08/06/2016
بی این ایف ءِ نیمگ ءَ چہ سرجمیں تربت ءَ مروچی پمپلیٹ با عنوانِ '' نیشنل پارٹی ءَ سائجی سانحہ ءِ سرا پرچہ شاتکامی کتہ!'' بہر کنگ بوتگ....
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Baloch National Movement Turbat Zone, Political organisation, Turbat.
08/06/2016
بی این ایف ءِ نیمگ ءَ چہ سرجمیں تربت ءَ مروچی پمپلیٹ با عنوانِ '' نیشنل پارٹی ءَ سائجی سانحہ ءِ سرا پرچہ شاتکامی کتہ!'' بہر کنگ بوتگ....
24/05/2016
We consider 28 May as a black of baloch history ...
24/05/2016
We consider 28 May as a black day of baloch history ...
24/05/2016
ایٹمی دھماکوں اور ساجی سمیت بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف 28 مئی کو پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ بی این ایف
May 20, 2016, 5:51 pm
کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کو بلوچ نسل کشی کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 28 مئی کو بلوچستان میں ہونے والی ایٹمی دھماکوں اور جاری آپریشن کے خلاف بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی ۔ پچھلے کئی دنوں سے مکران کے علاقے دشت،سائجی اور گردنواع کے علاقے فوجی محاصرے میں ہیں۔ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرکے موصلاتی نظام منقطع کیا جا چکا ہے جس سے آپریشن کی تفصیلات حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان"مارو اور پھینک دو"کی پالیسی میں شدت لاتے ہوئے اپنی حراست میں موجود بلوچ فرزندان کو شہید کرکے سلسلہ وار ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینک رہی ہے ۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران آواران و مشکے میں 4مغوی بلوچ فرزندان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس کے علاوہ آواران و مشکے اور جھاؤ میں بھی پچھلے کئی دنوں سے آپریشن جاری ہے ۔ جھاؤ کے علاقے کوہڑو سے دو بلوچ فرزندان محمد بخش اور سبزل کو فورسز نے اغواء کرکے اپنی کیمپ منتقل کیا ۔بی این ایف کے ترجمان نے مذید کہا کہ 28مئی 1998آج سے 18سال پہلے بلوچستان کا سینہ چاک کرکے چاغی میں پاکستان نے یکے بعد دیگر چھ ایٹمی دھماکے کیے۔ بلوچستان پر جبری قبضے کے بعد پاکستان بلوچستان کو اپنا مقبوضہ خطہ سمجھ کر بلوچ عوام کی مرضی کے برعکس بلوچستان کے تمام مالکانہ حقوق جبراََ حاصل کررہا ہے۔ جبکہ وقتاََ فوقتاََ جدید ہتھیاروں کے تجربے کے لئے پاکستان ہمیشہ بلوچستان کا ہی انتخاب کرتا آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض کو بلوچ عوام سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ اسے بلوچ جغرافیہ اور اس میں موجود وسائل سے دلچسپی ہے۔ قابض چاہے دنیا کے کسی حصے کا بھی ہو وہ مقبوضہ خطے کے عوام کو اسی طرح پسماندہ رکھتی ہے جس طرح کہ پاکستان بلوچ عوام کو پسماندہ رکھے ہوئے ہے۔ لیکن پاکستان غیر انسانی اعمال میں ایک قدم آگے جاکر بلوچ سرزمین کو بغیر حفاظتی انتظامات کے ایٹمی دھماکہ کرکے سینہ چاک کر دیا۔مرکزی ترجمان نے کہاکہ حفاظت کے بغیر کیے جانے والی دھماکوں کے نتیجے میں رخشان، بالخصوص چاغی میں انسانی و جنگلی حیات پر انتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی منفی شعاعوں کی وجہ سے موسمی توازن انتہائی حد تک بگڑ گیا۔ جس سے مقامی لوگوں کی معاش کا واحد ذریعہ مالداری بھی ختم ہوگیا۔ بارشیں نہ ہونے اور موسمی شدت کی وجہ سے جنگلی حیات اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے، جبکہ علاقے میں زیر زمین پانی بھی انتہائی گہرا ہوگیا۔ مختلف ممالک کی این جی اوز نے چاغی میں پائے جانے والی بیماریوں کو انہی دھماکوں کی وجہ قرار دے کر الزام عائد کیا تھا کہ فورسز نے حفاظتی انتظامات کو بالائے طاق رکھ کر دھماکہ کرکے لوگوں کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام اور ان کی نقصانات پر نظر رکھنے والے ادارے بلوچستان میں اپنی تحقیقاتی ٹیم بھیج کر یہاں پر انسانی زندگیوں پر ہونے والی اثرات پر رپورٹ مرتب کریں اور پاکستان کو اس غیر ذمہ دارانہ تجربے پر قانون کے کٹہرے میں لائیں ۔ ترجمان نے بلوچ عوام ، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی کہ وہ ان غیر انسانی اعمال کے خلاف ہونے والی احتجاج کو کامیاب بنا کر پاکستانی مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کریں ۔ اسی دن سوشل میڈیا میں کے ہیشٹیگ سے ایک کیمپین چلائی جائیگی۔
- See more at: http://dailysangar.com/home/page/1448.html .rRWJRhhW.dpuf
ایٹمی دھماکوں اور ساجی سمیت بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف 28 مئی کو پہیہ جام و شٹر ڈاؤن... کوئٹہ (سنگر نیوز)بلوچ نیشنل فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری فوجی کارروائیوں کو بلوچ نسل کشی کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 28 مئی کو بلوچستان میں ہونے والی ایٹمی دھماکوں اور جاری آپریشن کے خلاف بلوچستان بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی ۔ پچھلے کئی دنوں سے مکر...
