The alembic

The alembic

Share

Curious mind, wandering through science, nature's embrace, and history's whispers. Sharing discoveries to ignite your awe.

09/12/2024

بیل گریWood apple improves digestion and is beneficial for treating indigestion and constipation.
It cools the body and keeps it refreshed during hot weather.
Wood apple is rich in vitamin C and other nutrients that strengthen the immune system.
It helps cleanse the liver and remove toxins from the body.
It has anti-inflammatory properties that are beneficial for joint pain.
It helps regulate blood sugar levels, making it especially useful for people with diabetes.

Photos from The alembic's post 09/12/2024

A detailed explanation of each stage of wheat development.

1. Emergence (اُگاؤ)

Days: 5-10 days

Temperature: 15-18°C

Description: This is the initial stage when wheat seeds germinate, and the first shoots emerge from the soil. It’s critical for seeds to have adequate moisture and mild temperatures to sprout effectively.

2. First Leaf (پہلا پتّا)

Days: 7-16 days

Temperature: 15-17°C

Description: The first leaf stage marks the beginning of photosynthesis as the plant's first leaf appears. The young plant starts to establish itself by absorbing sunlight and nutrients.

3. Tillering (پہلی گره)

Days: 20-27 days

Temperature: 15-17°C

Description: During tillering, the wheat plant produces side shoots (tillers) at the base. These tillers can grow into additional stems, potentially leading to more grain heads, which directly affects yield.

4. First Node Formation (پہلا جوڑ)

Days: 71-86 days

Temperature: 20-25°C

Description: In this phase, the plant begins to grow taller, forming the first node (joint) on the main stem. This stage is the start of stem elongation, preparing the plant to support the grain head.

5. Flag Leaf Formation (فلیگ پتّا)

Days: 83-97 days

Temperature: 20-25°C

Description: The flag leaf, which is the last leaf to emerge, is crucial as it provides a significant amount of energy for grain filling. A healthy flag leaf is essential for maximizing grain yield.

6. Booting (بوٹ نکلنا)

Days: 87-105 days

Temperature: 20-25°C

Description: The booting stage occurs when the head (spike) of the wheat plant begins to develop but remains enclosed within the flag leaf sheath, creating a bulging appearance. This stage is a critical time for nutrient absorption.

7. Flowering (پھول آنا)

Days: 99-121 days

Temperature: 20-25°C

Description: During flowering, the wheat head emerges from the sheath and flowers open up, allowing for pollination. This stage is sensitive to environmental conditions, as extreme weather can impact grain development.

8. Grain Filling (فصل کا پکنا)

Days: 120-159 days

Temperature: 25-32°C

Description: Grain filling is the final growth stage, where the plant transfers nutrients to the developing grains. The grains mature and increase in size, eventually reaching full ripeness. Optimal temperature and moisture at this stage ensure good quality grains.

05/09/2024

Rose hips, the fruit of the rose plant, have been used for centuries in traditional medicine for a variety of purposes. Here's a summary of their uses:
Dietary source: Rose hips are a rich source of vitamin C, even richer than oranges. They also contain other beneficial nutrients like vitamin A, E, and healthy fats.
Tea: Rose hip tea is a popular beverage enjoyed for its flavor and potential health benefits. It may aid digestion, soothe a sore throat, and boost the immune system.
Supplements: Rose hip supplements are available in capsule or powder form. They're primarily used to manage osteoarthritis pain and inflammation.
Skincare: Rose hip oil is a popular.

