوی کیسے کر رہا ہے؟ ⚠️⚠️
جب پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے تباہ کر دیے ہیں، اور یہ طیارے بھارت کی فضائی حدود کے اندر ہی مارے گئے ہیں، تو عوام کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟ دشمن کے اتنے اندر جا کر نشانہ لگانا، وہ بھی بغیر آنکھوں کے سامنے دیکھے؟ یہی وہ وقت ہے جب PL-15 میزائل کی طاقت اور پاکستانی فضائی دفاعی نظام کی مہارت کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
پی ایل 15 ایک جدید ترین چینی میزائل ہے جو پاکستان نے اپنے لڑاکا طیاروں جیسے JF-17 Block III میں شامل کیا ہے۔ یہ میزائل بہت طویل فاصلے تک دشمن کے طیاروں کو مار گرا سکتا ہے، بعض تخمینوں کے مطابق یہ 200 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ دور تک جا سکتا ہے۔ مگر اصل کمال اس کے اندر لگے ہوئے جدید ریڈار سسٹم اور "انرشیل نیویگیشن" سسٹم کا ہے، جو میزائل کو پرواز کے دوران بھی ہدف کی سمت میں درست رکھتے ہیں۔
جب بھارت کے Su-30، Jaguar یا Rafale طیارے پاکستانی حدود کے قریب آتے ہیں، چاہے وہ پٹھان کوٹ، برنالہ یا بٹِنڈہ کے ایئر بیس پر موجود ہوں، پاکستانی فضائیہ کا گراؤنڈ ریڈار سسٹم اُن کی نقل و حرکت کو دور سے ہی محسوس کر لیتا ہے۔ ان ریڈارز میں زمین پر موجود "راڈار پکٹس"، "AWACS" طیارے، اور جدید گراؤنڈ سینسرز شامل ہیں۔ یہ تمام ریڈارز مسلسل دشمن کے طیاروں کی پوزیشنز، اونچائی، اور رفتار کو مانیٹر کر رہے ہوتے ہیں۔
جب دشمن کے طیارے نشانے کے قابل حدود میں آ جاتے ہیں تو پاکستانی JF-17 طیارہ، جو PL-15 سے لیس ہوتا ہے، ایک محفوظ فاصلے سے میزائل فائر کرتا ہے۔ PL-15 میزائل ابتدائی طور پر طیارے سے "ڈیٹا لنک" کے ذریعے مسلسل معلومات لیتا رہتا ہے تاکہ وہ ہدف کو کھو نہ دے۔ جیسے ہی وہ ہدف کے قریب پہنچتا ہے، اس کا اپنا "ایکٹو ریڈار" آن ہو جاتا ہے، جو دشمن کے طیارے کو خودکار طریقے سے تلاش کر کے بالکل درست مقام پر جا کر نشانہ بناتا ہے۔ اس عمل کو "بی وی آر" یعنی Beyond Visual Range (بصارت سے باہر) ہدف کا نشانہ بنانا کہا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کیسے جانتا ہے کہ واقعی یہ طیارے تباہ ہو گئے ہیں؟
جب PL-15 میزائل دشمن کے طیارے کو نشانہ بناتا ہے، تو اس کا اثر زمین پر موجود ریڈار پکٹس، سگنل انٹیلجنس (SIGINT) اور پاکستان کے ایئر بورن وارننگ سسٹم پر فوراً ظاہر ہو جاتا ہے۔ مثلاً، جب کوئی طیارہ تباہ ہوتا ہے تو اس کا سگنل غائب ہو جاتا ہے، اس کی آواز، رفتار، اور مقام اچانک ختم ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دشمن خود اپنے ہی ہنگامی چینلز پر "Distress Signal" بھیجتا ہے، جو پاکستانی انٹیلجنس سسٹم پکڑ لیتا ہے۔ اس کے علاوہ، گراؤنڈ پر موجود دیگر شواہد جیسے دھواں، راڈار سے اچانک لاپتہ ہونا، یا انٹیلیجنس رپورٹز یہ ثابت کرتے ہیں کہ واقعی ہدف تباہ ہو چکا ہے۔
اس پورے عمل میں انسانی آنکھیں کچھ نہیں دیکھتیں، لیکن ریڈار، میزائل، اور ڈیجیٹل نظام ایک لمحے کے اندر دشمن کو ختم کر دیتے ہیں۔ یہی جدید جنگی حکمت عملی ہے، جہاں فاصلے کی قید ختم ہو گئی ہے اور دشمن اپنے ایئر بیس کے اندر بھی غیرمحفوظ ہو چکا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Rawalpindi
46000
