*قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئی*
عشق کا بھوت دونوں کے سر پر چڑھ کر ناچنے لگا...
مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔
لڑکی نے کہا : میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کے دوسرے شہر روانہ ہوجائیں گے۔
لڑکے نے بھی ہاں کر کے رضا مندی کا اظہار کیا، رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوئے۔
لڑکی بولی : میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے۔
لڑکے نے کہا : مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ہانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے۔
لڑکی نے کہا : اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا
اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا کر بیٹھ جاتا"
پانی دیکھ کر مست ھو جاتا اور مارنے پیٹنے پر بھی ڈھیٹ بنا رھتا۔
یہ اونٹنی بھی پانی میں جا کر بیٹھ جاتی ھے عادت ھے اسکی بھی تو اس لئے تم سے کہہ رھی ھوں کہ اسکو پیچھے سے ہانکتے جانا پھر نہیں بیٹھے گی
اور ھمارا وقت بچ جاۓ گا۔
ھم صبح ھونے سے پہلے شہر سے دور نکل جائیں گے۔
لڑکے نے کچھ دیر لڑکی کہ چہرے پر نظریں گاڑھے رکھیں اور پھر ٹھنڈا لمبا سانس لیا۔
جیسے کوئی پختہ ارادہ کرچکا ھو اور بولا :
"ھم بھاگ کر شادی نہیں کریں گے مقدر ھوا تو نکاح ھوجائے گا نہیں تو جو رب کی رضا تم واپس اپنے گھر چلی جاؤ?
لڑکی نے کہا : مگر کیوں اچانک کیا ھو گیا تمھیں؟
اس پر لڑکے نے کہا : اس اونٹنی کے باپ کی خصلت اس میں منتقل ھو گئی تو کیا میری خصلتیں میری بیٹی میں اور آنے والی نسل میں منتقل نہیں ھوں گی۔
آج میں تمھارے ساتھ بھاگ رھا ھوں کل میری بیٹی کسی اور کیساتھ بھاگ جاۓ گی
یہ کہہ کر لڑکا واپس پلٹ گیا۔
دنیا مکافات عمل ھے.
*جیسا کرو گے ویسا بھرو گے*
Makeen E Makkah مکین مکہ
ziyarate makkah. ziyarate madeena, makeenemadina, makeene hijaz.
*۔ ڈرائیونگ سیٹ*
(قوم کہانی)
ان دنوں ہم کئی ایک مشکلات سے بیک وقت نمٹ رہے ہیں.
کبھی مہنگائی، کبھی پٹرول بم،کبھی لوڈ شیڈنگ، کبھی گیس کی قلت ،کبھی چینی اور کبھی آٹے کی قلت وغیرہ۔
اگر آپ ان آفات کو محسوس کرتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر جرمن فوج کو فرانس خالی کرنے کا حکم ملا تو جرمن کمانڈنٹ نے افسروں کو جمع کر کے کہا:
ہم نازی جنگ ہار چُکے ہیں ، فرانس ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ یہ سچ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ شاید اگلے 50 برسوں تک ہم کو دوبارا فرانس میں داخلے کی اجازت بھی نہ ملے اس لیئے میرا حکم ہے کہ پیرس کے عجائب گھروں ، نوادرات سے بھرے نمائش گھروں اور ثقافت سے مالا مال ہنر کدوں سے جو کچھ سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو۔ جب فرانسیسی اس شہر کا اقتدار سنبھالیں تو انہیں جلے ہوئے پیرس کے علاہ کچھ نہ ملے"
جنرل کا حکم تھا سب افسر عجائب گھروں پر ٹوٹ پڑے اور اربوں ڈالرز کے نوادرات اُٹھا لائے۔ اُن میں ڈوئچی کی مونا لیزا تھی، وین گوہ کی تصویریں، وینس ڈی ملو کا مرمریں مجسمہ غرض کہ کچھ نہ چھوڑا۔ جب عجائب گھر خالی ہو گئے تو جنرل نے سب نوادرات ایک ٹرین پر رکھے اور ٹرین کو جرمنی لے جانے کا حکم دیا۔
ٹرین روانہ تو ہو گئی لیکن شہر سے باہر نکلتے ہی اس کا انجن خراب ہو گیا۔ انجئنیر آئے انجن ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ہو گئی لیکن 10 کلومیٹر طے کرنے بعد اس کے پہیے جام ہو گئے۔ انجئنیر آئے مسئلہ ٹھیک کیا اور ٹرین پھر روانہ ہو گئی لیکن چند کلومیٹر بعد بوائلر پھٹ گیا۔ انجئنیر آئے بوائلر مرمت ہوا اور ٹرین پھر چل پڑی ، ابھی تھوڑی دور ہی گئی تھی کہ پریشیر بنانے والے پسٹن جواب دے گئے۔ انجئنیر آئے پسٹن مرمت ہوئے اور ٹرین روانہ ہوئی ۔ٹرین خراب ہوتی رہی اور جرمن انجئنیر اسے ٹھیک کرتے رہے یہاں تک کہ فرانس کا اقتدار فرانسیسیوں نے سنبھال لیا اور ٹرین ابھی فرانس کی حد میں ہی رہی۔
ٹرین کے ڈرائیور کو پیغام ملا کہ " موسیو بہت شکریہ، اب ٹرین جرمنی نہیں واپس پیرس آئے گی"۔ ڈرائیور نے مکے ہوا میں لہرائے اور واپس پیرس روانہ ہو گیا،
جب وہ پیرس پہنچا تو فرانس کی ساری لیڈرشپ اس کے استقبال کے لئے کھڑی تھی ، ڈرائیور پر گُل پاشی کی گئی پھر اس کے ہاتھ میں مائیک دے دیا گیا،
