25/01/2017
پیار کا پہلا خط لکھنے میں وقت تو لگتا ہے
نئے پرندوں کو اُڑنے میں وقت تو لگتا ہے
جسم کی بات نہیں تھی اُن کے دل تک جانا تھا
لمبی دوری طے کرنے میں وقت تو لگتا ہے
گانٹھ اگر لگ جائے تو پھر رشتے ہوں یا ڈوری
لاکھ کریں کوشش کھلنے میں وقت تو لگتا ہے
ہم نے علاجِ زخمِ دل تو ڈھونڈ لیا لیکن
گہرے زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہے
ہستی مل ہستی
21/01/2017
اے دوست ذرا اور قریبِ رگِ جاں ہو
کیا جانے کہاں تک شبِ ہجراں کا دھواں ہو
میں ایک زمانے سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں
تم ایک زمانے سے خدا جانے کہاں ہو
میں اُس کو ترے نام سے تعبیر کروں گا
وہ پُھول جسے قربتِ شبنم بھی گراں ہو
شاید یہ میری آنکھ سے گِرتا ہوا آنسو
احباب کی بھولی ہوئی منزل کا نشاں ہو
ساحر صدیقی
21/01/2017
تجھے قریب سمجھتے تھے گھر میں بیٹھے ہوۓ
تری تلاش میں نکلے تو شہر پھیل گیا
عباس تابش
21/01/2017
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا
ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا
زمیں لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی
کھلے دریچے پہ اک گلدان چھوڑ گیا
جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپاۓ رکھتا تھا
بڑھی ہے دھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا
نکل گیا کہیں ان دیکھے پانیوں کی طرف
زمیں کے نام کھلا دربان چھوڑ گیا
عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے
جو گر گئ تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا
نجانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے
کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا
عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل
کہ اس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا...!
پروین شاکر
02/01/2017
کیسے بھولیں گی بھلا گزری ہوئی رات کا دکھ
فاحشاؤں کو ہے جسموں پہ نشانات کا دکھ
۔
مطمئن ہوں ترے جانے سے بہ ظاہر لیکن
کھا رہا ہے مجھے اندر سے اسی بات کا دکھ
۔
ہم ہیں دنیا میں نہ فردوس میں ہوں گے اک ساتھ
اس طرف طبقے ہیں اُس سمت ہے درجات کا دکھ
۔
ایک تو وہ ہے جو آتا ہے مرے حصے میں
باقی اس گھر میں اترتا ہے مضافات کا دکھ
۔
دور کی سوچنے والوں میں بہت بیٹھا ہوں
ان کی صحبت میں ملا ہے مجھے خدشات کا دکھ
۔
تیری آنکھوں سے سوا برسی ہیں آنکھیں میری
تیرے دکھ سے کہیں بڑھ کر ہے مری ذات کا دکھ
۔
ایک وہ شخص محبت سے اگر دیکھے شاہ
بھول جاؤں میں زمانے کی ہر اک بات کا دکھ
۔
شاہ زیب عکس.
02/01/2017
پیشگوئی کرنے والے کو رہا
حادثے کے واقعی ہونے کا غم
ادریس بابر
02/01/2017
۔
خیال و خواب، یقیں، وہم اور تنہائی
نمٹ رہا تھا ترا لمس ان درندوں سے
۔
افراسیاب کامل
02/01/2017
کیا ستم ہے کہ ہجر کے دن بھی
زندگی میں شمار ہوتے ہیں
تسنیم بانو
02/01/2017
رگوں کی رہداریاں سلامت
یہ درد چلنے کا راستہ ہے
ذی شان حیدر نقوی
02/01/2017
اب مجھ کو اہتمام سے کیجے سپرد خاک
اکتا چکا ہوں جسم کا ملبہ اٹھا کے میں
دلاور علی آزر
11/11/2016
نعت رسول مقبولﷺ
دلِ مضطر کا ہے اصرار بڑی مشکل ہے
کیسے ہو درد کا اظہار بڑی مشکل ہے
لاج رکھ لیجئے سرکار بڑی مشکل ہے
ہے بپا حشر کا بازار بڑی مشکل ہے
کوئی محسن ہے نہ غم خوار بڑی مشکل ہے
ایک سے ایک ہے بیزار بڑی مشکل ہے
کیسے پہنچوں گا میں اُس پار بڑی مشکل ہے
موجِ ساحل بھی ہے منجدھار بڑی مشکل ہے
دامنِ عفو ہے درکار بڑی مشکل ہے
اشک بہتے ہیں لگاتار بڑی مشکل ہے
یہ الگ بات اطبا بھی نہ پہچان سکے
میں مدینے کا ہوں بیمار بڑی مشکل ہے
سلکِ گوہر نہیں بنتا ہے یہ موتی آقا
چشمِ گریاں کا ہر اِک تار بڑی مشکل ہے
میری کشتی کا ہلاؔل آج نگہباں ہے خدا
بادباں کوئی نہ پتوار بڑی مشکل ہے
ڈاکٹر سیّد ہلاؔل جعفری