GPS 27 NB Sargodha

GPS 27 NB Sargodha

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from GPS 27 NB Sargodha, Public School, Sargodha.

07/04/2026

GPS 27 NB

09/02/2025

Iqbal day in GPS 27NB

19/07/2024

عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنے شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں۔

احمد خالد توفیق کہتے ہیں:
جب بچے اسکول سے واپس آتے ہیں تو وہ بائیں. کی طرف مڑ کر کچن کی طرف جاتے ہیں اپنی ماں کی تلاش میں، اور وہ دائیں کی طرف میرے دفتر کی طرف نہیں جاتے، حالانکہ میرا دفتر کچن سے چند قدم دوریِ میں ہے۔

میں اس "نظرانداز" پر زیادہ غور نہیں کرتا، کبھی کبھی میں ان کی ماں کو کہتے ہو سنتا ہوں:
"کیا تم نے اپنے والد کو سلام کیا؟.. جاؤ اور سلام کرو"۔

اس درخواست اور اس کے عمل میں 15 سے 30 منٹ لگتے ہیں، اور میں اس "نظرانداز" پر بھی زیادہ غور نہیں کرتا۔

دنیا مصروف ہے، اور کچن سے میرے کمرے تک کے راستے میں بہت ٹریفک ہوتی ہے، اور ان کو میرے پاس پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔

آخرکار وہ ایک ایک کر کے آتے ہیں اور ٹھنڈے انداز میں سلام کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے، جب میرا بڑا بیٹا اسکول سے واپس آیا، میں حادثاتی طور پر اپنے دفتر سے باہر نکلا اور اسے کچن میں کھڑا دیکھا، وہ "ماں" کو کچھ دے رہا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے چھپا لیا۔ میں نے بغیر دھیان دیے اپنا راستہ جاری رکھا۔

واپسی پر میں نے اسے پکڑ لیا جب وہ اس کی ماں کو ایک عمدہ چاکلیٹ کا ٹکڑا دے رہا تھا جو اس نے اپنے جیب خرچ سے خریدا تھا، اور جب اس نے مجھے دیکھا تو شرمندہ ہو گیا اور نہیں جانتا تھا کہ اس موقع کو کیسے سنبھالے!!

پھر چند لمحوں بعد اس نے اپنی جینز کی جیب سے ایک "کرمل" کا ٹکڑا نکالنے کی کوشش کی جو جیب کے نیچے چپکئ ہوئی تھی۔ بمشکل اس نے اسے نکالا اور اس پر کچھ ٹشو پیپر کے ٹکڑے لگے ہوئے تھے، اور وہ مجھے دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا!!

میں اس "امتیازی سلوک" پر زیادہ غور نہیں کرتا، صحیح ہے کہ اس نے اپنی ماں کے لئے جو چاکلیٹ خریدا تھا وہ بہت مزیدار تھی، لیکن مجھے ان کے اپنی ماں کی طرف زیادہ جھکاؤ سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، ہم بھی ان جیسے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ تھے!!

باپ کی محنت، سفر، تکلیف اور شفقت کے باوجود، جھکاؤ ہمیشہ ماں کی طرف ہوتا ہے، یہ ایک فطری بات ہے جسے پر ہم کنٹرول نہیں کر سکتے!

عجیب بات یہ ہے کہ بچے اپنے والد سے اپنی شدید محبت کا احساس بہت دیر سے کرتے ہیں، یا تو والد کے جانے کے بعد، یا بیماری مبتلا ہوتے ہیں اور یہ زندگی کی خواہش کے خاتمے کے بعد...!

اور یہ محبت والد کے وقت کے حساب سے بہت دیر سے آتی ہے۔

اب جب بھی میں کسی فیصلے میں بھٹک جاتا ہوں، یا زندگی میں مشکلات کا سامنا کرتا ہوں، یا کسی معاملے میں تذبذب کا شکار ہوتا ہوں...

میں آہ بھرتا ہوں اور کہتا ہوں: "ابا، آپ کہاں ہیں؟"

والدین حیات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور جو اس دارفانی سے کوچ کرگئے ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین 🤲🏻

28/02/2024

Teachers effort

19/12/2023

دیہات کے باسیوں کا شہر کے رہنے والوں کی زندگیاں ۔۔۔

ہم دیہات کے رہنے والے ہیں ہمیں کبھی پانی کی کمی کا مسئلہ پیش نہیں آیا, ایک بٹن دبانے پر تین انچ چوڑا پائپ ساڑھے چھ سو فٹ کی گہرائی سے بھر بھر کر پانی باہر نکالتا ہے۔

ہم دیہاتیوں کو کبھی خالص دودھ کی کمی کا مسئلہ پیش نہیں آیا وہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار بھینس اور گائے کا اپنا ملاوٹ کرنے کا دل کررہا ہو۔

ہم دیہات میں رہتے ہیں ہم سال بھر کی گندم اور چاول اپنی حویلیوں میں ذخیرہ کرلیتے ہیں، ہمیں گندم کے ریٹ کے بڑھنے یا چاول کی شارٹیج جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
ہم تمام قدرتی اجزاء سے بھرپور آٹے کی روٹی کھاتے ہیں۔

ہم جیٹھ اور ہاڑ کی دوپہروں کو گاؤں کے ٹوبے کنارے برگد کے درخت کی چھاؤں میں چارپائیاں بچھا کر سوتے ہیں لہذا ہمیں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نہیں ہوتا۔

