11/04/2026
ایک لمحہ وہ تھا جب دنیا، خاص کر بھارتی میڈیا، یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مگر وقت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قوموں کی اصل پہچان مشکل حالات میں ان کے کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کے تبصروں سے۔
اسی دوران دنیا ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ ماہرین اسے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی ابتدا قرار دے رہے تھے۔ ایران اور دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا تھا بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے قریب تھے۔ ایسے میں ہر قدم، ہر فیصلہ، پوری دنیا کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔
یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے خاموشی توڑ کر ایک ذمہ دار اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ پسِ پردہ سفارتکاری، مسلسل رابطے، اور ایک متوازن پالیسی کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کی راہ ہموار کی بلکہ ایک ایسی صورتحال کو بھی ٹالنے میں مدد دی جو عالمی سطح پر تباہی کا سبب بن سکتی تھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس بروقت کردار نے دنیا کو ایک بڑے تصادم، حتیٰ کہ ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے میں اہم حصہ ڈالا۔
جب جنگ بندی کا اعلان ہوا تو یہ صرف ایک معاہدہ نہیں تھا بلکہ ایک عالمی سکون کا سانس تھا۔ دنیا نے وقتی طور پر ہی سہی، مگر ایک بڑی تباہی کے سائے سے نکلنے کا موقع پایا۔ اور اس سب کے پیچھے پاکستان کا وہ کردار تھا جسے پہلے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔
اس کامیابی کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی۔ کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے، خاص طور پر بھارتی لابی کے بعض عناصر، اس پیش رفت سے ناخوش دکھائی دیے۔ ان کی کوشش رہی کہ اس کردار کو کم تر ثابت کیا جائے، اس پر شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، اور یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان کا کوئی حقیقی اثر نہیں۔ مگر ان کی یہی بے چینی دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان نے ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔
اندرونِ ملک بھی کچھ آوازیں ایسی تھیں جو ہر مثبت قدم کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں، مگر وقت یہ سکھاتا ہے کہ قومیں تب آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر ہم خود اپنے کردار کو تسلیم نہیں کریں گے تو دنیا بھی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لے گی۔
اب جب باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے تو امید کی ایک نئی فضا قائم ہو چکی ہے۔ تمام فریقین جنگ کے نقصانات کو دیکھ چکے ہیں اور اب حل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کا کردار، اس کا توازن، اور اس کی سفارتی حکمت عملی اس بات کی امید دلاتی ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
یہ سارا منظر ہمیں ایک بڑی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ “Let’s Make Pakistan Great Again” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی راستہ ہے۔ عظمت اس میں ہے کہ ہم نہ صرف اپنے مسائل کا حل تلاش کریں بلکہ دنیا کے لیے بھی امن اور استحکام کا ذریعہ بنیں۔ اور اگر ایک لمحے کے لیے بھی پاکستان نے دنیا کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ملک صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی اہم ہے۔
17/02/2026
