Citizen Voice and democracy

Citizen Voice and democracy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Citizen Voice and democracy, Social service, Swat.

15/02/2026

1973 آئین کی تحت بعض بنیادی حقوق
آرٹیکل نمبر 15
اس قانون کی تحت پاکستان کی ہر شہری آزادانہ گھومنے پھرنے کا حق رکھتا ہے اور وہ جہاں چاہیے رہائش اختیار کر سکتا ہے
آرٹیکل 18
اس قانون کے تحت ہر شہری اپنا کوئی بھی کاروبار، روزگار ، ملازمت وغیرہ جہاں اسے مناسب لگے قانون کی روشنی میں انجام دیں سکتا ہے
آرٹیکل 23
اس بنیادی حق کے مطابق کوئی بھی شہری ملک کے کسی حصہ میں جائیداد
کی خرید وفروخت جائز طریقے سے کرسکتا ہے
آرٹیکل 24
اس قانون کی مطابق ہر شہری کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ اس کے قانونی جائیداد کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہو گا
آرٹیکل 25
اس بنیادی حق کی مطابق پاکستان کی تمام شہریوں یکساں سلوک کے مستحق ہیں کسی کو زات، قبیلے، رنگ نسل اور علاقے کے بنیاد پر دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ھوگی

05/02/2026

جھوٹے وعدوں کی سیاسی نعروں کی ندامت کرتے ہیں
سوات تڑون قومی جرگہ تحصیل بابوزی کی فعال رکن ظہور احمد سلطان نے سیاسی جماعتوں کی عوامی وعدوں اور اس کی تکمیل کے موضوع پر ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا
پاکستانی سیاست میں نعروں کی گونج ہمیشہ حقیقت کی آواز پر غالب رہی ہے۔ انتخابی مہم ہو یا اقتدار کی دہلیز، عوام کو خواب دکھانا یہاں سیاست کا بنیادی ہنر سمجھا جاتا ہے۔ مگر جب ان خوابوں کا حساب مانگا جائے تو جواب یا تو خاموشی ہوتا ہے یا پھر الزام تراشی۔
“قرض اتارو، ملک سنوارو” حساب کہاں ہے؟
یہ نعرہ عوام کے دلوں میں اس امید کے ساتھ بٹھایا گیا کہ ریاست خود کفیل ہوگی، معیشت سنبھلے گی اور قرضوں کی زنجیر ٹوٹے گی۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہوا
انہوں نے کہا کہ “نیا پاکستان اور پرانا پاکستان کا نعرہ لگایا گیا
“نیا پاکستان” ایک تصور تھا: شفافیت، میرٹ، انصاف۔ مگر اقتدار میں آتے ہی وہی پرانے طریقے، وہی چہرے، وہی مفادات۔
اگر نظام واقعی نیا تھا تو:
احتساب سب کے لیے یکساں کیوں نہ رہا؟
فیصلوں میں تسلسل کیوں نظر نہ آیا؟
نعرہ نیا تھا، مگر عمل پرانا
نوجوان قیادت کی نام پر جو وعدے کیے گئے—ترقی، احتساب، ماڈل گورننس،
انتظامی شفافیت کے وعدے کیوں ادھورے رہے؟
اختلافِ رائے کو برداشت کیوں نہ کیا گیا؟
سیاسی بلوغت نعروں سے نہیں، نتائج سے ثابت ہوتی ہے۔
پاکستان میں سیاست دان وعدے کرتے وقت قیمت نہیں چکاتے—قیمت عوام ادا کرتی ہے:
مہنگائی میں
بے روزگاری میں
ٹوٹے ہوئے اعتماد میں
قومیں نعروں سے نہیں، سچ سے بنتی ہیں۔
اور ہر وعدے کے ساتھ ٹائم لائن اور حساب مانگا جائے
پاکستانی سیاست میں حقیقت سے زیادہ اعلانات ھوتے ھیں اور حساب سے زیادہ تاثر۔
گزشتہ عام انتخابات میں
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے 300 یونٹ بجلی مفت فراہم کرنے کے بیانات نے عوامی توجہ ضرور حاصل کی، مگر سوال یہ ہے کہ:
کیا قومی خزانہ اس کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے؟
توانائی کا شعبہ پہلے ہی خسارے میں ہے، گردشی قرض پہاڑ بن چکا ہے، اور بجلی کی پیداوار لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں مفت بجلی کے وعدے معاشی حقیقت سے زیادہ سیاسی خواہش محسوس ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا
“قرض اتارو، ملک سنوارو”
“نیا پاکستان”
ڈیم فنڈز، سیلاب فنڈز، فوری انصاف بھی سیاسی نعرے ثابت ہوئی
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ خالی نعروں پر یقین نہ کریں بلکہ عملی اقدامات اٹھائے پر زور دیں

