SarGoDhA PeOpLE

Directions

SarGoDhA PeOpLE The term Sargodha has its origins in the words Sar, meaning pond (Talab), and Godha, meaning sadhu(Baba).@[228200627197125:]

Sargodha (Urdu: سرگودھا) is administrative center of Sargodha District of the Punjab province, Pakistan. Sargodha is the 11th largest city of Pakistan and 5th largest of Punjab. Sargodha is located in the north-east of Pakistan. It is known as Pakistan's best citrus-producing area. It is an agricultural trade centre with various industries.[2] Sargodha is one of the few planned cities in Pakistan, the other being Gwadar, Jauharabad, Dera Ghazi Khan, Faisalabad and Islamabad. Pakistan's largest airbase, PAF Base Mushaf (formerly PAF Base Sargodha), is situated in Sarghoda and hosts the headquarters of the Pakistan Air Force's Central Air Command. The airbase is also home to the Combat Commanders School (CCS), formerly the Fighter Leader's School, an elite training facility for training Pakistan Air Force pilots in fighter tactics and weapons.

سرگودھا کی ایک بچی کی تلاش میں مدد کریں۔۔!یہ بچی جس کی عمر 14 سال ہے، وہ ہفتے والے دن کو گھر سے لاپتہ ہے۔اسے تھوڑا سا دم...
25/06/2026

سرگودھا کی ایک بچی کی تلاش میں مدد کریں۔۔!

یہ بچی جس کی عمر 14 سال ہے، وہ ہفتے والے دن کو گھر سے لاپتہ ہے۔

اسے تھوڑا سا دماغی مسئلہ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے گھر والے بچی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں

جس دن یہ بچی گھر سے غائب ہوئی تھی، اس دن بچی نے سفید لباس اور نیلا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ اگر آپ نے کہیں بچی دیکھی ہے یا اس کے متعلق کوئی خبر ہو تو براے مہربانی ہمیں اطلاع کر دیں۔

پلیز اگر کسی کو پتا ہے تو ضرور اطلاع کریں والدین بہت پریشان ہیں۔

03045627848
03291560084
03428603562

سرگودھا کی ایک اور بیٹی 8 روز سے لاپتہ۔۔۔ننھی پری کے والدین غم سے نڈھال۔۔۔!سرگودھا کے چک 138 جنوبی کی رہائشی 8 سالہ  عرو...
23/06/2026

سرگودھا کی ایک اور بیٹی 8 روز سے لاپتہ۔۔۔
ننھی پری کے والدین غم سے نڈھال۔۔۔!

سرگودھا کے چک 138 جنوبی کی رہائشی 8 سالہ عروج ولد احمد شیر 15 جون دوپہر 2 بجے اپنے گھر سے لاپتہ ہے۔

عروج نے نیلے رنگ کا ٹراؤزر اور پیلے رنگ کی شرٹ پہنی ہوئی ہے، 8 روز سے اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

عروج کے والدین شدید پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ انہیں صدیوں کے برابر محسوس ہو رہا ہے۔

اگر کسی نے اس عروج کو کہیں دیکھا ہو یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتا ہو تو خدارا فوری طور پر درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔

📞 03006072279
📞 03006036730

آپ کی ایک کال، ایک پیغام یا ایک شیئر عروج کو اس کے بے چین والدین کی آغوش تک واپس پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ عروج کو خیر خیریت سے جلد از جلد اپنے والدین سے ملا دے۔ آمین 🤲🏻

23/06/2026

چڑیوں سے کہو شاخ نشیمن سے نہ اتریں
اس دور کا ہر شخص عقابوں کی طرح ہے

کتنی پیاری شہزادی تھی نا؟ایسے پھولوں کو تو بس مہکتے رہنا چاہیے تھا۔ یہ وہ پھول ہیں جو سراپائے انس و معصومیت ہوتے ہیں ۔ ا...
23/06/2026

کتنی پیاری شہزادی تھی نا؟
ایسے پھولوں کو تو بس مہکتے رہنا چاہیے تھا۔ یہ وہ پھول ہیں جو سراپائے انس و معصومیت ہوتے ہیں ۔

