20/05/2021
Voice of Overseas Pakistanis
This page is made to discuss the issues of Overseas Pakistanis and promote them to get them resolved
20/05/2021
ھم ”تربوز“ خریدتے ہیں مثلاً پانچ کلو کا ایک دانہ.. جب اسے کھاتے ھیں تو پہلے اس کاموٹا چھلکا اتارتے ھیں.. پانچ کلو میں سے کم ازکم ایک کلو چھلکا نکلتا ہے.. یعنی تقریبا بیس فیصد.. کیا ھمیں افسوس ھوتا ہے؟ کیا ھم پریشان ھوتے ھیں؟ کیا ھم سوچتے ھیں کہ ھم تربوز کو چھلکے کے ساتھ کھا لیں؟..
نہیں بالکل نہیں.. یہی حال کیلے، مالٹے کا ہے..
ھم خوشی سے چھلکا اتار کر کھاتے ھیں.. حالانکہ ھم نے چھلکے سمیت خریدا ھوتا ہے.. مگر چھلکا پھینکتے وقت تکلیف نہیں ھوتی..
ھم مرغی خریدتے ھیں.. زندہ، ثابت.. مگر جب کھانے لگتے ھیں تو اس کے بال، کھال اور پیٹ کی آلائش نکال کر پھینک دیتے ھیں.. کیا اس پر دکھ ہوتا ہے؟.. نہیں..
تو پھر چالیس ہزار میں سے ایک ہزار دینے پر.. ایک لاکھ میں سے ڈھائی ہزار دینے پر کیوں ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے؟.. حالانکے یہ صرف ڈھائی فیصد بنتا ہے.. یعنی سو روپے میں سے صرف ڈھائی روپے..
یہ تربوز، کیلے، آم اور مالٹے کے چھلکے اور گٹھلی سے کتنا کم ہے.. اسے ”زکوۃ“ فرمایا گیا ہے.. یہ پاکی ہے.. مال بھی پاک.. ایمان بھی پاک.. دل اور جسم بھی پاک.. اتنی معمولی رقم یعنی چالیس روپے میں سے صرف ایک روپیہ.. اور فائدے کتنے زیادہ.. اجر کتنا زیادہ.. برکت کتنی زیادہ
12/12/2020
میں ایک اوورسیز پاکستانی ہو اور میں پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں لگاؤں ۔
کوئی ہے جو میری فریاد سنے گا۔
میں نے 2016 میں پاک ویو ولا لاہور میں پلاٹ لیا سوچا کے پاکستان میں سرمایہ لگائیں لیکن مجھے کیا ملا ذلت، رسوائی اور جالسازی کے علاوہ کیا ملا۔
Park View Villas ویو ولا لاہور جو کے Abdul Aleem Khanعلیم خان کی سوسائٹی ہے اور پی ٹی آئی Imran Khanکے ممبر بھی ہے یہ لوگ نئے پلاٹ سیل کر رہے اور جن لوگو ں نے پلاٹ 2016 مین خریدے ہیں ان کو پلاٹ نہیں دے رہے ہیں۔
لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں
تین بار وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر کمپلین کر چکا ہو ں اور جواب ملتا ہے ہم اس کے جواب دے نہیں ہے ۔
دو سال سے نائب مین شکائتیں کی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں
میرا سوال پی ٹی آئی گورنمنٹ سے ہے کہ عمران خان صاحب میں پاکستان میں کیوں سرمایہ لگاوں
ہم کو ہمارا حق دو پاک ویو ولا ٹھوکر نیاز بیگ روڈ لاہور۔
BEWARE EVERYONE in Saudi Arabia :
The Ministry of Hajj and Umrah has seized a number of bogus permits for performing Umrah. It was found that these forged permits were sold to Saudis and expatriates. Some rackets are involved in issuing forged permits to dupe the faithful who are finding it difficult to get Umrah permits due to the overwhelming response for the reservation!
