Allama Mufti Muhammed Khan Quadri Hambali

Call Directions Website Contact the organization

Allama Mufti Muhammed Khan Quadri Hambali Tarjuman e Ahle Sunnat
shaan e Hindustan
Maulana Hafiz o Qari Muhammed Khan Quadri Hambali Arshad Habibi Sahab Qibla Maddezillahulaali

مفتی قاسم  صديقى صاحب کے سوالات اور حق کے جوابات: اہلِ بیتِ اطہار، عصمت اور عقائدِ اہلِ سنت کا تحقیقی جائزہ حضرت مولانا ...
10/07/2026

مفتی قاسم صديقى صاحب کے سوالات اور حق کے جوابات:
اہلِ بیتِ اطہار، عصمت اور عقائدِ اہلِ سنت کا تحقیقی جائزہ

حضرت مولانا الشيخ ابو نصر سيد محمد مُحْيِي الدِّينِ القَادِرِي الجيلاني،پير پاشاہ حفظه الله

شكاگو، امريكه

کتاب کا مطالعہ کرنے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں:

https://drive.google.com/file/d/1IcdPb_-JUpFlUcOkcZgr5pA0fYm8rtQT/view?usp=drive_link

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِاللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ وَعَلَىٰ آلِ سَي...
09/30/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ وَعَلَىٰ آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔

🌹 محبتِ اہلِ بیت — میری نسبت، میری محبت اور میری وضاحت

میں یہ تحریر کسی مسلمان کو گناہ گار، جہنمی، ناصبی، رافضی، شیعہ یا کسی دوسرے نام سے پکارنے کے لیے نہیں لکھ رہا۔

میں صرف اپنے دل کی ایک نسبت، اپنی محبت اور اپنے فہم کی وضاحت کر رہا ہوں۔

اگر مجھے رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیتِ اطہار سے محبت ہے تو مجھے اس محبت پر شرمندگی نہیں۔

اگر کوئی مجھے اس محبت کی وجہ سے شیعہ کہے، رافضی کہے یا کوئی اور نام دے، تو مجھے اس نام کی پروا نہیں۔

مجھے اپنی نسبت کی فکر ہے؛ اور میری نسبت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہے۔

اور جب رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے تو پھر جنہیں رسول اللہ ﷺ نے محبت دی، ان سے محبت کرنا میرے لیے باعثِ سعادت ہے۔

---

🌹 محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ اہلِ بیت

میرا سوال بہت سادہ ہے:

کیا رسول اللہ ﷺ کی سنت صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج تک محدود ہے؟

نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی سنت آپ ﷺ کی محبت بھی ہے، آپ ﷺ کا اخلاق بھی ہے، آپ ﷺ کا ادب بھی ہے، آپ ﷺ کے اہلِ بیت سے آپ ﷺ کا تعلق بھی ہے، آپ ﷺ کے صحابہ سے آپ ﷺ کی محبت بھی ہے، اور آپ ﷺ کے محبوب لوگوں سے محبت کرنا بھی اسی نسبت کا حصہ ہے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے:

قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ

“آپ فرما دیجیے: میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت داروں کی محبت۔”

(الشوریٰ 42:23)

اہلِ بیت کی محبت میرے لیے کسی فرقے کا سیاسی نعرہ نہیں۔

یہ محبت ہے۔

اور محبت اگر رسول اللہ ﷺ کے گھرانے سے ہو تو اسے صرف فرقہ وارانہ چشمے سے دیکھنا مجھے درست نہیں لگتا۔

---

🌹 اہلِ بیت سے محبت — میرے نزدیک سنتِ محبت ہے

رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کے فضائل بیان فرمائے۔

حضرت فاطمہؓ کے مقام کو واضح فرمایا۔

حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی محبت ظاہر فرمائی۔

حدیثِ کساء میں حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو اپنے اہلِ بیت کے خصوصی دائرے میں جمع فرمایا۔