26/01/2026

منگورہ سیدوشریف کو بگ سٹی کی تمام مراعات دی جائیں
رپورٹ بیورو چیف سوات)
منگورہ سیدوشریف جو ملاکنڈ ڈویژن کا ھیڈ کوارٹر ہے اور ابادی کی لحاظ سے صوبہ کی تیسرا بڑا شہر ہے آبادی کی حجم، تجارتی سرگرمیوں، ٹریفک کے دباؤ، تعلیمی اداروں، صحت کے مراکز اور روزمرہ مسائل کے تنوع کو دیکھیں تو یہ شہر عرصہ دراز سے عملی طور پر بگ سٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے تو پھر اسے وہ حقوق، مراعات اور سہولیات کیوں نہیں دی جا رہیں جو ملک کے دیگر بڑے شہروں کو حاصل ہیں؟
پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں کو سرکاری ملازمین اور بزرگ شہریوں کو بگ سٹی الاؤنس، ہاؤسنگ الاؤنس، ٹرانسپورٹ مراعات اور دیگر مالی سہولیات دی جاتی ہیں لیکن اس شہر کا صورتحال مختلف نہیں۔ کیونکہ کرایے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، ٹرانسپورٹ کے مسائل سنگین ہیں،سرکاری ملازمین آج بھی بگ سٹی مراعات سے محروم ہیں۔
یہ محرومی صرف ملازمین تک محدود نہیں۔ عام شہری بھی اس ناانصافی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ان خیالات کی اظہار سوات کے ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت ظہور احمد سلطان نے ایک مباحثہ میں حصہ لیتا ھوا کہا انہوں نے کہا شہر کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے، سیوریج، پینے کے پانی، ٹریفک مینجمنٹ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وہ توسیع اور معیار نظر نہیں آتا جو ایک بگ سٹی کا حق ہوتا ہے یہ شہر پورے خطے کی معیشت کا مرکز ہے
انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی سطح پر عدم توجہی اور سوات کو اب بھی ایک “سیاحتی قصبہ” سمجھنے کی فرسودہ سوچ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سوات اب صرف سیاحت نہیں، بلکہ مستقل آبادی، مستقل مسائل اور مستقل ذمہ داریوں والا شہر ہے۔ سیاحت کے سیزن میں تو حالات مزید گھمبیر ہو جاتے ہیں، مگر منصوبہ بندی صفر نظر آتی ہے۔
یہ مطالبہ کسی خاص طبقے کا نہیں، بلکہ اجتماعی حق ہے کہ:
منگورہ سیدوشریف کو باضابطہ طور پر بگ سٹی کا درجہ دیا جائے
بلدیاتی اور شہری اختیارات کو وسعت دی جائے اور اس شہر کےلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سیٹی پلان کو حتمی شکل دے کر منظور کیا جائے

09/01/2026

ایم ٹی آئی سیدو گروپ آف ہاسپٹلز پر لٹکتی ہوئی تلوار
سوات سے بیورو چیف کی رپورٹ
کمیونٹی ڈیولپمنٹ کونسل کے ایک اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سیدو گروپ آف ہاسپٹلز کو ایم ٹی آئی کی زریعے چلایا جا یگا
ایم ٹی آئی ایکٹ صوبہ کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کے بڑے ہاسپٹلرز میں نفاذ کر چکا ھے اس ایکٹ کے تحت ہاسپتالوں کو اندرونی خودمختاری دی گئی ہے اور بورڈ آف گورنرز کے ذریعے ہاسپٹلز کی تمام معاملات کنٹرول ھوتے ھیں بورڈ آف گورنرز میں سیاسی بنیادوں پر ممبران کی چناؤ کئے جاتے ہیں
حکومت اپنی مرضی سے ہاسپٹلرز ڈاریکٹر اور دوسرے اعلئ افسران کی تقرریاں بڑی مراعات اور پر کشش تنخواہوں سے کراتے ہیں جبکہ چھوٹے ملازمین کو دیلی ویجیز پر رکھتے ہیں ملازمت کی تحفظ یقینی نہیں ھوتی جس کی وجہ سے قابل لوگ یہاں کی ملازمت چھوڑ کر بھاگ نکلے ہیں
سیدو گروپ آف ہاسپٹلز ریاست سوات میں بنائی گئی صحت کی شعبہ کا ایک بہترین نمونہ ہے اور اس میں تمام سہولیات میسر ہیں جبکہ ایم ایم اے دور حکومت میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی محمد امین صاحب کے کوششوں سے جدید طرز کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوا اور اس کو ٹیچنگ اسپتال کا درجہ دیا گیا اور سیدو میڈیکل کالج کو اس ہسپتالوں کی ساتھ منسلک کیا گیا
سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ اب سیدو ہاسپتال ( سور ہاسپتال) ایم ٹی آئی کے زریعے چلایا جائیگا اور سینٹرل ہاسپتال کو DHQ کا درجہ دیا جائے گا اس فیصلے پر سواتی عوام میں ایک بار پھر تشویش پائی جارہی ہیں کیونکہ ممبران صوبائی اسمبلی نے عوامی نمائندوں سے وعدہ کیا تھا کہ تمام مراحل عوامی خواہشات کی مطابق طے کی جائینگے لہذا عوام کو اعتماد میں لیکر مناسب اقدامات اٹھائے جائیں
ایکٹ میں موجود خامیوں کو دور کرکے عوامی خواہشات کی مطابق بنائے جائیں اور اگر ممبران اسمبلی عوام کی ساتھ مخلص ھو تو پہلے سی ٹی سکین مشین اور ایم آر آئی جو گزشتہ کئی سالوں سے بے کار پڑے ہیں کار آمد بنانے جائے اور پہلے مرحلے میں DHQ کو تمام سہولیات فراہم کیا جائے جبکہ دوسرے مرحلے میں ایم ٹی آئی پر سوچا جا ئے