ڈرائیور بولا: "جرمن گدھوں نے نوادرات تو ٹرین میں بھر دیئے لیکن یہ بھول گئے کہ ڈرائیور فرانسیسی ہے اور اگر ڈرائیور نہ چاہے تو گاڑی کبھی منزل پر نہیں پہنچا کرتی"
عرصے بعد ہالی وڈ نے اس ڈرائیور پر "دی ٹرین" فلم بنائی
اگر اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بھی "دی ٹرین" کی سٹوری سے کم نہیں ، کبھی انجن فیل ہو جاتا ہے کبھی پہیہ جام، کبھی پسٹن پھٹ جاتا ہے تو کبھی بوائلر ۔ پہلے دن سے اب تک بحران ہی بحران ہے۔
اس ٹرین کا ڈرائیور اصل میں کوئی اور ہے جو اس کو منزل تک نہیں پہنچنے دے رہا - ہم سب کو ملکر اس ڈرائیور کو ڈهونڈنا ہے اور اسکے لئے پشتون بلوچی سندهی پنجابی کا رنگ اتار کر پاکستانی بننا ہوگا پارٹی سے بالا تر ھوکے سوچنا پڑےگا۔
پاکستانی بن جائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ۔
اللہ اس ارض پاک کو ہمیشہ آباد و خوشحال رکھے۔
19/12/2021
وہ اپنی ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا۔ کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا تھا سبھی اسے عورت سمجھتے تھے۔
یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا تھا۔ کئی
بار ضمیر کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کرلی لیکن ہمیشہ توبہ توڑتا رہا.
ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی ۔حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گراں بہا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے،بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا،
نصوح رسوائی کے ڈر سے ایک جگہ چھپ گیا۔
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کی کنیزیں اسے ڈھونڈ رہی ہیں توسچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی بارگاہ میں دل سے توبہ کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا، میری لاج رکھ لے مولا۔
دعا مانگ ہی رہا تھا کہ اچانک باہر سے آوازسنائی دی کہ نصوح کو چھوڑ دو، ہیرا مل گیا ہے۔نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصت لے کر گھر آگیا ۔نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کرلی۔
کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن
شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں۔
نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہیں اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہیں۔
جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہوگیا۔ ایک دن اس کی نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس چر رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے ،
جب تک اس کا مالک نہ آ جائے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں،لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا۔کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگیا جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھےانہوں نے نصوح سے پانی مانگا نصوح نے سب کو بھینس کا دودھ پلایا اور سب کو سیراب
کردیا،قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا ۔نصوح کے اخلاق سے متاثر ہو کر تاجروں نے جاتے ہوئے اسے بہت سارا مال بطور تحفہ دیا۔نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھدوا دیا۔آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے
لگے اور عمارتیں بننے لگیں۔ وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ رفته رفته نصوح کی نیکی کے چرچے بادشاه تک جا پہنچے۔بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔
اس نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف
لے آئیں۔جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا مگر اس بے نیازی کو دیکھ کر ملنے کی طلب اور بڑھ گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے تو ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔
جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوا، خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔چونکہ بادشاہ بطور عقیدت مند نصوح کو ملنے آرہا تھا اور رعایا بھی نصوح کی خوبیوں کی گرویدہ تھی، اس لئے نصوح کوبادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور
انصاف کا نظام قائم کیا۔ وہی شہزادی جسے عورت کا بھیس بدل کر ہاتھ لگاتے ہوئے بھی ڈرتا تھا ،اس شہزادی نے نصوح سے شادی کرلی۔ایک دن نصوح دربار میں بیٹھا لوگوں کی داد رسی کررہا تھا کہ ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی ۔ بہت ڈھونڈا مگر نہیں ملی۔
برائے مہربانی میری مدد فرمائیں۔
نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہاری بھینس کی وجہ سے ہے۔نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔
وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
اے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے۔بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہارے امتحان کے لئے آئے تھے ۔یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے۔یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔ اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو
(توبه نصوح) کہتے ہیں. تاریخ کی کتب میں نصوح کو بنی اسرائیل کے ایک بڑے عابد کی حیشیت سے لکھا گیا ہے۔
کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
انوار المجالس صفحہ 432۔
نصوح رزق کمانے کے لئے اللہ کا نا پسندیدہ کام کیا کرتا تھا۔ جب وہ کام اللہ کے خوف کی
وجہ سے چھوڑا تو اللہ نے رزق کے اسباب پیدا کئے اور بادشاہت تک عطا کر دی۔ حرام طریقے سے لذت حاصل کرنا چھوڑا تو اللہ نے نکاح میں شہزادی دے دی۔
اللہ تعالی سب کو توبہ کرنے، اور تا دم مرگ اس توبہ پر قائم رہنے کی توفیق فرمائے آمین۔
#منقول
🤐
""حقیقی خوشی""
ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو اناؤنسر نے اپنے مہمان سے جو ایک کروڑ پتی شخص تھا ، پوچھا :" زندگی میں سب سے زیادہ خوشی آپ کو کس چیز میں محسوس ہوئی؟"
وہ کروڑ پتی شخص بولا:
میں زندگی میں خوشیوں کے چار مراحل سے گزرا ہوں اور آخر میں مجھے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ میں آیا.سب سے پہلا مرحلہ تھا مال اور اسباب جمع کرنے کا. لیکن اس مرحلے میں مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو مجھے مطلوب تھی.پھر دوسرا مرحلہ آیا قیمتی سامان اور اشیاء جمع کرنے کا. لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس چیز کا اثر بھی وقتی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی.
پھر تیسرا مرحلہ آیا بڑے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے کا. جیسے فٹ بال ٹیم خریدنا، کسی ٹورسٹ ریزارٹ وغیرہ کو خریدنا . لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں تصور کرتا تھا.چوتھی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیرس خریدنے میں حصہ لوں.
دوست کی بات پر میں نے فوراً وہیل چیرس خرید کر دے دیں. لیکن دوست کا اصرار تھا کہ میں اس کے ساتھ جا کر اپنے ہاتھ سے وہ وہیل چیرس ان بچوں کے حوالے کروں. میں تیار ہو گیا اور اس کے ساتھ گیا. وہاں میں نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے وہ کرسیاں دیں. میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی عجیب چمک دیکھی. میں نے دیکھا کہ وہ سب کرسیوں پر بیٹھ ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اور جی بھر کے مزہ کر رہے ہیں. ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی پکنک اسپاٹ پر آئے ہوئے ہیں.
لیکن مجھے حقیقی خوشی کا احساس تب ہوا جب میں وہاں سے جانے لگا اور ان بچوں میں سے ایک نے میرے پیر پکڑ لیے. میں نے نرمی کے ساتھ اپنے پیر چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بچہ میرے چہرے کی طرف بغور دیکھتا ہوا میرے پیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہا.
میں نے جھک کر اس بچے سے پوچھا : کیا آپ کو کچھ اور چاہیے؟
اس بچے نے جو جواب مجھے دیا اس نے نہ صرف مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا بلکہ میری زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا.اس بچے نے کہا: میں آپ کے چہرے کے نقوش اپنے ذہن میں بٹھانا چاہتا ہوں تاکہ جب جنت میں آپ سے ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار اپنے رب کے سامنے بھی آپ کا شکریہ ادا کر سکوں.."
