16/07/2026
بی ایس او شال زون کے زیرِ اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے زیر اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و شہداء بلوچستان کے یاد میں شال زون کے صدر کبیر بلوچ کے زیر صدارت تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ تعزیتی ریفرنس کے مہمانانِ خصوصی بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ تھے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شال زون ارگنائزنگ کمیٹی کے ممبر کامران بلوچ انجام دیے
تعزیتی ریفرنس کا آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ بعد ازاں بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے رکن ابرار بلوچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کی سیاسی، سماجی اور فکری ترقی کا انحصار اپنی تاریخ سے آگاہی پر ہوتا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ قربانیوں، مزاحمت، قومی شعور اور جدوجہد سے عبارت ہے، لہٰذا نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قومی تاریخ کا شعوری مطالعہ کرے، اس سے سبق حاصل کرے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرے۔
مقررین نے اپنے خطاب میں نواب نوروز خان اور شہدائے بلوچستان کے تاریخی واقعے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1959 میں قرآنِ مجید پر امان دینے کے باوجود نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کے بیٹوں اور رفقاء کو پھانسی دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس نے بلوچ قومی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آج بھی انصاف، آئینی حقوق اور سیاسی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مقررین نے شہید حبیب جالب بلوچ کی سیاسی، علمی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے ممتاز قانون دان، دانشور، مصنف اور مدبر سیاست دان تھے۔ انہوں نے طلبہ دور میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور 1978 سے 1982 کے دوران تنظیم کی قیادت اور مختلف اشاعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی میں کلیدی تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں، پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے اور 1997 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی آئینی حقوق، جمہوریت، قومی وقار، بلوچستان کے مسائل کے پرامن اور سیاسی حل، اور مکالمے کی سیاست کے لیے وقف کیے۔ ان کی تصنیف "Balochistan: Statehood and Nationalism" بلوچ قومی سیاست اور تاریخ پر ایک اہم علمی سرمایہ سمجھی جاتی ہے۔ 14 جولائی 2010 کو انہیں کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔
مقررین نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلوچستان کی سب سے مؤثر، متحرک اور نظریاتی طلبہ تنظیم کے طور پر طلبہ کے حقوق، تعلیم کے فروغ، علمی و فکری سرگرمیوں، قومی شعور اور بلوچستان کے سیاسی و سماجی مسائل پر آواز بلند کرتی رہی ہے۔ تنظیم کے ہزاروں کارکنوں نے مختلف ادوار میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نمائندگی کی، جبکہ بے شمار کارکنوں نے اپنے نظریات، قومی وقار اور جدوجہد کی خاطر قید و بند، جبر اور شہادتوں کا سامنا کیا۔
مقررین نے کہا کہ شہید حبیب جالب بلوچ و شہدائے بلوچستان کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک، پر امن جدوجہد اور طلبہ سیاست کا روشن باب ہیں۔ ان عظیم قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے شعور، سیاسی مزاحمت، انصاف اور قومی وقار کی راہ متعین کی، جن کی جدوجہد بلوچ نوجوانوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔
آخر میں یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر بی ایس او نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق، سیاسی شعور، قومی یکجہتی، اور پرامن سیاسی جدوجہد کے اصولوں پر منظم کرتی رہے گی، تاکہ ایک باشعور، منصفانہ، ترقی یافتہ اور پر امن وطن کی تشکیل میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا جا سکے۔