22/01/2026
اللہ تعالی مولانا ذیشان احمد مصباحی کو سلامت رکھے اور اُمت میں اُن کے امثال پیدا فرمائے۔ آمین۔ مولانا کی یہ تحریر نہایت علمی و تحقیقی اور مبنی بر انصاف و اعتدال ہے۔
ورنہ آج کی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑوں کو انصاف و اعتدال سے لکھنے کی توفیق نہ مل سکی، اکثر یک طرفہ اور جانب دارانہ دلائل مکرر کر دیے جاتے ہیں اور مخالف و متعارض دلائل سے اعراض و اغماض برتا جاتا ہے، اور اگر برائے نام کچھ تعرض بھی کیا تو بدلے میں اپنے اجتہادات بھر دیے جاتے ہیں۔
اور ایسی ذہین چالوں سے اکثر کم علم عوام یا ایسے سادہ طبیعت فضلا یا جمود دماغ علما کو جن میں تجزیہ و انتخاب و انصاف کی ذاتی صلاحیت نہیں ہوتی گمراہ کر دیا جاتا ہے اور متعصب و فرقہ پرست بنا دیا جاتا ہے، الامان والحفیظ! #رامپوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٔ_تفضیل
ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی
۔ 22/02/2025
امام زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وعنہم أجمعین ان ائمۂ اہل بیت سے ہیں جن کا احترام - بلاامتیاز تسنن وتشیع - پوری امت کرتی ہے۔ زیدی سادات آپ ہی کی نسل سے ہیں، جن کی شاخیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اہل تشیع کا زیدی گروپ خود کو انہی سے منسوب کرتا ہے۔ آپ امام زین العابدین کے صاحب زادے، امام محمد باقر کے چھوٹے بھائی اور امام جعفر صادق کے چچا ہیں۔ اثنا عشری گروپ انہیں امام باقر کا متبع کہتا ہے، جب کہ زیدی، امام زین العابدین کے بعد امام زید کو ہی امام کہتے ہیں۔ دوسری طرف اہل سنت اور خصوصاً زیدی سادات ان کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام زید، ’زیدیت‘ سے بری ہیں۔ زیدی، بالعموم شیخین کا انکار کرتے ہیں، جب کہ امام زید شیخین کا ادب واحترام کرتے ہیں اور ان کی امامت وخلافت کو تسلیم کرتے ہیں ۔
یہاں مشکل یہ درپیش ہے کہ امام ابوحنیفہ جیسے محبان امام زید ، تفضیل شیخین کو علامات سنیت میں شمار کرتے ہیں، جب کہ امام اشعری جیسے ائمۂ اہل سنت نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ امام زید تفضیل علی کے قائل تھے۔ اب ایسے میں سوال یہ ہے کہ امام زید کو کس خانے میں رکھا جائے، اہل سنت کے خانے میں یا اہل تشیع کے خانے میں؟ پھر ان ہزاروں ہزار سادات اور ان کے متبعین کی کیا بنے گی جو امام زید کو اپنا امام و پیشوا مانتے ہیں یا ان سے نسلی یا روحانی عقیدت رکھتے ہیں؟
عقیدۂ تفضیل
اصحاب رسول علیہ الصلاۃ والسلام بے پناہ فضائل وکمالات کے حامل ہیں۔ قرآن کا اعلان ہے: ﴿وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى﴾ [النساء: 95] اللہ نے ان سب سے خیر کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر ان میں وہ صحابہ افضل ہیں جنہوں نے جہاد میں شرکت کی۔ ﴿فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ﴾ [النساء: 95] پھر عام مجاہدین صحابہ پر ان اصحاب کو فضیلت حاصل ہے جو بیعت رضوان میں شامل ہوئے۔ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ [الفتح: 18] روایات سے ثابت ہے کہ اصحاب شجرہ سے بھی افضل اصحاب احد ہیں، ان سے بھی افضل اصحاب بدر ہیں اور ان میں بھی افضل سابقون اولون ہیں، جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہوا ہے: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴾ [التوبة: 100] یہ فیصلہ قرآن کا ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ان سابقین میں بھی افضل عشرہ مبشرہ ہیں اور ان میں بھی افضل خلفاے راشدین ہیں۔
تفضیل شیخین
رہا یہ سوال کہ خلفاے راشدین میں افضل کون ہے؟ تو اس سلسلے میں امت کا اختلاف ہے۔ اہل تشیع ان میں افضل حضرت علی کو مانتے ہیں، جب کہ عام اہل سنت کے یہاں فضیلت کی وہی ترتیب ہے جو خلافت کی ترتیب ہے۔ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«وَأفضل النَّاس بعد النَّبِيين عَلَيْهِم الصَّلَاة وَالسَّلَام أَبُو بكر الصّديق ثمَّ عمر بن الْخطاب الْفَارُوق ثمَّ عُثْمَان بن عَفَّان ذُو النورين ثمَّ عَليّ بن أبي طَالب المرتضى رضوَان الله عَلَيْهِم أَجْمَعِينَ»«الفقه الأكبر» (ص41): انبیا علیہم السلام کے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں، پھر عمر فارق ہیں، پھر عثمان ذو النورین ہیں، پھر علی بن ابی طالب ہیں۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم أجمعین!
اہل سنت کے بیشتر اکابر کی بھی یہی رائے ہے۔ یہی جمہور اہل سنت کا موقف ہے۔ اس موقف کو امام اشعری جیسے بعض اکابر نے قطعی بھی کہا ہے، اگرچہ عام اکابر دین نے اسے ظنی کہا ہے ([1]) اور یہی بات دلیل سے قریب ہے، کیوں کہ قطعیت کے لیے قطعی الثبوت وقطعی الدلالہ دلیل کی حاجت ہے، جو اس باب میں مفقود ہے۔ ([2]) مزید یہ کہ ظنیت کے موقف سے امت میں توافق وتقارب کی راہ بھی پیدا ہوتی ہے، جیسا کہ اس کا اظہار سید علی بن سید عبد الرحمٰن ہاشمی (مذہبی مشیرحکومت متحدہ عرب امارات) نے شیخ محمود سعید ممدوح کی کتاب غایۃ التبجیل کے مقدمے میں کیا ہے۔
عام طور سے اہل سنت کے یہاں ترتیب خلافت ہی ترتیب فضیلت ہے، یا دوسرے لفظوں میں ترتیب فضیلت کے سبب ہی خلافت کی وہ ترتیب سامنے آئی، اگرچہ ایک بڑی تعداد ایسے علما کی بھی ہے جو حضرات ختنین -عثمان وعلی-کے بیچ تفضیل کے سلسلے میں مختلف الخیال ہیں۔ یہاں امام ابن عربی کی رائے بھی قابل ذکر ہے، جنہوں نے ترتیب خلافت کی بنیاد پر ترتیب فضیلت کے نظریے کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ زمانی اعتبار سے ہمارے پیغمبر علیہ السلام مؤخر ہیں، جب کہ فضیلت میں دیگر انبیا پر مقدم ہیں۔ امام ابن عربی کے نزدیک تقدم زمان، ترتیب خلافت کی بنیاد ہے، یعنی جو عمر میں بڑا تھا، پہلے اسے خلیفہ مقرر کیا گیا، جس کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ ([3])