02/01/2026

ڈی آر سی پولیس اسٹیشن سیدو شریف سوات نے سالانہ کارکردگی براۓ سال 2025 جاری کر دی ہے
ڈی۔آر۔سی تھانہ سیدو شریف ، تڑون قامی جرگہ بابوزی کی فعال رکن اور سیدو اولسی جرگہ کی چیرمین ظہور احمد سلطان نے سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ
سالانہ کارکردگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ اگر نیت، دیانت اور عوامی خدمت کا جذبہ موجود ہو تو بغیر کسی طویل عدالتی پیچیدگی کی بھی انصاف کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ سالِ ڈی۔آر۔سی تھانہ سیدو شریف کو کل 477 درخواستیں موصول ہوئیں، جو اس امر کا ثبوت ہیں کہ عوام کا اعتماد ڈی۔آر۔سی پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان میں سے
241 مقدمات رضامندی (راضی نامہ) کے ذریعے حل کیے گئے،
84 مقدمات باقاعدہ فائل شدہ رہے،
جبکہ 142 مقدمات میں قانونی کارروائی (لیگل ایکشن) کی نوبت آئی۔
رضامندی اور فائل شدہ درخواستوں کو یکجا کیا جائے تو کل 325 مقدمات ایسے ہیں جنہیں ڈی۔آر۔سی نے براہِ راست سنبھالا اور عملی پیش رفت کی۔ ان میں ایک مقدمہ دفعہ 302 اور ایک مقدمہ دفعہ 324 جیسے حساس نوعیت کے کیسز بھی شامل ہیں، جو ڈی۔آر۔سی ممبران کی سنجیدگی، غیر جانبداری اور اعتماد کی سطح کو واضح کرتے ہیں۔
اسی طرح عوامی سطح پر ایک نہایت اہم پیش رفت یہ ہے کہ متنازعہ عوامی قرضہ جات کی مد میں 3 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار 500 روپے کی خطیر رقم وصول کروا کر مستحقین تک پہنچائی گئی۔ یہ کامیابی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان درجنوں خاندانوں کی بحالی اور معاشی سکھ کا ذریعہ بنی، جو برسوں سے تنازعات اور مالی دباؤ کا شکار تھے۔
ڈی۔آر۔سی کی کارکردگی کی وجہ سے
عدالتی نظام پر بوجھ کم ھو جاتی ھے
فریقین کے درمیان دشمنی کے بجائے مفاہمت کو فروغ دیتی ہے،
وقت اور پیسے دونوں کی بچت کا ذریعہ بنتی ہے،
اور معاشرے میں امن، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہے۔
تھانہ سیدو شریف کی ڈی۔آر۔سی نے ثابت کیا ہے کہ تنازعات کا حل صرف طاقت یا لمبے مقدمات میں نہیں بلکہ مکالمے، جرگہ روایات اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بھی ممکن ہے۔
ڈی۔آر۔سی کے تمام معزز ممبران، پولیس انتظامیہ اور وہ تمام افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اس پلیٹ فارم کو فعال، باوقار اور مؤثر بنایا۔ یہ سالانہ کارکردگی ایک مثال ہے کہ اگر اداروں کو عوام دوست انداز میں چلایا جائے تو انصاف محض کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آیے گا