03/09/2024

سفرجل پھل، مختلف غذائی اجزاء کا ایک اہم ذریعہ ہے اور صدیوں سے روایتی طب میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
نبی کریم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، "سفرجل کھاؤ، کیونکہ یہ دل اور معدے کو صاف کرتا ہے۔"

سفرجل میں غذائی ریشے کی مقدار زیادہ زیادہ ہونے کی وجہ سے معدے اور اس کے جملہ امراض میں بہت مفید ہے

اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور فلیوونوئڈز سے بھرپور سفرجل
دل کی بیماریوں میں معاون
ثابت ہوتا ہے

سفرجل معدنیات جیسے کیلشیم، میگنیشیم، اور پوٹاشیم کا اچھا ذریعہ ہے، جو مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری ہیں۔

ایک سفرجل میں روزانہ کی وٹامن سی کی ضرورت کا 15% حصہ ہوتا ہے، جو ایک صحت مند مدافعتی نظام کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سفرجل میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہیں جو نقصان دہ بیکٹیریا کی بڑھوتری کو روکنے میں مدد کر سکتی ہیں۔

Photos from The alembic's post 03/09/2024

گھبرائیے مت، یہ کھمبی کی ایک قسم ہےجس کا Botanical نام *Hydnellum peckii* مگر عرف عام میں *Bleeding tooth mushroom* کہا جاتا ہے۔
یہ ایک منفرد اور نمایاں قسم ہے۔ اس کی سب سے خاص بات وہ خون جیسی سرخ بوندیں ہیں جو اس کی سطح سے نکلتی ہیں، جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے جیسے Bleeding ہورہی ہو۔
یہ بوندیں دراصل ایک رس جیسا مائع ہوتی ہیں جو کھمبی میں رنگدار اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں اور یہ عام طور پر اس وقت نکلتی ہیں جب یہ کم عمر اور نم ہوتی ہے۔

اس کا کیپ شروع میں ابھرا ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ چپٹا ہو جاتا ہے۔ اس کا رنگ عموماً ہلکا گلابی سے سفید ہوتا ہے، جس کی سطح کھردری یا کبھی کبھار مخملی (velvety) ہوتی ہے۔

دراصل Bleeding کا اثر بنیادی طور پر کیپ پر ہوتا ہے، جہاں سرخ بوندیں ظاہر ہوتی ہیں۔

کیپ کے نیچے گِلز کے بجائے "دانت" ہوتے ہیں، جو کہ سفید یا ہلکے گلابی ہوتے ہیں۔ یہی وہ حصہ ہے جہاں سے اس کے بیج نکلتے ہیں۔

تنے کی لمبائی نسبتاً کم اور موٹی ہوتی ہے، اور یہ اکثر سفید یا گلابی ہوتا ہے، جو کیپ کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، نچلا حصہ بھورا یا سرخی مائل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب کھمبی پرانی ہوجائے۔

اس کی بو ہلکی ناگوار ہوتی ہے، لیکن خاص طور پر تیز نہیں ہوتی۔

اس کی پریشان کن ظاہری شکل کے باوجود، *Bleeding tooth mushroom* زہریلی نہیں ہوتی، لیکن اس کا ذائقہ انتہائی کڑوا ہونے کی وجہ سے اسے کھانے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔

شمالی امریکہ اور یورپ کے علاوہ پاکستان کے coniferous forests میں بھی عام طور دیکھنے کو ملتی ہے

آج سب ایک pine forest میں Hiking کے دوران چونکہ ہوا میں نمی زیادہ تھی تو اس کا BleedIng cap دور سے میرے مشاہدے میں آیا اور میں نے سوچا کہ میں آپ لوگوں کے لیے ایک فوٹو اتار لوں.

03/09/2024

آملہ، جس کا Botanical نام Phyllanthus emblica اور انگریزی میں اسے Indian gooseberry کہتے ہیں

یہ ایک قدرتی پھل ہے جو طبی طور پر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔
آملہ زیادہ تر *جنوبی ایشیا* کے ممالک جیسے کہ بھارت اور پاکستان میں پایا جاتا ہے، یہ خطہ آملہ کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔
پاکستان میں، آملہ خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ آملہ کا موسم اکتوبر سے دسمبر تک ہوتا ہے جب یہ پھل درختوں پر مکمل طور پر پکتا ہے۔

آملہ وٹامن سی کا ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہے، جو Immune system کو مضبوط کرتا ہے، infections سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، اور جلد کی صحت کو بہتر کرتا ہے۔