تمام زون تین اپریل سے نو اپریل تک شہدائے مرگاپ کی یاد میں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے حالات کے مطابق اپنے زونوں میں ریفرنسز کا انعقاد کریں۔بی این ایم
(3 اپریل)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ سات سال پہلے تین اپریل 2009 کو پاکستانی فورسز نے بی این ایم کے بانی سربراہ واجہ غلام محمد بلوچ و ان کے ساتھیوں کو اغوا اور لاپتہ کرنے کے بعد تشدد کے دوران شہید کرکے مسخ شدہ لاشیں کیچ کے علاقے مرگاپ میں پھینک دی تھیں۔واجہ غلام محمد بلوچ کو لالا منیر بلوچ اوربی آر پی کے ڈپٹی سیکرٹری شیر محمد بلوچ کے ہمراہ ان کے وکیل کے دفتر سے کئی لوگوں کے سامنے اغوا کیا گیا۔ چھ دن بعد 9 اپریل کو ان کی مسخ شدہ لاشیں مرگاپ سے برآمد ہوئیں۔ اور پھر بلوچ سیاسی کارکنوں و تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی فورسز کے ہاتھوں اغوا و مسخ لاشوں کی برآمدگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اغوا کئے گئے کئی بلوچ فرزندوں کی لاشیں مرگاپ میں پھینکی جاچکی ہیں۔واجہ غلام محمد بلوچ و ساتھیوں کی قتل کے بعد ’’ مارو اور پھینکو‘‘ پالیسی میں نہایت تیزی آگئی اور اب تک اس بدنام زمانہ پالیسی کے تحت ہزاروں بلوچوں کو اغوا کرکے انسانیت سوز تشدد کے دوران شہید کرکے مسخ شدہ لاشیں سڑک، ویرانوں اور جنگلوں میں پھینکی گئی ہیں۔ جن میں کئی ناقابل شناخت ہوئی ہیں۔غلام محمد بلوچ کی شہادت نہ صرف بلوچ قوم بلکہ خطے کی تمام مظلوموں کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے جان سولیکی کی بازیابی کیلئے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ دس رکنی کمیٹی کے ممبر تھے جو یواین ایچ سی آر کوئٹہ کے ڈائریکٹر جان سولیکی کی رہائی کیلئے تشکیل دی گئی تھی۔ مگر واجہ غلام محمدبلوچ و ساتھیوں کی بازیابی کیلئے اقوام متحدہ اور یو این ایچ سی آر نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اور نہ ان کے قاتلوں کے بارے میں لب کشائی کی۔ اسی خاموشی کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کے مظالم اس درجہ پر پہنچ گئے ہیں، جو نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس نسل کشی میں اب انتہائی تیزی آگئی ہے۔ واجہ غلام محمد بلوچ، لالا منیر بلوچ، شہید رسول بخش مینگل،حاجی عبدالرزاق،کامریڈ صمدبلوچ،جاوید نصیر،رزاق گل، سمیت سینکڑوں کارکنوں اور اس سال جنوری میں ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت جیسے واقعات نے بی این ایم اور بلوچ قومی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے مگر بی این ایم کا کاروان بلوچ قومی آزادی کی منزل کی جانب منظم انداز میں گامزن ہے۔ اس کے علاوہ بی این ایم کے ڈاکٹر دین محمد بلوچ، غفور بلوچ اور رمضان بلوچ سمیت کئی رہنما و ورکر پاکستانی فورسز کے ہاتھوں اغوا کے بعد کئی سالوں سے ٹارچر سیلوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں۔ترجمان نے تمام زونوں کو ہدایت کی کہ تین اپریل سے نو اپریل تک شہدائے مرگاپ کی یاد میں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے حالات کے مطابق اپنے زونوں میں ریفرنسز کا انعقاد کریں۔
27/03/2016
Pics of today's strike in Turbat city
27/03/2016
ستائیس مارچ یومِ سیاہ
سامراجی فوج کی دھمکی آمیز اعلانات کے باوجود غیرت مند بلوچ عوام نے بی این ایف کی کال پر بلوچستان بھر کی طرح تربت میں بھی مکمل شٹر ڈاؤن و پئیہ جام ہڑتال کرکے سامراج سے نفرت کا اظہار کیا...