اور حدیثِ ثقلین میں کتاب اللہ اور اپنے اہلِ بیت کے بارے میں امت کو متوجہ فرمایا۔

تو پھر میں اگر اہلِ بیت سے محبت کروں تو مجھے اس محبت سے خوف کیوں ہو؟

میں محبت کو محبت ہی رہنے دوں گا۔

نہ اس میں غلو کروں گا، نہ اس سے شرمندہ ہوں گا۔

---

🌹 حضرت علیؓ — کَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ

میں حضرت علی بن ابی طالبؓ کا ذکر محبت سے کرتا ہوں:

سیدنا علی المرتضیٰ، کَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ

“کَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ” ہمارے ہاں حضرت علیؓ کے لیے ایک معروف تعظیمی تعبیر ہے۔ اس کے استعمال کی مختلف توجیہات اہلِ علم نے بیان کی ہیں، جن میں یہ بھی مشہور ہے کہ حضرت علیؓ نے کبھی بت کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ بعض اہلِ سنت علماء نے اس تعبیر کو حضرت علیؓ کے لیے معروف تعظیمی اسلوب قرار دیا ہے۔

میرے لیے اس لفظ کا اصل حسن یہ ہے کہ:

میں حضرت علیؓ کے چہرۂ مبارک کو رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے دیکھتا ہوں۔

وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد ہیں۔

داماد ہیں۔

اہلِ بیت میں ہیں۔

خیبر کے علم بردار ہیں۔

اور وہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَىٰ، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي

“تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”

تو علیؓ سے محبت میرے لیے کیوں مشکل ہو؟

---

🌹 حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ — دونوں کی محبت

مجھے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی محبت ہے۔

اور حضرت علیؓ سے بھی محبت ہے۔

مجھے حضرت عمرؓ سے بھی محبت ہے۔

حضرت عثمانؓ سے بھی محبت ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں فضائل کے متعدد دروازے ہیں۔

قرآن خود بتاتا ہے کہ فتحِ مکہ سے پہلے ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا مقام ان لوگوں سے بلند ہے جو بعد میں ایمان لائے اور خرچ کیا:

لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ...

پھر فرمایا:

وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ

“اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے۔”

(الحدید 57:10)

یعنی درجات مختلف ہوسکتے ہیں، فضائل مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن ہر فضیلت دوسرے کی نفی نہیں کرتی۔

---

🌹 عشرۂ مبشرہ — خصوصی نبوی مقام

اور پھر رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابۂ کرامؓ کو ان کے نام لے کر جنت کی بشارت دی۔

یہ عشرۂ مبشرہ ہیں۔

ان میں:

ابوبکر صدیقؓ

عمر فاروقؓ

عثمان غنیؓ

علی المرتضیٰؓ

اور دوسرے جلیل القدر صحابہؓ شامل ہیں۔

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ:

جس فہرست میں ابوبکرؓ ہیں، اسی فہرست میں علیؓ بھی ہیں۔

جس میں عمرؓ ہیں، اسی میں علیؓ ہیں۔

جس میں عثمانؓ ہیں، اسی میں علیؓ ہیں۔

تو پھر محبت کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی ضرورت کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جامع محبت سکھائی ہے۔

---

🌹 حضرت علیؓ کا چہرہ — ایک روحانی واقعہ

حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ایک مشہور واقعہ میں آتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو حضرت علیؓ کے چہرۂ مبارک کی طرف بار بار دیکھتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے عرض کیا:

“ابا جان! آپ علی کے چہرے کو اتنی کثرت سے کیوں دیکھتے ہیں؟”

حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سنا ہے:

النَّظَرُ إِلَىٰ وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ

“علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔”

یہ واقعہ مناقبِ علیؓ کی روایات میں نقل ہوا ہے۔

میں یہاں اس واقعے کو محبت و منقبت کے پس منظر میں پیش کر رہا ہوں۔

میرے لیے اس واقعے کا روحانی پیغام یہ ہے کہ ایک صحابیِ رسول، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت علیؓ کے چہرۂ مبارک کو محبت و تعظیم کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

