Khalid Bin Waleed(All Time Greatest Military Commander)

Khalid Bin Waleed(All Time Greatest Military Commander)

Share

Hazrat Khalid-Bin-Waleed (R.A.) This Page Is Created To Share His Great Personality!! Regards: Admin

Was A Greatest Muslim Military Commander, Who Remained Undefeated In All Battles Due To His Leadership, Planning, Tactics, Bravary And Belief In Allah.

25/10/2025

قرآن کا کچھ لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا؟
کئی مرتبہ فرسٹیشن اور مایوسی disappointement ہوتی ہے جب قرآن کی کلئیر آیات کے مقابل لوگوں کی تاویلات کو قبول کیا جاتا ہے جو اکثر فرقہ پرستانہ ہوتی ہیں، کیوں؟
اور زرخیز زمین کی پیداوار تو خوب اپچتی ہے اس کے رب کے حکم سے پر جو زمین ناقص ہوتی ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی آیات مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو شکر گزار بننا چاہیں ( ترجمہ، اعراف 58)
مذکورہ تمثیل سے ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ :
اللہ کا ابر کرم تو خشک و تر ہر جگہ یکساں برستا ہے لیکن فیض بقدر استعداد پہنچتا ہے۔ جس طرح دیکھتے ہو کہ بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین لہلہا اٹھتی ہے لیکن بنجر اور شور زمین یا تو کچھ اگاتی ہی نہیں یا اگاتی ہے تو بس یوں ہی کچھ خار و خس، اسی طرح قرآن کی صورت میں جو رحمت آسمان سے برسی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ استعداد و صلاحیت کے اعتبار سے پہنچے گا۔ جن کی فطری صلاحیتیں زندہ ہیں وہ تو باغ و چمن کی طرح لہلہا اٹھیں گے لیکن جنہوں نے اپنی صلاحیتیں ضائع کردی ہیں ان سے عناد و عداوت کے خار و خس کے سوا اور کسی چیز کی توقع نہ رکھو۔
یہی حقیقت ایک حدیث میں اس طرح واضح کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی تمثیل یہ ہے کہ کسی خطہ زمین پر بارش ہو تو جو ٹکڑا زرخیز ہوتا ہے وہ پانی کو قبول کرلیتا ہے اور خوب سبزہ اور نباتات اگاتا ہے۔ اسی طرھ کوئی ٹکڑا ہوتا ہے جو پانی کو روک لیتا ہے تو اللہ اس سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے، لوگ اس سے پیتے ہیں، کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور اپنی فصلیں بوتے ہیں۔ اسی طرح کوئی ٹکڑا ہوتا ہے جو محض چتیل ہوتا ہے، نہ پانی کو روکتا نہ سبزہ اگاتا، یہ تمثیل ہے ان لوگوں کی جو دین کی سمجھ حاصل کریں اور ان کو نفع پہنچے اس چیز سے جو اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، پس وہ سیکھیں اور سکھائیں اور ان لوگوں کی جو اس کی طرف توجہ نہ کریں اور اس ہدایت کو قبول نہ کریں جس کو لے کر میں آیا ہوں (بخاری و مسلم)
تدبر قرآنر: مولانا امین احسن اصلاحی

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذۡنِ رَبِّهٖ ‌ۚ وَالَّذِىۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَكِدًا ‌ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ۞
سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 58
https://QuranSubjects.blogspot.com

https://whatsapp.com/channel/0029VbAtmSV4dTnGU7MZ2e2n

Photos from Quran Subjects's post 24/10/2025
21/10/2025

✔️🕌📃🕋✔️
قرآن کی اہمیت

اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہم نے
علم قطعی" کی بنیاد پر کی ہے، ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں ۔"
۔(سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 52)

یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اوپر اپنے اس احسانِ عظیم کا اظہار فرمایا ہے جو قرآن کی صورت میں ان پر فرمایا۔ اس کتاب کی صفت یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں ہم نے اپنے علم قطعی کی روشنی میں ان تمام امور کی تفصیل بیان کردی ہے جن سے آگاہ ہونا دنیا و آخرت کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔
یعنی یہ اللہ کے عظیم، وسیع، محیط کل علم پر مبنی ہیں۔ ان میں سے ہر بات قطعی اور اٹل ہے۔
اللہ قیامت کے روز کی باتیں بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح کل اور آج کی باتیں جانتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی نے ان کو خیالی باتیں قرار دے کر ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تو وہ سوچ لے کہ وہ دن دور نہیں جب وہ ایک ایک بات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور پکار اٹھے گا کہ اللہ کے رسول نے جن جن باتوں کی خبر دی تھی سب سچی ثابت ہوئیں۔
یہ کتاب لوگوں کے لیے دنیا میں ہدایت ہے اور اس ہدایت کو اختیار کرنے کا ثمرہ آخرت میں رحمت ہے۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ۞
ترجمہ:
اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہمنے علم قطعی کی بنیاد پر کی ہے، ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں ۔(سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 52)
https://whatsapp.com/channel/0029VbAtmSV4dTnGU7MZ2e2n

