گوادر: سابق رکن صوبائی اسمبلی گوادر میر حمل کلمتی نے گوادر پریس کلب کے پروگرام "میٹ دی پریس" میں شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انہوں نے مختلف عوامی، سیاسی اور علاقائی امور پر گفتگو کی اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی۔
BNP Kechبلوچستان نیشنل پارٹی کیچ
The Balochistan National Party's main demand has been for the rights of self determination of the Baloch and for the provinces having control over thir res
03/06/2026
03/06/2026
بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی پریس ریلیز کے مذمتی بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز زہری میں جو دلخراش واقعہ رونما ہوا تھا جس میں چادر چار دیواری ظلم و زیادہتیوں کی وجہ سے شہید خلیل جان موسیانی کی شہادت اور اسی واقعہ میں غیر قانونی طور پر اغواہ نما گرفتاری ماورائے عدالت قتل غارت گری کی وجوہات کی بنا پر بلوچستان کو اس نیچ تک پہنچا پارٹی کے مرکزی بیان میں اس واقعے میں انسانی حقوق کی پمالی کی شدید الفاظ میں مذمت کی بیان میں کہا گیا کہ ظلم تو یہ ہے بے گناہ نوجوان اب تک زہر اراست ہیں جن سردار زادہ خلیل موسیانی کی شہادت کے باوجود ان کے بھائیوں ، رشتہ داروں سردار زادہ زہری خان موسیانی ، سردار زادہ ثناءاللہ موسیانی ، ارشاد احمد موسیانی ، دوست محمد موسیانی ، فدا حسین موسیانی ، امیر علی موسیانی ،رحیم بخش موسیانی ، سلیم موسیانی ، شکر خان موسیانی اور اسامہ مینگل سمیت دیگر کو تاحال رہا نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سردار زادہ خلیل موسیانی کی شہادت کے واقعہ کو زیر کرنے کیلئے دیگر کی عدم رہائی ان سے موبائل فون اور پیسے لے جانے کا عمل قابل مذمت ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر بے گناہ گرفتار افراد کی رہائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سردار زادہ خلیل موسیانی کے شہادت کے ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے
03/06/2026
کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کے زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماوں کا اجلاس پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو کی رہائش گاہ منعقد ہوا۔
اجلاس میں پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملک نصیر شاہوانی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی فنانس سیکرٹری اختر حسین لانگو، مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری احمد نواز بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ممبر ثنااللہ بلوچ،،ٹکری شفقت لانگو،حاجی باسط لہڑی ، میر مقبول لہڑی، بی ایس او سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ضلع کوئٹہ ڈپٹی آرگنائزر جاوید بلوچ، جمال لانگو، میروائس مینگل سمیت دیگر اراکین شرکت کی
اجلاس میں پارٹی کے مرکزی رہنماءاور سابق ناظم خضدار سردار نصیر احمد موسیانی کے صاحبزادے اور بی این پی ضلع خضدار کے سینئر نائب صدرسردار زادہ خلیل احمد موسیانی کی شہادت پر شدید غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گا اجلاس میں پارٹی کی جانب سے ضلعی صدور،جنرل سیکرٹریز، آرگنائزرز اور ڈپٹی آرگنائزر کو سختی سے ہدایت کی گئی اس واقعہ کے خلاف وہ پریس کلبز کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائیں جبکہ کوئٹہ میں پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کل 4 جون کو 5 بجے احتجاج کیا جائے گا
03/06/2026
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان کے مذمتی بیان میں زہری میں ریاستی بربریت، میر خلیل احمد موسیانی کو گولی مار کر شہید کرنے , میت واپس کرنے سے انکارـکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا
2 جون 2026 کو ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں سیکورٹی فورسز نے سردار نصیر احمد موسیانی کے فرزند میر خلیل احمد موسیانی کو پیٹ میں گولی مار کر بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ گولی کسی میدانِ جنگ میں نہیں چلی — یہ گولی ایک گھر کے دروازے پر چلی، ایک باپ کے سامنے، ایک خاندان کے سامنے۔ اور اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ شہادت کے بعد فورسز نے میر خلیل احمد کی میت ان کے خاندان کے حوالے کرنے سے صریح انکار کر دیا ہے۔ رات بھر خاندان تڑپتا رہا، کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اور صبح یہ خبر دی گئی کہ وہ شہید ہو گئے — مگر میت آج بھی فورسز کے قبضے میں ہے۔ حیلے بہانے کیے جا رہے ہیں، لاش روکی جا رہی ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے۔
