05/05/2026
ایک پسماندہ علاقے میں ماہر ڈاکٹر کی زیر نگرانی میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں بزرگ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے اپنا مفت طبی معائنہ کروایا۔ کیمپ میں آنے والے تمام افراد کا مکمل چیک اپ کیا گیا، جس میں شوگر ٹیسٹ، وزن کی پیمائش اور دیگر ضروری معائنے شامل تھے۔ مریضوں کی بیماریوں کی تشخیص (Diagnosis) کے بعد انہیں باقاعدہ مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔
ہم ان تمام افراد اور اداروں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس میڈیکل کیمپ کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔
07/04/2026
مادی، ترقی، اخلاقی، تنزلی
میں نے ایک پوسٹ پڑھی، ایک نوجوان قابل مرد ڈاکٹر، ڈاکٹر احمد لطیف کے بارے میں، جو چار دن تک ہسپتال کی پارکنگ میں مردہ پڑے رہے اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔
یہ پوسٹ کسی عورت اداکارہ کے بارے میں نہیں تھی، جس کے والدین اس کی شوبز انڈسٹری میں جانے سے نالاں تھے، اس لیے انہوں نے اس کی کبھی خبر نہیں لی۔
نہ ہی یہ کسی بوڑھے والدین کے بارے میں تھی، جن کے بچے انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے اور وہ اکیلے مر گئے۔
یہ تو ایک نوجوان قابل مرد ڈاکٹر کی پوسٹ تھی، جس کی غیر موجودگی کا نہ تو والدین نے نوٹس لیا، نہ کسی دوست نے، نہ کسی بہن بھائی نے، نہ کسی جاننے والے نے۔
کیا یہ سب ہمارے رشتوں سے دوری اور سوسائٹی کی بے حسی کی طرف اشارہ نہیں کرتا؟
اور اسی لمحے مجھے رتن ٹاٹا کی وہ بات یاد آ گئی:
"One day you will realise that material things mean nothing. All that matters is the betterment of the people you love."
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر ہم اس شخصیت کو بھی سمجھیں، جس نے یہ الفاظ کہے…
رتن ٹاٹا بھارت کے مشہور کاروباری لیڈر، industrialist اور philanthropist تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دولت، طاقت، کاروبار، تعلیم اور عالمی شہرت کی وہ بلندیاں حاصل کیں جو عام انسان کے لیے صرف ایک خواب ہوتی ہیں۔
وہ 28 دسمبر 1937 کو ممبئی میں پیدا ہوئے اور Tata خاندان سے تعلق رکھتے تھے—ایک ایسا خاندان جو بھارت کے سب سے بڑے اور معتبر صنعتی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھارت میں حاصل کی اور بعد ازاں Cornell University (USA) سے architecture میں ڈگری لی، جبکہ Harvard Business School کے Advanced Management Program سے بھی تعلیم حاصل کی۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت صرف ایک businessman کی نہیں بلکہ ایک visionary leader کی تھی۔
1991 میں جب انہوں نے Tata Group کی قیادت سنبھالی، تو اسے صرف بھارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ عالمی سطح پر پھیلا دیا۔
انہوں نے Jaguar اور Land Rover جیسی برطانوی لگژری کار کمپنیوں کو خریدا، Corus Steel جیسے بڑے ادارے کو اپنے گروپ میں شامل کیا، اور Tetley Tea جیسے عالمی برانڈ کو acquire کیا—یہ سب ان کی غیر معمولی کاروباری بصیرت کا ثبوت ہے۔
ان کی قیادت میں Tata Group کی آمدنی 40 گنا تک بڑھی—جو انہیں دنیا کے طاقتور ترین business leaders میں شامل کرنے کے لیے کافی ہے۔
یعنی ایک ایسا انسان…
جس کے پاس دنیا کی ہر luxury موجود تھی…
وہ آخر میں ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ:
اصل چیز دولت نہیں—اصل چیز وہ لوگ ہیں جن سے آپ محبت کرتے ہیں۔
کبھی ہم خود سے سوال کریں…
آخر ہماری سوسائٹی میں ڈاکٹر لطیف اور اس جیسے نامعلوم کتنے ہی کیسز کی تعداد دن بہ دن کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟
؟
شاید اس لیے کہ ہم نے success اور سکون کی تعریف ہی بدل دی ہے۔
ہم نے کامیابی کو جوڑ دیا ہے:
اچھے گھر سے،
بڑی گاڑی سے،
بنگلے سے،
بہت سارے پیسے سے،
اور ایک luxurious زندگی سے…
…
ہم ان لوگوں کو بھولتے جا رہے ہیں
جو کبھی ہماری زندگی کا سب سے قیمتی حصہ ہوا کرتے تھے۔
Luxury اور سکون دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔
مگر ہم نے انہیں ایک ہی سمجھ لیا ہے…
ہم نے luxurious life کو ہی سکون سمجھنا شروع کر دیا ہے۔
ہم یہ مان بیٹھے ہیں کہ:
جتنی زیادہ سہولتیں ہوں گی،
اتنا ہی زیادہ سکون ہوگا…
لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
اگر ایسا ہی ہوتا…
تو پھر رتن ٹاٹا جیسا انسان،
جس کے پاس دنیا کی ہر luxury موجود تھی،
وہ آخر میں یہی کیوں کہتا؟
کہ
"All that matters is the betterment of the people you love."