تفضیل شیخین ، اہل سنت کے یہاں اتنا معروف اور متداول عقیدہ ہے کہ اسےامام ابوحنیفہ جیسے اکابرامت نے علامات اہل سنت میں شمار کرایا ہے۔ ([4]) اس سے اکابر اہل سنت کے یہاں اس عقیدے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود امام باقلانی (۴۰۳ھ)، امام مازری (۵۳۶ھ) اور دیگر ائمہ نے لکھا ہے کہ اس میں شک و انکار کو تفسیق وتضلیل کا عنوان نہیں بنایا جاسکتا، ([5]) اگرچہ ایسےعلما بھی موجود ہیں جنہوں نے حضرت علی کی تفضیل کو بلکہ صرف حضرت عثمان پر حضرت علی کی تفضیل کو تشیع بلکہ رفض تک کہا ہے، ([6]) جب کہ ارباب تحقیق سے مخفی نہیں کہ رفض، حب علی یا تفضیل علی کا نام نہیں بلکہ شیخین سے براءت کا نام ہے، ورنہ یوں تو خود صحابہ میں متعدد حضرات تفضیل علی کے قائل تھے، کیا انہیں بھی رافضی کہا جائے گا؟ والعیاذ باللہ!تفصیل آگے آتی ہے۔
تفضیل کا مطلب اور اس کی جہات
یہاں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ تفضیل کا مفہوم کیا ہے اور کیا اس باب میں تمام جہات میں افضلیت ضروری ہے؟میں اس سلسلے میں یہاں شیخ عبد الحق محدث دہلوی (۱۰۵۲ھ) کا ارشاد نقل کروں گا۔ آپ فرماتے ہیں:
’’افضلیت سے مراد اللہ کےنزدیک کثرتِ ثواب ہے،جیساکہ بعض علمانےاسےتحریرفرمایاہےکہ ہمارا قول: ’’فلاں دوسرے سے افضل ہے۔‘‘ کامطلب یہ ہے کہ فلاں کو دوسرے کی بہ نسبت فوقیت اور افضلیت حاصل ہے اور یہ افضلیت ممکن ہے کہ ہراعتبارسے ہو اور ہرصفات و خوبی میں ہو، یعنی ہر اس صفت وخوبی میں فلاں راجح اورکامل ہو جس صفت کا وہ ارادہ اور موازنہ کررہے ہیں یا توجملہ صفات وفضائل میں مجموعی طورسے وہ افضل واعلیٰ ہو، البتہ یہ تمام فضائل اس دوسرے میں بھی موجود ہوں اورمفضول میں کوئی ایسی صفت کمال بھی ہوجوفاضل میں نہ پائی جارہی ہو،اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فضیلت کسی خاص سبب سے ہو اور وہ کسی صفت خاص کےساتھ مخصوص ہو۔‘‘
ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ’’ہمارا مدعا جیسا کہ بیان ہوچکا صرف ایک خاص جہت سے افضلیت ثابت کرنا ہے۔ اس لیے مفضول کا کسی دوسری جہت سے افضل و اعلی ہونا ہمارے مدعا کے منافی نہیں ہے۔‘‘ ([7])
دوسرے نقطہاے نظر
تفضیل شیخین پر جمہور اہل سنت کے اتفاق کے ساتھ ، یہ بات واضح رہے کہ حلقۂ اہل سنت میں ، اس سلسلے میں دوسرے نقطہاے نظر بھی موجود رہے ہیں۔ یہ نقطہاےنظر اگرچہ بعض اہل سنت کے ہیں، تاہم ایسے بھی نہیں کہ انہیں کلیۃً نظر انداز کردیا جائے۔اس کی اہم وجہ تو خود احادیث رسول میں موجود ہے، چنانچہ امام احمد بن حنبل(۲۴۱ھ)، قاضی اسماعیل بن اسحاق مالکی (۲۸۲ھ) اور امام نسائی (۳۰۳ھ) نے صراحت کی ہے کہ جتنی احادیث فضائل علی میں مروی ہیں کسی اور صحابی کی شان میں مروی نہیں ہیں۔ ([8])
اس مسئلے میں سب سے پہلے محدث امام ابن عبد البر (۴۶۳ھ)نے کھل کر گفتگو کی۔ انہوں نے تو یہاں تک لکھا کہ صحابہ میں کون افضل تھا؟ یہ سوال نہ قبر میں ہونا ہے اور نہ حشر میں ہونا ہے۔ ([9])
شیخ عبد الحق محدث دہلوی بطور توثیق ناقل ہیں: ابن عبد البر نے استیعاب میں عبدالرزاق سے نقل کیا ہے کہ معمر نے فرمایا: اگر کوئی عمر کو ابوبکر سے افضل کہے تو میں اسےمنع نہیں کروں گا اور اس کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آؤں گا اور اگر علی کو ابوبکر وعمرسےافضل قراردے تب بھی اس پرسختی نہیں کروں گا، بشرطیکہ شیخین کی فضیلت کا اعتراف کرے، ان سےمحبت رکھے اور ان کی ایسی مدح و ثنا کرے جس کے یہ اہل اور مستحق ہیں۔ پھر بھی ہم ان کےساتھ سختی نہیں برتیں گے۔ پھر عبد الرزاق فرماتے ہیں کہ میں نے معمر کی یہ بات وکیع سے بتائی تو انھیں یہ بات پسند آئی اورانھوں نے تعریف بھی فرمائی۔ ([10])
شیخ شہاب الدین سہروردی (۶۳۲ھ) رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ أعلام الھدیٰ وعقیدۃ أرباب التقی میں لکھا ہے کہ اگر نصیحت قبول کرو تو تمہیں نصیحت یہ ہے کہ ان حضرات کرام کے معاملے میں کوئی فیصلہ مت کرو، ان سب سے یکساں محبت کرو، ان کے بیچ تفضیل سے بچو اور اگر دل مجبور کرے تو ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دو، لیکن اسے اپنے دل کا معاملہ سمجھو، اس راز کا اظہار تم پر واجب نہیں ہے، نہ یہ لازم ہے کہ تم ان میں سے کسی بھی ایک سے دوسرے کے مقابل زیادہ محبت کرو۔تم پر لازم ہے کہ سب سے محبت کرو اور سب کے فضل وشرف کا اعتراف کرو۔ ([11])
مصر کے معروف سنی صوفی محدث، شیخ محمود سعید ممدوح ،جنہوں نے مباحث اہل سنت میں شیخ البانی اور دیگر سلفی الفکر محدثین کا اپنی تصنیفات میں جم کر تعاقب کیا ہے، اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
’’یہ مسئلہ اہل سنت وجماعت کے مسائل عقیدہ [قطعیہ] سے نہیں ہے، بلکہ اشعری ائمہ مثلاً باقلانی، امام الحرمین، الغزالی، الآمدی، المازری، ابو العباس قرطبی، سعد الدین تفتازانی اور عضدالدین ایجی غیرہ کا موقف یہ ہے کہ مسئلہ تفضیل میں خیالات متعارض ہیں اور یہ فروعی مسائل میں سے ہے۔ ان تمام علما نے افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت کو درست قرار دیا ہے۔‘‘ ([12])
