09/03/2026
ایک رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کےایک نایاب جوتے نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا - بتایا جاتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی ایک ایسی کمپنی جو دنیا کے عام لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف مخصوص 1,000 امیر ترین اور بااثر خاندانوں کے لیے جوتے تیار کرتی تھی۔ ان جوتوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دنیا کے الگ الگ حصوں سے اکٹھا کیا جاتا تھا:
تلوے: نیوزی لینڈ کی ان نایاب گایوں کے چمڑے سے بنتے تھے جن کے سینگ نیلے اور کھال سنہری ہوتی ہے۔
اگلا حصہ (Toe): برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے تیار ہوتا تھا۔
اوپری حصہ (Back): افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کا چمڑا استعمال ہوتا تھا۔
اندرونی استر: ہرن کے نرم چمڑے سے بنتا تھا تاکہ پہننے والے کو مخملی احساس ہو۔
سلائی: اس میں وہ دھاگہ استعمال ہوتا تھا جس سے بلٹ پروف جیکٹس بنتی ہیں۔
کمپنی کا دعویٰ تھا کہ ان جوتوں کی پالش 50 سال تک نہیں اترے گی اور اگر انہیں مٹی میں دفن کر دیا جائے، تو سو سال تک ان کی چمک دمک برقرار رہے گی۔
افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کے ممبر تھے۔ جب ان کے کزن سردار داؤد خان نے ظاہر شاہ کا تخت الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا، تو انہوں نے بادشاہ کی دیگر چیزوں کے ساتھ اس کمپنی کی ممبر شپ بھی اپنے نام کروا لی۔ سردار داؤد اپنی پوری زندگی اسی کمپنی کے جوتے پہنتے رہے۔
اپریل 1978ء میں افغانستان میں "ثور انقلاب" آیا۔ کمیونسٹ نواز فوج نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ سردار داؤد خان کو ان کے خاندان کے 30 افراد سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انتقام کی آگ اتنی شدید تھی کہ ان کی لاش کو جیپ کے پیچھے باندھ کر کابل کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور پھر بغیر غسل، کفن یا جنازے کے دو گمنام اجتماعی قبروں میں دبوا دیا گیا۔
وقت گزرتا گیا اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ سردار داؤد خان کی باقیات کہاں ہیں۔ پھر 26 جون 2008ء کو کابل کے قریب ایک فوجی اڈے کی تعمیر کے دوران اتفاقاً دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔
وہاں موجود لاشیں مٹی بن چکی تھیں اور لباس بوسیدہ ہو چکے تھے، لیکن ایک ڈھانچے کے پاؤں میں موجود سیاہ بوٹ بالکل نئے لگ رہے تھے۔ ان کی چمک برقرار تھی، بکل سنہری تھی اور تلوے پر مگرمچھ کا نشان واضح تھا۔ انہی جوتوں کی بدولت سردار داؤد خان کی شناخت ممکن ہو سکی۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں ایک حکمران کی لاش اس کے چہرے یا ڈی این اے سے نہیں، بلکہ اس کے نایاب جوتوں سے پہچانی گئ
02/01/2026
"لَنْ أَخُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ"
(میں آپ سے کبھی بےوفائی نہیں کروں گا، اے رسولِ اللہ ﷺ)
یہ الفاظ تاریخ کے ایک سچے مجاہد، فخرالدین پاشا کے ہیں، جو انہوں نے روضۂ رسول ﷺ کے سامنے اس وقت کہے جب مدینہ منورہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران سخت محاصرے میں تھا۔
جب انگریزوں اور جزیرۂ عرب اور اس کے اطراف کے بعض عربوں نے مدینہ منورہ اور نبی ﷺ کے روضۂ اقدس کا محاصرہ کیا، تو وہاں ایک عظیم ہیرو موجود تھا: فخرالدین پاشا، جس کی عظیم شخصیت کو عیسائیوں نے جان بوجھ کر مسخ کرنے کی کوشش کی۔
یہاں عثمانی پاشا فخر الدین پاشا اور ان کے جنگجو سپاہی بیماری، بھوک، اور شدید تکلیف کا شکار تھے، یہاں تک کہ ٹڈی دل یعنی (ٹڈیاں) کھانے پر مجبور ہو گئے، لیکن پھر بھی انہوں نے گوارا نہ کیا کہ رسول اللہﷺ کا مبارک شہر انگریزوں کے حوالے کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ اس مردِ مجاہد پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنی تاریخ کو پڑھنےکی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
05/07/2025
اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا
فقیر کالا خان مری بلوچ صوفی تھے.
