29/12/2023
Sahiwal - Montgomery Railway station night view
Sahiwal City The principal crops are wheat, cotton, to***co, legumes, potato and oilseeds. Sahiwal is a city in central Punjab, Pakistan.
A small village on the Karachi-Lahore railway line during 1865 was named Montgomery after Sir Robert Montgomery, and then Lieutenant-Governor of Punjab was made the capital of the Montgomery District. Its name was reinstated as Sahiwal in 1967 after the Sahi clan of Kharal Rajpoots who are the native inhabitants of this area.The city is in the densely populated region between the Sutlej and Ravi r
29/12/2023
Sahiwal - Montgomery Railway station night view
27/11/2019
ساہیوال فرید ٹاون کی عوام کے نام sho فرید ٹاون کا پیغام
مارکیٹ میں سفید اور براﺅن رنگ کے انڈوں کو دیکھ کر کبھی آپ کے ذہن میں یہ سوال آیا کہ آخر ان میں فرق کیا ہے؟
بھئی اگر رنگ اور قیمت میں فرق ہے تو غذائیت اور ذائقے میں بھی فرق ہو گا۔ماہرین غذایات نے دونوں رنگوں کے انڈوں پر جامع تحقیق کے بعد ان میں مندرجہ ذیل فرق بتائے ہیں۔
ایک کا رنگ براﺅن جبکہ دوسرے کا سفید ہے ۔ ( یہ بھی تو ایک فرق ہے)
گہرے رنگ کی کلغی اور پروں والی مرغیاں عموماً براﺅن جبکہ سفید اور ہلکے رنگ کی کلغی اور پروں والی مرغیاں سفید انڈے دیتی ہیں۔
اب یہ فرق تو ایسے ہیں جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو کوئی فرق نہیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ غذائیت اور ذائقے میں کوئی فرق ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دونوں رنگوں کے انڈے ہر لحاظ سے ایک جیسے ہیں یعنی نہ صرف غذائیت ایک جیسی ہے بلکہ ذائقہ بھی ایک جیسا ہے۔اگر ذائقے میں ہلکا سا فرق محسوس ہو تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ براﺅن انڈے دینے والی مرغیاں عموماً گھریلو یا غیر روایتی خوراک پر پالی جاتی ہیں۔جبکہ سفید انڈوں والی مرغیاں کمرشل مرغی خانوں میں بازاری خوراک پر پالی جاتی ہیں۔
بعض اوقات انڈے کے خ*ل کی موٹائی میں فرق نظر آ سکتا ہے لیکن اس کی وجہ سفید یا براﺅن انڈہ نہیں ہے بلکہ مرغی کی عمر ہے۔کم عمر مرغیاں سخت اور موٹے خ*ل جبکہ زیادہ عمر والی مرغیاں باریک خ*ل والے انڈے دیتی ہیں۔
اب یہ سوال اہم ہے کہ براﺅن انڈوں کو خصوصی مقام کیوں حاصل ہے اور اس کی قیمت کیوں زیادہ ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ براﺅن انڈے دینے والی مرغیاں جسامت میں بڑی ہوتی ہیں اور زیادہ خوراک کھاتی ہیں لہذا کسان ان کے انڈے مہنگے داموں بیچتے ہیں۔
تو آخر ان مہنگی مرغیوں کو پالا ہی کیوں جاتا ہے؟
اس کی واحد وجہ ہماری غلط فہمی ہے کہ براﺅن انڈے بہتر ہوتے ہیں۔ایسا سوچنے والے براﺅن انڈوں کو مہنگے داموں خریدتے ہیں ، لہذا کسان بھی زیادہ منافع کے لیے براﺅن انڈوں والی مرغیاں پالتے ہیں۔
کیا آپ کے قریب نفسیاتی مسائل کا شکار کوئی جنونی شخص موجود ہے جسے آپ انجانے میں عزیز دوست سمجھ رہے ہیں۔ خبر دار رہیں کہ ایسے لوگ دوست یا محبوب کے روپ میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہیں پہچاننے کیلئے مندرجہ ذیل علامات کا خیال رکھیں۔
٭.... اگر آپ کا عزیز دوست ہمدردی اور جذبات سے عاری ہے تو یہ بہت خطرناک بات ہے، نفسیاتی جنونی عموماً دوسروں کے جذبات اور ہمدردی سے عاری ہوتے ہیں اور بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