قابض فورسز کی دھمکی آمیز اعلانات کے باوجود یومِ غلامی کے موقع پر بی این ایف کی کال پر تربت شہر کا مکمل بند ہونا ریاست کی شکست کی علامت ہے.
بلوچ نیشنل موومنٹ تربت ہنکین کی جانب سے ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے خلاف مظاہرہ
تربت (سنگر نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ تربت ہنکین کی جانب سے بی این ایم کے رہنما ڈاکٹر منان بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے خلاف مظاہرہ کیاگیا، خواتین کارکنان نے بینراور پلے کارڈ اٹھا ئے سخت نعرہ بازی کی اور اقوام متحدہ سے بلوچستان میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔ بی این ایم تربت ہنکین کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ گرلز اسکول آبسر میں کیا گیا جس میں درجنوں خواتین نے شرکت کی، مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم کے اراکین بانک نورین بلوچ، بانک حانل بلوچ اور بانک مہلب بلوچ نے کہاکہ ایک آزاد اور خود مختار بلوچ سماج کی تشکیل کے لیئے بی این ایم سیاسی اصولوں کے تحت ایک پر امن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اسی کے تحت بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کو متحرک کر کے تحریک کو منظم کررہی ہے جس کی پاداش میں روز اول سے اسے صعوبتوں کا سامنا ہے ریاست کی جانب سے بی این ایم کے بانی قائد کی بے رحمانہ شہادت سے لے کر اب تک سینکڑوں کارکنان اور رہنما شہید کیئے گئے ہیں اور ہزاروں اب تک اذیت گاہوں میں تشدد کا سامنا کررہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ بی این ایم بلوچ قومی وجود ،تشخص اور قومی ریاست کی تشکیل کے لیئے ہر تشدد سہہ کر منہ نہیں موڑیگی بلکہ بلوچ عوام کی قومی طاقت اور سیاسی قوت کے سہارے جدوجہد جاری کریگی تاکہ بلوچ قوم کو ایک خوشحال اور خود مختار سماج کا مالک بنادے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت یقیناًایک قومی سطح کا نقصان ہے اور اس کمی کو کسی صورت پورا نہیں کیا جاسکتا موجودہ دور میں ڈاکٹر منان بلوچ جیسے قومی رہنماؤں کی شہادت تحریک کے لیئے نیک شگون تو نہیں ہے مگر بی این ایم نے اپنے بانی قائد شہید غلام محمد کی شہادت کا المناک سانحا سہہ جدوجہد سے منہ نہیں موڑا اور تحریک کو منظم کر کے بلوچ قوم کو ایک سیاسی قوت بنادیا جس کے سبب آج دنیا نہ چاہتے ہوئے بھی بلوچستان کے معاملات میں دل چسپی لینے پر مجبور ہوگئی ہے ڈاکٹر منان بلوچ اور ساتھیوں کی شہادت کا یہ سانحہ بھی بی این ایم جیسی انقلابی تنظیم اپنی قوت بنائیگی اور اس قوت کو آشکار کر کے بلوچستان کی آزادی کے لیئے جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچادیگا۔ انہو ن نے کہاکہ بی این ایم بلوچ قوم کی سیاسی قوت کا نام ہے اور بطور انقلابی تنظیم بلوچ قوم کو قومی آجوئی کے لیئے مذید متحرک اور منظم کر کے ریاست کے تمام عزائم ناکام بنادیگی۔
06/02/2016
Shohdae Mustong Shaheed Comrade Dr Mannan Baloch, Shaheed Sajid Baloch, Shaheed Hanif Baloch, Shaheed Ashraf O Shaheed Babo Norooz Baloch ay shahadath ay hilaf a BNM Turbat hankain ay nemag a chah yek ahthejaji mozahaira e had dayag bothag.
06/02/2016
18/08/2015
18/08/2015
August ki munasibath se BNM Turbat Zone ki janib se ehk reference ka inkhad kiya gea...‚