الله كريم اخلاص کے ساتهـ مخلوق خدا كى خدمت كرنى كى توفيق عطا فرمائ آمين
( ایک عربی پوسٹ کا اردو ترجمہ )
(منقول)
عہد فاروقیؓ میں رومیوں سے جنگ چل رہی تھی خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ اگلے مورچوں کا دورہ کرتے ہوئے شام میں قائم فوجی معسکر پہنچے۔
دوپہر کے کھانے کا وقت تھا آپ سے پوچھا گیا امیر المومنین آپ کے لیے عام سپاہیوں کا کھانا پیش کریں یا پھر سپہ سالار اور شام کے گورنر کا کھانا ؟
آپؓ نے حکم دیا دونوں طرح کے کھانے پیش کیے جائیں.
سپاہیوں کا کھانا آپ کے سامنے رکھا گیا جو کہ تازہ گوشت شوربہ اور ثرید پر مشتمل تھا.
اس کے بعد سپہ سالار، شام کے اکثر علاقوں کے فاتح اور گورنر ابو عبیدہ بن جراح کا کھانا پیش کیا گیا حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے کیا دیکھا سامنے ایک برتن میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اور دودھ کا ایک پیالہ.
فاروق اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں آپ نے اپنے گورنر کا گھر دیکھنے کی خواہش کی اس گورنر کا گھر جس کے دور میں شام میں دولت کی فراوانی اور آسودگی تھی آپ کو کھجور کے تنوں سے بنی ایک جھونپڑی دکھائی گئی جس کے اندر ایک مصلیٰ رکھا ہوا تھا یہ شام کے گورنر کا گھر تھا اور یہ ان کا ساز و سامان تھا.
یہ وہی عظیم صحابی ہیں جن کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے امین کا خطاب عطا فرمایا تھا۔
تاریخ کے اوراق سے
مکہ مکرمہ کی بلی
19/04/2021
مکین مکہ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی تاریخ پر مشتمل سلسلہ:
مسجد بیعت عقبی:
یہ مسجد سب سے پہلے ابو جعفر منصور عباسی خلیفہ نے144 ھجری میں وادئ عقبہ میں اس جگہ بنائی تھا جہاں ھمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے قبیلہ اوس اور خزرج سے آئے ھوئے انصار مدینہ سے اسلام کی دعوت قبول کرنے پر بیعت لی تھی۔
پہلی بیعت نبوت کے 11 ویں سال میں ھوئی تھی جس میں 6 افراد شریک تھے۔
اگلے سال نبوت کے بارھویں سال 12 افراد اور تیرھویں سال تقریباً 73 مرد اور 2 عورتیں شامل تھیں۔
اسی سال انصار مدینہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو مدینہ پاک آنے کی دعوت دی جسے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے قبول فرمایا اور تقریبا 3 ماہ بعد آپ صلی اللّٰہ علی وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے مدینہ پاک کی طرف ھجرت فرمائی۔
اس بیعت کو بیعت عقبہ کبریٰ کہاں جاتاھے جو کہ منی کے قریب عقبہ پہاڑی کے پاس ھوئی تھی اور اسی یادگار کو قائم رکھنے کیلئے یہاں تقریباً 1300 سال قبل قدیم مسجد بنائی گئی تھی جو کہ اب تک قائم ھے۔ موجودہ مسجد کی عمارت سلطنت عثمانیہ دور کی ھے۔
یہ تقریبآ 300 میٹر کے فاصلے پر منی میں جمرۃ عقبہ (بڑے شیطان) سے مکہ مکرمہ کی جانب پل سے اترتے ہی داھنے جانب میدان میں واقع ھے۔
مندرجہ ذیل تصاویر اس مسجد اور قبلہ سمت بیرونی دیوار پر نصب قدیم پتھر کی ھیں۔ اس پتھر پر قدیم زمانہ کی عربی تحریر کندہ ھے اس تحریر میں کوئی نقاط اور اعراب نہیں ھیں۔
17/04/2021
"مکین مکہ کی جانب سے سلسلہ مکہ مکرمہ کی تاریخ کا مختصر تعارف۔"
حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
قبیلہ قریش کی ایک بہت ہی باہمت، بلند حوصلہ اور زِیْرَک (عقل مند) خاتون تھیں،
حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا دُور اندیش، سلیقہ شعار، پریشانیوں اورمصیبتوں کے مقابلے میں بہت بلند حوصلہ وہمت رکھنے والی اور معزز خاتون تھیں، ساتھ ہی ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو عزت وشرف اور خیر وبھلائی سے بھی خوب نوازا تھا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا قریش میں اعلیٰ نسب رکھنے والی، بہت ہی بلند رتبہ اور سب سے زیادہ مالدار خاتون تھیں۔“
اوّلین اِزْدِواجی زندگی
دو۲ مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی شادی ہو چکی تھی پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوئی اِس کے فوت ہو جانے کے بعد عتیق بن عابِد مخزومی سے ،
جب یہ بھی وفات پا گیا تو کئی رؤسائے قریش نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو شادی کے لئے پیغام دیا لیکن آپ نے انکار فرما دیا اور کسی کا بھی پیغام قبول نہ کیا .
