BSO Uthal Zone Luawms

Directions

BSO Uthal Zone Luawms Baloch Students Organization ( BSO ) is a student organization strives for the due rights of Baloch students in entire country.

BSO Luawms Zone struggles for the students facing problems in educational institutions
demands free & quality education

16/07/2026

بی ایس او شال زون کے زیرِ اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے زیر اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و شہداء بلوچستان کے یاد میں شال زون کے صدر کبیر بلوچ کے زیر صدارت تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ تعزیتی ریفرنس کے مہمانانِ خصوصی بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ تھے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شال زون ارگنائزنگ کمیٹی کے ممبر کامران بلوچ انجام دیے

تعزیتی ریفرنس کا آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ بعد ازاں بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے رکن ابرار بلوچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کی سیاسی، سماجی اور فکری ترقی کا انحصار اپنی تاریخ سے آگاہی پر ہوتا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ قربانیوں، مزاحمت، قومی شعور اور جدوجہد سے عبارت ہے، لہٰذا نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قومی تاریخ کا شعوری مطالعہ کرے، اس سے سبق حاصل کرے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں نواب نوروز خان اور شہدائے بلوچستان کے تاریخی واقعے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1959 میں قرآنِ مجید پر امان دینے کے باوجود نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کے بیٹوں اور رفقاء کو پھانسی دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس نے بلوچ قومی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آج بھی انصاف، آئینی حقوق اور سیاسی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مقررین نے شہید حبیب جالب بلوچ کی سیاسی، علمی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے ممتاز قانون دان، دانشور، مصنف اور مدبر سیاست دان تھے۔ انہوں نے طلبہ دور میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور 1978 سے 1982 کے دوران تنظیم کی قیادت اور مختلف اشاعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی میں کلیدی تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں، پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے اور 1997 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی آئینی حقوق، جمہوریت، قومی وقار، بلوچستان کے مسائل کے پرامن اور سیاسی حل، اور مکالمے کی سیاست کے لیے وقف کیے۔ ان کی تصنیف "Balochistan: Statehood and Nationalism" بلوچ قومی سیاست اور تاریخ پر ایک اہم علمی سرمایہ سمجھی جاتی ہے۔ 14 جولائی 2010 کو انہیں کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔

مقررین نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلوچستان کی سب سے مؤثر، متحرک اور نظریاتی طلبہ تنظیم کے طور پر طلبہ کے حقوق، تعلیم کے فروغ، علمی و فکری سرگرمیوں، قومی شعور اور بلوچستان کے سیاسی و سماجی مسائل پر آواز بلند کرتی رہی ہے۔ تنظیم کے ہزاروں کارکنوں نے مختلف ادوار میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نمائندگی کی، جبکہ بے شمار کارکنوں نے اپنے نظریات، قومی وقار اور جدوجہد کی خاطر قید و بند، جبر اور شہادتوں کا سامنا کیا۔

مقررین نے کہا کہ شہید حبیب جالب بلوچ و شہدائے بلوچستان کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک، پر امن جدوجہد اور طلبہ سیاست کا روشن باب ہیں۔ ان عظیم قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے شعور، سیاسی مزاحمت، انصاف اور قومی وقار کی راہ متعین کی، جن کی جدوجہد بلوچ نوجوانوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔

آخر میں یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر بی ایس او نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم نوجوانوں کو تعلیم، تحقیق، سیاسی شعور، قومی یکجہتی، اور پرامن سیاسی جدوجہد کے اصولوں پر منظم کرتی رہے گی، تاکہ ایک باشعور، منصفانہ، ترقی یافتہ اور پر امن وطن کی تشکیل میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا جا سکے۔

16/07/2026

آکسفورڈ اور ہارورڈ کے دعووں کی حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع اوربیف اسکالرشپ پروگرام مسلسل محدود کی جا رہی ہیں_

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون بلوچستان ایجوکیشنل اینڈ انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کی جانب سے پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے مختص اسکالرشپس میں کمی اور بی ایس، اے ڈی ایس سمیت دیگر ڈگری پروگراموں کے طلبہ کے لیے ٹاپ 20 اسکالرشپس کو کم کرکے صرف ٹاپ 10 تک محدود کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ فیصلہ بلوچستان جیسے تعلیمی طور پر پسماندہ اور معاشی مشکلات سے دوچار صوبے کے ہزاروں قابل اور مستحق طلبہ کے مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔

بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ پہلے ہی بنیادی تعلیمی سہولیات، معیاری اداروں، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ اور معاشی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بیف اسکالرشپس میں کٹوتی غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ جو طلبہ اپنی فیس، رہائش، کتابوں اور دیگر تعلیمی اخراجات BEEF اسکالرشپ کے ذریعے پورے کرتے تھے، اب ان کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنا مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔

انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف حکمران نوجوانوں کو آکسفورڈ، ہارورڈ اور دیگر عالمی جامعات میں بھیجنے کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے اپنے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں سے بنیادی تعلیمی سہارا بھی چھینا جا رہا ہے۔ یہ تضاد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان کے طلبہ کے مسائل حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں۔