انگریزوں نے 1870 میں جب بلوچستان پر حملہ کیا تو فقیر کالا خان نے تسبیح چھوڑ کر بندوق اُٹھائی۔ پھر مزاحمت کی تاریخ رقم کر ڈالی۔ موجودہ بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان کی ایک پہاڑی پر انگریز آرمی کو چار سال تک روکے رکھا، برٹش آرمی توپوں بندوقوں سے مسلح گھیرا تنگ کرتی رہی مہینوں کے محاصرے سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پہاڑی پر قبضہ کیا گیا تو بھوک سے نڈھال کالا خان مری بلوچ اپنے دو ساتھیوں جلامی بلوچ اور رحیم علی بلوچ سمیت پکڑا گیا مقدمہ چلا
پھانسی کی سزا دی گی یہ تصویر 1891 میں پھانسی سے پہلے لی گئی جس میں کالا خان مری بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت پکڑا گیا۔
سوال یہ یے کہ ہم اپنے ہیروز سے لاعلم کیوں ہیں جان بوجھ کر انکی تاریخ قوم سے کیوں چھپائی گئی ؟ ان پر فلمیں ڈرامے کیوں نہیں بنے ؟
کالا خان بلوچ کو پھانسی کے بعد کلکتہ جو تار بھیجا گیا اس میں لکھا تھا" اس جیسا نشانہ باز نہ پہلے کوئی پیدا ہوا نہ کوئی آئندہ پیدا ہو گا"
29/06/2025
برف کی آغوش میں سوئے لوگ — کیلاکیتسوق کی حیران کن دریافت
1972 کا سال تھا۔ گرین لینڈ کی برفیلے اور سنسان خطے میں دو بھائی شکار کے ارادے سے نکلے تھے۔ وہ شاید ہر چیز کی توقع کر رہے ہوں گے، مگر جو کچھ ان کے سامنے آیا، وہ عقل کو حیرت میں ڈال دینے والا تھا۔ ایک چھپی ہوئی غار… اور اس غار میں آٹھ لاشیں… نہیں، یہ صرف لاشیں نہیں تھیں — یہ ممی تھیں، صدیوں پرانی، مگر حیرت انگیز طور پر محفوظ۔
یہ مقام بعد میں کیلاکیتسوق کے نام سے جانا گیا۔ ان ممیوں میں عورتیں تھیں اور ایک بچہ بھی… سب کے سب روایتی لباس میں ملبوس، جن کے دھاگے اور سلائی آج بھی گویا بولتے ہیں۔ ان کے چہروں پر نقش و نگار، ہاتھوں پر ٹیٹو، اور بالوں کی خوبصورتی سے گوندھی ہوئی چوٹیاں، گویا وقت کے آئینے میں 15ویں صدی کے انوٹ قبائل کی جھلک دکھا رہی تھیں۔
غار کی ٹھنڈک، خشک ہوا، اور پتھریلی پناہ گاہ نے ان جسموں کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔ سائنسدانوں کو ایسا خزانہ ہاتھ آیا، جو صرف آثارِ قدیمہ ہی نہیں، بلکہ طب، بشریات اور جینیات میں تحقیق کے لیے بھی ایک قیمتی ورثہ بن گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف سردی سے لڑنے والے شکاری نہیں تھے، بلکہ ان کی زندگی میں تہذیب، آرٹ، اور روحانی تشخص بھی گہرا تھا۔ ان کی جلد پر ٹیٹو روایتی کہانیوں اور شناخت کے نشان تھے۔ جسموں پر بیماریوں کے آثار بھی ملے — جیسے گٹھیا یا غذائیت کی کمی، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی زندگی آسان نہ تھی۔
اور سب سے اہم بات… ڈی این اے کے تجزیے سے ان قدیم لوگوں کی نسلوں کی نقل مکانی کے راز کھلے، جو ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ آرکٹک کے لوگ کس طرح دنیا کے مختلف حصوں سے جڑے ہوئے تھے۔
کیلاکیتسوق کی یہ ممی نہ صرف سائنس کے لیے ایک حیرت انگیز تحفہ ہیں، بلکہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانی کہانیاں کہیں بھی چھپی ہو سکتی ہیں۔ کبھی ایک سنسان غار میں، کبھی برف کے نیچے… بس ضرورت ہوتی ہے ایک نظرِ جستجو کی۔
برف کی چادر میں لپٹے یہ لوگ آج بھی خاموشی سے ہمیں پکار رہے ہیں — کہ آؤ، ہماری کہانی سنو.