چوں کہ اس مسئلےکا ایک سرا شیعی تشددکے رد عمل سے جا ملتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ خلفاے راشدین کی امامت وخلافت کی صحت پر صحابہ کا اتفاق واجماع ہے۔ دوسری طرف اس مسئلے میں اہل تشیع کو اتنا تشدد ہے کہ وہ حضرات شیخین کی خلافت کو بھی ایک غاصبانہ عمل قرار دیتے ہیں اور ان کی اہلیت خلافت کو کھلے طور پر چیلنج کرتے ہیں۔ اس تشدد کا واجبی رد عمل تھا کہ تمام خلفاے راشدین کی اہلیت وفضیلت کو تسلیم کیا جائے اور یہی نہیں بلکہ ترتیب خلافت کو ہی ترتیب فضیلت سمجھا جائے، چوں کہ صحابہ نے اسی ترتیب سے ان حضرات خلفا کی خلافت کو تسلیم کیا ہے، اس لیے گمان غالب ہے کہ ان کے پاس اسی ترتیب سے ان حضرات کی فضیلت بھی ثابت ہوگی، جس کے پیش نظر اسی ترتیب پر ان کی خلافت قائم ہوئی، اگرچہ اہل سنت کا یہ موقف بھی متفقہ ہے کہ افضل کے ہوتے ہوئے مفضول کی امامت وخلافت درست ہے اور اس کے مقابل افضل کی امامت کا وجوب ایک ش*ذ مذہب ہے۔ ([13])
عام طور سے اہل سنت میں اس مسئلے میں عہد صحابہ سے ہی ایک متوازی نقطۂ نظر موجود رہا ہے۔ ([14]) معاملہ یہ ہے کہ افضلیت کے مسئلے میں جن صحابہ وتابعین کے اقوال منقول ہیں، اگرچہ ان میں بیشتر تفضیل شیخین کی طرف مشیر ہیں، تاہم ان میں ایک جماعت دوسرے موقف کی طرف بھی جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چنانچہ صحابہ میں حضرت سلمان فارسی، حضرت ابو ذر، حضرت مقداد، حضرت خباب، حضرت جابر، حضرت ابوسعید خدری، حضرت زید بن ارقم ([15])، حضرت عماربن یاسر، حضرت ابن عباس، حضرت بريدہ وغيرهم رضی اللہ عنہم تفضیل علی کی طرف مائل ہیں اور اسی طرح تابعین میں بھی ایک جماعت اس نظریے کی قائل تھی۔ ([16]) غالباً یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کے یہاں جس طرح ترتیب خلافت کا مسئلہ قطعی ہے، ترتیب فضیلت کا مسئلہ قطعی نہیں ہے۔
بعض اکابر امت اس مسئلے میں توقف کو مسلک محتاط سمجھتے ہیں([17])، ایک طبقہ عشرہ مبشرہ کے بیچ تفضیل میں توقف کا قائل ہے ([18])، دوسرا ان صحابہ کی افضلیت کا قائل ہے جو حیات رسول میں ہی واصل بحق ہوگئے۔([19]) ام المومنین حضرت ام سلمہ ، حضرت ابوسلمہ کی افضلیت کی قائل ہیں، حضرت ابوہریرہ حضرت جعفر طیار کی افضلیت کے قائل ہیں۔ اسی طرح بعض حضرات تفضیل عمر یا تفضیل عثمان کے قائل ہیں۔ امام ابن سیرین جیسے اکابر افضلیت مہدی کے قائل ہیں۔([20])حضرت ابن مسعود کے تلامذہ ان کی افضلیت کے قائل تھے۔([21]) سیدہ فاطمہ اور آل پیمبر کی افضلیت کو تو اس بحث سے ہی مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ میں جگر گوشۂ رسول پر کسی کو بھی فضیلت نہیں دیتا۔([22])
اہل بیت کی ایک جماعت تفضیل علی پر ائمۂ اہل بیت سے اجماع نقل کرتی ہے۔ صوفیہ کی ایک جماعت بھی اسی طرف مائل ہے، جیسے خواجہ بندہ نواز گیسو دراز وغیرہ۔ ([23])
الغرض! تفضیل علی کے موقف کو بھی کلیۃً باطل کہنا آسان نہیں، اگرچہ تفضیل شیخین کا موقف جمہور اہل سنت کا ہے۔
تفضیل امام علی رضی اللہ عنہ
شیخ محمود سعید ممدوح لکھتے ہیں کہ اہل بیت ، صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت، بطور خاص ہاشمی و کوفی، بعض اہل سنت اور اکثر معتزلہ افضلیت علی کے قائل ہیں۔ رہے معروف شیعی فرقے مثلاً امامی و زیدی تو ان کے یہاں یہ مسئلہ قطعیات میں سے ہے۔ ([24]) اس سلسلے میں بعض حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ بات واضح رہے کہ احادیث وآثار میں ان سے متعارض نصوص بھی موجود ہیں، اسی لیے نصوص کی بنیاد پر علماے اہل سنت کسی قطعی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے درج ذیل حوالے ملاحظہ کیجیے :
حدیث طیر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہیں۔ ([25])
سیدہ عائشہ نے حضور ﷺسے کہا کہ بخدا میں نے جان لیا کہ علی آپ کو ابوبکر سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ ([26])
حضرت بریدہ، حضرت ابوذر ، حضرت عامر بن واثلہ ، حضرت محمد بن ابی بکر، حضرت عدی بن حاتم ، حضرت ابن عباس، حضرت عمار جیسے متعدد صحابہ نے اس بات کی صراحت کی کہ ان کے نزدیک صحابہ میں سب سے زیادہ محبوب حضرت علی تھے۔ علامہ ابن حزم کے مطابق تفضیل علی کی روایت تقریباً بیس صحابہ سے مروی ہے۔([27]) امام باقلانی نے بھی اسے کثیر صحابہ کا مذہب بتایا ہے۔ ([28])
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم یہ گفتگو کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے افضل حضرت علی بن ابی طالب ہیں۔ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. ([29])
علامہ ابوالحسنات عبد الحی لکھنوی نے لکھا ہے کہ تفضیل علی علی عثمان یا تفضیل علی علی الخلق کے معنی میں متقدمین کے یہاں تشیع معروف تھا، اہل کوفہ کی ایک جماعت کو اسی معنی میں تشیع سے منسوب کیا گیا اور ان کی روایات مقبول ہیں۔ ملخصاً ([30])
شیخ ابراہیم بن عبد اللہ حجبی کہتے ہیں کہ میں نے کسی ہاشمی کو حضرت علی پر حضرات شیخین کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ([31])
ائمہ اہل بیت کا موقف
تفضیل علی ، ائمۂ اہل بیت کا مذہب رہا ہے، اس حوالے سے مختلف شواہد موجود ہیں۔ ان میں سے چند یہاں پیش کیے جاتے ہیں:
حضرت امام حسن فرماتے ہیں: حضرت علی سے افضل نہ سابقین میں کوئی تھا، نہ لاحقین میں کوئی ہوگا۔ لقد كَانَ فِيكُم بالْأَمْس رجل مَا سبقه الْأَولونَ وَلَا يُدْرِكهُ الْآخرُونَ. (خصائص علي للنسائی: ص46) مختلف کتب میں منقول ہے اور محدثین نے اس کی تصحیح فرمائی ہے۔
زین العابدین امام علی بن حسین اور ان کے صاحب زادے امام محمد باقر سے بھی ایک روایت منقول ہے، جس میں وہ تفضیل علی کا قول کرتے نظر آتے ہیں۔ (معجم ابن الأعرابي (1/ 264) حدیث: ۴۸۷)
امام زین العابدین کے دوسرے صاحب زادے امام زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مذہب ہے، جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
امام قاسم بن ابراہیم رسّی بن اسماعیل بن ابراہیم بن حسن المثنیٰ متوفیٰ (۲۴۶ھ) کے حوالے سے ان کے پوتے ہادی یحییٰ بن حسین بن قاسم(۲۹۸ھ) نے اپنی کتاب الأحکام فی الحلال والحرام (۱/۳۸) میں نقل کیا ہے کہ حضرات اہل بیت کا بلا اختلاف صرف ایک موقف رہا ہے اور وہ تفضیل علی کا موقف ہے۔ ([32])