آج ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی
اپنے رشتوں سے اتنے دور ہو چکے ہیں
کہ ہماری موجودگی یا غیر موجودگی سے
کسی کو فرق ہی نہیں پڑتا۔
یہ سب واقعات، یہ سب کہانیاں… محض خبریں نہیں ہیں—
یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں۔
ہم سب ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں
جس کا اختتام ہمیں خود بھی معلوم نہیں…
ہم نے کامیابی کے نام پر
اپنی ترجیحات بدل دی ہیں،
اپنے رشتے کھو دیے ہیں،
اور آہستہ آہستہ خود کو بھی کھو رہے ہیں۔
ہم نے luxury کو سکون سمجھ لیا،
اور سکون کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا…
یاد رکھیں—
تنہائی صرف خاموشی نہیں ہوتی،
یہ ایک ایسی چیخ ہوتی ہے
جو سنائی نہیں دیتی…
اور جب یہی تنہائی بڑھتی ہے
تو انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے
جہاں اس کی موت بھی خاموش ہو جاتی ہے—
بغیر کسی کو خبر ہوئے…
اب بھی وقت ہے…
خود کو روک لیں،
اپنے رشتوں کو سنبھال لیں،
اپنوں کے لیے وقت نکال لیں…
ورنہ وہ دن دور نہیں
جب ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں گے
جہاں انسان مر جاتا ہے…
اور کئی دن بعد کسی کو پتہ چلتا ہے۔
✍️ تحریر: سیدہ نادیہ شاہ
19/03/2026
🌟🌟 خودداری کی مسکراہٹیں
دو تصویریں ایک کہانی
زندگی کی اصل خوبصورتی دولت یا آسائش میں نہیں بلکہ اس مسکراہٹ میں چھپی ہوتی ہے جو ہم کسی اور کے چہرے پر لے آتے ہیں۔ یہ مسکراہٹیں بظاہر چھوٹی ہوتی ہیں، مگر ان کی چمک دلوں کو روشن کر دیتی ہے اور انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔
پیش کی گئی تصاویر ہمیں ایک ایسی حقیقت سے روشناس کرواتی ہیں جو اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ایک تصویر میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو گونگا اور بہرا ہونے کے باوجود ہسپتال میں محنت کر کے نہایت باعزت طریقے سے اپنا روزگار کما رہا ہے۔ اس کی خاموشی اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جسمانی کمی کبھی بھی انسان کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتی، اگر ارادہ مضبوط ہو۔
دوسری تصویر میں ایک نوجوان لڑکا ہے جو اپنے والد کے انتقال کے بعد اپنی ماں کا واحد سہارا بن چکا ہے۔ لیکن اس نے حالات کے آگے جھکنے کے بجائے خودداری اور محنت کا راستہ اپنایا۔ وہ بھیک مانگنے کے بجائے اپنی محنت سے روزگار کما رہا ہے۔ اس کے چہرے پر جھلکتی مسکراہٹ اس کے عزم، صبر اور ہمت کی عکاسی کرتی ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب ان جیسے افراد میں راشن تقسیم کیا گیا، تو ان کے چہروں پر جو خوشی، چمک اور سکون نظر آیا، وہ کسی بھی دولت سے بڑھ کر تھا۔ وہ مسکراہٹیں نہایت خالص، سچی اور دل کو چھو لینے والی تھیں۔
آج جب مجھے اس تقریب میں شامل ہونے کا موقع ملا تو میں نے ایک نہایت خوبصورت حقیقت کو قریب سے محسوس کیا۔
میں نے دیکھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن میں کسی قسم کا لالچ نہیں، بلکہ یہ اپنی محنت اور خودداری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری چھوٹی چھوٹی کوششیں اور معمولی سی مدد ان کے چہروں پر ایسی جینوئن اور خالص مسکراہٹ لے آتی ہے جو دل کو چھو لینے والی ہوتی ہے۔
یہ وہ سچی خوشی ہے جو آج کے دور میں ناپید ہوتی جا رہی ہے—ایک ایسی خوشی جو نہ بڑی بڑی عمارتوں، نہ قیمتی گاڑیوں، اور نہ ہی بڑی کامیابیوں سے حاصل ہوتی ہے۔
