تحریک نفاذ اردو پاکستان ، سیالکوٹ

تحریک نفاذ اردو پاکستان ، سیالکوٹ

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from تحریک نفاذ اردو پاکستان ، سیالکوٹ, Social service, Sialkot.

08/09/2025

*انگریزی کے تسلط نے ہمارا تہذیبی استحصال کردیا ہے*

زبان کسی بھی قوم کی تہذیب، فکر، شناخت اور خودی کی علامت ہوتی ہے۔ جب کسی قوم کی اپنی زبان کو پسِ پشت ڈال کر غیر ملکی زبان کو حاکم زبان کا درجہ دے دیا جائے، تو وہ صرف لسانی نہیں بلکہ تہذیبی غلامی میں بھی مبتلا ہو جاتی ہے۔ آج پاکستان میں انگریزی زبان کا غلبہ صرف ایک تعلیمی یا دفتری مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک تہذیبی استعمار کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے نتائج قوم کے شعور، کردار، عدل، تعلیم اور خود اعتمادی پر گہرے اور مہلک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

انگریزی کا تسلط: پس منظر اور حقیقت

پاکستان کا قیام ایک نظریے اور تہذیب کی بنیاد پر ہوا۔ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ نے اس خطے کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں اسلامی اقدار، مشرقی روایات، اور قومی زبان اردو کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے ریاستی ادارے، تعلیمی نظام، عدالتی زبان، اور دفتری معاملات میں انگریزی زبان کو وہ بالادستی حاصل رہی، جو کسی نوآبادیاتی طاقت کی میراث معلوم ہوتی ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ:

عدالتوں میں فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں جو عام شہری کو سمجھ نہیں آتے۔

پارلیمان میں تقاریر کا وقار انگریزی بولنے سے مشروط ہے۔

ملازمتوں، تعلیم اور سول سروسز تک رسائی انگریزی زبان میں مہارت پر منحصر ہے۔

اور انگریزی کو "تعلیم یافتہ" اور "باشعور" ہونے کا پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔

تہذیبی غلبے کے مظاہر

1. فکری غلامی اور احساسِ کمتری: جب ایک قوم کو اپنی زبان، لباس، تہذیب اور روایات سے شرمندہ کیا جائے اور دوسری زبان و تہذیب کو "برتر" قرار دیا جائے، تو وہ قوم فکری غلامی کا شکار ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں آج انگریزی بولنے والوں کو ذہین، مہذب اور باوقار تصور کیا جاتا ہے، جبکہ اردو بولنے والوں کو کمتر، دیہاتی یا پسماندہ سمجھا جاتا ہے۔

2. تاریخی و دینی شعور سے دوری: اردو ہی وہ زبان ہے جس میں ہمارا دینی ورثہ، تحریک آزادی، فلسفہ اقبال، خطبات قائداعظم، اور اسلامی تاریخ محفوظ ہے۔ انگریزی کے غلبے نے نئی نسل کو اس ورثے سے کاٹ کر مغربی فلسفے اور ثقافت سے جوڑ دیا ہے۔

3. خاندانی و معاشرتی اقدار پر حملہ: میڈیا، نصاب اور معاشرتی رجحانات میں انگریزی اور مغربی تہذیب کی نمائندگی اتنی غالب ہو چکی ہے کہ نوجوان نسل اپنے والدین، بزرگوں اور اساتذہ کی اقدار کو پرانی، دقیانوسی اور غیر ضروری سمجھنے لگی ہے۔ ادب، زبان، لباس، اخلاق، طرزِ زندگی — سب مغرب کی نقالی بن چکا ہے۔

4. تعلیمی تفریق اور ذہنی طبقات: انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا کر ہم نے ایک اشرافیہ کلاس پیدا کی ہے جو عام عوام کی زبان، مسائل اور احساسات سے کٹی ہوئی ہے۔ انگلش میڈیم اور اردو میڈیم کا فرق صرف نصاب کا نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور سماجی تفریق کا فرق بن چکا ہے۔

5. خودی کا زوال: اقبالؒ نے "خودی" کو مسلمان کی اصل طاقت قرار دیا، مگر آج قوم اپنی زبان، لباس، انداز، فکرو فلسفہ، سب کچھ مغرب سے مستعار لے چکی ہے۔ نتیجہ: نہ ہم مکمل مغربی بن سکے، نہ اپنی شناخت پر قائم رہ سکے۔

نتائج: ایک تہذیبی المیہ

پاکستان میں موجود اکثریتی طبقہ تعلیم، انصاف، روزگار اور ترقی سے صرف اس لیے محروم ہے کہ وہ انگریزی زبان پر عبور نہیں رکھتا۔

قومی زبان اردو کو پسِ پشت ڈال کر ہم نے اپنی تعلیم، تہذیب، تاریخ اور خودی سب کچھ گروی رکھ دیا ہے۔

انگریزی کے اس مصنوعی تقدس نے قومی یکجہتی کو کمزور کر دیا ہے، اور قوم مختلف طبقاتی خانوں میں بٹ چکی ہے۔

حل: اپنی زبان، اپنی پہچان

1. اردو کا بطور سرکاری زبان نفاذ: آئینِ پاکستان، سپریم کورٹ کے فیصلے، اور عوامی خواہشات کے مطابق اردو کو فوری طور پر مکمل دفتری و تعلیمی زبان بنایا جائے۔

2. اردو ذریعہ تعلیم کا فروغ: تعلیمی نظام میں اردو کو تدریس کا بنیادی ذریعہ بنایا جائے، اور انگریزی کو بطور زبان سکھایا جائے، نہ کہ پوری تعلیم کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔

3. ثقافتی و ادبی احیاء: میڈیا، ادب، ڈرامہ، فلم، نصاب، اور سوشل پلیٹ فارمز پر اردو زبان اور مشرقی اقدار کی ترویج کی جائے۔

4. عوامی شعور کی بیداری: قوم کو یہ سمجھایا جائے کہ زبان کی برتری تہذیب کی بالادستی کا ذریعہ بنتی ہے، اور اپنی زبان اپنانا غیرت، شعور اور ترقی کا نشان ہے۔

نتیجہ

انگریزی زبان کا تسلط محض ایک لسانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، فکری اور قومی بقاء کا مسئلہ ہے۔ جب تک ہم انگریزی کے استعماری سائے سے نکل کر اپنی زبان، اپنے ادب، اپنے دین اور اپنی تہذیب کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک ہم ایک آزاد، خودمختار اور باوقار قوم بننے کا خواب پورا نہیں کر سکتے۔

قومی زبان اردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک قومی نظریے کی نمائندہ ہے۔ اگر ہم نے اسے اختیار نہ کیا، تو ہم صرف الفاظ نہیں، بلکہ اپنی شناخت کھو دیں گے۔

تحریر:
عطاءالرحمن چوہان
صدر تحریکِ نفاذ اردو پاکستان
📧 [email protected]
📞 0349-5059760

08/09/2025

قومی ترانہ جس میں صرف ایک لفظ اردو زبان کا ہے باقی سارے فارسی کے ہیں
ملاحظہ فرمائیں ترجمے کے ساتھ

08/09/2025
Want your business to be the top-listed Government Service in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Sialkot