ہم دیہات کے رہنے والے ہیں ہمارے باغیچوں میں تمام موسمی سبزیاں ہوتی ہیں جنہیں ہم وہیں سے توڑ کر کھانے کے لیے پکا لیتے ہیں۔

ہم گاؤں کے باسیوں کو کبھی ٹریفک کے شور اور گاڑیوں کے دھوئیں کی آلودگی جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

ہمارے دیہاتوں میں کبھی کسی محلے دار کی بکری کا بچہ بھی مرجائے تو سارا گاؤں افسوس کو امڈ آتا ہے، ہمارے اندر کا انسان ابھی تک زندہ ہے ۔

ہم پنڈ واسیوں کی حویلیوں میں، فارم ہاؤس پر کوئی نہ کوئی موسمی پھل کا پودا ضرور ہوتا ہے جس کے نیچے بیٹھ کر سب کی زندگیوں کے احوال ڈسکس کیے جاتے ہیں۔

ہمارے بزرگ ہمیں ساتھ قبرستان لیکر جائیں تو پانچ پانچ نسلوں تک کے پُرکھوں کی قبروں کی جگہیں بغیر کسی نشان دہی کے بتادیتے ہیں.

اور ہاں سنو,
ہمارے دِلوں کی طرح ہمارے گھر , ہمارے ڈیرے اور ہماری حویلیاں بھی کشادہ اور کُھلی ہوتیں ہیں۔

ہاں ہم دیہات کے رہنے والے ہیں۔

13/10/2023

Shame punjab govt.

11/10/2023

میرے بیٹے کے سکول کے جو پرنسپل صاحب ہیں ناں انہوں نے ایک دن پیرنٹ ٹیچنگ میٹنگ میں مجھے کہا “ حسن عباس کے اسیسمنٹ ٹیسٹ کچھ بہتر نہیں ہوئے, وہ پوزیشن لینے والا بچہ تھا
کیا بات ہے گھر میں سب خیریت ہے؟
کوئی مسئلہ تو نہیں جس کے سبب بچہ متاثر
ہو رہا ہو؟
یہ سنتے ہی میں نے ان کو سیدھا جواب دیا “
سر ! یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا تھا سکول کی ذمہ داری ہے پڑھانا اور آپ اس کے بدلے مجھ سے بھاری فیسز لیتے ہیں آپ کیسے مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں؟ اگر بچے ارسطو ہوتے تو آپ کے سکول کیوں بھیجتے لوگ ؟
خود ہی گھر میں پڑھا لکھا لیتے یہ مجھے آپ جواب دیں گے کہ اس کے ٹیسٹس کیوں اچھے نہیں ہوئے”

پرنسپل صاحب کو اس جواب کی توقع نہیں تھی کیونکہ ہمارے ہاں والدین ہی الٹا سکول والوں کے آگے بکری بنے یئیں یئیں کر رہے ہوتے ہیں یہ سکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کے بچے کو ہونہار و قابل بنائے پرنسپل صاحب نے غیر متوقعہ جواب سن کر مجھے ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے کہا “
چلیں، ٹیچرز کو پوچھتا ہوں وہ زیادہ توجہ دیں گے”

فائنل امتحانات کا جب نتیجہ آیا تو بیٹا دوم پوزیشن لے گیا۔ جب مجھے رزلٹ کا معلوم ہوا میں ملک سے باہر تھا، بیگم کو کہا “ مجھے نجانے کیوں لگتا ہے کہ سکول والوں نے اسے پوزیشن دے دی ہے تاکہ اس کا ابا پھر سوال پوچھنے نہ آ جائے”
بیگم نے جواب دیا “ پوزیشن تو یہ بچپن سے لیتا آرہا ہے آپ تو ہر بات پر زیادہ ہی سوچنے لگتے ہیں پہلا باپ دیکھا جو اپنے بیٹے کی پوزیشن لینے پر بھی شک کر رہا ہے”

مگر آپ ہی بتائیے ایسے “تعلیمی” حالات میں انسان کیا کرے, مہنگے سکولوں میں بچہ صرف سکول فیس کا ہندسہ ہے اور سرکاری سکول میں بچہ تعلیم کی بجائے سراسر اپنی ذہانت کے بل بوتے ہے یہاں تعلیم پلائی ہی تو جا رہی ہے

اکثر میں سڑکوں و گلی کوچوں سے گذرتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ پچاس فٹ چوڑی گلی میں پانچ مرلے کے پلاٹ کی تین منزلوں میں بنے دس بائی آٹھ کے نو کمروں میں ایک سو سے زائد نونہالوں کو بارہ ہزار روپے ماہانہ پر کام کرنے والی کوئی بچاری مس فرخندہ تعلیم پلا رہی ہو اور اس مکان کے باہر بڑے سے بورڈ پر ہائیڈل برگ پبلک اسکول (آکسفورڈ ایجوکیشن سسٹم سے تسلیم شدہ) لکھا ہو تو کس سے پوچھیں کہ آکسفورڈ ایجوکیشن سسٹم کب ایجاد ہوا تھا؟

پھر بھی شکر کیجیے کہ آپ کا اور میرا بچہ ان 65 لاکھ نونہالوں میں شامل نہیں جو روزانہ اسکول کو باہر سے دیکھتے گزرتے ہیں اور پھر جون ایلیا کے شعر مافق گزر ہی جاتے ہیں۔۔۔۔

اب سنورتے رہو بلا سے میری
دل نے سرکار خودکشی کر لی
Copied #

14/03/2022

Our head on culture day

14/03/2022

Culture day in my school

08/03/2022

Roof designing in school..

Want your business to be the top-listed Government Service in Sargodha?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Sargodha