05/06/2017
02/06/2017
فروٹ فروش منافع خوروں کے خلاف میرے دیس کے غیرتمند لوگوں کا جہاد
فروٹ نہ خریدنے کا فیصلہ
فروٹ فروش منڈی سے فروٹ کب اور کیسے خریدتا ہے
جب تم لوگ سحری کے دسترخوان پہ شب خون مار کے گھر کہ ائیر کنڈیشن والے کمرے میں مخمل کے مصلے پر 2 رکت فرض ادا کر کے ظہر کی نماز تک سو جاتے ہو
اس وقت فروٹ فروش اپنے گھر سے باہر نکل کر منڈی جاتا ہے اور وہاں سے 5 یا 10 ھزار کا فروٹ خریدتا ہے پھر کسی ٹیکسی میں رکھ کر اپنی دکان میں سجاتا ہے یا پھر کسی ریڑھی پر رکھ کر کڑی دھوپ میں پھرتا ہے یا دکان پہ سارا دن ان سے مکھیاں بھگاتا ہے
جب آپ فروٹ خریدنے کے لیئے جاتے ہو تو اپنی مرضی کا فروٹ ترازو میں ڈالتے ہو کوئی مرجھایا ہوا سیب کوئی داغ دار کیلا کوئی نرم آم وہ اس فروٹ والے کے حصے میں آتا ہے وہ سب فروٹ بیچنے کے لیئے افطاری بھی اپنے بچوں کے ساتھ نہیں کرتا ایک غریب اس فروٹ سے دکان کا کرایہ خراب ہونے والا فروٹ نکال کر کیا کماتا ہوگا 5 سو یا ھزار یا کبھی نقصان
فیس بک کے مجاہدوں کبھی آپ نے یو فون زونگ ٹیلی نار یا موبلنک کے بلوں کے خلاف کوئی بائیکاٹ کیا کبھی کسی پیپسی کبھی کوکا کولا کی قیمتوں پر بائیکاٹ کیا مجھے کوئی ایسا فروٹ بیچنے والا دکھا دو جس کے پاس کوئی بڑی گاڑی یا بڑا بنگلا ہو سوشل میڈیا کے مجاہدوں کچھ خدا کا خوف کرو ھماری تمھاری اوقات 2 کلو آم خریدنے سے زیادہ نہیں تمہارے 2 کلو سے وہ غریب 10 روپئے کما لیگا
تم جو اپنی فون میں 100 کا کارڈ ڈالتے ہو کمپنی والے تیرے 40 روپئے کھا جاتے ہیں
وہاں آبلے پڑ جاتے ہیں تیری زبان میں رمضان المبارک میں ریڑھیوں والوں سے دل کھول کر فروٹ خریدو تا کہ ان کے بچوں کے بھی عید کے کپڑے آ سکیں
کاسمیٹک احتجاجوں سے کچھ نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔
یہ کوئی چھ سات سال قبل کی بات ہے۔ دبئی کے علاقہ القصیص میں میری کمپیوٹر شاپ تھی۔ ایک دن اچانک دبئی اکنامک ڈپارٹمنٹ کا انسپیکٹر دوکان پر آیا اور مجھ سے انوائس بک میں سے ایک انوائس مانگی۔ انوئس لے کر اس نے اس پر ایک نظر ڈالی اور (غالباََ) تین ہزار درہم جرمانے کا واؤچر میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے انوائس پر نیچے لکھی ایک لائن کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ جرمانہ یہ لکھنے کی وجہ سے ہے۔ انوائس کے نیچے نہایت باریک الفاظ میں یہ لکھا تھا:
Goods once sold, will not be taken back or exchanged
انسپیکٹر نے کہا کہ یہ خریدار کا حق ہے کہ اگر وہ خریدی گئی چیز واپس کرنا چاہے تو واپس کرے، یہ لائن لکھ کر دراصل تم نے خریدار کی حق تلفی کی ہے، لہٰذا یہ جرمانہ اسی چیز کا ہے۔
دبئی اکنامک ڈیپارٹمنٹ نے کنزیومرز رائٹس کے حوالہ سے خاصے اقدامات کیے ہیں۔ جگہ جگہ انہیں ہوشیار کرنے کے لیے اسٹکرز لگے ہوئے ہیں۔ یہاں نہ تاجروں کی انجمنیں ہیں اور نہ وہ صارفین کی جیبوں کو اس طرح لوٹ سکتے ہیں جس طرح ہمارے یہاں چلن ہے۔