"مال تجارت"
روایت میں ہے کہ صرف آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مالِ تجارت سے لدے اُونٹ عام قریشیوں کے اُونٹوں کے برابر ہوتے تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا لوگوں کو مزدور بھی رکھتی تھیں اور مُضَارَبَت (Investment) کے طور پر بھی مال دیا کرتی تھیں۔ چنانچہ ہر تاجر کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو بھی ایسے ذِی شُعُور، سمجھ دار، ہوشیار، باصلاحیت اور سلیقہ مند افراد کی ضرورت رہتی ہو گی جو امین اور دیانت دار بھی ہوں۔
# پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہرت #
ادھر سرکارِ نامدار، مکے مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُسْنِ اَخلاق، راست بازی، ایمان داری اعلان نبوت سے پہلے ہی مکہ مکرمہ میں مشہور تھی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہِ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے اپنے تجارتی سامان ملک شام لیجانے کی خواھش کا اظہار کیا۔جس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے قبول فرمایا۔
# سفر پر روانگی #
حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنے غلام میسرہ کو حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کر دیا تھا اور یہ تاکید کی کہ کسی بات میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی نہ کرے اور نہ آپ کی رائے سے اِخْتِلاف کرے۔ روانگی سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچاؤں نے قافلے والوں کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر شفقت کرنے کا کہا۔بوقتِ روانگی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بادل نے سایہ کیا ہوا تھا.
# حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی جانب سے نِکاح کی پیشکش #
چنانچہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیغمبرانہ اَخلاق و عادات سے متاثر ہو کرحضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے اپنی سہیلی نفیسہ بنتِ منیہ کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا معلوم کرنے کے لئے بھیجا، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حاضِر ہو کر عَرْض کیا: اے مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو شادی سے کس بات نے روکا ہوا ہے؟ فرمایا: میرے پاس کوئی مال نہیں جس کے ذریعے میں شادی کر سکوں۔ میں نے کہا: اگر مال کی طرف سے آپ کو بے پرواہ کر دیا جائے اور پھر حسین وجمیل، مال دار اور مُعَزّز عورت سے نِکاح کی دعوت دی جائے جو حسب ونسب کے اعتبار سے آپ کی کفو ہو تو کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِسے قبول نہیں فرما لیں گے؟ رسولِ مُکَرَّم، شَفیعِ مُعَظَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: وہ کون ہیں؟ میں نے کہا: خدیجہ بنتِ خُوَیْلِد۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میرے لئے یہ کیونکر ممکن ہے؟ میں نے کہا: اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ فرمایا: (اگر یہ بات ہے) تو پھر میں تیار ہوں۔
# تقریبِ نِکاح اور اس كی تاریخ #
حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رِضا معلوم کرنے کے بعد نفیسہ بنتِ منیہ، حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: مُبارَک ہو! محمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کی خواستگاری فرماتے ہیں، اس پر حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بہت خوش ہوئیں اور اِظہارِ مَسَرَّت کیا۔ پھر کسی کو اپنے چچا عمرو بن اسد کے پاس بھیجا کہ بوقتِ عَقْد وہ بھی موجود ہوں۔ اِدھر حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی ابوطالِب، حضرتِ حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور بعض دیگر چچاؤں کے ساتھ اور حضرتِ ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ اور قبیلہ مُضَر کے دیگر رؤسا کے ساتھ حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے مکان پر تشریف لائے اور نِکاح فرمایا۔ نِکاح کی یہ پُرسعید تقریبِ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سفرِ شام سے واپسی کے دو۲ ماہ 25 دن بعد مُنْعَقِد ہوئی۔ اور سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجیت میں آکر قیامت تک کے تمام مؤمنین کی ماں یعنی اُمُّ المؤمنین ہونے کا شرف حاصِل کیا۔
صَلُّوْا عَلَی الْنبی! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد.