قاضی عبد الجبار معتزلی شافعی نے شرح الاصول الخمسۃ(۷۲۷) میں تفضیل علی پراہل بیت کا اجماع نقل کیا ہے۔ ([33])
امام زید کی صراحت
۲۰۰۱ء میں مرکز أھل البیت للدراسات الاسلامیۃ، یمن سے شیخ ابراہیم یحییٰ الدرسی کی جمع وتحقیق سے امام زید کے رسائل کا مجموعہ مجموع کتب ورسائل کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں ایک رسالہ ’’کتاب تثبیت الامامۃ ‘‘ کے نام سے بھی ہے۔ اس میں امام زید نے مکالماتی اسلوب میں مسئلہ امامت کو حل کیا ہے۔امام زید نے اپنے زمانے کے احوال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے سامنے دو طرح کے لوگ تھے، ایک گروپ وہ تھا جو امامت کو حضرت علی کے منصوص اور متعین سمجھتا تھا، جب کہ دوسرا اسے انتخاب اور شوریٰ کا نتیجہ قرار دیتا تھا۔ امام زید نے دونوں گروپ سے مکالمہ کیا اور جوحقائق ونتائج ان کے سامنے آئے، ان کو اپنی اس کتاب میں درج کیا۔ اس ضمن میں تفضیل کا قضیہ بھی درپیش ہوا ہے اور اس حوالے سے بھی انہوں نے اپنی مکالماتی رائے پیش کی ہے۔ رقم طراز ہیں:
’’پھر میں نے دونوں فریق سے ان دونوں اشخاص کے بارے میں پوچھا، جن کے تعلق سے یہ امت مختلف تھی؛ علی بن ابو طالب اور ابوبکر بن ابو قحافہ۔ میں نے پوچھا کہ ان دونوں میں جہاد فی سبیل اللہ میں زیادہ رول کس کا ہے؟ ان میں سے کس نے زیادہ شمشیر زنی کی، نیزے چلائے، صبر وضبط کیا، جنگ کی، حفاظت کی اور مخالفین حق ان میں سے کس سے زیادہ ڈرتے تھے؟
اس سوال کے جواب میں دونوں فریق کا اتفاق تھا کہ وہ حضرت علی بن ابوطالب ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ میں انہیں کا رول زیادہ ہے۔ جب دونوں فریق اس پر متفق ہوگئے تو ہم نے یہ بات تسلیم کرلی اور ہم نے گواہی دی کہ حضرت علی بن ابو طالب حضرت ابوبکر سے افضل ہیں۔ چوں کہ لوگوں کی متفقہ رائے کے مطابق کتاب وسنت انہی کی فضیلت کے شاہد ہیں۔چوں کہ امت کا اجماع ہے کہ سب سے افضل بندے متقی ہیں اور متقیوں میں سب سے افضل مجاہدین ہیں، مجاہدین میں سب سے افضل جہاد میں سبقت کرنے والے ہیں اور سابقین فی الجہاد میں سب سے افضل وہ ہیں جن کا جہاد میں زیادہ کردار ہے۔ نیز امت کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جہاد میں سبقت کرنے والوں میں اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے بدری صحابہ ہیں اور بدریوں میں سب سے بہتر مجاہد یہی دونوں اشخاص ہیں، جن کے تعلق سے امت مختلف الخیال ہے، امیر المومنین علی بن ابوطالب اور ابوبکر بن ابوقحافہ۔ اس طرح سے دونوں فریق ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے اس شخص تک پہنچ گئے جو پیغمبر علیہ السلام کے بعد، کتاب وسنت اور اجماع امت کے مطابق افضل واعلیٰ ہے۔‘‘ ([34])
کتاب تثبیت الامامۃ زیدیہ کے یہاں معتبر ومستند ہے، ممکن ہے احباب اہل سنت اس کے استناد میں شاکی ہوں، اس لیے کتب اہل سنت سے اس کی توثیق کے لیے بعض حوالے حاضر ہیں:
امام اشعری کی توثیق
شیعہ زیدیہ کے سلسلے میں امام ابوالحسن اشعری (۳۲۴ھ) نے لکھا ہے کہ انہیں زیدیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ امام زید (۱۲۲ھ/ ۷۴۰ء) بن علی بن حسین بن علی کے متبعین ہیں۔ آپ تمام صحابہ پر تفضیل علی کے قائل تھے، لیکن اس کے ساتھ شیخین سے بھی محبت رکھتے تھے۔ ہشام بن عبد الملک کے زمانے میں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت امامت کی۔ اس وقت کوفہ کا گورنر یوسف بن عمر ثقفی تھا۔ اس سے آپ کے متبعین کا سامنا ہوا۔ دریں اثنا آپ نے اپنے بعض متبعین کو سبِّ شیخین کرتا ہوا سنا، جس پر آپ نے ناگواری کا اظہار فرمایا۔ یہ دیکھ کر آپ کی فوج کا بڑا حصہ آپ سے الگ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: رَفَضتُمُونِی۔ تم نے میرا عہد توڑ دیا۔ آپ کے اسی لفظ کی وجہ سے آپ کا منکر گروہ رافضی کہلایا اور اس نے امام زین العابدین کے بعد آپ کی جگہ آپ کے بھائی محمد باقر کو اپنا امام تسلیم کیا اور رافضی/ اثناعشری کہلائے۔ اس کے بعد آپ کے متبعین بہت تھوڑے بچ گئے۔ یوسف ثقفی سے آپ کو شکست ہوئی اور بالآخر شہید ہوگئے۔ ([35])
علامہ شہرستانی کی روایت
علامہ محمد بن عبدالکریم شہرستانی (٥٤٨ ھ/ ١١٥٣ ء) نے اس سلسلے میں خود امام زید کا حسب ذیل بیان نقل کیا ہے:
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سارے صحابہ سے افضل تھے، تاہم خلافت حضرت ابوبکر کو تفویض کردی گئی اور ایسا دینی مصلحت اور شرعی ضابطے کے تحت ہوا۔ مقصود فتنے کی آگ کو بجھانا اور عوام کی قلبی تسکین فراہم کرنا تھا۔ معاملہ یہ ہے کہ دورنبوت میں برپا جنگوں کا زمانہ قریب تھا اور قرشی وغیر قرشی مشرکین کا خون ہنوز ذوالفقار حیدری پر تازہ تھا اور انتقامی جذبات ہنوز قلوب میں موجود تھے، اس لیے حضرت علی کی طرف دلوں کا کلی میلان اور گردنوں کا مکمل جھکنا مشکل تھا، اس لیے مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمانوں کا نظام وہ سنبھالے، جس کے اندر نرمی اور رواداری ہو، جوسن رسیدہ ہو، جسے سبقت فی الإسلام اور قربت من الرسول حاصل ہو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جب حضرت أبو بکر نے اپنے مرض الوفات میں حضرت عمر کو خلافت سونپنے کا ارادہ فرمایا تو لوگ چیخ پڑے۔ کہنے لگے: کیا آپ ہم پر ایک تند مزاج شخص کو حاکم بنائیں گے؟ چنانچہ حضرت عمر کی دینی شدت وغلظت اور دشمنوں کے خلاف ان کی سختی کے سبب صحابہ حضرت عمر کی خلافت پر راضی نہیں ہورہے تھے، یہاں تک حضرت ابوبکر نے یہ کہہ کر انہیں قائل کیا کہ ’’اگر میرے رب نے اس کا سوال کیا تو میں عرض کروں گا کہ میں نے لوگوں پر اس شخص کو حاکم بنایا جو ان کے لیے سب سے بہتر تھا۔‘‘اوراس طرح سے افضل کی موجود گی میں مفضول کا امام ہونا روا ہے۔ وہ احکام میں اس کی طرف رجوع کرے گا اور قضایا میں اس کے مطابق فیصلے لےگا۔ ([36])