27/12/2025

خپل کور نرسنگ کالج منگورہ سوات کا قیام
خپل کور فاؤنڈیشن منگورہ ضلع سوات خیبر پختونخوا کا اپنے نوعیت ایک جدید اور منفرد ادارہ ھے جو یتیم بچوں اور بچیوں کو مفت رہائش ،پرورش ۔ تعلیم وترتیب فراہم کر رہی ہیں
فاؤنڈیشن نے اس سال خیبرپختونخوا کے صوبائی حکومت اور دوسرے امدادی اداروں کی مالی معاونت سے نرسنگ کالج کے لیے ایک شاندار عمارت تعمیر کروایا ہے اور اس سال ادارے کے فارغ التحصیل طلباء وطالبات اور کمیونی کی دوسری طلبہ کے لیے چار سالہ بی اس این داخلوں شیڈول جاری کردیا گیا ہے
فاؤنڈیشن نے تمام قانونی تقاضے اور ضروری فائل ورک مکمل کیا ھوا ھے اور کالج کےلئے اعلیٰ کوالیفائد ٹیچنگ اور ٹیکنکل اسٹاف تعینات کیا ہیں بہترین لیبارٹریز اور لائبریری اعلی قسم کے میڈیکل آلات وغیرہ کا بندوست کیا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان نرسنگ کونسل کی وزیٹ کمیٹی عدم تشکیل کی وجہ سے گزشتہ کئی مہینوں سے خپل کور نرسنگ کالج کا وزیٹ زیر التوا ہے اور اس سال طلباء وطالبات داخلوں سے محروم ھونے کا خدشہ ہے لہذا آر باب اختیار سے مطالبہ ہے کہ جلد ہی وزیٹ کمیٹی تشکیل دیکر ادارے کا وزیٹ کرکے نرسنگ کونسل ادارے کو عارضی بنیادی پر داخلوں کی اجازت دی جائے تاکہ یتیم بچوں اور بچیوں کا قیمتی سال ضائع نہ ہو جائے

21/12/2025

آرٹیکل 25A 1973 آئین پاکستان کا ایک اہم آرٹیکل ہے، جو حق تعلیم کے حوالے سے ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت:
"دولت کو پانچ سے سولہ سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لاجواب تعلیم فراہم کرنا ہوگی۔"
یہ آرٹیکل 2010 میں 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان میں تعلیم کو بنیادی حق بنانا اور اسے یقینی بنانا ہے کہ تمام بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔
آرٹیکل 25A کے تحت، حکومت کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پانچ سے سولہ سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لاجواب تعلیم فراہم کرے۔ اس میں تعلیم کی معیار، اسکولوں کی تعداد، معلمین کی تربیت، اور تعلیمی مواد کی فراہمی جیسے امور شامل ہیں۔
تاہم، اس آرٹیکل کے نفاذ میں ابھی تک کافی چیلنجز ہیں، جیسے کہ:
- تعلیمی نظام کی کمزوری
- معلمین کی کمی
- اسکولوں کی خراب حالت
- تعلیمی مواد کی کمی
- والدین کی آگاہی کی کمی
ان چیلنجز کے باوجود، آرٹیکل 25A ایک اہم قانون ہے جو پاکستان میں تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ان چیلنجرز سے نمٹنے کیلئے سماجی تنظیموں اور روایتی جرگہ کا کردار بہت اہم ہے لہذا والدین کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور خاص کر بچیوں کو اسکول میں داخل کرایا
حکومت اور ممبران اسمبلی سے مطالبہ کیا جائے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ بچوں کو گھر کی دہلیز پر تعلیمی سہولتیں فراہم ھوسکیں

