03/07/2026
سیالکوٹ میں فٹبال کی تاریخ
قسط نمبر 2
اوبرائے اسپورٹس اور ماڈرن سیالکوٹ کے بانی "گنڈا سنگھ اوبرائے"
پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح 1889ء میں ایک مقامی زین ساز "سید صاحب" نے ٹوٹی ہوئی برطانوی فٹبال جوڑ کر سیالکوٹ میں سلائی کا پہلا ٹانکا لگایا۔ انگریز فوجی تو حیران ہوئے ہی، لیکن اس انفرادی ہنر کو دیکھ کر سیالکوٹ کے ایک دور اندیش شخص کے ذہن میں ایک بڑا وژن جنم لے رہا تھا۔
وہ شخصیت تھی سردار بہادر سردار گنڈا سنگھ اوبرائے کی، جن کے والد جھنڈا سنگھ اوبرائے نے سیالکوٹ میں کاروبار کی بنیاد رکھی تھی۔ گنڈا سنگھ اوبرائے نے بھانپ لیا کہ اگر اس مقامی ہنر کو ایک منظم شکل دے دی جائے، تو سیالکوٹ دنیا بھر میں کھیل کے سامان کا گڑھ بن سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر "اوبرائے اسپورٹس" (Uberoi Sports / Ganda Singh Uberoi & Co) کی بنیاد رکھی۔ یہ محض ایک فیکٹری نہیں تھی، بلکہ سیالکوٹ کی تاریخ کا پہلا باقاعدہ صنعتی انقلاب تھا۔ گنڈا سنگھ نے فٹبال بنانے کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا:
چمڑے کی کٹائی کے لیے جدید لوہے کے سانچے (Dies) بنوائے۔
سلائی کے معیار کو ایک خاص انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ پر لائے۔
انگلینڈ سے بہترین کوالٹی کا خام مال منگوا کر مقامی کاریگروں کو دیا تاکہ بین الاقوامی معیار کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اوبرائے اسپورٹس دیکھتے ہی دیکھتے تقسیمِ ہند سے پہلے پورے برصغیر کی سب سے بڑی اسپورٹس کمپنی بن گئی، جس کا مال لندن، پیرس اور نیویارک تک ایکسپورٹ ہوتا تھا۔ لیکن گنڈا سنگھ اوبرائے کا احسان سیالکوٹ پر اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ انہیں "ماڈرن سیالکوٹ کا بانی" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے کھیل کی صنعت سے کمایا ہوا پیسہ اسی شہر پر لگایا۔ انہوں نے سیالکوٹ میں اسپتال، تعلیمی ادارے اور جدید انفراسٹرکچر بنوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان کی فیکٹری مسلمانوں سمیت تمام مقامی لوگوں کے لیے ایک یونیورسٹی بن گئی۔ یہاں سے جس جس کاریگر نے ہنر سیکھا، تقسیمِ ہند کے بعد جب اوبرائے خاندان ہجرت کر گیا، تو انہی مسلم کاریگروں اور مقامی مینیجرز نے سیالکوٹ کی فٹبال انڈسٹری کو یتیم ہونے سے بچایا اور اپنے اپنے برانڈز کھڑے کیے۔
📜 تاریخی حوالہ: سیالکوٹ ڈسٹرکٹ گزٹیرز (1920ء کے ایڈیشنز) اور برطانوی ہند کے صنعتی ریکارڈز کے مطابق، سردار گنڈا سنگھ اوبرائے کو ان کی صنعتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت نے "سردار بہادر" کا خطاب دیا تھا۔ وہ سیالکوٹ میونسپلٹی کے اہم رکن رہے اور انہیں شہر کو جدید خطوط پر استوار کرنے والا مانا جاتا ہے۔