24/04/2026
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
15/04/2026
جنہیں پاکستان میں لوڈشیڈنگ پسند نہیں، وہ کسی دوسرے ملک چل جائیں
03/04/2026
وہ دیکھو پاکستان نے آبنائے ہرمز سے چھتیس جہاز بحفاظت نکال لیے
وہ دیکھو اسحاق ڈار چین کے دورے پر پہنچ گئے۔
وہ دیکھو شہباز شریف کے بیان کو ٹرمپ نے ری ٹویٹ کر دیا
مگر یہ نہ دیکھو کہ اسی دوران عوام کس کرب اور بدحالی کا شکار ہیں اور ان کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
19/03/2026
نمازِ عید الفطر 🌙
جامع مسجد صوفی الہ دین، ڈھوک رتہ (میلاد نگر)، راولپنڈی
خصوصی خطاب:
حضرت علامہ مولانا حافظ محمد حنیف صاحب
وقتِ نماز عید الفطر
صبح ٹھیک 8:00 بجے
ضروری نوٹ: تمام نمازیوں سے گزارش ہے کہ وقت کی پابندی فرمائیں تاکہ سنتِ نبوی کے مطابق باجماعت نماز کی ادائیگی بروقت ممکن ہو سکے
16/03/2026
مہنگائی کا بوجھ حکومت برداشت نہ کر سکی دل پر پتھر رکھ کے 9 کروڑ کی مہنگی گاڑی چیئرمین سینیٹ کیلئے خرید لی۔10 کروڑ کی بھی خریدتے تو تم کیا کر لیتے؟؟
11/03/2026
"محافظوں سے ڈرو، لٹیروں سے نہیں!"
یہ ہے آج کے پاکستان کی تلخ حقیقت۔ ایک طرف وہ ہیں جو تیل کی قیمتیں بڑھا کر پوچھتے ہیں "کیا کر لو گے؟" اور دوسری طرف وہ محافظ جو حفاظت کے بجائے اپنے 'شر' سے ڈراتے ہیں۔ جب ریاست خود بدمعاش بن جائے تو قانون صرف غریب کی زنجیر بن کر رہ جاتا ہے۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی!
07/03/2026
*آبنائے ہرمز* کی بندش سے جو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھیں ہیں؛ لیکن حیرت انگیز طور پر بھارت جو 80% سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا ہے وہاں تیل کی قیمت نہیں بڑھائی گئی۔ دوسرا بڑا ملک چین ہے جو 40% تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے، چین میں بھی تیل کی قیمت نہیں بڑھی اور آج تک ایک ڈالر (280 پاکستانی روپے) کے برابر ہے۔ ایک اور بڑا ملک جاپان ہے جو 90% تیل آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتا ہے۔ جاپان میں بھی چین کی طرح پٹرول ایک ڈالر (یعنی 280 پاکستانی روپے) سے بھی کم دستیاب ہے اور قیمت ابھی تک نہیں بڑھائی گئی۔ تو پھر پاکستان میں قیمتیں بڑھانے کی اتنی جلدی کیوں جبکہ حکومت نے خود کہا کہ کم از کم ایک ماہ کا سٹاک موجود ہے (جو ظاہر ہے گزشتہ قیمت پر خریدا گیا)۔ اگر نئے سٹاک کی خریداری کیلئے قیمت ایڈجسٹ کی گئی تو کم از کم کچھ دن/ہفتے تو انتظار کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔ یا پھر ایران جنگ کی آڑ میں کسی کا “پیسے بناؤ کھانچے” کا پلان تشکیل دیا گیا ۔۔۔۔!!!؟؟؟؟
کاپیڈ
06/03/2026
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا نئی قیمت 321 روپے ہوجائے گی۔
وہ چاہتے تو سو روپے اضافہ بھی کر سکتے تھے مگر انہوں نے 55 روپے کا اضافہ کیا۔ 😜
Always look at the positive side 🥴😂😂
06/03/2026
ایک طرف حکومتی نمائندگان پورے اعتماد سے اعلان کرتے رہے کہ ملک میں اٹھائیس دنوں کا پٹرولیم سٹاک موجود ہے۔ یعنی یہ وہ تیل ہے جو پرانی قیمتوں پر خریدا جا چکا تھا۔ مگر عجیب منطق ہے کہ اسی پرانے داموں خریدے گئے تیل کی قیمت یک لخت پچپن روپے فی لیٹر بڑھا دی گئی۔ اس خدشے کے تحت کہ شاید کل کو مہنگا تیل خریدنا پڑ جائے۔ یعنی مستقبل کے ممکنہ خرچے کی پیشگی وصولی آج ہی عوام کی جیب سے کر لی جائے۔
یا پھر شاید حکومت نے یہ سوچا ہو کہ ایسی ہنگامی فضا میں ذرا “عید” ہی منا لی جائے۔ اور اگر عید لگ جائے تو کیا بعید کہ کہیں سے کوئی اور دس ارب کا جہاز بھی ہاتھ آ جائے۔
اصل مسئلہ پٹرول کی قلت نہیں ہے مسئلہ حکومتی ترجیحات کا ہے۔ اگر واقعی مہنگا تیل خریدنا پڑتا تو اس کے مطابق قیمت بڑھا لی جاتی عوام بھی کم از کم یہ سمجھ لیتے کہ خرچ بڑھا ہے تو بوجھ منتقل کیا جا رہا ہے۔ مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ خرچ ابھی نہیں بڑھا بوجھ پہلے ہی ڈال دیا گیا۔
ہمارے ہاں حکومتوں کی جانب سے موقع پرستی کی جو روایت بن چکی ہے اصل ظلم وہی ہے۔ بحران یہاں اکثر عوام کے لیے نہیں بلکہ حکومتوں کے لیے موقع بن جاتے ہیں۔ اس طرح کے فیصلے کا اثر اشیائے خورد و نوش پر بھی پرتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے اور بداعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
بات ترجیحات کی ہے۔ عوام اشرافیہ کی ترجیح نہیں ہوتے۔ اگر ہوتے تو دیگر اللوں تللوں پر اربوں خرچنے کی بجائے عوامی مفاد میں صرف کیے جاتے۔
01/03/2026
الحمدللہ، مر بھی جائیں آنے والی نسلیں بھی اسرائیل پر لعنت بھیجیں گی۔
میں دل سے اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اسرائیل اور اس کے حمایتی امریکہ پر لعنت بھیجتا ہوں، جو مسلمانوں کے خلاف یہ منصوبے بناتے ہیں۔
میں اُن لوگوں پر بھی لعنت بھیجتا ہوں جو اسرائیل کے ایجنٹ ہیں، اور ہماری یہ جنگ، ان کے خلاف، انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گی۔
اللہ اکبر
اسلام زندہ باد
01/03/2026
اگر مودی اسرائیل کی کھل کے حمایت کرسکتا ہے تو پاکستان کھل کر ایران کی حمایت کیوں نہیں کرسکتا؟