وفاقی حکومت نے "آنکھ" کے معاملے کو غیر متوقع طور پر خاصی مہارت سے سنبھال لیا۔ غیر ضروری پریس کانفرنسوں، بیانات اور سیاسی اچھل کود سے مکمل گریز کیا گیا۔ دوسری طرف آصف زرداری اور پوری پیپلز پارٹی کو مہارت سے "آنکھ والے" کے پیچھے لگا دیا گیا، یوں سیاسی دباؤ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔
پنجاب میں صورتحال یہ رہی کہ کسی کسان کی کھیت کو جانے والی پگڈنڈی تک بند نہیں ہوئی، جبکہ خیبر پختونخوا میں درجنوں مقامات پر موٹر ویز بند کر کے احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہاں کی حکومت عملاً کہاں کھڑی ہے؟
ادھر خیبر ہاؤس اسلام آباد میں کابینہ کے ہمراہ تقاریب اور پروگرام جاری ہیں، اور دوسری جانب گنڈاپور کی جانب سے "یا محسن نقوی مدد" کے نعرے لگوائے جا رہے ہیں۔ سیاست اپنے عروج پر ہے مگر حکمرانی کہیں پس منظر میں دکھائی دیتی ہے۔
مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر نواز شریف اور عمران خان کی مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت لگائے گئے اپوزیشن لیڈر نے عمران خان کی نظر کو "اے ون ٹنا ٹن" قرار دے دیا۔ بیانیے اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ عوام کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ اصل مؤقف کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پیجز پر نظر ڈالیں تو موضوع "آنکھ" سے نکل کر ذاتی حملوں اور اندرونی درجہ بندیوں تک جا پہنچا ہے۔ فلاں کمپرومائزڈ ہے، فلاں کسی اور کا بندہ ہے — الزامات اور صف بندیاں اپنے عروج پر ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس اُن کارکنوں پر ہوتا ہے جنہیں چودہ برس تک مخصوص نعروں پر تیار کیا گیا اور اب انہی سے کہا جا رہا ہے کہ اپنے ہی صوبے کو بند کرو۔
اور اسی دوران، ایک وسیع و عریض لان میں گالف شاٹ کھیلتے ہوئے دو افراد کا مکالمہ سنائی دیتا ہے:
"کیسا دیا؟"
02/02/2026
پاکستان: ریاستوں کی بازیافت، صوبوں کی توسیع اور اصل حل کی تلاش
پاکستان جب 14 اگست 1947ء کو قائم ہوا تو یہ صرف چند بڑے صوبوں پر مشتمل ملک نہیں تھا بلکہ ایک کثیرالاکائی وفاق تھا، جس میں برطانوی ہندوستان کے صوبوں کے ساتھ ساتھ کئی خودمختار ریاستیں بھی شامل تھیں؛ اس وقت پاکستان میں چار بڑے صوبے (پنجاب، سندھ، سرحد، مشرقی بنگال) اور کم از کم آٹھ بڑی ریاستیں موجود تھیں، جن میں بہاولپور، خیرپور، قلات (بمع مکران، خاران، لسبیلہ)، سوات، دیر، چترال اور امب شامل تھیں، یہ ریاستیں اپنے دارالحکومت، مالی نظم، عدالتی و بلدیاتی ڈھانچے رکھتی تھیں اور یہی وجہ تھی کہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے تھے، مگر ون یونٹ، طاقت کی مرکزیت اور بعد کی غلط پالیسیوں نے اس فطری وفاقی توازن کو ختم کر دیا، جس کا نتیجہ آج بدامنی، احساسِ محرومی، صوبائی کشیدگی اور ریاستی کمزوری کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
آج پاکستان کے مسائل کو اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ محض دہشت گردی، معیشت یا سیاست کے مسائل نہیں بلکہ انتظامی دیوالیہ پن کا شاخسانہ ہیں؛ حد سے بڑے صوبے، چند شہروں میں مرتکز وسائل، دیہی علاقوں کی مسلسل محرومی اور سب سے بڑھ کر مؤثر بلدیاتی نظام کا فقدان—یہ وہ وجوہات ہیں جنہوں نے ریاست کو عوام سے دور کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دیہات میں بنیادی سہولتیں ناپید ہیں اور بڑے شہر بوجھ تلے دب کر بدانتظامی کی علامت بن چکے ہیں۔
پاکستان میں بلدیاتی نظام کی تاریخ بھی اس ناکامی کی عکاس ہے؛ ایوب خان کا بیسک ڈیموکریسی ماڈل نمائشی تھا، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں بلدیاتی ادارے نسبتاً مضبوط ضرور ہوئے مگر چونکہ انہیں آئینی تحفظ حاصل نہ تھا اس لیے وہ شخصی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی دم توڑ گئے، جبکہ جمہوری ادوار میں صوبائی حکومتوں نے شعوری طور پر بلدیاتی نظام کو کمزور رکھا کیونکہ اصل طاقت کی منتقلی انہیں سیاسی خطرہ محسوس ہوتی رہی، نتیجتاً یونین کونسل سے ضلع تک کا پورا ڈھانچہ غیر مؤثر ہو گیا۔