علامہ زبیدی کی تحقیق
معروف ماہر لغت علامہ مرتضیٰ زبیدی (۱۲۰۵ھ/۱۷۹۰ء) لکھتے ہیں:
روافض ہر اس فوج کو کہتے ہیں جو اپنے قائد کو چھوڑکر فرار ہوجائے،جیسا کہ صحاح میں ہے اور عباب میں ہے کہ اپنے قائد کو چھوڑ کر چلا جائے-رافضہ انہیں کا گروہ ہے۔ جو اس گروہ سے منسوب ہوتا ہے وہ رافضی کہلاتا ہے۔ نیز رافضہ شیعوں کا ایک فرقہ ہے۔ اصمعی نے کہا کہ انہیں رافضہ اس لیے کہا گیا کیوں کہ انہوں نے حضرت زید بن علی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ صحاح میں اسی کی تصریح ہے۔لسان اور عباب میں ہے: اصمعی نے کہا : انہوں نے حضرت زید بن علی کی بیعت کی تھی، پھر انہوں نے امام زید سے کہا: شیخین سے براءت کا اظہار کیجیے تب ہم آپ کے ساتھ لڑیں گے۔ امام زید نے اس سے انکار کردیا اور فرمایا کہ ’’وہ دونوں میرے ناناں ﷺ کے وزیر تھے، اس لیے میں ان دونوں سے براءت کا اظہار نہیں کرسکتا۔‘‘ بعض نسخوں میں یوں ہے: ’’میں اپنے ناناں کے دونوں وزیروں کے ساتھ ہوں۔‘‘ یہ سن کر انہوں نے امام کا ساتھ چھوڑ دیا، ان کا انکار کیا اور علاحدہ ہوگئے۔ جیسا کہ عباب اور لسان میں ہے۔ اسی لیے انہیں رافضہ کہا جاتا ہے اور ان سے منسوب شخص کو رافضی کہا جاتا ہے۔ ([37])
شاہ عبد العزیز محدث کا بیان
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۱۸۲۴ء) تحفہ اثنا عشریہ میں رقم طراز ہیں:
’’ زیدیہ خود کو امام زیدبن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے منسوب کرتے ہیں۔ باہمی افتراق کے بعد یہ نو فرقوں میں بٹ گئے۔ ان میں پہلا فرقہ خالص زیدیہ کا ہے۔ یہ امام زید کے اصحاب ہیں، جو ان سے بیعت ہوئے تھے، عبد الملک بن مروان کی اولاد کے خلاف آپ کے ساتھ بغاوت میں شریک رہے، انہی سے اصول مذہب کی تعلیم پائی، بلکہ بعض فروعات کا بھی ان سے روایت کی۔ یہ اصحاب کبار پر تبرا کو جائز نہیں سمجھتے اور اس مدعا پر امام زید سے نصوص متواترہ نقل کرتے ہیں۔ سب کا ذکر خیر کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امامت جناب مرتضیٰ کا حق تھا، لیکن وہ خود ہی حضرات شیخین اور حضرت عثمان کے حق میں دست بردار ہوگئے تھے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خلفاے ثلاثہ کی بیعت خطا نہیں تھی، کیوں کہ حضرت علی اس سے راضی تھے اور جو معصوم ہوتا ہے وہ خطا وباطل سے راضی نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کا مذہب امامت کے تمام مسائل میں اہل سنت کے مطابق تھا، الا یہ کہ یہ حضرت امامت کے لیے فاطمیت کو شرط جانتے تھے، البتہ اس کی تفویض سے دوسرے کی امامت کے بھی قائل ہیں۔‘‘ ([38])
علامہ ابوزہرہ کا تبصرہ
سطور بالا میں علامہ شہرستانی کے نقل کردہ امام زید کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف مصری مفکر ومورخ علامہ ابوزہرہ(۱۹۷۴ء) رقم طراز ہیں:
اس سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت منصوص نہیں تھی۔ اس لیے حضرت علی نہ تو وصی ہیں اور نہ ہی مثل وصی۔ یہ معاملہ مسلمانوں کے سپرد ہے۔ اس لیے خلافت کا ثبوت پیغمبر علیہ السلام سے بطور وراثت نہیں ہوگا، بلکہ یہ مسئلہ انتخاب کا ہے۔
حضرت امام زید نے اس بات کی صراحت فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ شیخین یعنی حضرت ابوبکر وعمر اور دیگر صحابہ سے افضل ہیں۔ ایسا اسلام میں ان کے مقامات عالیہ کے سبب ہے۔ امام زید نے اس بات کی صراحت نہیں کی کہ حضرت علی کی یہ فضیلت قرابت رسول کے سبب حاصل ہے۔ نیز یہ کہ حضرت علی افضل ہیں، مگر افضلیت کے لیے خلافت لازم نہیں ہے۔ کیوں کہ خلافت کا مسئلہ افضلیت کی بنیاد پر طے نہیں ہوتا، بلکہ بارِ خلافت سنبھالنے کی زیادہ قدرت کی بنیاد پر طے ہوتا ہے، تاکہ لوگ اس کی اطاعت کریں اور اس کے خلاف فتنہ وبغاوت برپا نہ کریں۔ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے شورائی نظام کے تحت ہونا چاہیے، نہ یہ کہ پہلے سے کسی شخص کو تسلیم کرلیا جائے۔ اسی طرح مسلمان انتخاب خلیفہ میں اس شخص پر نظر رکھیں جو اس کے لیے زیادہ صلاحیت کا مالک ہو اور یہ سب اسی وقت ہوگا جب شورائی نظام ہو۔ چنانچہ بہت سے ایسے لوگ جو اپنی قوم میں زیادہ فضیلت کے حامل ہوتے ہیں، یا اپنی ذات میں زیادہ فضیلت کے حامل ہوتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ حکومت سے دور رہتے ہیں، یا یہ کہ قوم انہیں اس سے دور رکھتی ہے۔ کیوں کہ لوگ ایسے افضل شخص کی اطاعت نہیں کرتے، نہ اس کو حاکم بنانے میں انہیں کوئی مصلحت نظر آتی ہے، بلکہ ان کے بجائے دوسروں کے انتخاب میں انہیں مصلحت نظر آتی ہے۔
امام زید کی نظر میں فی الواقع مصلحت یہی تھی کہ شیخین کو خلیفہ بنایا جاتا۔ کیوں کہ جو الفاظ انہوں نے استعمال کیے ہیں، ان سے ان حضرات کے انتخاب میں مصلحت کا ثبوت واضح ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ ان حضرات کی سبقت وکبر سنی کے سبب لوگ ان کی اطاعت زیادہ کرسکتے تھے۔ اور جب امام زید شیخین کی خلافت کو قرین مصلحت سمجھ رہے ہیں تو اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ یقینا ان کی خلافت کے منکر نہیں تھے اور ان محافظین اسلام کے تعلق سے سب و شتم اور طعن وتشنیع کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔
قابل غور ہے کہ امام زید نے یہاں حضرت عثمان ذی النورین کی خلافت کا ذکر نہیں کیا ہے کہ ان کی خلافت شیخین کی خلافت کی طرح مسلمانوں کے حق میں قرین مصلحت تھی یا نہیں۔ توکیا وہ اس بات کے قائل تھے کہ چوں کہ حضرت عثمان بہت زیادہ نرم مزاج اور لطیف الطبع تھے، اس لیے ان کا انتخاب مسلمانوں کے حق میں قرین مصلحت نہیں تھا،جیسا کہ شیخین کا انتخاب قرین مصلحت تھا، بلکہ حضرت عمر کے بعد اس کے لیے انہی کا انتخاب بہتر تھا جو سختی میں حضرت عمر سے قریب قریب تھے اور وہ حضرت علی ہیں؟ چوں کہ جنگوں کا وہ زمانہ بھی کافی پیچھے چھوٹ چکا تھا اور حضرت علی کی تلوار پر لگے ہوئے دشمنان اسلام کے سارے خون بھی اب خشک ہوچکے تھے۔ اس سلسلے میں امام زید نے کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ (الامام زید- حیاتہ وعصرہ، آراؤہ وفقھہ)
امام زید کے حوالے سے ان مختلف مصادر سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہےکہ آپ عقیدۂ تفضیل کے حامل تھے۔
حل نزاع اور تطبیق کی کوشش
مسئلۂ تفضیل کے حوالے سے امام زید کے نقطۂ نظر کو بعض اہل علم نے امت میں پیدا نظری اختلافات کے خاتمے اور ان کے بیچ توفیق وتطبیق کی کوشش کے طور پر دیکھا ہے۔ ماہ نامہ زندگی نو ، دہلی کے شمارہ ستمبر ۲۰۲۱ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس کا عنوان ہے: ’’ امام زید ہاشمی- انقلاب کی تحریکِ مسلسل کے بانی‘‘ مضمون نگار ہیں محمد صیاد ، جب کہ مترجم ہیں جناب تنویر آفاقی ۔ مضمون نگار رقم طراز ہیں:
’’ امام زید کا یہ موافقانہ نقطۂ نظراولین تاریخی نقطۂ نظر اور ان اتحادی نظریات کی بنیاد سمجھا جاتا ہے جنھوں نے بعد کے ادوار میں پوری امت کے نظریات و رجحانات کو اعتدال کے موقف پر جمع کر دیا تھا۔ یہ مواقف لوگوں نے بڑے منہجی مسائل کے تعلق سے اختیار کیے تھے۔ مثال کے طور پر امام شافعی نے اپنی دانش مندی سے اہل الرائے اور اہل اثر کے درمیان موافقت پیدا کر دی تھی۔ امام اشعری نے عقیدے کے مسائل میں اہلِ حدیث اور علماے کلام کے درمیان کامیابی کے ساتھ اتحاد پیدا کر دیاتھا اور امام غزالیؒ (م:۵۰۵ھ/۱۱۱۱ء) نے فقہا اور صوفیاے کرام کے درمیان تاریخی مصالحت کا کارنامہ انجام دیا تھا۔
اسی نقطۂ نظر کی وجہ سے امام زید اس قابل ہو سکے کہ انھوں نے علویوں ( جنھیں بعد میں شیعہ کہا جانے لگا) اورعظمت صحابہ کے ماننے والوں (جنھیں بعد میں اہلِ سنت کہا جانے گا) کے درمیان امامت کے مسئلے پر تاریخی نزاع کا ایک عملی حل پیش کیا ہے تاکہ اس خلیج کو پاٹا جا سکے جس نے اس وقت لوگوں کو باہم تقسیم کر رکھا تھا۔ اس طرح امام زید نے اپنی انقلابی تحریک پر تمام لوگوں کےاتحاد کو بھی یقینی بنا لیا تھا، اگرچہ محسوس یہ ہوا ہے کہ ان کی اس کوشش کا نتیجہ اس گروہ کے ظہور کی شکل میں نکلا جسے امام زید نے ’رافضہ‘ کا نام دیا تھا۔
جن اہم گروہوں کوامام زید نے اپنے اتحادی نعرے کے ذریعے انقلابی پرچم تلے متحد کرنے کی کوشش کی تھی، ان کی تعداد تین تھی:
پہلا وہ گروہ جو حضرات ابوبکر وعمر کی ولایت کا انکار کر تا تھا اور یہ خیال کرتا تھا کہ امامت صرف حضرت علی اور ان کی اولاد کا حق ہے، کسی اور کا نہیں، کیوں کہ نبی صلی اللہ کی وصیت موجود ہے۔
دوسرا گروہ وہ تھا جو حضرت ابوبکر کو [خلافت کا] حق دار مانتا تھا، بلکہ اس گروہ کے بعض لوگوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت ابوبکرکےمستحقِ خلافت ہونے پر نص موجود ہے۔
تیسرا گروہ وہ تھا جو [خلافت کے مسئلے میں] انتخاب اور شوری کا قائل تھا، خواہ اس انتخاب اور شوری کا نتیجہ ابوبکر کے حق میں آئے یا علی کے حق میں۔
عملی پہلو سے امام زید بن علی اس گروہ سے قریب تر تھے جو شوریٰ کے راستے خلافت تک پہنچنے کا قائل تھا، اگرچہ دوسروں پر حضرت علی کی افضلیت کے معاملے میں ان کے درمیان اختلاف رہا۔ لیکن یہ اختلاف عملی طور پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے والا نہیں ہے، کیوں کہ یہ اختلاف نظریاتی اختلاف جیسا ہے، خاص طور سے اس لیے بھی کہ امام غزالی نے اپنی کتاب ’الاقتصاد فی الاعتقاد‘ میں امت کے جمہور علما کا یہ موقف بیان کیاہے کہ خلفاے اربعہ کے درمیان افضلیت کی ترتیب صرف ظاہری ہے نہ کہ حقیقی، کیوں کہ افضلیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’آخرت میں فلاں کا مرتبہ اللہ کے نزدیک زیادہ بلند ہے، حالاں کہ یہ غیب کی بات ہے جس سے صرف اللہ واقف ہے اور اس کا رسول واقف ہے اگر اس نے اپنے رسول کو اس کی خبر دی ہوگی۔‘‘ امام غزالیؒ کا یہ موقف ہمیں خلافت کے مسئلے میں بہت حد تک امام زید کے موقف کے قریب لے جاتا ہے۔‘‘(زندگی نو، ستمبر ۲۰۲۱ء)
حرف اختتام
مذکورہ بالا تناظر میں دیکھیے تو امام زید کا مسلک ومنہاج ، موجودہ انتہا پسندانہ ماحول میں بھی ہمیں اعتدال واتفاق اور باہمی تقریب وتوفیق کی دعوت دیتا ہے، اگرچہ ہمارے اذہان پر جمود، تعصب، فرقہ پرستی اور محاذ آرائی کے بھوت سوار ہیں، جن کے ہوتے انصاف واعتدال اور تفاہم وتقارب کی باتیں ہمارے لیے ناقابل فہم رہیں گی۔
اس سلسلے میں ہمیں امام ابوحنیفہ ، امام ابن عبد البراور شیخ شہاب الدین سہروردی -رحمہم اللہ-کی آرا کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ امام ابوحنیفہ کا موقف شیعی غلو کے بالمقابل احتیاط اور سد باب پر مبنی ہے، امام ابن عبد البر کا موقف علم وتحقیق پر مبنی ہے اور شیخ شہاب الدین سہروردی کا موقف عشق ومحبت اور احترام پر مبنی ہے۔
ہاں! اگر کسی ایک کی محبت یا فضیلت کے نام پر ہم دوسرے اصحاب رسول ﷺ کی تنقیص کرنے لگیں تو ہمیں اپنے ایمان کا محاسبہ کرنا چاہیے اور اس دن سے ڈرنا چاہیے جس دن ہمیں اللہ کے حضور اپنے فکر وعمل کے لیے جواب دہ ہونا ہے۔ ہمیں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن صحابہ کی افضلیت کے اثبات کے نام پر ہم دوسرے صحابہ کی تنقیص کے مرتکب ہو تے رہے، کل قیامت میں وہی حضرات کرام ہماری جسارت کے سبب ہم سے براءت کا اظہار کرلیں۔ واللہ ھو المستعان وعلیہ التکلان ومنہ البدایۃ والیہ النھایۃ، وصلی اللہ علی خیر خلقہ وآلہ وصحبہ أجمعین!