اس سے قبل 2 جون کو جب فورسز دس سے بارہ گاڑیوں میں سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پہنچیں تو انہوں نے سردار نصیر احمد کو دھکا دے کر زمین پر گرایا جس سے وہ سر پر زخمی ہوئے۔ ان کے بیٹے میر زہری خان موسیانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اور میر خلیل احمد کو گولی مار کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا — جہاں سے وہ زندہ واپس نہ آئے۔ سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے فرزندان زہری خان اور میر خلیل احمد، پوتے قدیر احمد موسیانی اور دیگر کئی عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا گیا جسے فورسز نے حراستی مرکز میں تبدیل کر رکھا ہے۔ جب علاقے کی خواتین اور قبائلی عمائدین احتجاج کے لیے نکلے تو مردوں کو بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا اور صرف خواتین باہر کھڑی روتی رہیں۔ عوامی دباؤ پر سردار نصیر احمد سمیت چند افراد کو رہا کیا گیا، مگر میر زہری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور احتجاج کرنے والے شہری فداء احمد، سلیم، سلمان، الہی بخش اور دیگر آج بھی حراست میں ہیں۔
یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب 2 جون 2026 کو صبح ہیلی کاپٹروں سے آبادی پر شیلنگ کی گئی، بکتر بند گاڑیوں میں فورسز بلبل شہر میں داخل ہوئیں اور دیر تک اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ بلبل کراس کا اسکول بچوں کی جگہ فورسز کا کیمپ بن گیا، اسپتال عوام کے لیے بند ہو گیا۔ یہ فورسز کا پرانا اور گھناؤنا طریقہ ہے — جب کرفیو لگاتے ہیں تو اسکول، اسپتال اور پیٹرول پمپ پر قبضہ کر کے عارضی فوجی کیمپ بناتے ہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر دیتے ہیں۔
بی این پی واضح کرنا چاہتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی بلوچستان نیشنل پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ضلعی ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے سردار ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا، انتخابات میں حصہ لیا اور سیاسی پلیٹ فارم سے اپنے عوام کی نمائندگی کی۔ ان کے گھر پر یہ چڑھائی، ان کے بیٹے خلیل احمد موسیانی جو بی این پی کے ضلعی سینئر نائب صدر اور منتخب یوسی کونسلر تھے انکی کی شہادت اور میت روک لینا — یہ سب بتاتا ہے کہ بلوچستان میں جمہوری سیاست کرنا، آئینی راستہ اختیار کرنا بھی اب محفوظ نہیں رہا۔
زہری گزشتہ ایک سال سے خون اور آگ میں جل رہا ہے۔ بی این پی نے ہر موقع پر کہا کہ اس مسئلے کا حل گولی نہیں، سیاسی مکالمہ ہے۔ مگر آج کا یہ واقعہ، یہ شہادت، یہ میت روک لینا — یہ ثابت کرتا ہے کہ اس آواز کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ میر خلیل احمد موسیانی کی میت فوری اور بلاتاخیر ان کے خاندان کے حوالے کی جائے — کوئی شرط نہیں، کوئی حیلہ نہیں، کوئی تاخیر قابلِ قبول نہیں۔ ایک شہید کی میت روکنا انسانیت کی توہین ہے اور ہم اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ میر زہری خان موسیانی سمیت تمام حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کیا جائے اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ اسکولوں میں قید رکھا جائے۔ زہری میں نافذ کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ یہ کرفیو عوام کو سزا دینے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ بلبل کراس کے اسکول اور اسپتال کو فوری خالی کیا جائے۔ ہیلی کاپٹر شیلنگ اور آبادی پر فائرنگ کی شفاف تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اور زہری کے اصل مسئلے کے سیاسی اور پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔
ہم بلوچستان کے عوام، تمام جمہوریت پسند قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ میر خلیل احمد کی میت واپسی کے لیے آواز بلند کریں۔ ایک شہید کو اس کی مٹی میں دفن ہونے کا حق ہے — یہ حق چھیننا ریاستی دہشت کی بدترین شکل ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر ظلم کے خلاف ڈٹی رہے گی۔ میر خلیل احمد موسیانی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔
03/06/2026
افسوسناک خبر
بی این پی خضدار کے سینئر نائب صدر میر خلیل احمد موسیانی شہید ہوگئے
کوئٹہ پریس کلب
ساجد ترین ایڈووکیٹ کی سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر پر چھاپے اور ان کی اور ان کے بیٹے میر زہری خان، میر خلیل احمد کی گرفتاری کی شدید مذمت
02/06/2026
کوئٹہ پریس کلب:
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ زہری میں پارٹی رہنما کے گھر پر چھاپے اور گرفتاری کے خلاف اہم پریس کانفرنس
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ فورسز کی جانب سے پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ناظم خضدار سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر پر چھاپے اور ان کی اور ان کے بیٹے میر زہری خان، میر خلیل احمد کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پارٹی قیادت کو بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے کٹھ پتلی حکومت کا شرمناک اقدام قرار دیا
اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری فائنانس اختر حسین لانگو، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق احمد نواز بلوچ، بی ایس او مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چیئرمین واحد بلوچ، حاجی باسط لہڑی، میر مقبول لہڑی، ثنا بلوچ، ضلع کوئٹہ آرگنائزر حاجی وحید لہڑی، ملک محی الدین لہڑی، ماما غفار لانگو، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی سمیت دیگر اراکین موجود۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج صبح ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں آزادی پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی۔ جھڑپ کے بعد، دس سے بارہ گاڑیوں پر مشتمل فورسز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ڈسٹرکٹ ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر پہنچیں۔ وہاں سے سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے دونوں فرزندان میر زہری خان موسیانی اور میر خلیل احمد موسیانی کے علاوہ کئی دیگر عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا گیا۔ ساجد ترین
بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے عوام کے حقوق، عزت اور شناخت کا تحفظ ہماری سیاسی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سیکورٹی گاڑیوں کے ساتھ جب سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر فورسز پہنچے تو انہوں وہاں سردار نصیراحمد کو کسی میجر نے دھکہ دیا، جسکی وجہ سے وہ گر کر زخمی ہوئے۔ ساجد ترین
اسی دوران میر زہری خان کو زد کوب کیا گیا، جبکہ میر خلیل احمد کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
جب یہ اطلاعات علاقے میں پھیلیں تو خواتین، قبائلی عمائدین اور عوام اسکول کے سامنے احتجاج کے لیے نکلے۔ لیکن جتنے بھی قبائلی عمائدین اور مرد حضرات احتجاج کی غرض سے وہاں پہنچے، انہیں بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا۔ اس وقت صرف علاقے کی خواتین باہر کھڑی احتجاج کر رہی ہیں۔ ساجد ترین
کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان میں نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
گزشتہ ایک سال سے زہری کے عوام اذیت اور کرفیو کا سامنا کر رہے ہیں، زہری کے عام لوگوں کو اس کام کی سزا دی جاتی ہے جو انہوں نے نہیں کیا۔ ساجد ترین
بی این پی نے ہر موقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، انصاف اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ آج کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بدقسمتی سے ابھی تک اس سوچ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ساجد ترین
بلوچستان نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی، میر زہری خان موسیانی، میر خلیل احمد موسیانی، تمام گرفتار عزیز و اقارب اور احتجاج کرنے گئے تمام قبائلی عمائدین اور شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اگر کسی پر کوئی قانونی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ اسکولوں کو حراستی مراکز میں تبدیل کر کے وہاں بند رکھا جائے۔ ان تمام افراد کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں کو فوری رسائی دی جائے۔ بلبل زہری میں ہیلی کاپٹر شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائے۔ اسکول اور اسپتال کو فوری طور پر خالی کیا جائے کیونکہ یہ عوامی ضرورت کے مقامات ہیں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
ہم بلوچستان کے عوام، ملک کی تمام جمہوریت پسند سیاسی قوتوں، وکلاء برادری، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال پر اپنی آواز بلند کریں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بلوچستان نیشنل پارٹی واضح کرنا چاہتی ہے کہ سردار نصیر احمد موسیانی کوئی غیر معروف یا متنازع شخصیت نہیں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا، انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے عوام کی نمائندگی سیاسی پلیٹ فارم سے کی۔ ان کے خلاف اس طرح کا اقدام نہ صرف ان کی ذات کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ بلوچستان میں جمہوری سیاست کے وجود پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ
بی این پی 4 جون جمعرات کو صوبہ بھر میں تمام پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کا اعلان کرتی ہیں اور پارٹی آئندہ کے فیصلے کے لیے کل ایک میٹنگ کرے گی۔
بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈوکیٹ اور دیگر کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Turbat
