26/12/2024
کچھ غم بہت گہرے ہوتے ہیں
poetry lovers are here
26/12/2024
کچھ غم بہت گہرے ہوتے ہیں
01/12/2024
پیاسی خشک دھرتی سے ایک وعدہ نبھانا ہے
سمندر سے کوئی بادل ہمیں کھینچ لانا ہے
فقط پہرہ نہیں دینا ان تاریک گلیوں میں
ہمیں سوتے لوگوں کی قسمت کو جگانا ہے
عزم رصیح ہو تو دیتی ہے صدا خود منزل
حوصلہ ہو تو کوئی راہ بھی دشوار نہیں ہوتی
کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی
میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی
مان لو کہ زمانے میں اور بھی ہیں مجھ جیسے
صرف کچھ ارادوں سے منزلیں نہیں ملتیں
فیصلے یہ چاھت کے آسماں پہ ھوتے ہیں
دو دلوں کے ملنے سے قسمتیں نہیں ملتیں
دین اور دنیا کو ساتھ رکھنا پڑتا ہے
مسجدوں میں رہنے سے جنتیں نہیں ملتیں
طلبِ عشق مٹا دی ہم نے اسکو روکا نہ صدا دی ہم نے🥀
خواب لوگوں نے جلا ڈالے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے🍂🌺
♥ ✨🥀- .....
~° ہمیں کوئی پہچان نہ پایا قریب سے..🔥
` • کچھ اندھے تھے..!! کچھ اندھیروں میں تھے
🌺💦🥀🥀
19/12/2019
مجھے اپنوں نے لوٹا غیروں میں کیا دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا
وہ مجھے چھوڑ رہا تھا
اپنی تمام تر طاقت ہمت اور محبت کے ساتھ
ہاتھوں میں اس کا ہاتھ
لبوں پہ ٹہری ہوئی کوئی تشنہ سی بات
چاند بھی پورا تھا اس دہلیز پر
کچھ کہتے ہوئے نہ محسوس طریقے سے
میرا ہاتھ چھوڑتے ہوئے
وہ جا رہا تھا
چاند ڈھل چکا تھا
اک خوشبو تھی ٹہری ہوئی
میری آنکھوں پہ رکے ہوئے دو آنسو
میرا ہاتھ ہوا میں جامد
میرے ہونٹ لرزتے ہوئے
دل دھڑکتا ہوا
سانس اٹکی ہوئی
اور ذہن میں اسکی کہی ہوئی ایک ہی بات "بے وفا ہو تم"
انہیں کہنا
کہ ہم نے چھوڑ دی ضد
ان سے ملنے کی
تقاضے تشنگی کے
ساحلوں پہ چھوڑ آئے ہیں
ہمیں معلوم ہے
بے درد موسم کی رضا کیا ہے
ہم اپنے خواب سارے
پانیوں پہ چھوڑ آئے ہیں .....!!
30/09/2019
کہا تھا نہ💔