اللّٰہ ﷻ اس گڑیا کے درجات بلند فرمائے اور والدین کو صبر دے کیوں کہ کوئی بھی ان کے غم میں ان کے برابر شریک نہیں ہو سکتا جو آتشِ غم ان کی روح کو جھلسا رہی ہے وہ بھی بس وہی جانتے ہیں۔ لاشعوری کی اس عمر میں اس پہ اتنا قہر کہ اس کو خود معلوم نہیں کہ اس پہ کیا ظلم ڈھایا گیا۔ وہ کیا سوچتے سوچتے ان کتوں کا شکار ہوگئی کس حال میں اس کی جان گئی اس کو کوئی بھی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔

05/06/2026

موجودہ رجیم امریکہ کی شکرگزار ہے کہ اگر وہ ایران جنگ شروع نہ کرتا تو موجودہ رجیم اپنی نااہلی ، لاپرواہی معیشت کی ایسی کی تیسی مارنے کا الزام کس پر لگاتے ۔ اس لیے ٹرمپ انکا ریسکیو آفیسر بھی ہے

02/06/2026

پٹرول کی بڑھتی قیمتیں اورحکومتی ریلیف پر لیگی رہنما کی ویڈیو ایک بار پھر وائرل

01/06/2026

💥 ولیمے کے دن میں نے اپنی بیٹی کا سرخ جوڑا نہیں آنکھ کے نیچے پڑا نیل دیکھا۔
اُس کے شوہر نے ہنستے ہوئے کہا: "کبھی کبھی بیوی کو سبق سکھانا پڑتا ہے۔" 🥹💔

میرا نام نادیہ ہے۔

اور اُس دن میری بیٹی ایمان کا ولیمہ تھا۔

دو دن پہلے ہی نکاح اور رخصتی ہوئی تھی۔

گھر بھر میں خوشیوں کا شور تھا۔

رشتے دار تھے۔

تصویریں تھیں۔

دعائیں تھیں۔

اور وہ تمام خواب تھے جو ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے برسوں سے جمع کرتی رہتی ہے۔

ایمان ہمیشہ سے نرم دل بچی تھی۔

بچپن میں بجلی کڑکتی تو ڈر کر میرے ساتھ آ کر بیٹھ جاتی۔

بارش میں بھیگنا پسند تھا۔

مگر کسی کو ناراض کرنا نہیں۔

اسی لیے شاید اُس نے شادی کے بعد پیش آنے والی بات بھی مجھ سے چھپانے کی کوشش کی۔

ولیـمے کی شام جب وہ اسٹیج پر آنے کے لیے تیار ہو رہی تھی تو میں اُس کے پاس گئی۔

وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

مگر پھر میری نظر اُس کی بائیں آنکھ کے نیچے گئی۔

میک اپ کی تہہ کے باوجود ہلکا سا نیلا نشان دکھائی دے رہا تھا۔

میرا دل دھڑکا۔

میں نے فوراً اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔

"یہ کیا ہے؟"

وہ ایک لمحے کیلئے گھبرا گئی۔

پھر فوراً بولی:

"کچھ نہیں امی۔"

"دروازے سے لگ گیا تماں تھی۔

اور مائیں جھوٹ کی آواز پہچان لیتی ہیں۔

میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

وہ نظریں چرا گئی۔

بس اُسی لمحے مجھے سمجھ آ گیا کہ بات دروازے کی نہیں۔

مگر اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

"پلیز امی۔"

صرف دو لفظ۔

مگر اُن میں اتنی منت تھی کہ میں خاموش ہو گئی۔

ولیـمے کی تقریب شروع ہو گئی۔

لوگ مبارکبادیں دے رہے تھے۔

تصویریں بن رہی تھیں۔

اور میں مسلسل اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔

وہ مسکرا رہی تھی۔

مگر اُس کی مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچ رہی تھی۔

پھر دولہا، ارسلان، مائیک کے پاس گیا۔

سب سمجھ رہے تھے شاید محبت بھری کوئی بات کرے گا۔

کوئی دعا دے گا۔

کوئی خوبصورت جملہ کہے گا۔

مگر وہ ہنس کر بولا:

"اگر آج دلہن تھوڑی خاموش لگ رہی ہے تو فکر نہ کریں۔"

ہال میں ہلکی سی ہنسی پھیلی۔

وہ مزید بولا:

"کبھی کبھی نئی نئی شادی میں بیوی کو سبق سکھانا بھی پڑتا ہے۔"

