Pti tiger

Pti tiger

Share

06/12/2025

طاقت اور عہدے کا تقاضا ہے کہ ریاستی ترجمان اپنے الفاظ میں غیر معمولی احتیاط اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ لیکن فوجی ترجمان کی جانب سے فوجی وردی میں کھڑے ہو کر خیبر پختونخواہ کے منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف جس نوعیت کے گھٹیا الفاظ کا استعمال کیا گیا، وہ نہ صرف عہدے کے تقدس کی بدترین پامالی ہے بلکہ ملک کے ایک اہم صوبے کی چار کروڑ عوام کو دی گئی ایک سفاکانہ گالی ہے۔

جب ایک سرکاری ملازم، جو آئینی طور پر سویلین حکومت کے ماتحت ہوتا ہے، کیمروں کے سامنے یہ کہتا ہے کہ کتے کا کام بھونکنا ہوتا ہے اور وہ بھونکتا ہے تو یہ صرف ایک فردِ واحد پر تنقید نہیں ہوتی۔ یہ دراصل اس پورے جمہوری عمل اور چار کروڑ عوام کی سیاسی مینڈیٹ کو جانوروں کے غیر مہذب فعل سے تشبیہ دینے کے مترادف ہے۔ اس بدترین توہین نے نہ صرف پختونخواہ کی عوام کے اندر شدید اضطراب پیدا کیا ہے بلکہ اس نے ایک بار پھر اس خوفناک تصویر کشی کو تقویت دی ہے کہ مقتدرہ کی نظر میں ان کے منتخب نمائندوں کی حیثیت ایک گلی کے جانور سے زیادہ نہیں۔

ترجمان کے لہجے اور الفاظ میں چھپی یہ فرسٹریشن دراصل عمران خان کی اس کامیاب حکمتِ عملی کا ردعمل ہے جس نے انہیں سیاسی محاذ پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن اس بوکھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی خطرناک راستہ اختیار کیا کہ ایک سیاسی جماعت کی مخالفت میں ایک صوبے کی عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے خلاف نفرت انگیز زبان کا استعمال کرنے پہ اتر آئے ۔

عوامی نمائندوں کے بارے میں یہ رویہ، یہ سوچ کہ منتخب لیڈر صرف اس لیے قابلِ احترام ہے جب تک وہ طاقتور کی اطاعت کرے، یہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔ خیبر پختونخواہ کی عوام کا یہ خدشہ جائز ہے کہ اگر کوئی فوجی ترجمان اپنے عہدے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کیمروں کے سامنے ان کے وزیر اعلیٰ کو گالی دے سکتا ہے تو ان کا عام پشتون شہری کے بارے میں ان کا نظریہ کیا ہو گا؟

سب سے زیادہ خوفناک پہلو یہ ہے کہ فوجی ترجمان اپنی انتقامی سیاست میں اس بات کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ وہ تاریخی ریڈ لائن کو عبور کر رہے ہیں۔ کمپنی نے ماضی میں بھی بنگال کے سیاسی لیڈروں اور بنگالی عوام کے خلاف ٹھیک یہی نفرت انگیز اور حقارت آمیز رویہ رواں رکھا تھا۔بنگالی عوام کو سیاسی طور پر گمراہ سمجھا گیا، ان کے لیڈروں کو حقیر جانا گیا اور ان کے سیاسی مینڈیٹ کی توہین کی گئی۔ اس نفرت اور حقارت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علیحدگی کی لہر بالآخر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے پر منتج ہوئی۔

آج جب فوجی ترجمان وہی نفرت انگیز چنگاری سلگا رہے ہیں اور ایک قومی لیڈر کی حمایت کرنے پر چار کروڑ عوام کے منتخب نمائندے کی توہین کر رہے ہیں تو وہ دراصل ملک کی قومی وحدت اور سالمیت کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ یہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور ملک دشمنی پر مبنی عمل ہے جو پشتون قوم پرستوں اور مرکزی دھارے کے سیاسی کارکنوں کے درمیان ایک گہری نسلی خلیج پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اداروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وردی کا کام ملک کے تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، ان کے مینڈیٹ کی توہین کرنا نہیں۔ اس طرح کا جارحانہ اور گھٹیا رویہ نہ صرف مقتدرہ کی ساکھ کو مزید پاتال میں دھکیل رہا ہے بلکہ یہ پاکستان کو ایک بار پھر تقسیم در تقسیم کے خطرناک کھیل کی طرف لے جا رہا ہے جس کا انجام ماضی میں خوفناک ثابت ہو چکا ہے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Al Majma`ah?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Khalid Bin Waleed
Al Majma`ah
15341