تو اگر میں بھی حضرت علیؓ کا ذکر محبت سے کروں، ان کے فضائل بیان کروں، ان کی سیرت سے روحانی روشنی حاصل کروں، تو اس محبت کو فوراً کسی فرقے کے خانے میں کیوں ڈال دیا جائے؟

---

🌹 رسول اللہ ﷺ: “الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ”

اور یہاں صحیح مسلم کی وہ حدیث میرے دل کو بہت سہارا دیتی ہے۔

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:

“یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن اپنے اعمال میں ابھی ان تک نہیں پہنچا؟”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

“انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔”

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث 2640)

اور حضرت انسؓ کی روایت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ

“تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔”

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو اسلام لانے کے بعد اس فرمان سے زیادہ خوشی کسی بات سے نہیں ہوئی۔

تو میرے لیے محبت کوئی معمولی چیز نہیں۔

محبت آخرت کی نسبت ہے۔

---

🌹 اگر مجھے اہلِ بیت سے محبت ہے تو میں اس محبت کو کیوں چھپاؤں؟

میں یہ نہیں کہتا کہ صرف زبان سے محبت کافی ہے۔

محبت کا تقاضا عمل بھی ہے۔

اگر علیؓ سے محبت ہے تو علیؓ کی شجاعت، عدل، عبادت، علم اور تقویٰ سے بھی کچھ حاصل کرو۔

اگر حسینؓ سے محبت ہے تو حسینؓ کی استقامت اور حق کے لیے قربانی سے سبق حاصل کرو۔

اگر فاطمہؓ سے محبت ہے تو ان کی حیا، عبادت، سادگی اور پاکیزگی کو یاد کرو۔

اگر حسنؓ سے محبت ہے تو حلم، بردباری اور امت کی خیرخواہی کو یاد کرو۔

یہی محبت کو سنت میں بدلنا ہے۔

---

🌹 حضرت عمار بن یاسرؓ — یہاں بھی محبت کا امتحان ہے

اور اب میں ایک دوسری حدیث کو بھی نہیں چھپاؤں گا۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں فرمایا:

وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ

“افسوس عمار پر! انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا؛ وہ انہیں جنت کی طرف بلائیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے۔”

(صحیح بخاری)

یہاں بھی میری نیت کسی فرد کو جہنمی قرار دینا نہیں۔

میں صرف رسول اللہ ﷺ کی بات کو اپنی جگہ رکھنا چاہتا ہوں۔

آپ ﷺ نے ایک فریق کے بارے میں فرمایا کہ وہ حضرت عمارؓ کو جہنم کی طرف بلائیں گے۔

یہ نبوی تنبیہ ہے۔

اسے تاریخ سے مٹایا نہیں جاسکتا۔

لیکن کسی مخصوص فرد کے آخری انجام کا فیصلہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔

نبوی معیار کو ماننا اور آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا — یہی میرے نزدیک اعتدال ہے۔

---

🌹 اس واقعے سے میرے لیے سب سے بڑا سبق

اگر حضرت عمارؓ جیسے جلیل القدر صحابی کے معاملے میں امت کو ایک ایسا نبوی معیار دیا گیا، تو مجھے اپنے دل کے بارے میں کتنا محتاط ہونا چاہیے!

اسی لیے رسول اللہ ﷺ خود دعا فرماتے تھے:

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَىٰ دِينِكَ

“اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔”

یعنی:

آج دل میں محبت ہے، اللہ اسے قائم رکھے۔

آج دل میں ایمان ہے، اللہ اس پر خاتمہ فرمائے۔

آج دل میں اہلِ بیت کا ادب ہے، اللہ اسے بغض میں نہ بدلنے دے۔

آج دل میں صحابہ کا احترام ہے، اللہ اسے گستاخی میں نہ بدلنے دے۔

یہی اصل روحانیت ہے۔

---

🌹 ایمان صرف معلومات کا نام نہیں

میں اس مسئلے کو صرف منطق، فلسفہ اور کلامی بحث میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

