راہ میں ہم ملیں کہاں
بزم میں وہ بلائیں کیوں
Mery AlfaaZ
Poetry Me Khush To Hu Lakin .. Mery AlfaaZ Roty hyn..
تو کیا طے ہے کہ تم کو عمر بھر نہ دیکھ پاؤں گا؟؟
ھاتھ پاوں میرے ،غالؔب کی طرح پھول گئے
مَیں نے سوچا تھا نہ مانے گا، مگر مان گیا
رفیع رضا
بیتے ھوئے ماہ و سال تن پر پہنے ھُوئے کپڑوں کی طرح نہیں ھوتے۔ یہ جسم پر تِل بن جاتے ھیں زبان سے کچھ نہیں کہتے بس جسم پر چپ چاپ پڑے رھتے ھیں۔
”اَمرتا پریتم“
”رسیدی ٹکٹ“ سے اقتباس
خود کو پوشیدہ نہ رکھو ، بند کلیوں کی طرح
پھول کہتے ھیں تمہیں سب لوگ ، تو مہکا کرو
”منظر بھوپالی“
بس اک اسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں
وہ کہہ رہا ہے مجھے رائگاں، تو ہاں! ہوں میں!
جسے دکھائی دوں، میری طرف اشارہ کرے
مجھے دکھائی نہیں دے رہا کہاں ہوں میں
میں خود کو تجھ سے مٹاؤں گا احتیاط کے ساتھ
تو بس نشان لگا دے جہاں جہاں ہوں میں
کسی نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو بھول گیا
مجھے کسی نے بتایا تو تھا، فلاں ہوں میں
ہر ایک شخص کو اپنی پڑی ہوئی ہے یہاں
مرا خیال ہے اپنوں کے درمیاں ہوں میں
کسی زبان کی چپ کے معانی جاننے ہیں؟
مجھے بتاؤ، خموشی کا ترجماں ہوں میں
میں کس سے پوچھوں یہ رستہ درست ہے کہ غلط؟
جہاں سے کوئی گزرتا نہیں، وہاں ہوں میں
ادھر ادھر سے نمی کا رساؤ رہتا ہے
سڑک سے نیچے بنایا گیا مکاں ہوں میں
جبیں پہ ہجر کی تحریر درج کرنے میں
کسی پرانے قلم کی طرح رواں ہوں میں
روز اک شخص کہانی سے نکل جاتا ہے
کتنے کردار اکیلے کو نبھانے ہوں گے
۔۔اتباف ابرک
آساں تو تھا مگر جواز نہ تھا
میداں چھوڑ دیں یہ رواج نہ تھا
طوفاں کے ظلم و شور کم نہ تھے
سمندر کسی طوفاں کا محتاج نہ تھا
تنقید، ترکیب، تذلیل، تحقیر سب تھیں
ہماری سرکشی کا بس یہ علاج نہ تھا
خواب تو تھے، مگر تنہائی بھی تھی
اس کل کا بس ایک آج نہ تھا
دل پر دستک شک بی تھی اضطراب کی
یقین سے اس کا بس امتزاج نہ تھا
ایماں کب نہ بکے سفر آشنائی میں
خودی بک جائے یہ معراج نہ تھا
تاریک دن بھی تھے رات کا کیا کہنا
ہوائیں بجھا دیں جسے میں وہ سراج نہ تھا
درد و کرب نئے وطن میں مقدر تھے
درویشی میں بس شہرت کا راج نہ تھا
ماضی بھی تڑپتا تھا من میں کبھی
اس خودی میں اس خودی کا بس تاج نہ تھا
مرنے کا غم نہ تھا ان کی بےوفائیوں سے
کم ظرفوں کو بس ہمارے برہم کا لاج نہ تھا
جرم بن گیا سر اٹھا کے جینا ہمارا
خوابوں کی تکمیل کا یہ سماج نہ تھا
ڈوبا کون نہیں ہے تلاش میں عاطف
نہ ابھریں ڈوب کے بس یہ مزاج نہ تھا
12/12/2020
میلیاں اَکھاں دھو نہ لئیے ؟
کسے بہانے رو نہ لئیے ؟
ایتھے اوھنُوں تکیا سی میں
ایتھے جَھٹ کھلو نہ لئیے ؟
"ولی محمّد عظمی"
اِک عجب سی جَنگ ہے مُجھ میں
کوٸ مُجھ سے ہی تَنگ ہے، مُجھ میں...!!!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sargodha