17/12/2025

مسجد کی پش امام اور بحیثیت مسلمان نمازی ھمارے زمہ داری اور مسجد/محلہ کمیٹی کا کردار
سینیر قانون دان غلام احمد ایڈوکیٹ‏ اور ایک سیل مین کے درمیان گفتگو
آپ کہتے ہے کہ آج میں بازار جوتا خریدنے گیا
دُکان میں داخل ہُوا تو مردانہ ورائٹی کی جانب ایک خوبصورت چہرہ، سفید ٹوپی ، سنت سے سجی داڑھی اور سفید لباس میں ملبوس انسان نے خوش آمدِید کہتے ہُوئے مختلف ڈیزائن دکھائے,
میں نے ان کا دینی حلیہ دیکھتے ہوے پوچھا:
آپ کا نام کیا ہے؟
میرا نام ریحان ہے۔
آپ کی تَعلِیم؟
دِینی تَعلِیم دَرسِ نظامی (فضیلت)، اور‏ دُنیوی تَعلِیم بی اے تک۔
کتنا عرصہ ہوا یہاں کام کرتے؟
دو ماہ ہونے کو ہیں۔
آپ کو کوئی اور کام نہیں مِلا؟
ایک مدرسے میں معلّم کے پیشے سے منسلک تھے اور قریب کے مسجد میں امام بھی,
الحمدللہ میں اپنی زندگی میں بہت خوش تھا.
بس اس مہنگائی کے باعث گھریلو حالات سے مجبور ہو کر رزقِ حلال کی تلاش میں ایک امام اور مدرسے کا استاد ہونے کے ناطے اپنی تمام تر حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے اس طرف رخ کیا۔
آپ کی تَنخواہ کِتنی ہے؟
ماہانہ 17 ہزار مِلتے ہیں، روزانہ کا سَو روپیہ، اور کمِیشن الگ ہے۔
مسجد اور مدرسے سے کل تنخواہ کتنی تھی؟
‏امام نے افسردگی کے عالم میں بتایا 8 ہزار!
میں خاموش ہو گیا، میرے پاس الفاظ ختم ہوگئے.
مجھ سے صرف اتنا ہو سکا کہ جوتوں کا ڈبہ ان کے ہاتھ سے لے لیا.
وہ اصرار کرتے رہے کہ میں پہنا کر چیک کرواتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے، لیکن میں نے ایسا نہیں کرنے دِیا.
میرا ضمیر مجھے بار بار کہہ رہا ‏تها کہ اِن ہاتهوں کو بوسہ دو!
کسی وقت یہ ہاتھ مُقَدَّس کتابیں قرآن، تفاسیر،احادیث، مسائل اور دیگر اسلامی کتب اُٹهایا کرتا تھا
لیکن آج وہی ہاتھ جوتے اور چپل اٹھانے پر مجبور ہے۔
انھوں نے بھی مدرسہ میں اتنی ہی کتابیں پڑھیں اتنے ہی سال لگاۓ صرف اسکا نام مدرسہ یا دین سیکھنے کی اتنی بڑی سزا تو نہ دیں
صبح شام خود پڑھنے اور تحقیق کا درس دینے والوں سے پوچھیں کہ وہ علمی درسگاہ کیوں گۓ گھر کیوں نہ سیکھا، مولوی لفظ کا مذاق بند کریں علماء کی عزت کریں انکی قدر کریں انھیں اتنا آسودہ حال تو بنائیں کہ وہ فکرِ معاش کے جھمیلوں کی جگہ آپکی مصروفیات کے باوجود آپ کو دینی شعور باہم پہنچائیں۔

کہا جاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے ، رہتے،،،،،
"پہلا سوال یہ کہ میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں کے نہیں... کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھا کہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہے
دوسرا یہ یہ کہ علماء واقعی انبیاء کے وارث ہیں؟ یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہِ وقت یا کسی با اختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا
تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں،،،،
انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہتے تھے
ایک مرتبہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کے راستے میں ایک طالبعلم کو دیکھا جو کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دئیے کے پاس کھڑا ہے ہوا چلتی ہے تو یہ طالب علم دئیے کے ذرا قریب ہوجاتے ہے زیادہ آگے بھی نہیں بڑھ سکتے کہیں کباب فروش یہ نہ کہدے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیوں ہو
سلطان محمود نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مشعل اس طالب علم کو دیا جائے،،،،
خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے،،، اسی رات
خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطان محمود کو اپنے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے،
"اے سبکتگین کے بیٹے،،،،تیرے جنت میں جانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ،،،،،تو نے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا...!
لہٰذا کسی اللہ والے سے دوستی لگائیں اسکی گزر بسر جانیں اور اپنی ذمہ داری سمجھیں
ہم سیکھ نہیں سکتے تو سکھانے والے کی ہمت بن کہ صدقہ جاریہ تو کما سکتے ہیں۔ ثواب کے لالچ میں ہی سہی نیکی کی تجارت کرلیں
امام مسجد، عالم دیں، کسی بھی اللہ والے کے گھر کے افراد اور اسکی آمدن پوچھ کے جیسا اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہیں ذرا بنا کے دیکھیں۔
*خدارا اپنے علماء کی عزت کریں!*
*اپنےمسجد امام کی عزت کریں!*

