25/09/2021
امام العصر علامہ مودودی
( شری داستو " ___ " احمد " میں تبدیل ہوتا ھے )
" تقسیمِ ہند کے بہت دنوں بعد کی بات ھے کہ میں " دربھنگہ " سے " طمل دیہات " جا رہا تھا ۔ بس میں ایک نوجوان میرے پہلو میں بیٹھا اردو رسمُ الخط میں ڈائری لکھ رہا تھا ۔ میں نے نگاہ اُٹھا کر اُس کے چہرے کی جانب دیکھا تو ہندو معلوم ہوا ۔ میں نے نام پوچھا تو اُس نے اپنا پورا نام لیا ۔ اب وہ نام تو ذہن سے اتر گیا ھے البتہ اتنا یاد رہ گیا ھے کہ آخر میں " شری داستو " کا لاحقہ تھا ۔
میں نے ازراہِ تعجّب اُس سے کہا : " عزیزم ہندو ہو کر تم نے اُردو لکھنا پڑھنا کیسے سیکھ لیا ؟ "
اُس نے بتایا کہ : " وہ الٰہ آباد کا رہنے والا ھے اور اس کے باپ دادا اردو ہی کے نہیں، فارسی زبان کے بھی عالِم تھے لیکن اب ہمیں مار مار کر ہندی پڑھائی جاتی ھے ۔ تاہم اُس نے اپنے طور پر ایک مولوی صاحب سے اُردو لکھنا پڑھنا سیکھ لی ھے ۔ "
اِس موقع پر میں نے اپنے مطلب کا سوال کر دیا کہ تم نے اِس دوران مولوی صاحب سے اسلام کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی ؟
اُس نے جواب دیا " نہیں ۔ جی تو چاہتا رہا لیکین میں ڈرتا تھا کہ کہیں اپنے دھرم پر میرا اعتقاد متزلزل نہ ہو جائے ۔ "
میں نے کہا " عزیزم یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ۔ کسی بھی عقلمند آدمی کے لیے کیا یہ مناسب ھے کہ اُسے تاریکی میں کسی جانب روشنی کی لکیر نظر آئے اور وہ اس سے فائدہ اُٹھانے کے بجائے آنکھیں بند کر لے ؟ "
میرے پاس اُس وقت " سلامتی کا راستہ از سیّد مودودیؒ " تھا ۔ وہ میں نے اُسے دے دیا اور بتایا کہ میں " دربھنگہ " میں " اسلام نگر " میں رہتا ہوں ۔ ادھر کبھی آنا ہو تو ضرور ملیے گا ۔ یہ کِتابچہ پڑھ کر اُس پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ اپنی منزل " وجےنگر " سے واپسی پر اگلے ہی روز " اسلام نگر " پہنچ گیا جب کہ میں ابھی " طمل " سے واپس بھی نہیں پہنچا تھا ۔ خیر وہ جاتے ہوئے دفتر میں پیغام چھوڑ گیا کہ " میں حاضر ہوا تھا ۔ آپ سے ملاقات نہ ہو سکنے کا افسوس ھے ۔"
چند سال بعد میں " موتی ہاری " سے ٹرین کے ذریعہ " مظفرپور " آ رہا تھا کہ ایک اسٹیشن پر چائے پینے کی غرض سے اُترا ۔ میں ٹی اسٹال پر کھڑا تھا کہ ایک شخص کو اپنی جانب تیز قدموں سے آتے دیکھا ۔ کُرتے پاجامے ، کوٹ اور تُرکی ٹوپی میں ملبوس اُس شخص نے قریب پہنچ کر زوردار انداز میں " السلام علیکم " کہا ۔ میں نے جواب دیا ۔ اُس نے کہا " معلوم ہوتا ھے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ۔" میں نے معذرت کی اور بتایا کہ واقعی میں آپ کو پہچان نہیں سکا ہوں ۔ وہ کہنے لگا " ایک مرتبہ " وجےنگر " جاتے ہوئے آپ سے بس میں ملاقات ہوئی تھی ۔" میں نے کہا " ارے آپ کہیں شری داستو جی تو نہیں ! " اُس نے کہا " بالکل ، بالکل آپ نے ٹھیک پہچانا ۔ لیکن اب میرا نام " احمد " ھے ۔
احمد نے بتایا کہ " سلامتی کا راستہ " کے آخری صفحہ پر کتابوں کی فہرست درج تھی ۔ وہ سب میں نے دیے گئے پتہ سے منگوا لی تھیں ۔ انہیں پڑھا اور اس کا نتیجہ آپ کے سامنے موجود ھے ۔ " اُس نے مزید بتایا کہ " اسلام قبول کر لینے کے بعد مجھ پر گھر والوں نے اتنا ظلم و تشدّد کیا کہ مجھے تپِ دِق کا مرض لاحق ہو گیا ھے ۔ بس آپ دعا کیجیے گا کہ اللہ خاتمہ بالخیر فرمائے ۔ "
( تاثرات : محمد حسنین سیّد ، اسلام نگر دربھنگہ، بھارت ۔ بحوالہ تذکرۂ سیّد مودودیؒ 3 )

01/03/2020
24/04/2019