15/09/2023
دنیا بھر کے مسلمان کعبہ مشرفہ اور مسجد حرام سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس پاک گھر کی زیارت کے لیے مشرق و مغرب سے مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ مگر خانہ کعبہ اور مسجد حرام کے ساتھ محبت و عقیدت کا جو اظہار ایک سعودی معمر شخص نے کیا، اس کی مثال تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔ عوض معوض الصبحی الحربی نامی یہ بابا جی تقریباً ایک صدی تک مسجد حرام میں باجماعت نمازیں پڑھنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ گوکہ اس نے نہ کوئی دینی تعلیم حاصل کی تھی اور نہ دنیوی۔ لیکن مسجد حرام سے لازوال تعلق کی وجہ سے وہ نہ صرف سعودی عرب میں مشہور تھے، بلکہ چہار دانگ عالم میں اس کا شہرہ تھا۔ لوگ اس سے دعائوں کی درخواست کرتے۔ تقریباً تمام عرب ٹی وی چینلز نے ان کا انٹرویو کیا تھا۔ آخری بار کسی سوشل میڈیا صارف نے ان کا مختصر انٹرویو کیا اور ان سے نصیحت کی درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ ہر حال میں تقویٰ اختیار کرو، والدین سے حسن سلوک کرو اور نماز ہمیشہ باجماعت ادا کرو۔
حرم شریف سے عقیدت کی برکت کہ رب تعالیٰ نے عوض معوض کو عمر بھی اتنی عطا فرمائی، جو اس دور میں باعث تعجب ہے۔ یہ شخص 1315ھ بمطابق 1897ء کو سعودی عرب کے علاقے القاحہ میں ایک چرواہے کے گھر پیدا ہوا۔ بچپن میں بکریاں چراتا رہا اور پھر مسجد حرام میں مقیم ہوگیا۔ گزشتہ برس 9 دسمبر کو اس کا انتقال ہوا۔ قمری حساب سے اس کی عمر 130 سال اور شمسی حساب سے 125 سال تھی!!!
’’عوض معوض الصبحی الحربی‘‘ تقریباً ایک صدی تک مسلسل مسجد حرام کی پہلی صف میں امام کے ساتھ کھڑے ہوکر باجماعت نمازیں پڑھتے رہے۔ اس دوران صرف ایک بار ایسا ہوا کہ ’’عوض الصبحی‘‘ مسجد حرام میں باجماعت نمازیں نہ پڑھ سکے۔ یہ اس وقت (1979ء) کی بات ہے، جب حرم شریف پر جہیمان کے پیروکار باغیوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے حجاج کرام کا قتل عام کیا۔ اس دوران چند روز تک حرم شریف میں باجماعت نمازوں کا اہتمام ہی نہیں ہو سکا تھا۔ اس کے علاوہ عوض الصبحی نے کبھی حرم شریف کی باجماعت نماز ترک نہیں کی۔ واضح رہے کہ مسجد حرام میں ایک نماز کا اجر ایک لاکھوں نمازوں کے برابر ہے۔ نیکیوں کے خوگر اس بزرگ نے کتنا اجرو ثواب کمایا ہے، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ گزشتہ 87 برس سے مسجد حرام میں مقیم تھے۔ اس دوران وہ ایک بار بھی مسجد حرام کی حدود سے باہر نہیں نکلے۔ اس لئے مکہ مکرمہ میں انہیں ’’حمامۃ الحرم‘‘ یعنی حرم شریف کے کبوتر کا نام دیا گیا ہے۔
مکہ مکرمہ سے شائع ہونے والے اخبار ’’مکہ نیوز‘‘ کے مطابق عوض الصبحی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود ہر نماز میں مسجد حرام کی پہلی صف میں موجود ہوتے۔ وہ اپنے اس معمول پر گزشتہ ننانوے برس سے عمل پیرا تھے۔ نماز کے بعد وہ دیوانہ وار مختلف دعائیں پڑھتے ہوئے کعبہ شریف کے گرد چکر لگانا شروع کردیتے تھے۔ پہلے وہ بغیر کسی سہارے کے خود طواف کیا کرتے تھے۔ اب وہ بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ مگر کمزوری کے باوجود بغیر وہیل چیئر کے صرف لاٹھی کے سہارے اپنے رب کے مقدس گھر کا چکر لگاتے رہتے۔