14/12/2025

پختون قوم کی ناکامی کی وجوہات اور ممکنہ حل
1. *تاریخی جغرافیائی تقسیم*: - پختون علاقے تاریخی طور پر مختلف سلطنتوں اور قبضوں کا حصہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی اتحاد کمزور ہوا۔ - برطانیہ حکومت نے "ڈیوڈ آئی اینڈ رول" پالیسی اپنائی، جس نے قوم کو تقسیم رکھا۔
2. *قبائلی نظام اور تشدد*: - قبائلی نظام میں قوم زیادہ منقسم رہی، جہاں ملکیتی اور شخصی مفادات غالب رہے۔ - خون کے بدلہ، انتقام، اور بدلے کی روایات نے قوم کو ترقی سے دور رکھا۔
3. *تعلیم کی کمی*: - پختون علاقوں میں تعلیمی نظام نسبتاً کمزور رہا، جس کی وجہ سے عوام آگاہی اور ترقی سے محروم رہے۔ اور خاص کر خواتین کو -مقامی سطح پر تعلیمی مواقع کم ہیں
4. *سیاسی عدم استحکام*: - 1947 کے بعد پختون قوم کو سیاسی طور پر استحکام نہیں مل سکا۔ افغان جنگ (1979-1989) اور طالبان دور (1996-2001) نے قوم کو شدید نقصان پہنچایا۔ - پاکستان میں سیاسی کشمکش (مثلاً افغان شہریت کا مسئلہ، مختلف پارٹیوں/تحریک) نے قومی اتحاد کو کمزور کیا۔
5. *اقتصادی محرومی*: - پختون علاقے میں صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کاروبار اور تجارت میں ان کا کردار کم ہے۔ - فاٹا میں بیروزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ مجبوراً غیر قانونی سرگرمیوں (مثلاً سمگلنگ) میں ملوث ہوتے ہیں۔
6. دہشت گردی* دہشت گردی نے قوم کو بدنام کیا اور عالمی سطح پر ان کی تصویر خراب کی۔ - پختونوں کے خلاف تشدد اور خودکش حملے (مثلاً آرمی پبلک اسکول حملہ 2014) نے قوم کو خوفزدہ کیا۔
7. *قوم پرستی کی غلط فہمی*: - پختون قوم پرستی کو بعض اوقات بیرونی طاقتوں (افغانستان، روس، امریکہ) نے استعمال کیا، جس سے داخلی اتحاد کمزور ہوا۔ -پختوں قوم کی اتحاد و اتفاق کے لیے کوششیں کی گئی ہے لیکن اندرونی اختلافات کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ھوسکیں
8. *سماجی روایات*: - روایتی سماجی نظام (مثلاً بدلے کی روایات، ننگ، پختون ولی) نے ترقی میں رکاوٹ ڈالی۔ - عورتوں کی تعلیم اور حقوق کی محرومی نے نصف آبادی کو ترقی سے دور رکھا۔
9. *دہشت گردی کے خلاف جنگ*: - امریکہ کی "وار آن ٹیرر" میں پختون علاقے نشانہ بنے، جس سے شدید نقصان ہوا۔ - ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز (مثلاً ضرار، ردالفساد) نے آئینی حقوق پامال کیے۔
10. *ڈیورلائزیشن اور بے گھر ہونا*: - سوویت جنگ اور طالبان دور میں لگوں کی بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے سے قوم کی ترقی متاثر ہوئی۔ - آج بھی آئی ڈی پیز (Internally Displaced Persons) کی شکل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
11. صوبائی خودمختاری اور مقامی وسائل
پختون قوم کو اپنے وسائل پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہے بدقسمتی سے یہاں کی معدنیات دوسرے صوبوں کی کارخانوں کی را میٹریل کے طور پر استعمال ھوتے ھیں اور سستی مزدور پختون قوم کی جوان بن جاتے ہیں
*حل کی تجویزات*:
1. تعلیم پر توجہ دیں اور سماجی اصلاحات لائیں۔
2. سیاسی استحکام کے لیے قومی اتحاد پر زور دیں۔
3. اقتصادی ترقی کے منصوبے شروع کریں (مثلاً سی پیک، صنعتی زونز)۔
4. پختون قوم کو بنیادی حقوق کے لیے عوامی آگاہی حاصل کریں
5. روایتی تشدد اور قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
6. مقامی جرگوں میں مقامی مسائل کا حل تلاش کرنا
7. انفرادی سوچ کی بجائے اجتماعی سوچ پروان چڑھانا
8. مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا
9. تعلیم و تربیت کی ساتھ ہنر مند افراد پیدا کرنا
10. آپس میں معمولی کی اختلافات کو ختم کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ احترام و عزت سے پیش انا
اس کے علاوہ اور بھی وجوہات اور حل ایک کا ایک جامع تجزیہ ھو سکتا ہے، لیکن قوم کی ترقی کے لیے اندرونی اتحاد اور بیرونی تعاون ضروری ہے۔