15/10/2025

زینت - حلال و حرام

قرآن واضح کرتا ہے کہ اس دنیا کی زینت اور پاکیزہ نعمتوں سے لطف اندوز ہونا مومنین کا ایک جائز حق ہے۔
اس اجازت میں زندگی کی آرائش کا ایک وسیع دائرہ شامل ہے، جس میں لباس اور کھانے سے لے کر وسیع تر جمالیاتی فنون تک سب کچھ آتا ہے۔ اس جائز لطف اندوزی میں ایسے اصولوں کے ذریعے توازن قائم کیا گیا ہے جو اعتدال، ایمانداری، اور انسان کی فطری، خدا داد شناخت کے تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔
کبھی لاوڈ سپیکر ، انٹرنیٹ، ٹی وی ، وسی آر وغیرہ حرام قرار دیئے جاتے ہیں پھر حلال ہو جاتے ہیں ۔ اب یو ٹیوب پر علماء کے چینل ہیں۔ دراصل ایجاد یا تفریح کو حلال یا حرام اس کے استعمال پر ہے۔ چاقو سے سبزی کاٹی جاتی ہے جائیز ہے مگر اسی سے کسی کو قتل کرنا حرام ۔ اگر خنجر کو زینت کے لیئے پہن لیں مگر نیت دفاع یا عام استعمال ہو تو کوئی حرج نہیں۔

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِىۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ‌ؕ قُلۡ هِىَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞
قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الۡـفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَالۡبَـغۡىَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
پوچھو، کس نے حرام ٹھہرایا ہے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ؟ کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والے کے لیے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کر رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں (سورۃ نمبر 7 الأعراف, آیت نمبر 32)

کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم الله کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم الله پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔

یہ زینت( Adornment of life ) تو خود زبان حال سے شہادت دے رہی ہیں کہ عطا کرنے والے نے یہ بندوں کے برتنے کے لیے عطا فرمائی ہیں تو ان پر کوئی ناروا پاندی عاید کرنے کے کیا معنی ؟ ان پر کوئی پابندی تو ان کا عطا کرنے والا ہی عاید کرسکتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمہارے پاس کوئی سند یا دلیل ہو۔

اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں اس دنیا میں بھی اصلاً اہل ایمان ہی کا حق ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس میں کافروں کو بھی شریک کردیا ہے، رہا آخرت کا معاملہ تو وہاں یہ سو فی صدی اہل ایمان ہی کا حصہ ہوں گی، کافروں کا ان میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، البتہ دنیا میں انہوں نے ان سے جو فائدہ اٹھانا ایمان اور دینداری کے منافی نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو مایا کا جال سمجھتے ہیں اور ان سے دستبرداری کو تقربت الٰہی کی شرط ٹھہراتے ہیں، ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤ، اللہ کے شکر گزار رہو، اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے رہو۔
رازی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ دراصل جنایات ( جرائم، قصور، زیادتیاں) پانچ ہی قسم کی ہیں،
1.پہلی نسب پر جنایت ہے، اس کا سبب زنا ( اور اس سے ملتی جلتی چیزیں) ہے۔ {’’ الْفَوَاحِشَ ‘‘} سے یہی مراد ہے۔
2.دوسری عقل پر جنایت جس کے دوسرے معنی شراب نوشی کے ہیں اور{’’ الْاِثْمَ ‘‘} میں اس کی طرف اشارہ ہے۔
3۔ تیسری عزت پر جنایت،
4۔ چوتھی جان و مال پر جنایت اور {’’ الْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ‘‘} میں ان دونوں کی حرمت کی طرف اشارہ ہے۔
5۔ پانچویں دین پر جنایت اور یہ دو قسم کی ہے :

(ا) توحید میں طعن کرنا جس کی طرف «وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ » سے اشارہ فرمایا ہے۔

(ب) اور بغیر علم کے اﷲ کے ذمے بات لگانا اور فتویٰ دینا جس کی طرف «اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ» سے اشارہ فرمایا ہے۔

غرض کہ تمام جرائم اور جنایات میں یہ پانچ چیزیں اصول کی حیثیت رکھتی ہیں اور باقی ان کی شاخیں اور ان کے تحت آنے والی چیزیں ہیں، (کبیر)

یاد رہے کہ اﷲ کے ذمے بات لگانے میں رسول اﷲ ﷺ کے ذمے بات لگانا بھی شامل ہے کیونکہ وہ اﷲ ہی کی بات ہے، اسی لیے جو جان بوجھ کر ان پر جھوٹ لگائے اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔

11/10/2025

افغانستان کا پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام، پاکستانی فوج کے ترجمان کی تردید نہ تصدیق: ’نتائج کی ذمہ داری پاکستانی فوج پر ہو گی‘
دہشتگردی ، فساد فی الارض حرام ہے جہاد کے لیئے کم ازکم 50% طاقت چاہئے۔( قرآن)
دشمن کے ایجنٹوں کو ختم کرنا اور عوام کی جان مال کو محفوظ کرنا نیکی ہے۔
PaighamPakistan.wordpress.com

Want your business to be the top-listed Government Service in Homs?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Khalid Ibn Al-Walid Mosque, As Salamiyeh Street
Homs
00963