ایسے میں اگر نئے صوبے بنانے پر سیاسی یا لسانی اعتراضات ہیں تو اس کا ایک عملی، تاریخی اور کم متنازع حل موجود ہے: قیامِ پاکستان کے وقت موجود سابق ریاستوں کو جدید آئینی بنیادوں پر بحال کر کے انہیں صوبے کا درجہ دے دیا جائے؛ اس ماڈل کے تحت پاکستان میں موجودہ چار صوبوں کے ساتھ ساتھ سابق ریاستوں پر مبنی درج ذیل نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں: بہاولپور صوبہ، خیرپور صوبہ، قلات صوبہ، مکران صوبہ، خاران صوبہ، لسبیلہ صوبہ، سوات صوبہ، دیر صوبہ، چترال صوبہ اور ہزارہ صوبہ—یوں موجودہ چار صوبوں کے ساتھ یہ دس نئے صوبے شامل ہو کر پاکستان کے کل صوبوں کی تعداد 14 ہو جائے گی، جو کسی بھی مضبوط وفاق کے لیے نہ غیر معمولی ہے اور نہ ناقابلِ عمل۔
اس کے ساتھ ساتھ کشمیر اور گلگت بلتستان کا معاملہ ایک الگ مگر نہایت اہم آئینی حقیقت ہے؛ چونکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت یہ دونوں علاقے متنازعہ تسلیم کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں مکمل صوبہ بنانے کے بجائے آئینِ پاکستان کے تحت خودمختار انتظامی خطے کے طور پر مضبوط کیا جانا چاہیے، جہاں منتخب اسمبلی، بااختیار حکومت، آزاد عدلیہ اور مالی خودمختاری ہو مگر بین الاقوامی ذمہ داریوں اور متنازع حیثیت کا احترام بھی برقرار رہے، یہی ماڈل پاکستان کے مؤقف کو بھی کمزور نہیں کرے گا اور وہاں کے عوام کو حقوق بھی فراہم کرے گا۔
اسی تناظر میں بڑے شہروں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ دنیا کے بڑے شہر جیسے لندن، نیویارک، دبئی اور سنگاپور اس لیے کامیاب ہیں کہ وہ انتظامی و معاشی طور پر خودمختار ہیں، جبکہ پاکستان میں کراچی جیسے شہر، جو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، صوبائی سیاست کی نذر ہے، اسی لیے کراچی اور گوادر کو خصوصی خودمختار وفاقی علاقے بنا کر انہیں براہِ راست آئینی، مالی اور بلدیاتی اختیارات دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
آخر میں اصل نکتہ یہی ہے کہ چاہے پاکستان میں 4 صوبے ہوں یا 14، چاہے سابق ریاستیں بحال ہوں یا نئے وفاقی علاقے قائم کیے جائیں، جب تک بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ، مالی خودمختاری اور حقیقی اختیار نہیں دیا جائے گا، کوئی صوبہ عوام کے مسائل حل نہیں کر سکے گا؛ اصل طاقت صوبے میں نہیں بلکہ گلی، محلے، یونین کونسل اور شہر میں ہوتی ہے، اور جب تک اختیار نیچے نہیں جائے گا، پاکستان نقشہ بدل کر بھی وہی مسائل دہراتا رہے گا—ریاستیں تاریخ سے بنتی ہیں، مگر قومیں نظام سے مضبوط ہوتی ہیں۔
28/01/2026
نیک محمد صاحب نے محکمہ ایکسائز کی جانب سے خصوصی نمبر پلیٹس کی نیلامی میں سب سے زیادہ 1 کروڑ 11 لاکھ روپے ادا کر کے “خان 1” کے نام سے نمبر پلیٹ حاصل کی۔
اسی نیلامی میں “آفریدی 1” سمیت دیگر خصوصی نمبر پلیٹس بھی پشاور زلمی کے مالک اور کئی بڑے کاروباری افراد نے حاصل کیں۔
نیک محمد کا تعلق وزیرستان سے ہے، وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن (MPA) ہیں اور علی امین گنڈاپور کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے شوق پر سوا کروڑ روپے خرچ کرتا ہے تو شوق رکھنا جرم نہیں — لیکن سوال یہ ضرور بنتا ہے کہ آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟
یہاں FBR کو بھی آنکھیں کھولنی چاہئیں اور دیکھنا چاہیے کہ یہ امیر طبقہ حقیقت میں کتنا ٹیکس ادا کر رہا ہے، اور کتنا صرف دکھاوے کی عیاشیوں میں اڑا رہا ہے۔
یاد رہے کہ نیک محمد صاحب نے الیکشن میں جے یو آئی کے امیدوار کو محض 800 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔
خیبر پختونخوا واقعی ایم پی ایز کی جنت بن چکا ہے، جہاں عیاشی کو نہ صرف جائز بلکہ گویا ثواب سمجھا جاتا ہے۔
اور عوام؟
عوام کے حصے میں آج بھی تین سوراخوں والی قمیض ہی آتی ہے۔
14/01/2026
اداریہ — روزنامہ صبح نو پاکستان
اگلی عالمی جنگ کہاں؟ میدانِ جنگ برف بن چکا ہے
دنیا کی نظریں آج بھی انہی مانوس سرخیوں میں الجھی ہیں: یوکرین، غزہ، انتخابات، منڈیاں اور سفارتی بیانات۔ مگر تاریخ اکثر وہ موڑ خاموشی سے کاٹتی ہے جہاں شور کم اور مفاد زیادہ ہوتا ہے۔ اسی خاموشی میں طاقت کی عالمی بساط آہستہ آہستہ شمال کی طرف سرک چکی ہے۔ وہ خطہ جو صدیوں تک انسان کے لیے ناقابلِ رسائی سمجھا جاتا رہا، اب مستقبل کی سیاست، معیشت اور جنگ کا نیا مرکز بن رہا ہے۔ یہ خطہ آرکٹک ہے — برف کا وہ میدان جو اب محض برف نہیں رہا۔
برسوں تک ہمیں بتایا گیا کہ اگلی بڑی عالمی کشمکش تیل پر ہوگی، یا مصنوعی ذہانت پر۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں بیانیے ادھورے تھے۔ اصل جنگ اس برف پر لڑی جائے گی جس کے نیچے تیل، گیس، لیتھیم، نکل، سونا اور ریئر ارتھ منرلز چھپے ہیں — وہ وسائل جو جدید دنیا کی معیشت، ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت کی بنیاد ہیں۔ چِپس سے لے کر ڈیٹا سینٹرز تک، بیٹریوں سے لے کر جدید ہتھیاروں تک، سب کی سانس انہی معدنیات سے جڑی ہے۔
یہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہوگی کہ آرکٹک میں رونما ہونے والی تبدیلیاں محض موسمیاتی حادثہ ہیں۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ برف کا پگھلنا صرف قدرتی عمل نہیں رہا، بلکہ طاقت کی سیاست کے لیے ایک کھلتا ہوا دروازہ ہے۔ سائنسی اندازوں کے مطابق دنیا کے غیر دریافت شدہ تیل کا بڑا حصہ اور گیس کے وسیع ذخائر اسی خطے میں موجود ہیں، جبکہ ریئر ارتھ منرلز کی مالیت کھربوں ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ جیسے جیسے برف ہٹ رہی ہے، ویسے ویسے عالمی طاقتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔
اصل مقابلہ صرف توانائی کا نہیں، بلکہ مستقبل کے پورے انفراسٹرکچر کا ہے۔ سمندری راستے جو عالمی تجارت کے فاصلے نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں، ڈیٹا اور سپلائی چینز، عسکری نقل و حرکت اور اسٹریٹجک کنٹرول — یہ سب فیصلے اب آرکٹک سے جڑ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے اس خطے میں درجنوں فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں، چین خود کو “آرکٹک کے قریب ترین ملک” کہہ کر سائنسی تحقیق اور سرمایہ کاری کے پردے میں اپنی موجودگی مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور نیٹو جدید آبدوزوں، ریڈار سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کے ساتھ شمالی قطب تک پہنچ چکے ہیں۔ اکھاڑا سج چکا ہے، بس اعلان باقی ہے۔
ایک نازک مرحلہ 2026 میں درپیش ہے، جب آرکٹک سے متعلق کئی اہم عالمی معاہدے اپنی مدت پوری کریں گے۔ اس کے بعد یہ خطہ عملی طور پر ایک قانونی خلا میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں وسائل کی دوڑ ضابطوں سے آزاد ہو جائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قانون پیچھے ہٹتا ہے تو طاقت آگے بڑھتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب خاموش مقابلے کھلی تصادم میں بدل جاتے ہیں۔
میڈیا ہمیں روز کسی نہ کسی محاذ کی آگ دکھاتا ہے، مگر اصل جنگ برف کے ان ٹکڑوں پر لڑی جا رہی ہے جن پر کیمرے کم اور مفاد زیادہ ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں، سرمایہ کار ادارے اور انرجی جائنٹس پہلے ہی آرکٹک کے وسائل میں سرمایہ لگا چکے ہیں۔ گرین لینڈ کے معدنی ذخائر ہوں یا آرکٹک کا نکل، یہ سب مستقبل کی عالمی سیاست کا ایندھن بن چکے ہیں۔