03/12/2025

ملکی ترقی اور امن و امان کو قائم کرنے کے لیے پاکستان کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے
اس وقت پاکستان کی ابادی تقریباً 25 کروڑ ہیں اور صوبہ پنجاب کے ابادی 12 کروڑ ہے
صوبوں کے لیے پہلے ہی عوامی مطالبات سامنے آئیں ہیں MQM نے کراچی کو جناح پور صوبہ کا مطالبہ کیا ہے صوبہ سرائیکی اور بہاولپور کو پنجاب اسمبلی نے قرارداد پاس کیا ہے سابق قبائل فاٹا صوبہ قبائلستان کا مطالبہ کر رہے ہیں ملاکنڈ ڈویژن کی عوام بھی صوبہ ملاکنڈ کے مطالبہ کے لیے حق بجانب ہیں
اس سلسلے میں
خیر پختونخوا کے صوبائی اسمبلی نے گزشتہ روز صوبہ ہزارہ کی قیام کے قرارداد کی منظوری دی ہے اور نئ بحث چھڑ گئی ہے
2010 میں اس وقت کی عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت کی مطالبہ پر اٹھارویں آئینی ترمیم کے زریعے صوبائی خود مختاری اور صوبہ کو اپنا پہچان کے لیے صوبہ کا نام شمالی جنوبی سرحدی صوبے سے تبدیل کرکے پختونخوا رکھنے کے تجویز سامنے آئیں تو ہزارہ ڈویژن کے عوام نے اس کو یکسر مخالفت کی اور صوبہ کی نام کے ساتھ لاحقہ، سابقہ لگا کر ہزارہ پختونخوا ،خیبر پختونخوا کے تجویز دی گئی تھی اس وقت کی وفاقی حکومت مسلم لیگ (ن) نے اپنے سیاسی ساکھ کو بچانے کے لیے صوبہ کا نام خیبرپختونخوا رکھا تھا جس پر ہزارہ کی بعض سیاسی پنڈتوں نے احتجاج کیا اور صوبہ ہزارہ بحالی تحریک کا آغاز کیا احتجاج کے دوران بے گناہ شہریوں کو موت کی گھاٹ اتارے گئے اور اس طرح یہ تحریک اپنے موت آپ مر گیا لیکن اس تحریک کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے 2013 کے جنرل الیکشن میں تحریک بحالی صوبہ ہزارہ کی نام سے الیکشن میں حصہ لیا گیا تھا جسے عوام نے مسترد کرکے ھمیشہ کے لئے اس تحریک کو ختم کردیا تھا لیکن 15 سال بعد پھر کیا سیاسی ضرورت پیش آئی کہ دوبارہ اس سیاسی اور لسانی مسلہ کو چھڑا گیا ہے اس وقت ہزارہ ڈویژن میں ھند کو زبان صرف ڈھائی اضلاع ایبٹ آباد،ہرہپور اور مانسہرہ کے آدھی حصہ میں بولی جاتی ہے جبکہ ضلع بٹ گرام،تورغر میں مکمل اور مانسہرہ، کوھستان کی کچھ حصوں میں پشتو زبان بولی جاتی ہے اور اس طرح کوھستانی تین اضلاع میں کوھستانی زبان بولی جاتی ہے اس وقت ہزارہ ڈویژن کی کل ابادی تقریباً 55 سے 60 لاکھ ہے اور اس طرح ڈھائی اضلاع کے ابادی 30 سے 35 لاکھ بنتی ہے تو اس بنیاد پر صوبہ کی مطالبہ کر نا کہاں کا انصاف ہے
جبکہ دوسرے طرف ملاکنڈ ڈویژن میں شامل اضلاع سوات،دیر اور چترال اندرونی خودمختاری ریاستے تھیں ان تین ریاستوں سے دیر لوئر، اپر،چترال اپر،لوئر، سوات بونیر آور شانگلہ 7 اضلاع نے جنم لیا ہے جبکہ باجوڑ اور ملاکنڈ ایجنسی بھی ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے جس کے ابادی تقریباً ایک کروڑ ہے جو صوبہ کا 25 فیصد بنتی ہے اور 90 فیصد لوگ پشتو زبان بولی ہیں یہ 9 اضلاع سابق پاٹا اور فاٹا کا حصہ تھے جو عوامی مرضی کی بغیر 25 آئینی ترمیم کے زریعے سیاسی مقاصد کے لیے ان کا خصوصی حیثیت ختم کیا گیا ہے جس پر ملاکنڈ ڈویژن کی عوام سراپا احتجاج ہیں
ملاکنڈ ڈویژن معدنیات،جنگلات اور آبی ذخائر سے مالا مال ڈویژن ہے اور اس کا ایک حصہ افغانستان اور چین کے ساتھ لگا ھوا ھے ضلع بٹگرام،تورغیر اور کوھستان کی تین اضلاع کو ایک نئی ڈویژن اباسین کی نام سے قائم ھو سکتا ھے چونکہ ان علاقوں کی رسم و رواج،مذہبی لگاو، رہن سہن موسم وغیرہ ایک جیسا ہے اور پہاڑی سلسلے آپس میں جوڑے ھوے ہیں اس طرح اباسین اور ملاکنڈ ڈویژن کو ملا کر ایک مظبوط اور مستحکم صوبہ بن سکتا ہے
پاکستان کے دوسرے صوبوں کو بھی انتظامیہ یونٹوں میں تقسیم کرکے پاکستان امن،خوشحالی اور ترقی کی راستے پر گامزن ہو سکتا ہے