اس میں طاقتور antioxidants ہوتے ہیں جو free radicals سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں، oxidative stress کو کم کرتے ہیں اور cells کو نقصان سے بچاتے ہیں۔

آملہ ہمارے Digestive System کو بہتر بناتا ہے، healthy gut bacteria کو فروغ دیتا ہے، اور ہاضمے میں مدد گارثابت ہوتا ہے۔

آملہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں، blood vessels کی کارکردگی کو بہتر بنانے، اور دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے

یہ خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

آملہ کے باقاعدہ استعمال سے بال مضبوط ہوتے ہیں اور جلد صحت مند ہوتی ہے، بالوں کا گرنا کم ہوتا ہے

آملہ کی Anti-inflammatory خصوصیات arthritis جیسی بیماریوں کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

آملہ کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کے فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھایا
جاسکے

آملہ کو کچا کھانا اس کے nutrients سے فائدہ اٹھانے کا ایک طاقتور طریقہ ہے۔ اس کا ذائقہ بہت کھٹا اور تیز ہوتا ہے، لہذا ہر کسی کو پسند نہیں آ سکتا۔

آملہ کا juice استعمال کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے، کہ اس کو پانی، شہد، یا دیگر juices کے ساتھ ملایا
جا سکتا ہے تاکہ اس کی کھٹاس کو کم کیا جا سکے۔

خشک اور پاوڈر شدہ آملہ کو smoothies، juices، یا گرم پانی میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

املے کا مربہ بنا کر بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے یہ آملہ کو استعمال کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کچے آملہ کی کھٹاس کو پسند نہیں کرتے۔

آملہ کا اچار ایک روایتی Condiment ہے۔ یہ اکثر کھانے کے ساتھ استعمال ہوتا ہے

آملہ کو مختلف کھانوں جیسے کہ دال، چاول، اور curry میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ ذائقہ اور غذائی اجزاء میں اضافہ ہو۔

Photos from The alembic's post 28/08/2024

Rainbow

Rainbows form when sunlight interacts with water droplets in the atmosphere, causing the light to refract, reflect, and disperse into a spectrum of colors. The likelihood of seeing a rainbow varies significantly depending on the region’s climate, which influences factors such as sunlight, rainfall, and atmospheric conditions.

Tropical Regions
In tropical regions like *Indonesia*, *Malaysia*, and parts of Southeast Asia, rainbows are relatively rare despite frequent rainfall.
This is mainly due to the heavy cloud cover and high humidity that are typical in these areas. The thick clouds often obscure the sun, preventing it from interacting with rain droplets to form a rainbow.
Additionally, persistent haze caused by high humidity can further reduce visibility, making rainbows difficult to see even when other conditions are favorable.

Moderate and Subtropical Regions

In moderate and subtropical regions such as *India, Pakistan, Afghanistan, and Iran*, rainbows are more frequently observed. These areas experience a combination of rainfall and clear skies, especially during the monsoon season in South Asia or after sporadic showers.
The clearer skies that often follow rain allow sunlight to pass through and interact with water droplets, creating conditions favorable for rainbow formation.

Arid and Desert Regions

In arid and desert regions, such as the Middle East (Saudi Arabia, UAE, Qatar), Northern Africa (Morocco, Algeria, Tunisia), and parts of the Southwestern United States (Arizona, Texas), rainbows are a rare occurrence. These areas are characterized by very low humidity, infrequent rainfall, and expansive desert landscapes.
The lack of rainfall means there are few opportunities for water droplets to be present in the atmosphere, which are necessary for rainbows to form.
In regions like Arizona and Texas, even when rain does occur, the intense sunlight and high temperatures often cause the moisture to evaporate quickly, further diminishing the chances of seeing a rainbow.