ایمان “جاننے” سے زیادہ “ماننے” کا نام ہے۔

قرآن فرماتا ہے:

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ

“جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔”

فرشتے ہمیں دکھائی نہیں دیتے، مگر ہم ایمان رکھتے ہیں۔

آخرت ہمیں دکھائی نہیں دیتی، مگر ہم ایمان رکھتے ہیں۔

جنت ہمیں دکھائی نہیں دیتی، مگر ہم ایمان رکھتے ہیں۔

اسی طرح اللہ کے برگزیدہ بندوں کے روحانی مقامات کا ایک بڑا حصہ بھی ایمان، محبت، حسنِ ظن اور اہلِ معرفت کے مشاہدات سے متعلق ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دعویٰ بلا دلیل مان لیا جائے۔

بلکہ مطلب یہ ہے:

دلیل اپنی جگہ، ایمان اپنی جگہ، اور معرفت اپنی جگہ۔

---

🌹 علمِ غیب — اللہ کا ذاتی، رسولوں کو عطائی

میں علمِ غیب کے معاملے میں بھی یہی اعتدال رکھتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔

اس کا علم ذاتی، مطلق اور مستقل ہے۔

اور اللہ اپنے رسولوں کو غیب میں سے جس قدر چاہے، جتنا چاہے، جس حکمت سے چاہے، عطا فرماتا ہے۔

قرآن فرماتا ہے:

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۝ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ

(الجن 72:26–27)

پس اللہ کا غیب ذاتی ہے، اور رسول کو عطا ہونے والا غیبی علم عطائی ہے۔

یہ فرق برقرار رہنا چاہیے۔

---

🌹 انبیاء، رسول، اولیاء اور مجددین

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں بھی درجات رکھے ہیں۔

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی مشہور تعداد اہلِ روایت میں بیان ہوتی ہے۔

ان میں بعض نبی ہیں، بعض رسول ہیں، اور بعض اولوالعزم ہیں۔

ہر رسول نبی بھی ہے، لیکن ہر نبی رسول نہیں — اہلِ علم نے نبوت و رسالت کے فرق کو اسی طرح بیان کیا ہے۔

سیدنا نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ، عیسیٰؑ اور سیدنا محمد ﷺ اولوالعزم رسولوں میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ان سب میں اللہ تعالیٰ نے درجات رکھے ہیں۔

قرآن فرماتا ہے:

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ

“یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔”

(البقرۃ 2:253)

جب انبیاء و رسل میں درجات ہوسکتے ہیں، تو اولیاء، صلحاء، علماء اور مجددین کے روحانی درجات کے بارے میں بھی اہلِ معرفت کا کلام سمجھنا چاہیے۔

---

🌹 مجدد الف ثانیؒ اور نقشبندی روایت

حضرت شیخ احمد سرہندی، مجدد الف ثانیؒ، نقشبندیہ مجددیہ سلسلے کے عظیم بزرگ ہیں۔

ان کے صاحبزادے کا نام خواجہ محمد معصومؒ تھا۔

یہاں “معصوم” کا لفظ ایک نام اور روحانی لقب کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے؛ اسے لازماً انبیاء علیہم السلام کی اصطلاحی عصمت کے برابر قرار دینا ضروری نہیں۔

اسی لیے اگر کوئی نقشبندی سلسلے کے کسی بزرگ کے نام میں “معصوم” دیکھ کر فوراً یہ اعتراض کرے کہ “غیر نبی کو معصوم کیسے کہہ دیا؟” تو جواب یہ ہے:

پہلے لفظ کا استعمال اور اس سے مراد سمجھیں۔

نام الگ چیز ہے۔

لقب الگ چیز ہے۔

اصطلاحی عقیدہ الگ چیز ہے۔

نبوی عصمت الگ مقام ہے۔

ولایت کی حفاظت الگ مقام ہے۔

یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔

---

🌹 اور اب اصل بات: اگر محبت کو رافضیت کہا جائے؟

امام محمد بن ادریس شافعیؒ کی طرف منسوب مشہور شعر ہے:

إِنْ كَانَ رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ
فَلْيَشْهَدِ الثَّقَلَانِ أَنِّي رَافِضِي

مفہوم:

“اگر آلِ محمد ﷺ سے محبت رافضیت ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں بھی رافضی ہوں۔”

یہ شعر اہلِ بیت کی محبت کے باب میں امام شافعیؒ کی طرف منسوب ہو کر معروف ہے۔

تو اگر کوئی مجھے صرف اس وجہ سے رافضی کہے کہ:

میں علیؓ سے محبت کرتا ہوں،

میں فاطمہؓ سے محبت کرتا ہوں،

میں حسنؓ سے محبت کرتا ہوں،

میں حسینؓ سے محبت کرتا ہوں،

میں اہلِ بیت کو رسول اللہ ﷺ کے گھرانے کی نسبت سے اپنے دل کے قریب رکھتا ہوں،

تو میں اس الزام سے پریشان نہیں۔

اگر یہی محبت رافضیت ہے تو پھر امام شافعیؒ کے شعر کا کیا کریں گے؟

---

🌹 مگر میں غلو کا قائل نہیں

اہلِ بیت کی محبت کا مطلب یہ نہیں کہ میں صحابہؓ کی توہین کروں۔

ہرگز نہیں۔

میں علیؓ سے محبت کرتا ہوں۔

اور ابوبکرؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

عمرؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

عثمانؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

عائشہؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

فاطمہؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

حسنؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

حسینؓ سے بھی محبت کرتا ہوں۔

کیونکہ میری محبت کا مرکز سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہیں۔

اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ان مقدس نسبتوں کے ساتھ جوڑا ہے۔

---

🌹 میری روحانی دعا

یا اللہ!

ہمیں ایسا دل عطا فرما جس میں:

محمد ﷺ کی محبت ہو،

آلِ محمد ﷺ کی محبت ہو،

صحابۂ محمد ﷺ کا ادب ہو،

ازواجِ مطہرات کی تعظیم ہو،

اور کسی اہلِ ایمان کے لیے بغض و کینہ نہ ہو۔

یا اللہ!

ہمیں حضرت علی المرتضیٰ، کَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ، کی شجاعت و عدل سے حصہ عطا فرما۔

حضرت فاطمہ الزہراءؓ کی حیا و طہارت سے حصہ عطا فرما۔

حضرت حسنؓ کے حلم سے حصہ عطا فرما۔

حضرت حسینؓ کی استقامت و وفا سے حصہ عطا فرما۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صداقت سے حصہ عطا فرما۔

حضرت عمر فاروقؓ کے عدل سے حصہ عطا فرما۔

حضرت عثمان غنیؓ کی حیا و سخاوت سے حصہ عطا فرما۔

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے علم و فہم سے حصہ عطا فرما۔

اور سب سے بڑھ کر:

یا اللہ! ہمارے دل کو سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت پر قائم فرما۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ

“انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔”

تو میرا دل کہتا ہے:

یا اللہ! ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ رکھ۔

اور اپنے محبوب ﷺ کی آل کے ساتھ محبت رکھنے والوں میں رکھ۔

اور ان کے صحابہ و ازواج کے ادب کرنے والوں میں رکھ۔

اور قیامت کے دن ہمیں انہی مقدس نسبتوں کے ساتھ اٹھا جن سے ہمارا دل دنیا میں محبت کرتا رہا۔

آمین یا رب العالمین۔

جلال قادری

09/13/2026
33rd Milad Conference organized by Milad un Nabi Organization Chicago At Ashton Palace September 4th 2026
09/06/2026

33rd Milad Conference organized by Milad un Nabi Organization Chicago
At Ashton Palace
September 4th 2026

Address

6355 Claremont Avenue
Chicago, IL
60659

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Allama Mufti Muhammed Khan Quadri Hambali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Allama Mufti Muhammed Khan Quadri Hambali:

Shortcuts

Share

Category