27/11/2025

پروفیسر سید حیدر علی شاہ سرپرست اعلیٰ دانشکدہ فورم ملاکنڈ ڈویژن نے سوات کی تمام جرگوں زمہ داران اور خاص کر سوات قومی جرگہ ،بریکوٹ قومی اصلاحی تحریک تحصیل بابوزی کی تڑون قامی جرگہ اور دوسرے تحصیلوں اور مقامی جرگوں سے
آپیل کی ہے کہ
اہلیان سوات اس وقت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں ، اخلاقی انہتات ، معاشرتی بگاڑ ، گھناونی جرائم و فسادات کا شکار ہے اس وقت پورا معاشرہ ایک منحوس چکر و گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہمارے معاشرے میں رفتہ رفتہ اور دن بدن بگاڑ ، جنسی جرائم ، تشدد ، فحاشی ، منشیات ، لاقانونیت ، دنگا فساد ، چوری ڈکیتی اور سٹریٹ کرائمز جیسے خطرناک جرائم میں مذید اضافہ ہو رہے ہیں لیکن ان تمام جرائم میں سب سے سرفہرست منشیات کا مکروہ و مہلک دھندہ ہے۔
آیک حساس اندازے کے مطابق ڈرگز کا استعمال کافی بڑہ چکا ہے معاشرے کے اندر تعلیم یافتہ ، غیر تعلیم یافتہ جوان اور نوجوان اس نشے کے لعنت و لت میں پڑ گئے ہیں
اسوقت سوات کے طول و عرض میں ڈرگز کا استعمال کافی حد تک بڑھ چکا ہے اور اس کا بنیادی وجہ منشیات کے مختلف اقسام دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں چند باثر بدمعاش افراد و مافیاز کے سر پرسرستی و نگرانی میں یہ مکروہ دھندہ کھلی عام چل رہی ہے اور انتظامیہ ان زور اوروں کی ہاتھوں یا تو یرغمال ہے یا اس مکروہ کاروبار میں ان کیساتھ برابر کے شریک نظر اتے ہیں
لیکن دوسری طرف یونین کونسل کی سطح سے لیکر ضلعی سطح پر مختلف تنظیمیں اور مختلف جرگے اور جرگہ مار مشران مختلف ناموں سے معاشرے کے اندر نشے کے روک تھام کے سلسلے میں ایک غیر فعال اور غیر موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے ابھی تک معاشرے کے اندر اس گھناونی کاروبار اور ان سے ملحقہ بااثر جرائم پیشہ افراد کیخلاف کوئی قابل تعریف اور قابل تحسین اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ۔
اہلیان سوات نشے کے لعنت اور نشے کے معاشرتی بگاڑ کیوجہ سے نہ صرف کافی پریشان ہے بلکہ انتہائی مشکل میں بھی یے ۔ اس لئے دانشکدہ فورم اور اہلیان سوات ان تمام مختلف جرگہ مشران ، اصلاحی تنظیموں ، مختلف تحریکوں اور حکومتی انتظامیہ سے سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں ہے کہ اسوقت خصوصی طور پر منشیات فروشوں کے خلاف اور نشے کے روک تھام کیلئے ایک بڑی منظم تحریک کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی نمائیندوں ، عوامی تنظیموں اور حکومتی اداروں نے مل جل کر ان کے خلاف بروقت روک تھام کے کوشیش نہیں کی تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارے چھوٹے بڑے مرد و عورتیں سب اس مہلک بیماری میں مبتلا ہو حائینگے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Swat
19200