یہ سوال محض یہ نہیں کہ اس دوڑ میں کون آگے نکلے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔ یوکرین کی جنگ پہلے ہی ہمیں دکھا چکی ہے کہ معدنیات اور جغرافیہ کس طرح تصادم کو طول دیتے ہیں۔ حالیہ عالمی بیانات، خصوصاً امریکہ کی جانب سے آرکٹک اور گرین لینڈ کے حوالے سے سخت مؤقف، اس بات کی علامت ہیں کہ آنے والے دن محض سفارتی نہیں ہوں گے۔
جنوبی ایشیا بھی اس منظرنامے سے الگ نہیں۔ پاکستان کے اپنے معدنی وسائل ایک موقع بھی ہیں اور امتحان بھی، جبکہ بھارت عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے سہارے اس نئی دوڑ میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کی سیاست میں خواب اکثر حقیقت کی سخت زمین سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ جب دنیا برف کے نیچے چھپے خزانوں کو مستقبل کی کرنسی بنا رہی ہے، تو کیا انسانیت اس دوڑ کو عقل سے سنبھال پائے گی یا ایک بار پھر طاقت کی ہوس جنگ کو جنم دے گی؟ جب آپ اگلی بار خبروں میں کسی گرم محاذ کو دیکھیں، تو یاد رکھیے: اصل عالمی شطرنج شمال میں کھیلی جا رہی ہے، اور آنے والی جنگ کا میدان شاید بارود نہیں، بلکہ برف ہو۔
11/01/2026
خبر یہ ہے کہ سینٹر مشتاق احمد خان نے اپنی ایک نئی سیاسی جماعت بنا لی ہے۔
اس خبر پر نہ تو چونکنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی سوال اٹھانے کی، کیونکہ پاکستان میں اب سیاسی جماعت بنانا کسی احتجاجی بیان سے زیادہ مشکل کام نہیں رہا۔ یہاں اگر کوئی ذرا سا ناراض ہو جائے تو اختلاف رائے کے بجائے فوراً “نظریہ” دریافت ہو جاتا ہے، اور نظریہ ملتے ہی جماعت وجود میں آ جاتی ہے۔
کسی کو ٹکٹ نہ ملے تو وہ انتخابی نظام کو کرپٹ قرار دے کر اپنی جماعت بنا لیتا ہے۔ کسی کو پارٹی میٹنگ میں بولنے کا موقع نہ ملے تو وہ جمہوریت کے فقدان پر لیکچر دیتے ہوئے نئی جماعت کا اعلان کر دیتا ہے۔ کسی سے عہدہ واپس لے لیا جائے تو وہ عوام کی محرومیوں کا درد محسوس کرنے لگتا ہے، اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر خود کو متبادل قیادت قرار دے دیتا ہے۔
یہاں سیاست اصلاح کا عمل نہیں رہی، بلکہ ردِعمل کی مشق بن چکی ہے۔ ناراضی جتنی ذاتی ہو، جماعت اتنی ہی نظریاتی کہلاتی ہے۔ قیادت اکیلی ہوتی ہے، کارکن محدود، مگر دعوے قومی سطح کے۔ ہر نئی جماعت کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے: “ہم باقی سب سے مختلف ہیں” — فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ بات سب ایک جیسے انداز میں کہتے ہیں۔
کارکن وہی ہوتے ہیں جو کل تک کسی اور جماعت کے حق میں نعرے لگا رہے تھے، آج اسی جماعت کو ملک کی تباہی کی وجہ قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ اصول بھی وہی ہوتے ہیں، صرف پارٹی جھنڈا نیا ہوتا ہے۔ جلسے چھوٹے مگر بیانات بڑے، تنظیم کمزور مگر خواب انقلابی۔
اگر یہی روایت چلتی رہی تو مستقبل میں پاکستانی سیاست میں ناموں کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں عوام کو کچھ ایسے نام سننے کو ملیں:
پاکستان ناراض رہنما تحریک
تحریکِ ٹکٹ محرومان
عوامی اصول یاد آگئے پارٹی
اتحادِ نظرانداز شدگان
تحریکِ ہمیں بھی لیڈر بناؤ
پاکستان وقتی نظریہ موومنٹ
عوامی پریس کانفرنس پارٹی
تحریکِ آخری وارننگ
پاکستان سچے ہم ہی ہیں گروپ
عوامی اختلاف رائے فرنٹ
تحریکِ فیصلہ ہمیں قبول نہیں
پاکستان نئی بات وہی پرانی پارٹی
اتحادِ سابق وفاداران
تحریکِ کل تک ساتھ تھے
عوامی سیاست آزمائش گروپ
طنز اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاست جتنی زیادہ ذاتی ہوتی جا رہی ہے، اتنی ہی عوامی ہوتی جا رہی ہے — کم از کم دعوؤں میں۔ سوال یہ نہیں کہ جماعتیں کیوں بن رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان جماعتوں کے پیچھے قوم بھی کھڑی ہے، یا صرف ایک ناراض فرد؟
کیونکہ اگر ہر ناراضی کا جواب نئی جماعت ہے، تو پھر مستقبل میں سیاست نہیں بچے گی —
صرف جماعتیں ہی جماعتیں ہوں گی۔