بلوچ طلبہ کے لیے مسلسل ہر راستہ تنگ کیا جا رہا ہے۔ کبھی اسکالرشپس محدود کی جاتی ہیں، کبھی ہاسٹلز اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے، کبھی تعلیم کے اخراجات میں اضافہ کیا جاتا ہے، اور کبھی ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جو غریب طلبہ کو تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات بلوچستان کے نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب بلوچ طلبہ تنظیمیں ان ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں تو ان کے جائز مطالبات سننے کے بجائے ہر وقت ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا، کردار کشی اور الزام تراشی کی جاتی ہے۔ بلوچ طلبہ تنظیموں نے ہمیشہ تعلیم، طلبہ حقوق اور تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل کے لیے ج

16/07/2026

بی ایس او شال زون کے زیرِ اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و یومِ شہدائے بلوچستان کے موقع پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے زیر اہتمام شہید گل زمین شہید حبیب جالب بلوچ و شہداء بلوچستان کے یاد میں شال زون کے صدر کبیر بلوچ کے زیر صدارت تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جبکہ تعزیتی ریفرنس کے مہمانانِ خصوصی بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ اور مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ تھے جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شال زون ارگنائزنگ کمیٹی کے ممبر کامران بلوچ انجام دیے

تعزیتی ریفرنس کا آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا۔ بعد ازاں بی ایس او کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل صمند بلوچ، شال زون کے آرگنائزر کبیر بلوچ اور جامعہ بلوچستان یونٹ کے رکن ابرار بلوچ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کی سیاسی، سماجی اور فکری ترقی کا انحصار اپنی تاریخ سے آگاہی پر ہوتا ہے۔ بلوچستان کی تاریخ قربانیوں، مزاحمت، قومی شعور اور جدوجہد سے عبارت ہے، لہٰذا نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قومی تاریخ کا شعوری مطالعہ کرے، اس سے سبق حاصل کرے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرے۔

مقررین نے اپنے خطاب میں نواب نوروز خان اور شہدائے بلوچستان کے تاریخی واقعے کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1959 میں قرآنِ مجید پر امان دینے کے باوجود نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے حیدرآباد سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جبکہ بعد ازاں ان کے بیٹوں اور رفقاء کو پھانسی دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس نے بلوچ قومی شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آج بھی انصاف، آئینی حقوق اور سیاسی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

مقررین نے شہید حبیب جالب بلوچ کی سیاسی، علمی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے ممتاز قانون دان، دانشور، مصنف اور مدبر سیاست دان تھے۔ انہوں نے طلبہ دور میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور 1978 سے 1982 کے دوران تنظیم کی قیادت اور مختلف اشاعتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی میں کلیدی تنظیمی ذمہ داریاں نبھائیں، پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے اور 1997 میں سینیٹر منتخب ہوئ

📢 BSO Uthal Zone | LUAWMS Admissions Fall 2026🎓لسبیلہ یونیورسٹی  فال 2026 میں داخلوں کا سنہری موقع موجود ہے۔ اگر آپ اعلی...
06/07/2026

📢 BSO Uthal Zone | LUAWMS Admissions Fall 2026

🎓لسبیلہ یونیورسٹی فال 2026 میں داخلوں کا سنہری موقع موجود ہے۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند ہیں تو اپنی پسند کے BS، MS/MPhil اور PhD پروگرامز میں بروقت درخواست جمع کروائیں۔

⏳ داخلے کی آخری تاریخ: 28 جولائی 2026

بی ایس او اوتھل زون تمام نئے اور موجودہ طلبہ کو دعوت دیتا ہے کہ داخلہ، فارم جمع کروانے، رہنمائی یا کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔ ہماری ٹیم ہر ممکن تعاون کے لیے دستیاب ہے۔

📞 مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
03333320854

18/06/2026

Chairman BSO Balach Qadir briefing the public regarding his ongoing case, which is being heard in a faceless court. The conduct of the proceedings raises serious concerns about transparency, due process, and the right to a fair trial.

19/05/2026

غمخوارِ حیات کی شہادت عہدِ بے حسی کا ایک اور المناک نوحہ ہے ۔ بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے براہوی زبان کے نامور شاعر، استاد اور غمخوارِ حیات کے ترجمان دانشور کی نوشکی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ بلوچستان کے علمی، ادبی اور فکری وجود پر ایک اور کاری ضرب ہے۔ ایسے اہلِ قلم جو اپنے لفظوں کے ذریعے انسانی دکھ، قومی احساس اور سماجی کرب کو زبان دیتے ہیں، ان کی خاموشی صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک پورے فکری منظرنامے کا سوگ ہوتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید شاعر اُن حساس اور باشعور آوازوں میں شامل تھے جنہوں نے براہوی زبان، بلوچ تہذیب اور انسانی احساسات کو اپنے قلم کے ذریعے نئی معنویت عطا کی۔ ان کی شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ محرومی، امید، مزاحمت اور زندگی کے دکھوں کی فکری ترجمانی تھی۔ انہوں نے بحیثیت استاد نوجوان نسل کو صرف تعلیم ہی نہیں دی بلکہ شعور، سوال اور سماجی وابستگی کا احساس بھی منتقل کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی بحران، فکری جمود اور عدم تحفظ جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں ادیبوں، شاعروں اور علمی شخصیات کا قتل ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ معاشرے جہاں کتاب، قلم اور فکر سے وابستہ لوگ غیر محفوظ ہوجائیں وہاں اجتماعی شعور بتدریج زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔ اہلِ علم سماج کے وہ چراغ ہوتے ہیں جو تاریک ادوار میں بھی امید، مکالمے اور فکری حرارت کو زندہ رکھتے ہیں۔

مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں علمی، ادبی اور تدریسی شخصیات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ غمخوارِ حیات کے یہ چراغ جسمانی طور پر بجھائے جاسکتے ہیں مگر ان کے لفظ، فکر اور انسانی خوشبو کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔ شہید شاعر کا ادبی و فکری ورثہ ہمیشہ نوجوان نسل کیلئے شعور اور احساس کی روشنی بنا رہے گا۔

06/02/2026

جبری گمشدگیاں بلوچ سیاسی تاریخ کا مستقل زخم ہیں۔ مرکزی ترجمان بی ایس او

کوئٹہ: (پ ر) بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کو 6 فروری 1976 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، جو بلوچستان کی تاریخ میں جبری گمشدگیوں کے ایک سیاہ باب کی علامت ہے۔ یہ امر انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ آج دہائیوں بعد بھی ان کی بازیابی ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی ان کے اہلِ خانہ کو کوئی جواب دیا گیا۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ شہید اسد جان مینگل بلوچستان کے سرخیل قومی راہشون سردار عطاءاللہ مینگل کے جوانسال فرزند تھے، جنہیں سیاسی انتقام اور قومی شعور کو کچلنے کی پالیسی کے تحت لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں اختلافِ رائے اور قومی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ریاستی جبر کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 6 فروری 1976 کا دن آج بھی بلوچ قوم کے لیے ایک دردناک یاد ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جبری گمشدگیاں کوئی نیا عمل نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل ظلم کا تسلسل ہیں۔ شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ جیسے افراد کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندانوں کو ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچایا بلکہ پوری بلوچ قوم کو اجتماعی اذیت میں مبتلا کیا۔

بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئینِ پاکستان، بین الاقوامی انسانی حقوق اور بنیادی اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو شہید اسد جان مینگل اور شہید احمد شاہ بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے بارے میں سچ قوم کے سامنے لایا جائے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی و مقامی تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا اور جمہوریت پسند قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس تاریخی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

آخر میں مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ بی ایس او تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک اپنی سیاسی و جدوجہد جاری رکھے گی اور تاریخ کے اس سیاہ باب کو فراموش نہیں ہونے دے گا۔

طلبہ کے حقوق کیئے منظم جدوجہد کیا جائے گا: ترجمان بی ایس او اوتھل زوناوتھل:(پ ر) بی ایس او اوتھل زون کی جانب سے زونلکابی...
22/01/2026

طلبہ کے حقوق کیئے منظم جدوجہد کیا جائے گا: ترجمان بی ایس او اوتھل زون

اوتھل:(پ ر) بی ایس او اوتھل زون کی جانب سے زونل
کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں زونل عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت زونل صدر جنید بلوچ نے کی جبکہ مہمان خاص مرکزی جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ تھے۔ نظامت کے فرائض زونل جنرل سیکرٹری منصور بلوچ نے انجام دیے۔

اجلاس کا آغاز شہداء بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا اجلاس بنیادی مقصد زون میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال بنانا، یونٹ سازی کے عمل کو تیز کرنا اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کے جائز حقوق کی بحالی کے لیے عملی حکمتِ عملی ترتیب دینا تھا۔

اجلاس میں اس امر پر تفصیلی بحث کی گئی کہ موجودہ حالات میں طلبہ کو درپیش تعلیمی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور منظم طلبہ سیاست ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایس او کی نظریاتی اساس کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منظم کیا جائے اور ان کے جمہوری حقِ آواز کو بحال کیا جائے۔

تنظیم سازی کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اوتھل زون تعلیمی اداروں میں یونٹس کو ازسرِ نو فعال کیا جائے گا۔ نئے کارکنان کی شمولیت کے لیے رابطہ مہم شروع کی جائے گی۔ نظریاتی و تنظیمی تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔زونل و یونٹ سطح پر ذمہ داریوں کی واضح تقسیم کی جائے گی۔

اجلاس میں طلبہ سیاست کی بحالی کے لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ مسائل پر منظم آواز بلند کی جائے۔ طلبہ کے تعلیمی حقوق، سہولیات اور اظہارِ رائے کے حق کے لیے جدوجہد کو منظم کیا جائے۔ دیگر ترقی پسند طلبہ قوتوں سے رابطہ و ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔

آخر میں زونل کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی ایس او اوتھل زون تنظیمی مضبوطی، نظریاتی وابستگی اور طلبہ حقوق کی جدوجہد کو مزید تیز کرے گا اور ہر محاذ پر طلبہ کی نمائندہ آواز بن کر ابھرے گا۔

Address

Uthal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BSO Uthal Zone Luawms posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share