Temperate Regions

The Mediterranean region, which includes countries like France, Italy, Spain, and Portugal, has a climate conducive to rainbow formation, especially during spring and autumn. These seasons bring frequent rain showers followed by clear skies, creating ideal conditions for rainbows. Coastal areas, where moist sea air meets sunlight, are particularly favorable for rainbow sightings.
Similarly, in the United States, regions with a temperate climate like the Pacific Northwest (Washington, Oregon and Northern California) and parts of the Midwest (Illinois, Indiana, Ohio, Michigan and Wisconsin), experience conditions that are often suitable for rainbow formation. These areas, with their regular rainfall and periods of sunshine, offer numerous opportunities to observe rainbows.

Polar and Arctic Regions

In polar and Arctic regions, such as Siberia, northern Canada, and Alaska, rainbows are exceedingly rare due to the extreme climatic conditions.
The sun is often low on the horizon, and precipitation usually falls as snow rather than rain. Since rainbows require liquid water droplets to form, the snowy and icy conditions typical of these regions do not support rainbow formation.

26/08/2024

گیارہ بھائیوں کی ایک بہن

اسلام وعلیکم بہت سارے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر ساون اور بھادوں کے دونوں موسموں میں بارشیں تواتر سے برستی رہتی ہیں اور حبس بھی قائم رہتا ہے تو دو مہینوں کے دو مختلف نام کیوں ہیں ان کا تو ایک ہی نام ہونا چاہیے تھا ؟

دراصل سو قبل مسیح میں ہندوستان کے بادشاہ راجہ بکرم اجیت کے نام سے جو کیلنڈر جاری کیا گیا جسے زمیندار حضرات بکرمی یا دیسی کیلنڈر کے نام سے یاد رکھتے ہیں جبکہ ہندوستان کے مشرقی حصے میں لوگ اسے نانک شاہی کیلنڈر کا نام دیتے ہیں

گریگرین کلینڈر کی طرح اس کا سال بھی 365 دنوں میں مشتمل ہوتا ہے جس میں نو مہینوں کے لیے ہر مہینے کے 30 دن ہیں، بیساکھ 31 دنوں کاجبکہ جیٹھ اور اساڑ کے 32 دن ہوتے ہیں

اگر ہم بھادوں کی آمد کا اندازہ گریگیرین کیلنڈر سے لگائیں تو 16 اگست سےاس کا آغاز ہوتا ہے اور 15 ستمبر تک بھادوں رہتا ہے

پنجابی کی ایک بہت مشہور روایت ہے جس کے مطابق دیسی مہینوں کے نام گیارہ بھائیوں اور ان کی ایک بہن کے نام سے لئے گئے ہیں جس میں گیاره بھائیوں کے نام چیت، بیساکھ، جیٹھ، اساڑ، ساون، اسوج، کاتک، مگھر، ماکھ اور بھاگن اور بہن کا نام بھادوں تھا

بھادوں گیاره بھائیوں کی ایک لاڈلی اور تیکھا مزاج رکھنے والی بہن تھی اور شاید اس موسم کی شدید گرمی اور حبس کو بھی اسی تیکھا پن کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے

عموما دیکھا یہ گیا ہے کہ
پاک و ہند میں برسات کا موسم پندرہ جولائی سے شروع ہو جاتا ہے ساون میں بارشیں مسلسل برستی رہتی ہیں مگر ہوا کے رکنے سے حبس قائم رہتا ہے جس کی وجہ سے موسم ذرا تکلیف دہ ہوجاتا ہے

جبکہ بھادوں کی آمد پر موسم میں خوشگواری یہ دیکھی جاتی ہے کہ ہوا چلتی رہتی ہے ہوا بند نہیں ہوتی جس سے موسم قدرے خوشگوار رہتا ہے مگر دن میں دھوپ تیز رہتی ہے

بھادوں اگر برستا رہے تو اس میں سبزہ عام ہو جاتا ہے اور چرند پرند کے رزق میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے

زمینداروں کے مطابق بھادوں کی بائیس تاریخ کو ایک تارا طلوع ہوتا ہے اور اس کے بعد ہم لوگ باضابطہ طور پر تئیس بھادوں سے سردیوں میں داخل ہوتے ہیں

تو یوں بھادوں شدید گرمیوں کا اختتام ہے اور سردیوں کا آغاز ہوتا ہے
مویشی پال حضرات بھادوں کی بائیسں کے بعد مچھر اور مکھی کو بھگانے کے لیے دھواں نہیں استعمال کرتے کیونکہ بھاوں کی بائیس تاریخ کے بعد مچھر اور مکھی کا خاتمہ ہو جاتا ہے
اسی طرح اس تاریخ کے بعد درجہ حرارت میں بھی کمی دیکھنے کو ملتی ہے ٹھیک ایک ہفتے بعد جب ہم اسوج میں داخل ہوتے ہیں تو صبح کے وقت شمال کی طرف سے ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ سردیوں کی آمد آمد ہے اور یوں موسم کی خوشگواری میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے

میں سمجھتا ہوں کہ شاید بھاروں جو جیٹھ اور اساڑ کی گرمی کو ختم کرنے کے بعد خود کو ختم کرتی ہے تو یہ ایک انتہائی خوشگوار موسم کو جنم دیتی ہے

ساون اور بھادوں میں بڑا فرق حبس اور ہوا کے چلتے رہنے کا ہے جو شاید ہم شہروں میں رہنے والے اس کو سمجھ نہیں پاتے

لیکن زمیندار حضرات اس سے بخوبی واقف ہیں

یاد رہے ساون میں زمینوں میں جو پانی روکا جاتا ہے بھادوں کے اختتام پر اس کا انخلا شروع کر دیا جاتا ہے کیونکہ موسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے زمین اپنے اندر پانی جذب کر چکی ہوتی ہے اور جو زائد پانی ہوتا ہے اسے زمین سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ زمین میں ایک حد تک نمی قائم رہے اور کاتک کی باره تاریخ کو گندم کی فصل کے لیے پہلا ہل چلایا جا سکے

13/08/2024

Coprinus comatus, commonly known as shaggy mane, is a common fungus. The young fruit bodies first appear as white cylinders emerging from the ground, then the bell-shaped caps open out.

When young it is an excellent edible mushroom provided that it is eaten soon after being collected (it keeps very badly because of the autodigestion of its gills and cap). If long-term storage is desired, microwaving, sauteing or simmering until limp will allow the mushrooms to be stored in a refrigerator for several days or frozen.

25/07/2024

In autumn we brush the stems of shesham/tali (botanical name: Dalbergia sissoo) with a mixture of limestone and antifungal agent which help prevent disease and maintain the health of the trees. The green color was an antifungal solution

شیشم کا درخت نہ صرف گھنی چھاؤں دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے پتے میٹھے چارےکا بھی ذریعہ بنتے ہیں دیتے ہیں اور اس کے علاوہ بہترین قسم کا فرنیچر بھی ٹالی کی لکڑی سےبنایا جاتا ہے جو سالوں سال تک دیمک سے بھی محفوظ رہتا ہے

جیسے میں آپ کو بتلاؤں کہ میرے دادا کی جو دادی اماں تھی ان کے جہیز میں جو کاٹھ کی پیٹی آئی تھی وہ شیشم کی لکڑی سے بنی ہوئی ہے وہ اج بھی ہمارے گھر میں موجود ہے اور چھ نسلوں سے ساتھ نبھا رہی ہے

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھلے 10 سالوں سے شیشم کو شدید خطرہ لاحق ہے ہم نے بارہا سرکار کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کی کوشش کی کہ ہمارے علاقے سے شیشم ناپید ہوتا جا رہا ہے اور اس درخت کو ایک جان لیوا مرض لاحق ہے

لیکن مجال ہے کہ ان کے کان پہ جوں ہی رینگی ہو وہ تو افسران بالا ہیں

Want your business to be the top-listed Government Service in Rawalpindi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Rawalpindi