٭.... کثرت سے جھوٹ بولنے والے لوگ بھی جنونی ہوسکتے ہیں اگر آپ کے عزیز دوست یا محبوب بلا وجہ جھوٹ بولتا ہے اور مکاری کرتا ہے تو خبردار ہوجائیں۔
٭.... جن لوگوں کو غلط کام کرنے پر ضمیر بالکل ملامت نہیں کرتا اور انہیں کوئی ندامت نہیں ہوتی وہ آپ کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، ان کے ساتھ تعلق ختم کرنے میں ہی عافیت ہے۔
٭.... وہ لوگ جو دوسروں کی تکلیف سے خوش ہوں، جانوروں پر ظلم کرنا پسند کریں اور کسی کی موت یا زخمی ہونے سے قطعاً افسردہ نہ ہوں ان میں نفسیاتی مسائل اور جنونی پن کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، ان لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق سے گریز کریں۔
جلد پر دھول مٹی اور بیکٹیریا کے اثرات اور جلد کے مردہ خلیوں کی وجہ سے آکسیجن کا انجذاب رک جاتا ہے جس کی وجہ سے سیاہ رنگ کے کیل نمودار ہو جاتے ہیں ۔ ان بد نما نشانوں سے بچنے کے لئے کچھ سادہ تراکیب بہت مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔
٭ روزانہ تقریباً دو یا تین دفعہ منہ دھوئیں اور ہفتہ میں تقریبا ًتین دفعہ فیس سکرب استعمال کریں ۔
٭جلد کے مردہ خلیوں سے نجات کے لئے اور اوپری سطح کی صفائی کیلئے ہفتہ میں ایک مرتبہ متعلقہ مرکبات استعمال کریں۔
٭چہرےکو بھاپ دیں ۔ اس سے کیل نرم ہو جائیں گے اور ان کا خاتمہ آسان ہو جائے گا۔
٭ لیموں کے رس شہد اور شکرمکس کر کے چہرے کی جلد پر رگڑیں یہ ایک قدرتی سکرب ہے۔
٭ پسی ہوئی جئی، زیتون اور چٹکی بھر نمک کا آمیزہ بنا کر چہرے پر لگائیں ۔ اسے اور مذکورہ بالا آمیزے کو بھی لگانے کا دورانیہ تقریباً 10منٹ ہے۔اس کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیں۔
پاکستان کے آئین میں صرف 40 شقیں ایسی ہیں جو عوام کے حقوق اور وسائل کی فراہمی کی بات کرتی ہیں۔ باقی 240 شقیں صرف اور صرف یہ بتاتی ہیں کہ صدر کیسے لگے گا، حلف کیسے اٹھایا جائے گا، وزیراعظم کیسے منتخب ہوگا، تقرریاں کیسے ہونگی، برطرفیاں کون کرسکتا ھے، وغیرہ وغیرہ۔
اس کے مقابلے میں مغربی ممالک کے آئین دیکھیں تو اکثریتی شقیں عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی سہولت کو تفصیل سے شقوں کی شکل میں بیان کرکے حکمرانوں کو پابند کیا جاتا ھے کہ وہ ان حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں ورنہ سزا بھگتنے کو تیار ہوجائیں۔
یہ تھا اصل پوائنٹ اور یہ تھی کرنے والی بات جو قادری صاحب نے آج کی۔ اگر آپ غور کریں تو ہمارے سیاستدان اس آئین کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتے آئے ہیں۔ یہ آئین تو صرف ان کے عہدوں کی حفاظت کرتا ھے، عوام بھلے جئیں یا مریں، اس آئین کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
پچھلے دور میں اس آئین میں سترھویں، اٹھارویں اور انیسویں ترامیم ہوئیں، جن میں حرام ھے کہ عوام کے حقوق کیلئے ایک بھی شق شامل کی گئی ھو، سب کی سب شقیں وزیراعظم اور صدر کے اختیارات کے درمیان گھومتی ہیں۔
ہمارے آئین کو ٹھیک کرنا کس کا کام تھا؟ یہ کام تھا ایم این ایز کا۔ لیکن وہ یا تو جاہل ہوتے ہیں یا پھر برادری اور وڈیرہ سسٹم سے نکل کر آتے ہیں، انہیں نہ تو اتنی عقل ھے اور نہ ہی دلچسپی کہ وہ آئین کا حلیہ ٹھیک کرسکیں
02/09/2014
kia hu ga Imran Khan aur Qadri ka??
