Mohabat Dil Se
Mohabat Dil Se
28/12/2025
الحمدُ اللّٰہ
27/12/2025
خانہ کعبہ کے سامنے، وقت کا عظیم گواہ
مکہ کلاک ٹاور کی تاریخ اور حقائق (History & Facts):
1. باضابطہ نام اور تعمیر:
اسے سرکاری طور پر “ابراج البیت” (Abraj Al-Bait) کہا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 2004 میں ہوا اور یہ 2012 میں مکمل ہوا۔ یہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں “وقفِ شاہ عبدالعزیز” منصوبے کے تحت بنایا گیا تاکہ حج اور عمرہ پر آنے والے لاکھوں زائرین کو رہائش کی بہترین سہولیات مل سکیں۔
2. دنیا میں مقام:
• یہ دنیا کا سب سے بلند کلاک ٹاور ہے۔
• اس کی کل بلندی 601 میٹر (1,972 فٹ) ہے۔
• تعمیر کے وقت یہ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت تھی، جبکہ آج بھی یہ دنیا کی ٹاپ 5 بلند ترین عمارتوں میں شامل ہے۔
3. دنیا کی سب سے بڑی گھڑی:
• اس کے چاروں اطراف گھڑیاں لگی ہوئی ہیں جن کا قطر 43 میٹر ہے۔ یہ لندن کے مشہور “بگ بین” (Big Ben) سے بھی تقریباً 35 گنا بڑی ہے۔
• گھڑی کی منٹ والی سوئی 23 میٹر اور گھنٹے والی سوئی 18 میٹر لمبی ہے۔
• اس گھڑی پر “اللہ اکبر” اور “لا الہ الا اللہ” نہایت خوبصورت خطاطی میں لکھا گیا ہے۔
4. روشنی اور چمک:
• گھڑی کو روشن کرنے کے لیے 20 لاکھ (2 Million) LED لائٹس لگائی گئی ہیں۔
• رات کے وقت اس کی روشنی 30 کلومیٹر دور سے دیکھی جا سکتی ہے۔
• اذان کے وقت اس کے اوپر لگی طاقتور لائٹس چمکتی ہیں جو دور دراز کے علاقوں تک نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دیتی ہیں۔
5. ہلال (Crescent):
• ٹاور کے سب سے اوپر ایک بہت بڑا سنہری ہلال ہے جس کا وزن تقریباً 35 ٹن ہے اور یہ خالص سونے کے موزیک سے بنا ہوا ہے۔ اس ہلال کے اندر دنیا کی سب سے بلند عبادت گاہ (Prayer Room) بھی موجود ہے۔
6. میوزیم اور رصد گاہ:
• ٹاور کے اوپری حصوں میں ایک فلکیاتی میوزیم (Clock Tower Museum) ہے جہاں کائنات، ستاروں اور وقت کی پیمائش کی تاریخ کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Pakistan
Jeddah