# وِلادت اور نام ونسب
وِلادت باسعادت #
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت عامُ الْفِیْل سے 15 سال پہلے ھوئی ہے۔ نام خدیجہ، والِد کا نام خُوَیْلِد اور والِدہ کا نام فاطمہ ہے۔ والِد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ”خُوَیْلِد بن اَسَد بن عَبْدُ الْعُزّٰی بن قُصَیّ بن کِلَاب بن مُرَّة بن کَعْب بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“ اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: ”فاطِمہ بنتِ زَائِدة بن اَصَمّ بن ھرم بن رواحہ بن حَجَر بن عَبْد بن مَعِیْص بن عامِر بن لُؤَیّ بن غالِب بن فَهِرّ“
# رسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسب کا اِتِّصال #
نسب کے حوالے سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو یہ فضیلت حاصِل ہے کہ دیگر ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُنَّ کی نسبت سب سے کم واسِطوں سے آپ کا نسب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ واضح رہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نسب کے حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نسب شریف کے ساتھ ملنے میں صرف تین واسطے پائے جاتے ہیں:
(۱) خُوَیْلِد (۲) اَسَد (۳) عَبْدُ الْعُزّی۔
چوتھے جدِّ امجد حضرتِ قُصَیّ میں آپ کا نسب حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے نسب سے ملتا ہے.
# کنیت #
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی کُنْیَت اُمُّ الْقَاسِم اور اُمِّ ھِند ہے۔
# القابات #
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے القابات بہت ہیں جن میں سے چند کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ
٭سب سے مشہور لقب ”الکبریٰ“ ہے، یہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے نام کے ساتھ بولا جاتا ہے اور اس کثرت سے بولا جاتا ہے کہ گویا نام ہی کا حصہ ہے۔
٭ایک اور مشہور لقب ”طاھِرہ“ ہے۔ مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کو طاہرہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
٭ایک لقب”سَیِّدَۃُ قُرَیْش“ بھی ہے کہ بعض روایات کے مطابق زمانۂ جاہلیت میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے لئے بولا جاتا تھا۔
٭ایک لقب ”صِدِّیْقَہ“ ہے۔ روایت میں ہے کہ پیارے پیارے آقا، میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”ھٰذِہٖ صِدِّیْقَۃُ اُمَّتِیْ یعنی یہ میری اُمَّت کی صِدِّیقہ ہیں۔“
# سَیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا كی اَوْلاد
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا وہ خوش نصیب اور بلند رتبہ خاتون ہیں جنہوں نے کم بیش 25 برس تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں رہنے کی سعادت حاصِل کی اور سِوائے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کہ وہ حضرتِ ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے پیدا ہوئے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام اَوْلادِ اَطہار اِنہیں سے ہوئی۔ آپ مؤمنین کی سب سے پہلی ماں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے والی سب سے پہلی خاتون ہیں۔
شہنشاہِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِکاح میں آنے سے پہلے دو مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا نِکاح ہو چکا تھا، پہلے ابوہالہ بن زُرَارَہ تمیمی سے ہوا۔ ابوہالہ سے دو فرزند ہِنْد اور ہالہ پیدا ہوئے۔
# حضرتِ خديجه رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سےرسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَوْلادِ پاک۔
سرکارِ نامدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تین شہزادے اور چار شہزادیاں تھیں اور سِوائے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے سب اولاد حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے ہوئی۔
1)حضرتِ سیِّدُنا قاسِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ
2)حضرتِ سیِّدُنا عَـبْدُ الله رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ۔
3)حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا
4)حضرتِ سیِّدَتُنا رقیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
5)حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
6)حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا۔
# خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا مکانِ رحمت نِشان #-
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ! اس گھر کی عظمت کے کیا کہنے جہاں سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ گر ہوں، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا یہ مُبَارک مکان رشکِ آسمان مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کی پاک سرزمین میں جلوہ نُما تھا، آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کم وبیش 25 برس تک حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ساتھ یہیں قیام پذیر رہے۔ مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی تمام اولاد اسی مکانِ عالیشان میں ہوئیں، اسی میں حضرتِ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے دنیا سے پردہ فرمایا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پردہ فرما جانے کے بعد پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرتِ مدینہ تک اسی مکانِ رحمت نشان کو اپنے جلوؤں سے منور فرماتے رہے۔
# وقت کی الٹ پھیر میں... #
حُضُور صاحِبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہجرت فرما کر مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا تشریف لے آنے کے بعد اسے حضرتِ عقیل بن ابوطالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے لے لیا۔
}پھر حضرتِ سیِّدُنا امیر مُعَاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے اپنے دَورِ حکومت میں اسے خرید کر مسجد بنا دیا اور اس میں نمازیں پڑھی جانے لگیں۔ انہوں نے اس کی نئی تعمیر کی لیکن حُدود وہی رکھیں جو حضرتِ سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے گھر کی تھیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی البتہ حضرتِ ابوسفیان بن حرب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے گھر سے اس میں ایک دروازہ کھول دیا۔
اب اس مکان کی جگہ کی نشانی یہ ھے
کہ پہاڑی کے قریب واقع باب المروہ سے نکل کر بائیں طرف (Left side) حسرت بھری نگاہوں سے صرف اس مکانِ عرش نشان کی فضاؤں کی بنگاہِ حسرت زیارت کر سکتے ھیں۔
# ضروری نوٹ #
یہ بہت ہی بابرکت مکان ہے جو ایک طویل عرصے تک پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جلوؤں سے منور ہوتا رہا، رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اولادِ اطہار کی وِلادت گاہ بنتا رہا اور بارہا اس مکانِ عالی شان میں حضرتِ سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اقدس میں حاضِری دی۔ ایک روایت کے مُطَابق حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نیز دنیا میں جنت کی بشارت پانے والے ایک اور جلیل القدر صحابِیِ رسول حضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے بھی اسی مکانِ عالی شان میں آ کر مُشَرَّف بَہ اِسْلام ہونے کی سعادت حاصِل کی۔ انہیں وُجُوہات کی بِنا پر عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ”مسجدِ حرام کے بعد مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا میں اس سے بڑھ کر افضل کوئی مقام نہیں۔“
امام ابو ولید محمد بن عبد الله ازرقی اور امام ابو عبد الله محمد بن اسحاق فاکہی رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالیٰ نے اسے مکہ مُکَرَّمَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْـمًا کے ان مقامات میں شمار کیا ہے جہاں نماز پڑھنا مستحب ہے اور امام ابوزکریا محی الدین، یحییٰ بن شرف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اُن جگہوں میں شمار کیا ہے جن کی زیارت کرنا مستحب ہے۔ اس لئے اگر ہو سکے تو اس جگہ کی زیارت بھی کیجئے اور نماز بھی ادا کیجئے۔
مندرجہ ذیل تصاویر آپ رضی اللہ عنہا کے مکان عالیشان کی ھیں.
16/04/2021
مکین مکہ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی مختصر تحریری تاریخ بمع تصاویر ایک سیریز شروع کی گئی ھے۔ کمنٹس میں اپنی قیمتی تجاویز دیجئے تاکہ اسے مزید سنوارا جاسکے۔
کعبۃ اللہ شریف کی مختصر تاریخ:
قرآن مجید میں کعبۃ اللہ شریف کے کئی اسماء کا ذکر ھے ان میں سے چند نام مندرج ذیل ہیں۔
1) الکعبۃ: (( جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیام للناس )).
عربی میں کعبہ کے معنیٰ یعنی چوکور، مربع، منفرد ھیں۔
2) البیت الحرام:
3) بیت اللہ:
4) البیت العتیق:
5) قبلۃ۔
6) وادی ذی زرعہ۔
کعبۃ اللہ شریف کی تعمیر کئی بار ھوچکی ھے۔ ان میں مشہور یہ ھیں۔
1) فرشتے؛
(2) حضرت آدم علیہ السلام۔
3) حضرت ابراھیم و حضرت اسماعیل علیہم السلام
4) قوم عمالقہ و قوم جرہم۔
5) قصی بن کلاب یمنی بادشاہ۔
6) قریش مکہ 18 سال قبل ھجرہ۔
7) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سنہ 65 ھجری۔
8) سلطان مراد عثمانیہ سلطنت 1040ھ۔
9) سعودی حکومت 1417ھ۔
مقام موقف نزد بئیر طوی: اس مقام پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت قیام فرمایا تھا۔
بئیر طوی:- اس کنویں کے پانی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے غسل فرمایا ھے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
المعابدہ
Makkah