( خوفناک قحط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
ایک سال دمشق میں ایسا خوفناک قحط پڑا کہ لوگ بھوک سے مرنے لگے ۔ خشک سالی نے ہر کسی کو پیٹ کی فکر میں ایسا مبتلا کیا کہ لوگ عشق و عاشقی کو بھول گئے ۔ بارش بالکل نہ برسی ، حتی کہ کھیتوں اور نخلستانوں کے بیل بوٹے مُرجھا گئے ، یتیموں کے آنسؤں کے سوا ہر پانی سوکھ گیا ، تمام چشمے بےآب ہو گئے ، گھروں سے لوگوں کی آہوں کے دھویں نکلا کرتے تھے ۔ درختوں کے پتے جھڑ گئے اور ٹنڈ منڈ اور تہی دست نظر آنے لگے ۔ بڑے بڑے پہلوانوں اور طاقت وروں کو بھوک نے نڈھال اور عاجز کر دیا ۔
اس خشک سالی میں جب میرا دوست مجھ سے ملنے آیا تو میں نے دیکھا کہ بھوک نے اس کا سارا گوشت گھُلا دیا ھے اور کھال ہڈیوں سے چپک گئی ھے ۔
اس کا یہ حال دیکھ کر مجھے سخت تعجب ہوا ۔ یہ اچھا خاصا صاحبِ ثروت آدمی تھا ۔ جب میں نے اس کا حال پوچھا تو وہ غضبناک لہجے میں بولا :
" بےوقوف تجھے معلوم نہیں کہ خشک سالی نے لوگوں کو کن مشکلات میں پھنسا دیا ھے ۔ بھوک حد سے گزر چکی ھے ، اللہ تعالیٰ بھی اب ہماری فریاد نہیں سنتا ، نہ ہی بارش برساتا ھے ۔۔ "
میں نے جواب میں کہا : " یہ ساری باتیں تو مفلوک الحال لوگوں کے بارے میں ہیں ، لیکن تُو خوشحال اور تونگر ھے ، جب تیرے پاس مال کا تریاق موجود ھے تو قحط سالی کے زہر سے تیرا کیا واسطہ ! جیسے سیلاب آ جائے تو بطخ کو کوئی خطرہ نہیں ھوتا نہ وہ پریشان ھوتی ھے کیونکہ اسے تیرنا آتا ھے ۔ "
میری بات سن کر وہ مجھے اس طرح حقارت سے دیکھنے لگا جیسے کسی عالِم کو جاہل سے واسطہ پڑ گیا ھو ۔۔ پھر کہنے لگا :
" آدمی تو وہ ھے جو دوسروں کی تکلیف دیکھ کر بےتاب ھو جائے ، اگر دوست ڈوب رھا ھو تو اس دوست کو کیسے قرار آ سکتا ھے جو کنارے پر کھڑا ہو ! میرا چہرہ جو تجھے زرد نظر آ رھا ھے وہ میری اپنی بھوک کی وجہ سے نہیں ھے بلکہ دوسرے بھوکوں کے احساس کی وجہ سے ھے ۔ "
( انتخاب از حکایتِ سعدی رح )