’’حرم شریف کے کبوتر‘‘ کا قصہ بڑا عجیب ہے۔ ان کا تعلق سعودی علاقے القاحہ سے ہے۔ یہ علاقہ مدینہ منورہ کے جنوب میں بدر کے قریب واقع ایک پسماندہ گائوں ہے۔ ’’بدر‘‘ وہی جہاں حق و باطل کا پہلا معرکہ ہوا تھا۔ عوض کے اہل خانہ بہت غریب تھے۔ والد بکریاں پال کر گزر بسر کرتے۔ ابتدا میں عوض بھی بکریاں چرایا کرتے۔ والدین کی وفات کے بعد وہ مکہ مکرمہ منتقل ہوئے اور الھنداویۃ نامی محلے میں مقیم ہوگئے۔ یہ تقریباً ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ ان کے دل میں کعبہ شریف کی بے حد محبت تھی۔ مکہ میں قیام کے دوران شروع میں وہ روزانہ حرم شریف جاتے اور تمام نمازیں وہاں باجماعت ادا کر کے صرف فجر کے بعد گھر واپس آتے۔ تقریباً 12 برس تک ان کا یہ معمول رہا۔ بعد میں حق تعالیٰ نے اپنے گھر کے ساتھ ان کی محبت کی قدردانی کرتے ہوئے حرم شریف میں ان کے مستقل قیام کا انتظام فرما دیا۔ ہوا یوں کہ اس دوران مسجد حرام کی تعمیر شروع ہوئی تو وہ اس میں کام کرنے لگ گئے۔ جب تک وہ اس تعمیراتی کمپنی (بن لادن گروپ) کے ساتھ منسلک رہے، وہ حرم شریف کے اندر ہی کام کرتے رہے۔ اس سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی حق تعالیٰ نے اسے حرم شریف میں ’’بواب‘‘ یعنی دربان کی ملازمت سے نوازا۔ وہ مسجد حرام کے دروازوں پر ڈیوٹی سر انجام دینے لگے۔ ضعیف العمری میں وہ اس ملازمت سے بھی ریٹائرڈ تو ہوگئے۔ مگر اب حرم کے علاوہ ان کا دل کہیں نہیں لگتا تھا۔ اس لئے وہ یہیں مقیم ہوگئے اور ان کا شمار حرم مکی کے اہم مشائخ اور بزرگ ترین مجاورین میں ہونے لگا۔ چونکہ عوض معوض کو دونوں ملازمتوں کی پنشن ملتی تھی، جس سے ان کا اچھا گزارہ چلتا رہا۔ اس لئے انہیں مالی حوالے سے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
عوض الصبحی تقریباً 87 برس تک مسجد حرام میں معتکف رہے۔ اس سے قبل 12 برس تک وہ اپنے گھر میں رہتے ہوئے ہر نماز مسجد حرام میں پڑھتے رہے۔ ان 87 برسوں کے دوران وہ صرف ایک بار بیمار ہوئے اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ ان کے بیٹے عویض الصبحی الحربی کا کہنا ہے کہ جب سے میں نے اپنے والد کو دیکھا تھا، وہ ہمیشہ (عیدین کے علاوہ) دن کو روزہ اور رات کو عبادت کرتے تھے۔ صرف چند گھنٹے ہی آرام کرتے۔ ان کی چوبیس گھنٹے کی زندگی آخرت کی فکر میں گزرتی۔ دنیا میں ان کا کوئی دوست نہیں تھا اور نہ وہ کسی سے دنیوی باتیں کرتے تھے۔
حرم شریف میں اس طویل قیام کے دوران عوض الصبحی نے تمام حالات و واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ سب سے بڑا سانحہ وہی تھا، جب 1979ء کے آخری دنوں میں جہیمان گروہ کے باغیوں نے مسجد حرام پر قبضہ کیا تھا۔ اس دوران تقریباً پانچ سو حجاج کرام شہید ہوئے تھے۔ پھر فوج کے کمانڈوز نے آپریشن کر کے تمام باغیوں کو گرفتار کر لیا اور بعد میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ عوض معوض کے 6 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
18/10/2022
National Geographic Picture of The Year. Black images are shadows of zebras. Zoom in and you will see zebras 🦓🦓🦓
07/10/2022
سورج کی 12 تصویریں ...!!
سال کے 12 مہینوں میں الگ الگ لی گئی ہیں جب کہ تاریخ اور وقت ایک ہی ہے ...!!
کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ....
02/05/2022
The Badshahi Mosque was constructed by the Mughal emperor Aurangzeb between 1671 and 1673 and was the largest mosque in the world from 1673 to 1986.
30/04/2022
Apple generated $97 billion in revenue in its latest quarter.
That’s $45 million every hour.
Or $13,000 every second.
23/04/2022
A 3300-year-old chariot bridge is still in use today. Arkadiko Bridge was built between 1300 and 1190 BC, making it one of the oldest still-used arch bridges still in existence. It was built on a road that linked Tiryns to Epidaurus, and was part of a larger military road system.
10/04/2022
Hotel Ochsen was built in 1543 and still going on. Zug, Switzerland 🇨🇭