ایک صاحب جو کہ کسی کوکنگ آئل فیکٹری میں کام کرتے تھے، بتا رہے تھے کہ ایک بار کسی عمانی شہری نے ان کی کمپنی کا آئل خریدا۔ اس نے ابھی بوتل کو کھولا نہیں تھا کہ اس کی نظر بوتل کے اندر تیرتی مکھی پر پڑی۔ آدمی چالاک تھا۔ اس نے فوراََ کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ آپ کے آئل میں مکھی مری پڑی ہے، میں تو جا رہا ہوں شکایت لگانے۔ کمپنی کی دوڑیں لگ گئیں۔ مگر وہ شخص نہ مانا اور زبان بند رکھنے کے ایک لاکھ درھم طلب کرنے لگا۔ کمپنی نے اس کو دس ہزار تک آفر کیے مگر وہ نہ مانا۔ پھر کمپنی نے ایک اور چال چلی۔ اس شخص سے کہا کہ چلو ٹھیک ہے، ہم آتے ہیں اور کچھ کرتے ہیں۔ پھر اپنے دو تین پھرتیلے اور سبک رفتار افراد اس کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اس شخص سے کہا کہ کہاں ہے وہ بوتل دکھاؤ۔ اس شخص نے جیسے ہی بوتل ان کے حوالے کی انہوں نے واپسی کی دوڑ لگائی اور وہ شخص دیکھتا رہ گیا۔
ہمارے یہاں کا معاملہ اس کے بلکل برعکس ہے۔ کھلے عام ملاوٹ شدہ اشیاء مارکیٹ میں بک رہی ہیں۔ پیٹرول پمپ سرعام ناپ تول میں کمی کا جرم کر رہے ہیں، منڈیوں اور بازاروں میں قیمتیں صرف ہاتھی کے دانتوں کی طرح دکھلاوے کی چیز ہیں۔
بہت بری مثال ہے مگر اس کے بغیر چارا بھی نہیں۔ آدمی جب غصے میں بھنائے ہوئے کسی کتے کو پتھر مارتا ہے تو کتا بجائے اس پر حملہ آور ہونے کے، پتھر کے پیچھے دوڑتا ہے اور اسی کو دانتوں میں دبا کر اپنا غصہ نکالتا ہے۔ یہ جو غریب فروٹ والوں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے، دراصل پتھر کے پیچھے دوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ پتھر مارنے والے دور کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ اور کچھ دیر ٹہر کر ایک اور پتھر کھینچ ماریں گے۔ مگر عوام ہے کہ اصل مجرموں کی پشتیبان بنی ہوئی ہے اور غریب ٹھیلابانوں کے پیچھے پڑی ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ عوام کی بہت بڑی اکثریت باجود علم اور یقین ہونے کے اپنے کرپٹ سیاسی لیڈروں کو سپورٹ کرتی ہے اور آج بھی اگر الیکشن ہو جائیں تو پنجاب، پانامہ سرکار والوں کا ہوگا۔ دیہی سندھ میں ایک بار پھر ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ اور شہری علاقوں میں ’’حق پرست، حق پرست‘‘ ’’ کے نعرے گونجیں گے؟ کیا یہ بھی جھوٹ ہے کہ سندھ کی اکثر شوگر ملز پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وڈیروں اور جاگیرداروں کی ہیں اور جب گنے کی کٹائی کا سیزن آتا ہے تو اسمبلیوں میں بیٹھے یہ ہی جاگیردار اپنی ملز، مقررہ تاریخوں پر چالو کرنے کے بجائے بند رکھتے ہیں اور تب تک بند رکھتے ہیں جب تک گنا سوکھنا شروع نہ ہوجائے اور غریب زمیندار اور کسان ان کے پاؤں نہ پکڑ لیں۔ یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے کہ کسان، کم سے کم قیمت پر اپنی فصل ان کے ہاتھ بیچنے پر مجبور ہو جائیں۔
انگریزی میں کہتے ہیں to beat about the bush۔ یعنی ہدف کو چھوڑ کر ادھر ادھر چوٹ مارنا۔ سب جانتے ہیں کہ خرابی کی جڑ کہاں ہے۔ ملک کو لوٹنے اور اس حالت تک پنہچانے والوں میں سے اکثر ہمارے ہی تعاون اور ووٹوں سے اسمبلیوں میں بیٹھی ہے اور ہم ہیں کہ کنوئیں میں سے ڈول پہ ڈول نکالے جا رہے ہیں۔
اگر ایکا کرنا ہے تو اس بات کا کریں کہ آئندہ ہم میں سے کوئی بھی شخص کسی کرپٹ اور بدکردار سیاستدان کو ووٹ نہیں دے گا۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر کاسمیٹک احتجاجوں سے کچھ نہیں ہوگا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Riyadh
11543