ذیشان احمد مصباحی Zishan Misbahi
۔ ۲۲/۲/۲۰۲۵
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصادر ومراجع
اتحاف السادۃ المتقین، محمد مرتضیٰ الزبیدی(۱۲۰۵ھ)، دار الکتب العلمية، بیروت، لبنان
الاستذكار، ابن عبد البر (٤٦٣هـ)، دار الكتب العلمية، بيروت، ٢٠٠٠
الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ابن عبد البر(٤٦٣هـ)، دار الجيل، بيروت، ١٩٩٢ م
الافادۃ بطرق حدیث النظر الی علی عبادۃ، عبد العزیز الغماری(۱۴۱۸ھ)، العتبة الحسینیة، کربلا، ۲۰۱۶ء
الامام زید- حیاته وعصرہ، آراؤہ وفقهه، محمد أبو زھرۃ، دار الفکر العربی، القاهرۃ، ۲۰۰۵ء
التریاق النافع بإیضاح وتکمیل مسائل جمع الجوامع ، العلامة أبو بکر الحضرمی العلوی(۱۳۴۱ھ)، دائرۃ المعارف النظامیة، حیدرآباد، ۱۳۱۸ھ
الحاوي للفتاوي، جلال الدين السيوطي (٩١١هـ)، دار الفكر للطباعة والنشر، بيروت، ٢٠٠٤ م
السنة، أبو بكر الخَلَّال البغدادي (٣١١هـ)، دار الراية، الرياض، ١٩٨٩م
الصواعق المحرقة على ال الرفض والضلال والزندقة، ابن حجر هیثمی، مؤسسة الرسالة، لبنان
الفصل في الملل والأهواء والنحل، ا بن حزم الأندلسي (٤٥٦هـ)، مكتبة الخانجي، القاهرة
الفقه الأكبر، أبوحنيفة النعمان (١٥٠هـ)، مكتبة الفرقان، الإمارات العربية، ١٩٩٩م
المعلم بفوائد مسلم، أَبِو عَبْد اللهِ مُحمَّد بن علي المِازري، (536 هـ)، التونسية للنشر تونس
الملل والنحل، أبو الفتح محمد الشهرستاني (٥٤٨هـ)، مؤسسة الحلبي
اليواقيت والجواهر في عقائد الأكابر، عبد الوهاب الشعرانی(۹۷۳ھ)، دار احیاء التراث العربی، بیروت
بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني الحنفي (٥٨٧ هـ)، مطبعة شركة المطبوعات العلمية، مصر
تاج العروس، محمّد مرتضى الحسيني الزَّبيدي، وزارة الإرشاد والأنباء، الكويت
تحفه اثنا عشریه، شاہ عبد العزیز الدهلوی، نول کشور، لکهنؤ، ۱۳۰۲ھ
تکمیل الایمان، شیخ عبد الحق الدهلوی، شاہ صفی اکیڈمی، سید سراواں، کوشامبی، یوپی
جمع الفرائد علی شرح العقائد، أستاذ صدر الوریٰ المصباحی، المکتبة المدینة، کراچی، ۲۰۰۹م
جوامع الکلم =ملفوظات خواجه بنده نوازگیسودراز(مترجم) ، نفیس اکیڈمی، کراچی، پاکستان
خصائص علي، أبو عبد الرحمن النسائي (٣٠٣هـ)، مكتبة المعلا، الكويت، ١٤٠٦ھ
دراسة اللبیب فی الأسوة الحسنة بالحبیب، علامه معین سندی (۱۱۶۱ھ)، مطبعة العرب، کراتشی، ۱۹۵۷م
زندگی نو، ماهنامه، دهلی، ستمبر ۲۰۲۱ء
شرح الاصول الخمسة، عبد الجبار المعتزلی، مکتبة وهبة، القاهرة، ۱۹۹۶م
شرح العقائد النسفية، سعد الدین التفتازانی، المکتبة المدینة، کراچی، ۲۰۰۹م
طبقات الشافعیة، تاج الدين السبكي (٧٧١هـ)، هجر للطباعة والنشر والتوزيع، ١٤١٣هـ
غایة التبجیل، محمود سعید ممدوح، دار الامام الترمذی، ۲۰۰۵م
فتح الباری، ا بن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)، دار المعرفة، بيروت، ١٣٧٩ھ
فضائل الصحابة ، أحمد بن حنبل (٢٤١هـ)، مؤسسة الرسالة، بيروت، ١٩٨٣
کتاب تثبیت الامامة ، مجموع کتب ورسائل الامام الاعظم امیر المومنین زید بن علی، جمعه: ابراهیم یحییٰ الحمزی، مرکز اهل البیت للدراسات الاسلامیه، یمن، ۲۰۰۱م
مجمع السلوک، سعد الدین خیرآبادی(۹۲۲ھ)، شاہ صفی اکیڈمی، سید سرواں ، کوشامبی، الهند
مرقاة المفاتيح، الملا علي القاري (٠١٤هـ)، دار الفكر، بيروت، لبنان، ٢٠٠٢م
مسند الامام احمد، مؤسسة الرسالة، ٢٠٠١ م
معجم ابن الأعرابي، أبو سعيد ابن الأعرابي، دار ابن الجوزي، السعودية، ١٩٩٧ م
مقالات الاسلامیین، أبو الحسن الأشعري (٣٢٤هـ)، المكتبة العصرية، ٢٠٠٥م
مناقب الأئمة الأربعة، القاضی محمد الباقلانی(۴۰۳ھ)، دار المتخب العربی، بیرعت، ۲۰۰۲م
[1] - مثلاً امام باقلانی، امام الحرمین، غزالی، آمدی، مازری، تفتازانیو جرجانی وغیرہ- شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: بعض حضرات اس پرہیں کہ ترتیب افضلیت قطعی ہے مگراکثرمحققین کےنزدیک مختار یہی ہےکہ وہ ظنی ہے۔ (تکمیل الایمان، بحث تفضیل)
[2] - علامہ معین سندی (۱۱۶۱ھ) نے عدم قطعیت پر ایک مستقل رسالہ الحجۃ الجلیۃ فی رد من قطع بالافضلیۃ کے نام سے لکھا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ تفضیل علی کے قائلین پر بدعت وضلالت کا حکم لگانا دین میں جسارت اور اہل بیت سے بے اعتنائی پر مبنی ہے۔ دیکھیے مصنف موصوف کی کتاب دراسۃ اللبیب فی الأسوۃ الحسنۃ بالحبیب کے آخر میں کتاب اور صاحب کتاب کا تعارف، ص: ۲۱، ۲۲- اسی طرح علامہ سید علوی بن احمد حسینی حضرمی شافعی (۱۲۳۲ھ) نے أحسن القول والخطاب فی بیان افضلیۃ الاصحاب انھا ظنیۃ علی الصواب کے نام سےایک کتاب لکھی ہے۔ شیخ احمد بن صدیق غماری(۱۳۸۰ھ) نے البرھان الجلی فی تحقیق انتساب الصوفیۃ الی علی میں اس مسئلے پر بحث کی ہے۔ (مستفاد من مقدمۃ غایۃ التبجیل)
[3] - تقديم شخص بالإمامة على آخر ، إنَّما هو تقدم بالزمان ، ولا يلزم منه تقدم بالفضل ، فإنَّ الله تعالى قد أمرنا باتباع ملة أبينا إبراهيم ، وليس ذلك لكونه أحق بها من سيدنا ومولانا محمد صلى الله عليه وآله وسلم ، وإنما هي لتقدمه بالزمان ، فإن للزمان حكماً في التقدم ، من حيث هو زمان ، لا من حيث المرتبة ، وذلك كالخلافة بعد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ، فإنَّ من حكمة الله تعالى ترتيبها بحسب الآجال والأعمار التي قدرها الله عَزَّ وَجَلَّ أيام ولاية كل واحد على التعين ، مع أن كل واحد أهل لها حال ولاية الآخر ، وقد سبق في علم الله أنه لا بد من ولاية كل واحد من الخلفاء الأربعة على الترتيب الذي وقع ، حتى لو قدر أن المتأخر تقدم فلا بد من خلعه حتى يلي أحدهم من لا بد له من الولاية بعده عند الله تعالى ، فكان في ترتيب ولايتهم بحكم أعمارهم عدم وقوع خلع أحدهم مع الاستحقاق ، إذ الصحابة كلهم عدول . .