مجھے یہ حقیقی خوشی ان کے چہروں پر دیکھ کر محسوس ہوئی، اور اس کے ساتھ ایک عجیب سا سکون اور اطمینان بھی دل میں پیدا ہوا کہ ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا سبب بنے۔
یہ تصاویر ہمیں دو اہم پیغامات دیتی ہیں:
پہلا یہ کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی حتیٰ الامکان مدد کریں۔ ضروری نہیں کہ مدد بہت بڑی ہو، چھوٹے چھوٹے عمل بھی کسی کے دل میں خوشی پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی کی ضرورت پوری کرنا دراصل اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنا ہے، اور یہی اصل انسانیت ہے۔
دوسرا یہ کہ یہ لوگ ہمارے لیے ایک عظیم مثال اور ذریعۂ تحریک ہیں۔ ہمیں ان کی طرح خودداری، محنت، اور مستقل مزاجی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہوئے خود محنت کرنی چاہیے۔
میں سب لوگوں سے یہ گزارش کرنا چاہوں گی کہ آپ کو شاید اندازہ بھی نہ ہو کہ آپ کے یہ چھوٹے چھوٹے نیک عمل کسی کی زندگی میں کتنی بڑی خوشی لا سکتے ہیں۔
یہ نہ صرف اللہ کی رضا کا باعث بنتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے دل کو بھی ایک گہرا سکون اور اطمینان عطا کرتے ہیں۔
اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ:
"اللہ اُس بندے کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔"
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہم کسی کے چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ لا سکیں، تو ہم نہ صرف اس کی زندگی کو آسان بنا رہے ہوتے ہیں بلکہ اپنے کردار کو بھی خوبصورت بنا رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم کسی کے دل میں امید اور خوشی پیدا کر سکیں۔
✍️ تحریر:
Syeda Nadia Shah
✍️ تحریر:
Syeda Nadia Shah
18/03/2026
In the Holy Month Of Ramzan Mso syeda Nadia shah with the support of patient welfare society arrange aftar in whole DHQ Hospital sargodha.
Today with president pws Mso personally distributed aftar among patients,
18/03/2026
Medical social officer DHQ sargodha, with the coordination of patient welfare society arrange Eid Rashin pakges for the deserving patients of DHQ .
At this occasion from Health department Medical suprintendent DHQ Dr.Nayyer Abbas khan, Ams Dr.Tariq and media group coordinator Imran Goraya,
From social welfare depot Divsional director Shakira Noreen, Dylan.dir Zeeba Andleeb, Medical social officer Nadia shah
From patient welfare society president Haji Abdul Hmeed Joya, Finance secretary Haji Abdul Qadoos, office secretary Malik Mh.Akbar grace the event
18/03/2026
Eid distribution pages of Rashin in MSSU DHQ sargodha,among deserving patients.
Medical suprintendent DHQ Dr.Nayyer Abbas Khan
AMS Dr.Tariq Mahmood,Hospital media wing Imran gorya
From social welfare Department Div Dir Shakira Noreen, Dy.dir Zeeba Andleeb, Mso Mssu Nadia shah
From Patient welfare society, presidents Pws,Haji Abdul Hmeed Joya ,Finance Secretry,Haji Abdul Qadoos,office Secretry Malik Mh.Akbar grace the this event.
24/02/2026
Meeting with Distt Zakat officer sgd,regardimg the zakat medicine in MSSU and upcoming zakat activities