اس بار ہنسی ذرا بلند تھی۔

کچھ دوست قہقہے لگا رہے تھے۔

کچھ رشتے دار مسکرا رہے تھے۔

مگر میری بیٹی کا رنگ اُڑ گیا۔

اور اُس کی انگلیاں میرے بازو میں پہلے سے زیادہ زور سے دھنس گئیں۔

مجھے اچانک سب سمجھ آ گیا۔

نیل۔

خوف۔

جھوٹی مسکراہٹ۔

سب۔

میں آہستہ سے اپنی کرسی سے اٹھی۔

ہال خاموش ہونے لگا۔

میں سیدھی مائیک کی طرف بڑھی جہاں ارسلان کھڑا تھا۔

ارسلان نے مجھے آتے دیکھا تو مسکرا دیا۔

شاید اُسے لگا میں کوئی دعا دینے آ رہی ہوں۔

میں نے مائیک ہاتھ میں لیا۔

اور پورے ہال کے سامنے صرف ایک سوال پوچھا۔

"یہ نیل بھی اُسی سبق کا حصہ ہے؟"

ہال پر جیسے خاموشی گر گئی۔

ارسلان کی مسکراہٹ ایک لمحے کو رکی۔

پھر وہ ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا:

"آنٹی، آپ بھی نا..."

"نئی نئی شادیوں میں ایسی باتیں ہو جاتی ہیں۔"

میں نے دوسرا سوال کیا۔

"تو یہ نیل آپ نے دیا ہے؟"

اس بار اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اُسے شاید پہلی بار احساس ہوا کہ بات اب مذاق سے آگے جا چکی ہے۔

وہ بولا:

"غلطی ہو گئی۔"

پھر فوراً ہنسا۔

"اتنی سی بات کو مسئلہ بنا دیا۔"

اُسی لمحے ارسلان کے والد کھڑے ہو گئے۔

"غلطی؟"

اُن کی آواز کانپ رہی تھی۔

"شادی کو دو دن ہوئے ہیں۔"

"اور تم ہاتھ اٹھانے کو غلطی کہہ رہے ہو؟"

پہلی بار ارسلان خاموش ہوا۔

اُس کی ماں نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا۔

"تم نے واقعی ایمان پر ہاتھ اٹھایا؟"

ارسلان جھنجھلا گیا۔

"امی پلیز..."

"بات کو بڑھائیں مت۔"

مگر اب بات اُس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔

میرا شوہر اسٹیج پر آیا۔

وہ ایمان کے سامنے کھڑا ہوا۔

اور نہایت آہستگی سے بولا:

"بیٹا۔"

ایمان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"اگر آج تم خاموش رہیں..."

وہ رک گیا۔

پھر بولا:

"تو کل ہر مار کے بعد یہی کہا جائے گا کہ پہلی بار تو معاف کر دیا تھا۔"

پورا ہال خاموش تھا۔

کوئی ہنس نہیں رہا تھا۔

کوئی ویڈیو نہیں بنا رہا تھا۔

سب صرف ایمان کو دیکھ رہے تھے۔

اور پہلی بار میری بیٹی نے سر اٹھایا۔

اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا۔

پھر ہمیں۔

اور آہستہ سے بولی:

"ابو..."

"میں گھر جانا چاہتی ہوں۔"

میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

میں نے آگے بڑھ کر اُس کا دوپٹہ درست کیا۔

بالکل ویسے ہی جیسے بچپن میں سکول بھیجتے وقت کیا کرتی تھی۔

پھر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اور کہا:

"چلو بیٹا۔"

اُس دن ولیمہ مکمل نہیں ہوا۔

کھانے لگے رہ گئے۔

تصویریں ادھوری رہ گئیں۔

مہمان خاموشی سے رخصت ہو گئے۔

کچھ لوگوں نے کہا رشتہ ٹوٹ گیا۔

کچھ نے کہا اتنی سی بات پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

مگر ایک ماں جانتی تھی...

اُس دن اُس کی بیٹی کا گھر نہیں ٹوٹا تھا۔

اُس دن صرف اُس کی خاموشی ٹوٹی تھی۔

اور بعض اوقات ایک لڑکی کی خاموشی ٹوٹ جانا...

اُس کی پوری زندگی بچا لیتا ہے۔ ❤️

Address

Sargodha
40100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SarGoDhA PeOpLE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share