وقال الشيخ محيي الدين في موضع آخر : وبالجملة فلا ينبغي الخوض في مثل ذلك إلا مع وجود نص صريح ، مع أننا قائلون بترتيب هؤلاء الخلفاء الأربعة كما عليه الجمهور ، وإنما خالفناهم في علة التقديم ، فهم يقولون : هي الفضل ، ونحن نقول : هي تقدم الزمان ، ولو كان كل من تأخر كان مفضولاً ، لكان من تقدم النَّبي صلى الله عليه وآله وسلم أفضل منه ، ولا قائل بذلك من المحققين . وراجع اليواقيت والجواهر في عقائد الأكابر للعلامة عبد الوهاب الشعرانی (ص ۳۳۲، (۳۳۳).
[4] - أن تفضل الشيخين، وتحب الختنين، وأن ترى المسح على الخفين۔ (بدائع الصنائع، فصل المسح على الخفين)
[5] - اس سلسلے میں اکابر اہل سنت کے متعدد اقوال موجود ہیں، مثلاً:
· وجملۃ ما یقوی فی ھذا الباب: أن الکلام فی التفضیل مسألۃ اجتھاد لا یبلغ الخطأ بصاحبہ فیھا منزلۃ الفسق، وما یوجب البراءۃ، لأن الفضائل المرویۃ أکثرھا متقابل متعارض فی الفضل. (مناقب الأئمۃ الأربعۃ للإمام الباقلانی(۴۰۳ھ)، ص: ۲۹۵)
· ولو أهمل أحد العلماء النّظر فيها أصلا حتى لم يعرف فاضلاً من مَفضولٍ ما حَرِجَ ولا أثِمَ بِخلاف مسائل الأصول التي الَحق فيها في واحد ويقطع على خَطَإ المخالف وهذه لا يقطع فيها على خطإ من خالف من المجتهدين. (المعلم بفوائد مسلم للإمام المازری(۵۳۶ھ):3/ 240)
· إذ لیست مما یضل فیہ المخالف۔ (التریاق النافع بإیضاح وتکمیل مسائل جمع الجوامع للعلامۃ أبی بکر بن شھاب الدین الحضرمی الشافعی العلوی(۱۳۴۱ھ): ۲/ ۲۵۴، دائرۃ المعارف النظامیۃ، حیدرآباد، ۱۳۱۸ھ)
· وأما نحن فقد وجدنا دلائل الجانبين متعارضة، ولم نجد هذه المسألة مِما يتعلّق به شيء من الأعمال أو يكون التوقّف فيه مخلا بشيء من الواجبات الدينية. (شرح العقائد النسفیۃ للتفتازانی(۷۹۲)، ص: ۳۲۳)
· علامہ محدث عبد العزیز بن صدیق غماری (۱۴۱۸ھ) نے لکھا ہے کہ چوں کہ تفضیل علی کا موقف صحابہ میں حضرت سلمان، ابوذر، مقداد، خباب، جابر، ابوسعید خدری زید بن ارقم اور ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے، اس لیے جو قائلین تفضیل علی کی ضلالت کا قائل ہو، وہ در حقیقت خود گمراہ ہے۔ (الافادۃ بطرق حدیث النظر الی علی عبادۃ، مقدمہ)۔ واضح رہے کہ غماری سادات جو علم وروحانیت میں بلند مقام کے حامل ہیں، تفضیل علی کے قائلین ہیں۔
· اس پر تعلیق لگاتے ہوئے استاذ گرامی مولانا صدر الوریٰ مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور رقم طراز ہیں: وذلك لأنّ الإمام لا يجب له أن يكون أفضل أهل زمانه ، فلا يضر التوقّف فيه بشيء من واجبات الشرع۔ (جمع الفرائد علی شرح العقائد)
[6] - حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ تشیع، علی کی محبت اور دیگر صحابہ پر ان کی تفضیل کو کہتے ہیں، اور اگر کوئی انہیں شیخین پر فضیلت دے تو وہ اپنے تشیع میں غلو کا شکار ہے اور اسے رافضی کہا جائے گا۔ (فتح الباری: 1/ 459) محدث محمود سعید ممدوح نے لکھا ہے کہ یہاں خود حافظ ابن حجر سے غلو ہوگیا ہے، ورنہ یوں تو خود صحابہ میں متعدد حضرات تفضیل علی کے قائل تھے، کیا انہیں بھی رافضی کہا جائے گا؟ والعیاذ باللہ! (ملخصاً، تفصیل کے لیے دیکھیے، غایۃ التبجیل، ص: ۲۲۳)
معروف محدث ابو محمد حسن بن علی بربہاری نے الصولات والجولات میں لکھا ہے کہ ’’جو حضرت علی و حضرت عثمان میں توقف کرے یا حضرت عثمان پر حضرت علی کو فضیلت دے وہ رافضی ہے، اس نے اصحاب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رفض کا ارتکاب کیا ہے۔ ‘‘ ظاہر ہے کہ اس مسئلے کا اہل سنت کے درمیان مختلف فیہ ہونا ، معروف ہے۔ اس کے باوجود علامہ بربہاری کا یہ تیور یقیناً جارحانہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے غایۃ التبجیل، ص: ۲۲۷)
[7] - تکمیل الایمان، بحث تفضیل
[8] - الاستيعاب في معرفة الأصحاب: (3/ 1115)، دار الجيل، بيروت، ١٩٩٢ م
[9] - وَقَدْ أَجْمَعَ عُلَمَاءُ الْمُسْلِمِينَ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَسْأَلُ عِبَادَهُ يَوْمَ الْحِسَابِ مَنْ أَفْضَلُ عِبَادِي وَلَا هَلْ فَلَانٌ أَفْضَلُ مِنْ فُلَانٍ وَلَا ذَلِكَ مِمَّا يُسْأَلُ عَنْهُ أَحَدٌ فِي الْقَبْرِ. (الاستذكار: 5/ 107)
[10] - تکمیل الایمان، بحث تفضیل
[11] - فإن قبلت النصح فأمسک عن التصرف فی أمرھم واجعل محبتک للکل علی السواء، وأمسک عن التفضیل، وإن خامر باطنک فضل أحدھم علی الآخر، فاجعل ذلک من جملۃ أسرارک فما یلزمک إظھارہ ولا یلزمک أن تحب أحدھم أکثر من الآخر، بل یلزمک محبۃ الجمیع والاعتراف بفضل الجمیع. (اتحاف السادۃ المتقین: ۲/ ۳۵۹)
[12] - جواب الشيخ محمود سعيد ممدوح على مسألة تفضيل الصحابة - تفصیل کے لیے دیکھیے شیخ محمود سعید ممدوح کی کتاب غایۃ التبجیل وترک القطع فی التفضیل
[13] - وَثُبُوت الْإِمَامَة وَإِن كَانَ قَطْعِيا لَا يُفِيد الْقطع بالأفضلية بل غَايَته الظَّن كَيفَ وَلَا قَاطع على بطلَان إِمَامَة الْمَفْضُول مَعَ وجود الْفَاضِل. (الصواعق المحرقۃ على اہل الرفض والضلال والزندقۃ لابن حجر ہیثمی (1/ 171-175)مؤسسۃ الرسالۃ، لبنان)
[14] - وقد علمنا أن الصحابۃ مختلفۃ فی التفضیل، فلا سبیل إذن لنا إلی العلم بأن واحدا منھم أفضل من غیرہ۔ (مناقب الأئمۃ الأربعۃ للباقلانی، ۵۱۴)
[15] - وَروى- عَنْ سلمان، وَأَبِي ذر، والمقداد، وخباب، وجابر، وَأَبِي سَعِيد الْخُدْرِيّ، وزيد بْن الأرقم- أن علي بْن أَبِي طالب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أول من أسلم، وفضله هؤلاء على غيره۔
امام زید اور عقیدۂ تفضیل: علمی تحقیق و تطبیق امام زید کے عقیدۂ تفضیل پر علمی بحث، اہلِ سنت و تشیع کے مواقف، تطبیق کی کوشش اور معتبر مصادر کے ساتھ تحقیقی تحریر۔
